Loading...

Loading...
کتب
۷۳ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی الله عنہم کے ساتھ سفر کیا، یہ لوگ ظہر اور عصر دو دو رکعت پڑھتے تھے۔ نہ اس سے پہلے کوئی نماز پڑھتے اور نہ اس کے بعد۔ عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں: اگر میں اس سے پہلے یا اس کے بعد ( سنت ) نماز پڑھتا تو میں انہی ( فرائض ) کو پوری پڑھتا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے اس طرح یحییٰ بن سلیم ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: یہ حدیث بطریق: «عن عبيد الله بن عمر عن رجل من آل سراقة عن عبد الله بن عمر» بھی مروی ہے، ۳- اور عطیہ عوفی ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں نماز سے پہلے اور اس کے بعد نفل پڑھتے تھے ۱؎، ۴- اس باب میں عمر، علی، ابن عباس، انس، عمران بن حصین اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۵- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ اور ابوبکر و عمر رضی الله عنہم سفر میں قصر کرتے تھے اور عثمان رضی الله عنہ بھی اپنی خلافت کے شروع میں قصر کرتے تھے، ۶- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے، ۷- اور عائشہ سے مروی ہے کہ وہ سفر میں نماز پوری پڑھتی تھیں ۲؎، ۸- اور عمل اسی پر ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام سے مروی ہے، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، البتہ شافعی کہتے ہیں کہ سفر میں قصر کرنا رخصت ہے، اگر کوئی پوری نماز پڑھ لے تو جائز ہے۔
حدثنا عبد الوهاب بن عبد الحكم الوراق البغدادي، حدثنا يحيى بن سليم، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال سافرت مع النبي صلى الله عليه وسلم وابي بكر وعمر وعثمان فكانوا يصلون الظهر والعصر ركعتين ركعتين لا يصلون قبلها ولا بعدها . وقال عبد الله لو كنت مصليا قبلها او بعدها لاتممتها . قال وفي الباب عن عمر وعلي وابن عباس وانس وعمران بن حصين وعايشة . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث يحيى بن سليم مثل هذا . قال محمد بن اسماعيل وقد روي هذا الحديث عن عبيد الله بن عمر عن رجل من ال سراقة عن عبد الله بن عمر . قال ابو عيسى وقد روي عن عطية العوفي عن ابن عمر ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يتطوع في السفر قبل الصلاة وبعدها . وقد صح عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يقصر في السفر وابو بكر وعمر وعثمان صدرا من خلافته . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم . وقد روي عن عايشة انها كانت تتم الصلاة في السفر . والعمل على ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم واصحابه وهو قول الشافعي واحمد واسحاق الا ان الشافعي يقول التقصير رخصة له في السفر فان اتم الصلاة اجزا عنه
ابونضرہ سے روایت ہے کہ عمران بن حصین رضی الله عنہ سے مسافر کی نماز کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا تو آپ نے دو ہی رکعتیں پڑھیں، اور میں نے ابوبکر رضی الله عنہ کے ساتھ حج کیا تو انہوں نے بھی دو ہی رکعتیں پڑھیں، اور عمر رضی الله عنہ کے ساتھ کیا تو انہوں نے بھی دو ہی رکعتیں پڑھیں، اور عثمان رضی الله عنہ کے ساتھ ان کی خلافت کے ابتدائی چھ یا آٹھ سالوں میں کیا تو انہوں نے بھی دو ہی رکعتیں پڑھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، اخبرنا علي بن زيد بن جدعان القرشي، عن ابي نضرة، قال سيل عمران بن حصين عن صلاة المسافر، فقال حججت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى ركعتين وحججت مع ابي بكر فصلى ركعتين ومع عمر فصلى ركعتين ومع عثمان ست سنين من خلافته او ثماني سنين فصلى ركعتين . