Loading...

Loading...
کتب
۵۲ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن قیامت کے دن پیش ہو گا پس کہے گا: اے میرے رب! اسے ( یعنی صاحب قرآن کو ) جوڑا پہنا، تو اسے کرامت ( عزت و شرافت ) کا تاج پہنایا جائے گا۔ پھر وہ کہے گا: اے میرے رب! اسے اور دے، تو اسے کرامت کا جوڑا پہنایا جائے گا۔ وہ پھر کہے گا: اے میرے رب اس سے راضی و خوش ہو جا، تو وہ اس سے راضی و خوش ہو جائے گا۔ اس سے کہا جائے گا پڑھتا جا اور چڑھتا جا، تیرے لیے ہر آیت کے ساتھ ایک نیکی کا اضافہ کیا جاتا رہے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، قال حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، قال اخبرنا شعبة، عن عاصم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يجيء القران يوم القيامة فيقول يا رب حله فيلبس تاج الكرامة ثم يقول يا رب زده فيلبس حلة الكرامة ثم يقول يا رب ارض عنه فيرضى عنه فيقال له اقرا وارق ويزاد بكل اية حسنة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، عن عاصم بن بهدلة، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، نحوه ولم يرفعه . قال ابو عيسى وهذا اصح عندنا من حديث عبد الصمد عن شعبة
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے نیک اعمال کے اجر و ثواب میرے سامنے پیش کیے گئے یہاں تک کہ اس تنکے کا ثواب بھی پیش کیا گیا جسے آدمی مسجد سے نکال کر پھینک دیتا ہے۔ اور مجھ پر میری امت کے گناہ ( بھی ) پیش کیے گئے تو میں نے کوئی گناہ اس سے بڑھ کر نہیں دیکھا کہ کسی کو قرآن کی کوئی سورۃ یا کوئی آیت یاد ہو اور اس نے اسے بھلا دیا ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- میں نے اس حدیث کا تذکرہ محمد بن اسماعیل بخاری سے کیا تو اس کو وہ پہچان نہ سکے اور انہوں نے اس حدیث کو غریب قرار دیا، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری نے یہ بھی کہا کہ میں نہیں جانتا کہ مطلب بن عبداللہ کی کسی صحابی رسول سے سماع ثابت ہے، سوائے مطلب کے اس قول کے کہ مجھ سے اس شخص نے روایت کی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حاضرین میں موجود تھا، ۵- میں نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن ( دارمی ) کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ہم مطلب کا سماع کسی صحابی رسول سے نہیں جانتے، ۶- عبداللہ ( دارمی یہ بھی ) کہتے ہیں: علی بن مدینی اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ مطلب نے انس سے سنا ہے۔
حدثنا عبد الوهاب بن الحكم الوراق البغدادي، قال حدثنا عبد المجيد بن عبد العزيز، عن ابن جريج، عن المطلب بن عبد الله بن حنطب، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " عرضت على اجور امتي حتى القذاة يخرجها الرجل من المسجد وعرضت على ذنوب امتي فلم ار ذنبا اعظم من سورة من القران او اية اوتيها رجل ثم نسيها " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه . قال وذاكرت به محمد بن اسماعيل فلم يعرفه واستغربه . قال محمد ولا اعرف للمطلب بن عبد الله بن حنطب سماعا من احد من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم الا قوله حدثني من شهد خطبة النبي صلى الله عليه وسلم . قال وسمعت عبد الله بن عبد الرحمن يقول لا نعرف للمطلب سماعا من احد من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم . قال عبد الله وانكر علي بن المديني ان يكون المطلب سمع من انس
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک قصہ گو کے پاس سے گزرے جو قرآن پڑھ رہا تھا ( پڑھ کر ) وہ مانگنے لگا۔ تو انہوں نے «إنا لله وإنا إليه راجعون» پڑھا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے جو قرآن پڑھے تو اسے اللہ ہی سے مانگنا چاہیئے۔ کیونکہ عنقریب کچھ لوگ ایسے آئیں گے جو قرآن پڑھ پڑھ کر لوگوں سے مانگیں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، اس کی سند ویسی قوی نہیں ہے، ۲- محمود بن غیلان کہتے ہیں: یہ خیثمہ بصریٰ ہیں جن سے جابر جعفی نے روایت کی ہے۔ یہ خیثمہ بن عبدالرحمٰن نہیں ہیں۔ اور خیثمہ شیخ بصریٰ ہیں ان کی کنیت ابونصر ہے اور انہوں نے انس بن مالک سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔ اور جابر جعفی نے بھی خیثمہ سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو احمد، قال حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن خيثمة، عن الحسن، عن عمران بن حصين، انه مر على قارىء يقرا ثم سال فاسترجع ثم قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من قرا القران فليسال الله به فانه سيجيء اقوام يقرءون القران يسالون به الناس " . وقال محمود هذا خيثمة البصري الذي روى عنه جابر الجعفي وليس هو خيثمة بن عبد الرحمن وخيثمة هذا شيخ بصري يكنى ابا نصر قد روى عن انس بن مالك احاديث وقد روى جابر الجعفي عن خيثمة هذا ايضا احاديث . قال ابو عيسى هذا حديث حسن ليس اسناده بذاك
صہیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قرآن کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال جانا وہ قرآن پر ایمان نہیں رکھتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند زیادہ قوی نہیں ہے، وکیع کی روایت میں وکیع سے اختلاف کیا گیا ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: ابوفروہ کہتے ہیں: یزید بن سنان رہاوی کی روایت لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ سوائے اس روایت کے جسے ان کے بیٹے محمد ان سے روایت کرتے ہیں، اس لیے کہ وہ ان سے مناکیر روایت کرتے ہیں، ۳- محمد بن یزید بن سنان نے اپنے باپ سے یہ حدیث بھی روایت کی ہے اور اس کی سند میں اتنا اضافہ کیا ہے: «عن مجاهد عن سعيد بن المسيب عن صهيب» محمد بن یزید کی روایت کی کسی نے متابعت نہیں کی، وہ ضعیف ہیں، اور ابوالمبارک ایک مجہول شخص ہیں۔
حدثنا محمد بن اسماعيل الواسطي، قال حدثنا وكيع، قال حدثنا ابو فروة، يزيد بن سنان عن ابي المبارك، عن صهيب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما امن بالقران من استحل محارمه " . قال ابو عيسى هذا حديث ليس اسناده بالقوي وقد خولف وكيع في روايته . وقال محمد ابو فروة يزيد بن سنان الرهاوي ليس بحديثه باس الا رواية ابنه محمد عنه فانه يروي عنه مناكير . قال ابو عيسى وقد روى محمد بن يزيد بن سنان عن ابيه هذا الحديث فزاد في هذا الاسناد عن مجاهد عن سعيد بن المسيب عن صهيب ولا يتابع محمد بن يزيد على روايته وهو ضعيف وابو المبارك رجل مجهول
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسا ہے جیسا کھلے عام صدقہ دینے والا، اور آہستگی و خاموشی سے قرآن پڑھنے والا ایسا ہے جیسے چھپا کر صدقہ دینے والا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس حدیث کا معنی و مطلب یہ ہے کہ جو شخص آہستگی سے قرآن پڑھتا ہے وہ اس شخص سے افضل ہے جو بلند آواز سے قرآن پڑھتا ہے، اس لیے کہ اہل علم کے نزدیک چھپا کر صدقہ دینا برسر عام صدقہ دینے سے افضل ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ اہل علم کے نزدیک اس سے آدمی عجب ( خود نمائی ) سے محفوظ رہتا ہے۔ کیونکہ جو شخص چھپا کر عمل کرتا ہے اس کے عجب میں پڑنے کا اتنا خطرہ نہیں ہے جتنا اس کے کھلے عام عمل کرنے میں ہے۔
حدثنا الحسن بن عرفة، قال حدثنا اسماعيل بن عياش، عن بحير بن سعد، عن خالد بن معدان، عن كثير بن مرة الحضرمي، عن عقبة بن عامر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الجاهر بالقران كالجاهر بالصدقة والمسر بالقران كالمسر بالصدقة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . ومعنى هذا الحديث ان الذي يسر بقراءة القران افضل من الذي يجهر بقراءة القران لان صدقة السر افضل عند اهل العلم من صدقة العلانية وانما معنى هذا عند اهل العلم لكى يامن الرجل من العجب لان الذي يسر العمل لا يخاف عليه العجب ما يخاف عليه من علانيته
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تک سورۃ بنی اسرائیل اور سورۃ الزمر پڑھ نہ لیتے بستر پر سوتے نہ تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابولبابہ ایک بصریٰ شیخ ہیں، حماد بن زید نے ان سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں، کہا جاتا ہے کہ ان کا نام مروان ہے، یہ بات مجھے محمد بن اسماعیل بخاری نے کتاب التاریخ میں بتائی ہے۔
حدثنا صالح بن عبد الله، قال حدثنا حماد بن زيد، عن ابي لبابة، قال قالت عايشة كان النبي صلى الله عليه وسلم لا ينام حتى يقرا بني اسراييل والزمر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وابو لبابة شيخ بصري قد روى عنه حماد بن زيد غير حديث ويقال اسمه مروان . اخبرني بذلك محمد بن اسماعيل في كتاب التاريخ
عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے مسبحات پڑھتے تھے ۱؎ آپ فرماتے تھے: ”ان میں ایک آیت ایسی ہے جو ہزار آیتوں سے بہتر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا علي بن حجر، قال اخبرنا بقية بن الوليد، عن بحير بن سعد، عن خالد بن معدان، عن عبد الله بن ابي بلال، عن عرباض بن سارية، انه حدثه ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقرا المسبحات قبل ان يرقد ويقول " ان فيهن اية خير من الف اية " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
