احادیث
#564
سنن ترمذی - Traveling
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو گروہوں میں سے ایک گروہ کو صلاۃ خوف ایک رکعت پڑھائی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا رہا، پھر یہ لوگ پلٹے، اور ان لوگوں کی جگہ پر جو دشمن کے مقابل میں تھے جا کر کھڑے ہو گئے اور جو لوگ دشمن کے مقابل میں تھے وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی پھر آپ نے سلام پھیر دیا، پھر یہ لوگ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنی ایک رکعت پوری کی۔ اور ( جو ایک رکعت پڑھ کر دشمن کے سامنے چلے گئے تھے ) وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی اپنی ایک رکعت پوری کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اور موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر رضی الله عنہما سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- اس باب میں جابر، حذیفہ، زید بن ثابت، ابن عباس، ابوہریرہ، ابن مسعود، سہل بن ابی حثمہ، ابوعیاش زرقی ( ان کا نام زید بن صامت ہے ) اور ابوبکرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- مالک بن انس صلاۃ خوف کے بارے میں سہل بن ابی حثمہ کی حدیث کی طرف گئے ہیں ۱؎ اور یہی شافعی کا بھی قول ہے، ۵- احمد کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صلاۃ خوف کئی طریقوں سے مروی ہے، اور میں اس باب میں صرف ایک ہی صحیح حدیث جانتا ہوں، مجھے سہل بن ابی حثمہ کی حدیث پسند ہے، ۶- اسی طرح اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نے بھی کہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صلاۃ خوف کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایات ثابت ہیں، ان کا خیال ہے کہ صلاۃ خوف کے بارے میں جو کچھ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، وہ سب جائز ہے، اور یہ ساری صورتیں خوف کی مقدار پر مبنی ہیں۔ اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ ہم سہل بن ابی حثمہ کی حدیث کو دوسری حدیثوں پر فوقیت نہیں دیتے۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى صلاة الخوف باحدى الطايفتين ركعة والطايفة الاخرى مواجهة العدو ثم انصرفوا فقاموا في مقام اوليك وجاء اوليك فصلى بهم ركعة اخرى ثم سلم عليهم فقام هولاء فقضوا ركعتهم وقام هولاء فقضوا ركعتهم . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح . وقد روى موسى بن عقبة عن نافع عن ابن عمر مثل هذا . قال وفي الباب عن جابر وحذيفة وزيد بن ثابت وابن عباس وابي هريرة وابن مسعود وسهل بن ابي حثمة وابي عياش الزرقي واسمه زيد بن صامت وابي بكرة . قال ابو عيسى وقد ذهب مالك بن انس في صلاة الخوف الى حديث سهل بن ابي حثمة وهو قول الشافعي . وقال احمد قد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم صلاة الخوف على اوجه وما اعلم في هذا الباب الا حديثا صحيحا واختار حديث سهل بن ابي حثمة . وهكذا قال اسحاق بن ابراهيم قال ثبتت الروايات عن النبي صلى الله عليه وسلم في صلاة الخوف . وراى ان كل ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم في صلاة الخوف فهو جايز وهذا على قدر الخوف . قال اسحاق ولسنا نختار حديث سهل بن ابي حثمة على غيره من الروايات
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Traveling
- Hadith Index
- #564
- Book Index
- 21
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