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں چار رکعتیں پڑھیں ۱؎ اور ذی الحلیفہ ۲؎ میں دو رکعتیں پڑھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن محمد بن المنكدر، وابراهيم بن ميسرة، سمعا انس بن مالك، قال صلينا مع النبي صلى الله عليه وسلم الظهر بالمدينة اربعا وبذي الحليفة العصر ركعتين . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے، آپ کو سوائے اللہ رب العالمین کے کسی کا خوف نہ تھا۔ ( اس کے باوجود ) آپ نے دو ہی رکعتیں پڑھیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا هشيم، عن منصور بن زاذان، عن ابن سيرين، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج من المدينة الى مكة لا يخاف الا الله رب العالمين فصلى ركعتين . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے۔ آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، یحییٰ بن ابی اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی الله عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں کتنے دن رہے، انہوں نے کہا دس دن ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور ابن عباس رضی الله عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ اپنے سفر میں انیس دن ٹھہرے اور دو رکعتیں ادا کرتے رہے۔ ابن عباس کہتے ہیں، چنانچہ جب ہم انیس دن یا اس سے کم ٹھہرتے تو دو رکعتیں پڑھتے۔ اور اگر اس سے زیادہ ٹھہرتے تو پوری پڑھتے، ۴- علی رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: جو دس دن ٹھہرے وہ پوری نماز پڑھے، ۵- ابن عمر رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: جو پندرہ دن قیام کرے وہ پوری نماز پڑھے۔ اور ان سے بارہ دن کا قول بھی مروی ہے، ۶- سعید بن مسیب سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: جب چار دن قیام کرے تو چار رکعت پڑھے۔ ان سے اسے قتادہ اور عطا خراسانی نے روایت کیا ہے، اور داود بن ابی ہند نے ان سے اس کے خلاف روایت کیا ہے، ۷- اس کے بعد اس مسئلہ میں اہل علم میں اختلاف ہو گیا۔ سفیان ثوری اور اہل کوفہ پندرہ دن کی تحدید کی طرف گئے اور ان لوگوں نے کہا کہ جب وہ پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کر لے تو پوری نماز پڑھے، ۸- اوزاعی کہتے ہیں: جب وہ بارہ دن ٹھہرنے کی نیت کرے تو نماز پوری پڑھے، ۹- مالک بن انس، شافعی، اور احمد کہتے ہیں: جب چار دن ٹھہرنے کی نیت کرے تو نماز پوری پڑھے، ۱۰- اور اسحاق بن راہویہ کی رائے ہے کہ سب سے قوی مذہب ابن عباس کی حدیث ہے، اس لیے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، پھر یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وہ اس پر عمل پیرا رہے جب وہ انیس دن ٹھہرتے تو نماز پوری پڑھتے۔ پھر اہل علم کا اجماع اس بات پر ہو گیا کہ مسافر جب تک قیام کی نیت نہ کرے وہ قصر کرتا رہے، اگرچہ اس پر کئی سال گزر جائیں ۲؎۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، اخبرنا يحيى بن ابي اسحاق الحضرمي، حدثنا انس بن مالك، قال خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم من المدينة الى مكة فصلى ركعتين . قال قلت لانس كم اقام رسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة قال عشرا . قال وفي الباب عن ابن عباس وجابر . قال ابو عيسى حديث انس حديث حسن صحيح . وقد روي عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم انه اقام في بعض اسفاره تسع عشرة يصلي ركعتين . قال ابن عباس فنحن اذا اقمنا ما بيننا وبين تسع عشرة صلينا ركعتين وان زدنا على ذلك اتممنا الصلاة . وروي عن علي انه قال من اقام عشرة ايام اتم الصلاة . وروي عن ابن عمر انه قال من اقام خمسة عشر يوما اتم الصلاة . وقد روي عنه ثنتى عشرة . وروي عن سعيد بن المسيب انه قال اذا اقام اربعا صلى اربعا . وروى عنه ذلك قتادة وعطاء الخراساني . وروى عنه داود بن ابي هند خلاف هذا . واختلف اهل العلم بعد في ذلك فاما سفيان الثوري واهل الكوفة فذهبوا الى توقيت خمس عشرة وقالوا اذا اجمع على اقامة خمس عشرة اتم الصلاة . وقال الاوزاعي اذا اجمع على اقامة ثنتى عشرة اتم الصلاة . وقال مالك بن انس والشافعي واحمد اذا اجمع على اقامة اربعة اتم الصلاة . واما اسحاق فراى اقوى المذاهب فيه حديث ابن عباس قال لانه روى عن النبي صلى الله عليه وسلم ثم تاوله بعد النبي صلى الله عليه وسلم اذا اجمع على اقامة تسع عشرة اتم الصلاة . ثم اجمع اهل العلم على ان المسافر يقصر ما لم يجمع اقامة وان اتى عليه سنون
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کیا، تو آپ نے انیس دن تک دو دو رکعتیں پڑھیں ۱؎، ابن عباس کہتے ہیں: تو ہم لوگ بھی انیس یا اس سے کم دنوں ( کے سفر ) میں دو دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ اور جب ہم اس سے زیادہ قیام کرتے تو چار رکعت پڑھتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا ابو معاوية، عن عاصم الاحول، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال سافر رسول الله صلى الله عليه وسلم سفرا فصلى تسعة عشر يوما ركعتين ركعتين . قال ابن عباس فنحن نصلي فيما بيننا وبين تسع عشرة ركعتين ركعتين فاذا اقمنا اكثر من ذلك صلينا اربعا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھارہ مہینے رہا۔ لیکن میں نے سورج ڈھلنے کے بعد ظہر سے پہلے کی دونوں رکعتیں کبھی بھی آپ کو چھوڑتے نہیں دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- براء رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس کے بارے میں پوچھا تو وہ اسے صرف لیث بن سعد ہی کی روایت سے جان سکے اور وہ ابوبسرہ غفاری کا نام نہیں جان سکے اور انہوں نے اسے حسن جانا ۱؎، ۳- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۴- ابن عمر رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں نہ نماز سے پہلے نفل پڑھتے تھے اور نہ اس کے بعد ۲؎، ۵- اور ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے مروی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ سفر میں نفل پڑھتے تھے ۳؎، ۶- پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اہل علم میں اختلاف ہو گیا، بعض صحابہ کرام کی رائے ہوئی کہ آدمی نفل پڑھے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ۷- اہل علم کے ایک گروہ کی رائے نہ نماز سے پہلے کوئی نفل پڑھنے کی ہے اور نہ نماز کے بعد۔ سفر میں جو لوگ نفل نہیں پڑھتے ہیں ان کا مقصود رخصت کو قبول کرنا ہے اور جو نفل پڑھے تو اس کی بڑی فضیلت ہے۔ یہی اکثر اہل علم کا قول ہے وہ سفر میں نفل پڑھنے کو پسند کرتے ہیں ۴؎۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث بن سعد، عن صفوان بن سليم، عن ابي بسرة الغفاري، عن البراء بن عازب، قال صحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم ثمانية عشر سفرا فما رايته ترك الركعتين اذا زاغت الشمس قبل الظهر . وفي الباب عن ابن عمر . قال ابو عيسى حديث البراء حديث غريب . قال وسالت محمدا عنه فلم يعرفه الا من حديث الليث بن سعد ولم يعرف اسم ابي بسرة الغفاري وراه حسنا . وروي عن ابن عمر ان النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يتطوع في السفر قبل الصلاة ولا بعدها . وروي عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يتطوع في السفر . ثم اختلف اهل العلم بعد النبي صلى الله عليه وسلم فراى بعض اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ان يتطوع الرجل في السفر وبه يقول احمد واسحاق . ولم تر طايفة من اهل العلم ان يصلى قبلها ولا بعدها . ومعنى من لم يتطوع في السفر قبول الرخصة ومن تطوع فله في ذلك فضل كثير . وهو قول اكثر اهل العلم يختارون التطوع في السفر
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں ظہر کی دو رکعتیں پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعںیی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابن ابی لیلیٰ نے یہ حدیث عطیہ اور نافع سے روایت کی ہے اور ان دونوں نے ابن عمر رضی الله عنہما سے۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا حفص بن غياث، عن الحجاج، عن عطية، عن ابن عمر، قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم الظهر في السفر ركعتين وبعدها ركعتين . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد رواه ابن ابي ليلى عن عطية ونافع عن ابن عمر
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے حضر اور سفر دونوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، میں نے آپ کے ساتھ حضر میں ظہر کی چار رکعتیں پڑھیں، اور اس کے بعد دو رکعتیں، اور سفر میں آپ کے ساتھ ظہر کی دو رکعتیں پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعتیں اور عصر کی دو رکعتیں، اور اس کے بعد کوئی چیز نہیں پڑھی۔ اور مغرب کی سفر و حضر دونوں ہی میں تین رکعتیں پڑھیں۔ نہ حضر میں کوئی کمی کی نہ سفر میں، یہ دن کی وتر ہے اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ ابن ابی لیلیٰ نے کوئی ایسی حدیث روایت نہیں کی جو میرے نزدیک اس سے زیادہ تعجب خیز ہو، میں ان کی کوئی روایت نہیں لیتا۔
حدثنا محمد بن عبيد المحاربي، - يعني الكوفي حدثنا علي بن هاشم، عن ابن ابي ليلى، عن عطية، ونافع، عن ابن عمر، قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم في الحضر والسفر فصليت معه في الحضر الظهر اربعا وبعدها ركعتين وصليت معه في السفر الظهر ركعتين وبعدها ركعتين والعصر ركعتين ولم يصل بعدها شييا والمغرب في الحضر والسفر سواء ثلاث ركعات لا تنقص في الحضر ولا في السفر وهي وتر النهار وبعدها ركعتين . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . سمعت محمدا يقول ما روى ابن ابي ليلى حديثا اعجب الى من هذا ولا اروي عنه شييا
معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو مؤخر کرتے یہاں تک کہ اسے عصر کے ساتھ ملا دیتے اور دونوں کو ایک ساتھ پڑھتے، اور جب سورج ڈھلنے کے بعد کوچ کرتے تو عصر کو پہلے کر کے ظہر سے ملا دیتے اور ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھتے پھر روانہ ہوتے۔ اور جب مغرب سے پہلے کوچ فرماتے تو مغرب کو مؤخر کرتے یہاں تک کہ اسے عشاء کے ساتھ ملا کر پڑھتے، اور جب مغرب کے بعد کوچ فرماتے تو عشاء کو پہلے کر کے مغرب کے ساتھ ملا کر پڑھتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اور صحیح یہ ہے کہ اسامہ سے مروی ہے، ۲- نیز یہ حدیث علی بن مدینی نے احمد بن حنبل سے اور احمد بن حنبل نے قتیبہ سے روایت کی ہے ۱؎، ۳- اس باب میں علی، ابن عمر، انس، عبداللہ بن عمرو، عائشہ، ابن عباس، اسامہ بن زید اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث بن سعد، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الطفيل، هو عامر بن واثلة عن معاذ بن جبل، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان في غزوة تبوك اذا ارتحل قبل زيغ الشمس اخر الظهر الى ان يجمعها الى العصر فيصليهما جميعا واذا ارتحل بعد زيغ الشمس عجل العصر الى الظهر وصلى الظهر والعصر جميعا ثم سار وكان اذا ارتحل قبل المغرب اخر المغرب حتى يصليها مع العشاء واذا ارتحل بعد المغرب عجل العشاء فصلاها مع المغرب . قال وفي الباب عن علي وابن عمر وانس وعبد الله بن عمرو وعايشة وابن عباس واسامة بن زيد وجابر بن عبد الله . قال ابو عيسى والصحيح عن اسامة . وروى علي بن المديني عن احمد بن حنبل عن قتيبة هذا الحديث
اس سند سے بھی قتیبہ سے یہ حدیث یعنی معاذ رضی الله عنہ کی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- معاذ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- قتیبہ اسے روایت کرنے میں منفرد ہیں ہم ان کے علاوہ کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے لیث سے روایت کیا ہو، ۳- لیث کی حدیث جسے انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے، اور یزید نے ابوالطفیل سے اور ابوالطفیل نے معاذ سے روایت کی ہے غریب ہے، ۴- اہل علم کے نزدیک معروف معاذ کی ( وہ ) حدیث ہے جسے ابو الزبیر نے ابوالطفیل سے اور ابوالطفیل نے معاذ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک میں ظہر اور عصر کو ایک ساتھ اور مغرب و عشاء کو ایک ساتھ جمع کیا ۱؎، ۵- اسے قرہ بن خالد، سفیان ثوری، مالک اور دیگر کئی لوگوں نے بھی ابوالزبیر مکی سے روایت کیا ہے، ۶- اور اسی حدیث کے مطابق شافعی کا بھی قول ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ سفر میں دو صلاۃ کو کسی ایک کے وقت میں ملا کر ایک ساتھ پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں۔
حدثنا عبد الصمد بن سليمان، حدثنا زكريا اللولوي، حدثنا ابو بكر الاعين، حدثنا علي بن المديني، حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا قتيبة، بهذا الحديث يعني حديث معاذ . وحديث معاذ حديث حسن غريب تفرد به قتيبة لا نعرف احدا رواه عن الليث غيره . وحديث الليث عن يزيد بن ابي حبيب عن ابي الطفيل عن معاذ حديث غريب . والمعروف عند اهل العلم حديث معاذ من حديث ابي الزبير عن ابي الطفيل عن معاذ ان النبي صلى الله عليه وسلم جمع في غزوة تبوك بين الظهر والعصر وبين المغرب والعشاء . رواه قرة بن خالد وسفيان الثوري ومالك وغير واحد عن ابي الزبير المكي . وبهذا الحديث يقول الشافعي . واحمد واسحاق يقولان لا باس ان يجمع بين الصلاتين في السفر في وقت احداهما
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہیں ان کی ایک بیوی ۱؎ کے حالت نزع میں ہونے کی خبر دی گئی تو انہیں چلنے کی جلدی ہوئی چنانچہ انہوں نے مغرب کو مؤخر کیا یہاں تک کہ شفق غائب ہو گئی، وہ سواری سے اتر کر مغرب اور عشاء دونوں کو ایک ساتھ جمع کیا، پھر لوگوں کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چلنے کی جلدی ہوتی تو آپ ایسا ہی کرتے تھے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ لیث کی حدیث ( رقم ۵۵۴ ) جسے انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے روایت کی ہے حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا عبدة بن سليمان، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، انه استغيث على بعض اهله فجد به السير فاخر المغرب حتى غاب الشفق ثم نزل فجمع بينهما ثم اخبرهم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يفعل ذلك اذا جد به السير . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وحديث الليث عن يزيد بن ابي حبيب حديث حسن صحيح
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارش طلب کرنے کے لیے لوگوں کو ساتھ لے کر باہر نکلے، آپ نے انہیں دو رکعت نماز پڑھائی، جس میں آپ نے بلند آواز سے قرأت کی، اپنی چادر پلٹی، اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور قبلہ رخ ہو کر بارش کے لیے دعا کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن زید رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس، ابوہریرہ، انس اور آبی اللحم رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور اسی کے شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی قائل ہیں۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن عباد بن تميم، عن عمه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج بالناس يستسقي فصلى بهم ركعتين جهر بالقراءة فيهما وحول رداءه ورفع يديه واستسقى واستقبل القبلة . قال وفي الباب عن ابن عباس وابي هريرة وانس وابي اللحم . قال ابو عيسى حديث عبد الله بن زيد حديث حسن صحيح . وعلى هذا العمل عند اهل العلم وبه يقول الشافعي واحمد واسحاق . وعم عباد بن تميم هو عبد الله بن زيد بن عاصم المازني
آبی اللحم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احجارزیت ۱؎ کے پاس اللہ تعالیٰ سے بارش طلب کرتے ہوئے دیکھا۔ آپ اپنی دونوں ہتھیلیاں اٹھائے دعا فرما رہے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- قتیبہ نے اس حدیث کی سند میں اسی طرح «عن آبی اللحم» کہا ہے اور ہم اس حدیث کے علاوہ ان کی کوئی اور حدیث نہیں جانتے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہو ۲- عمیر، آبی اللحم رضی الله عنہ کے مولیٰ ہیں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کی ہیں۔ اور انہیں خود بھی شرف صحابیت حاصل ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث بن سعد، عن خالد بن يزيد، عن سعيد بن ابي هلال، عن يزيد بن عبد الله، عن عمير، مولى ابي اللحم عن ابي اللحم، انه راى رسول الله صلى الله عليه وسلم عند احجار الزيت يستسقي وهو مقنع بكفيه يدعو . قال ابو عيسى كذا قال قتيبة في هذا الحديث عن ابي اللحم ولا نعرف له عن النبي صلى الله عليه وسلم الا هذا الحديث الواحد وعمير مولى ابي اللحم قد روى عن النبي صلى الله عليه وسلم احاديث وله صحبة
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ مجھے ولید بن عقبہ نے ابن عباس رضی الله عنہما کے پاس بھیجا ( ولید مدینے کے امیر تھے ) تاکہ میں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استسقاء کے بارے میں پوچھوں، تو میں ان کے پاس آیا ( اور میں نے ان سے پوچھا ) تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھٹے پرانے لباس میں عاجزی کرتے ہوئے نکلے، یہاں تک کہ عید گاہ آئے، اور آپ نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا بلکہ آپ برابر دعا کرنے، گڑگڑانے اور اللہ کی بڑائی بیان کرنے میں لگے رہے، اور آپ نے دو رکعتیں پڑھیں جیسا کہ آپ عید میں پڑھتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن هشام بن اسحاق، وهو ابن عبد الله بن كنانة عن ابيه، قال ارسلني الوليد بن عقبة وهو امير المدينة الى ابن عباس اساله عن استسقاء، رسول الله صلى الله عليه وسلم فاتيته فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج متبذلا متواضعا متضرعا حتى اتى المصلى فلم يخطب خطبتكم هذه ولكن لم يزل في الدعاء والتضرع والتكبير وصلى ركعتين كما كان يصلي في العيد . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ سے روایت ہے، آگے انہوں نے اسی طرح ذکر کیا البتہ اس میں انہوں نے لفظ «منخشعاً» کا اضافہ کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور یہی شافعی کا قول ہے، وہ کہتے ہیں کہ نماز استسقاء عیدین کی نماز کی طرح پڑھی جائے گی۔ پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری میں پانچ، اور انہوں نے ابن عباس کی حدیث سے استدلال کیا ہے، ۳- مالک بن انس سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ استسقاء میں عیدین کی نماز کی تکبیروں کی طرح تکبیریں نہیں کہے گا، ۴- ابوحنیفہ نعمان کہتے ہیں کہ استسقاء کی کوئی نماز نہیں پڑھی جائے گی اور نہ میں انہیں چادر پلٹنے ہی کا حکم دیتا ہوں، بلکہ سارے لوگ ایک ساتھ دعا کریں گے اور لوٹ آئیں گے، ۵- ان کا یہ قول سنت کے مخالف ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن هشام بن اسحاق بن عبد الله بن كنانة، عن ابيه، فذكر نحوه وزاد فيه متخشعا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وهو قول الشافعي قال يصلي صلاة الاستسقاء نحو صلاة العيدين يكبر في الركعة الاولى سبعا وفي الثانية خمسا واحتج بحديث ابن عباس . قال ابو عيسى وروي عن مالك بن انس انه قال لا يكبر في صلاة الاستسقاء كما يكبر في صلاة العيدين . وقال النعمان ابو حنيفة لا تصلى صلاة الاستسقاء ولا امرهم بتحويل الرداء ولكن يدعون ويرجعون بجملتهم . قال ابو عيسى خالف السنة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کی نماز پڑھی تو آپ نے قرأت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرأت کی پھر رکوع کیا، پھر قرأت کی پھر رکوع کیا، تین بار قرأت کی اور تین بار رکوع کیا، پھر دو سجدے کئے، اور دوسری رکعت بھی اسی طرح تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، عائشہ، عبداللہ بن عمرو، نعمان بن بشیر، مغیرہ بن شعبہ، ابومسعود، ابوبکرہ، سمرہ، ابوموسیٰ اشعری، ابن مسعود، اسماء بنت ابی بکر صدیق، ابن عمر، قبیصہ ہلالی، جابر بن عبداللہ، عبدالرحمٰن بن سمرہ، اور ابی بن کعب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- ابن عباس رضی الله عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں بھی روایت کی ہے کہ آپ نے سورج گرہن کی نماز میں چار سجدوں میں چار رکوع کیے، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں، ۴- سورج گرہن کی نماز میں اہل علم کا اختلاف ہے: بعض اہل علم کی رائے ہے کہ دن میں قرأت سری کرے گا۔ بعض کی رائے ہے کہ عیدین اور جمعہ کی طرح اس میں بھی جہری قرأت کرے گا۔ یہی مالک، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ اس میں جہری قرأت کرے۔ اور شافعی کہتے ہیں کہ جہر نہیں کرے گا۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دونوں ہی قسم کی احادیث آئی ثابت ہیں۔ آپ سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ نے چار سجدوں میں چار رکوع کیے۔ اور یہ بھی ثابت ہے کہ آپ نے چار سجدوں میں چھ رکوع کیے۔ اور یہ اہل علم کے نزدیک گرہن کی مقدار کے مطابق ہے اگر گرہن لمبا ہو جائے تو چار سجدوں میں چھ رکوع کرے، یہ بھی جائز ہے، اور اگر چار سجدوں میں چار ہی رکوع کرے اور قرأت لمبی کر دے تو بھی جائز ہے، ہمارے اصحاب الحدیث کا خیال ہے کہ گرہن کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھے خواہ گرہن سورج کا ہو یا چاند کا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سفيان، عن حبيب بن ابي ثابت، عن طاوس، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه صلى في كسوف فقرا ثم ركع ثم قرا ثم ركع ثم قرا ثم ركع ثلاث مرات ثم سجد سجدتين والاخرى مثلها . قال وفي الباب عن علي وعايشة وعبد الله بن عمرو والنعمان بن بشير والمغيرة بن شعبة وابي مسعود وابي بكرة وسمرة وابي موسى الاشعري وابن مسعود واسماء بنت ابي بكر الصديق وابن عمر وقبيصة الهلالي وجابر بن عبد الله وعبد الرحمن بن سمرة وابى بن كعب . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح . وقد روي عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم انه صلى في كسوف اربع ركعات في اربع سجدات . وبه يقول الشافعي واحمد واسحاق . قال واختلف اهل العلم في القراءة في صلاة الكسوف فراى بعض اهل العلم ان يسر بالقراءة فيها بالنهار . وراى بعضهم ان يجهر بالقراءة فيها كنحو صلاة العيدين والجمعة وبه يقول مالك واحمد واسحاق يرون الجهر فيها . وقال الشافعي لا يجهر فيها . وقد صح عن النبي صلى الله عليه وسلم كلتا الروايتين صح عنه انه صلى اربع ركعات في اربع سجدات . وصح عنه ايضا انه صلى ست ركعات في اربع سجدات . وهذا عند اهل العلم جايز على قدر الكسوف ان تطاول الكسوف فصلى ست ركعات في اربع سجدات فهو جايز وان صلى اربع ركعات في اربع سجدات واطال القراءة فهو جايز . ويرون اصحابنا ان تصلى صلاة الكسوف في جماعة في كسوف الشمس والقمر
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی، اور لمبی قرأت فرمائی، پھر آپ نے رکوع کیا تو رکوع بھی لمبا کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور لمبی قرأت فرمائی، یہ پہلی قرأت سے کم تھی، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا اور یہ پہلے رکوع سے ہلکا تھا، پھر اپنا سر اٹھایا اور سجدہ کیا پھر اسی طرح دوسری رکعت میں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی حدیث کی بناء پر کہتے ہیں کہ گرہن کی نماز میں چار سجدوں میں چار رکوع ہے۔ شافعی کہتے ہیں: پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ پڑھے اور سورۃ البقرہ کے بقدر، اگر دن ہو تو سری قرأت کرے، پھر قرأت کے برابر لمبا رکوع کرے۔ پھر اللہ اکبر کہہ کر سر اٹھائے۔ اور کھڑا رہے جیسے پہلے کھڑا تھا اور سورۃ فاتحہ پڑھے اور آل عمران کے بقدر قرأت کرے پھر اپنی قرأت کے برابر لمبا رکوع کرے، پھر سر اٹھائے۔ پھر «سمع الله لمن حمده» کہے۔ پھر اچھی طرح دو سجدے کرے۔ اور ہر سجدے میں اسی قدر ٹھہرے جتنا رکوع میں ٹھہرا تھا۔ پھر کھڑا ہو اور سورۃ فاتحہ پڑھے اور سورۃ نساء کے بقدر قرأت کرے پھر اپنی قرأت کے برابر لمبا رکوع کرے پھر اللہ اکبر کہہ کر اپنا سر اٹھائے اور سیدھا کھڑا ہو، پھر سورۃ المائدہ کے برابر قرأت کرے۔ پھر اپنی قرأت کے برابر لمبا رکوع کرے، پھر سر اٹھائے اور «سمع الله لمن حمده» کہے، پھر دو سجدے کرے پھر تشہد پڑھے اور سلام پھیر دے۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، انها قالت خسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بالناس فاطال القراءة ثم ركع فاطال الركوع ثم رفع راسه فاطال القراءة وهي دون الاولى ثم ركع فاطال الركوع وهو دون الاول ثم رفع راسه فسجد ثم فعل مثل ذلك في الركعة الثانية . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن صحيح . وبهذا الحديث يقول الشافعي واحمد واسحاق يرون صلاة الكسوف اربع ركعات في اربع سجدات . قال الشافعي يقرا في الركعة الاولى بام القران ونحوا من سورة البقرة سرا ان كان بالنهار ثم ركع ركوعا طويلا نحوا من قراءته ثم رفع راسه بتكبير وثبت قايما كما هو وقرا ايضا بام القران ونحوا من ال عمران ثم ركع ركوعا طويلا نحوا من قراءته ثم رفع راسه ثم قال " سمع الله لمن حمده " . ثم سجد سجدتين تامتين ويقيم في كل سجدة نحوا مما اقام في ركوعه ثم قام فقرا بام القران ونحوا من سورة النساء ثم ركع ركوعا طويلا نحوا من قراءته ثم رفع راسه بتكبير وثبت قايما ثم قرا نحوا من سورة المايدة ثم ركع ركوعا طويلا نحوا من قراءته ثم رفع فقال " سمع الله لمن حمده " . ثم سجد سجدتين ثم تشهد وسلم
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گرہن کی نماز پڑھائی تو ہم آپ کی آواز نہیں سن پا رہے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سمرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے، ۳- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں۔ اور یہی شافعی کا بھی قول ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن الاسود بن قيس، عن ثعلبة بن عباد، عن سمرة بن جندب، قال صلى بنا النبي صلى الله عليه وسلم في كسوف لا نسمع له صوتا . قال وفي الباب عن عايشة . قال ابو عيسى حديث سمرة حديث حسن صحيح . وقد ذهب بعض اهل العلم الى هذا وهو قول الشافعي
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرہن کی نماز پڑھی اور اس میں آپ نے بلند آواز سے قرأت کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابواسحاق فزاری نے بھی اسے سفیان بن حسین سے اسی طرح روایت کیا ہے، ۳- اور اسی حدیث کے مطابق مالک بن انس، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
حدثنا ابو بكر، محمد بن ابان حدثنا ابراهيم بن صدقة، عن سفيان بن حسين، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى صلاة الكسوف وجهر بالقراءة فيها . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . ورواه ابو اسحاق الفزاري عن سفيان بن حسين نحوه . وبهذا الحديث يقول مالك بن انس واحمد واسحاق