معقل بن یسار رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح کے وقت «أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم» تین بار پڑھے، اور تین بار سورۃ الحشر کی آخری تین آیتیں پڑھے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے مغفرت مانگنے کے لیے ستر ہزار فرشتے لگا دیتا ہے جو شام تک یہی کام کرتے ہیں۔ اگر وہ ایسے دن میں مر جاتا ہے تو شہید ہو کر مرتا ہے، اور جو شخص ان کلمات کو شام کے وقت کہے گا وہ بھی اسی درجہ میں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو احمد الزبيري، قال حدثنا خالد بن طهمان ابو العلاء الخفاف، قال حدثني نافع بن ابي نافع، عن معقل بن يسار، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من قال حين يصبح ثلاث مرات اعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم وقرا ثلاث ايات من اخر سورة الحشر وكل الله به سبعين الف ملك يصلون عليه حتى يمسي وان مات في ذلك اليوم مات شهيدا ومن قالها حين يمسي كان بتلك المنزلة " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے، انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اور آپ کی قرأت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: تمہارا اور آپ کی نماز کا کیا جوڑ؟ آپ نماز پڑھتے تھے پھر اتنی دیر سوتے تھے جتنی دیر نماز پڑھے ہوتے، پھر نماز پڑھتے تھے اسی قدر جتنی دیر سوئے ہوئے ہوتے، پھر اتنی دیر سوتے تھے جتنی دیر نماز پڑھے ہوتے۔ یہاں تک کہ آپ صبح کرتے، پھر انہوں نے آپ کے قرأت کی کیفیت بیان کی اور انہوں نے اس کیفیت کو واضح طور پر ایک ایک حرف حرف کر کے بیان کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اسے ہم صرف لیث بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں جسے انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے اور ابن ابی ملیکہ نے یعلیٰ بن مملک کے واسطہ سے ام سلمہ سے روایت کی، ۳- ابن جریج نے یہ حدیث ابن ابی ملیکہ سے اور ابن ابی ملیکہ نے ام سلمہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کا ہر حرف جدا جدا ہوتا تھا، ۴- لیث کی حدیث ( ابن جریج کی حدیث سے ) زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن عبد الله بن عبيد الله بن ابي مليكة، عن يعلى بن مملك، انه سال ام سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم عن قراءة النبي صلى الله عليه وسلم وصلاته فقالت ما لكم وصلاته كان يصلي ثم ينام قدر ما صلى ثم يصلي قدر ما نام ثم ينام قدر ما صلى حتى يصبح ثم نعتت قراءته فاذا هي تنعت قراءة مفسرة حرفا حرفا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب لا نعرفه الا من حديث ليث بن سعد عن ابن ابي مليكة عن يعلى بن مملك عن ام سلمة . وقد روى ابن جريج هذا الحديث عن ابن ابي مليكة عن ام سلمة ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقطع قراءته . وحديث ليث اصح
عبداللہ بن ابی قیس بصریٰ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے بارے میں پوچھا کہ آپ وتر رات کے شروع حصے میں پڑھتے تھے یا آخری حصے میں؟ انہوں نے کہا: آپ دونوں ہی طرح سے کرتے تھے۔ کبھی تو آپ شروع رات میں وتر پڑھ لیتے تھے اور کبھی آخر رات میں وتر پڑھتے تھے۔ میں نے کہا: الحمدللہ! تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہیں جس نے دین کے معاملے میں وسعت و کشادگی رکھی، پھر میں نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کیسی ہوتی تھی؟ کیا آپ دھیرے پڑھتے تھے یا بلند آواز سے؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب کرتے تھے۔ کبھی تو دھیرے پڑھتے تھے اور کبھی آپ زور سے میں نے کہا: الحمدللہ، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے دین میں وسعت و کشادگی رکھی۔ پھر میں نے کہا: آپ جب جنبی ہو جاتے تھے تو کیا کرتے تھے؟ کیا سونے سے پہلے غسل کر لیتے تھے یا غسل کیے بغیر سو جاتے تھے؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تمام ہی کرتے تھے، کبھی تو آپ غسل کر لیتے تھے پھر سوتے، اور کبھی وضو کر کے سو جاتے، میں نے کہا: اللہ کا شکر ہے کہ اس نے دینی کام میں وسعت و کشادگی رکھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن معاوية بن صالح، عن عبد الله بن ابي قيس، هو رجل بصري قال سالت عايشة عن وتر رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف كان يوتر من اول الليل او من اخره فقالت كل ذلك قد كان يصنع ربما اوتر من اول الليل وربما اوتر من اخره . فقلت الحمد لله الذي جعل في الامر سعة فقلت كيف كانت قراءته اكان يسر بالقراءة ام يجهر قالت كل ذلك كان يفعل قد كان ربما اسر وربما جهر قال فقلت الحمد لله الذي جعل في الامر سعة قال قلت فكيف كان يصنع في الجنابة اكان يغتسل قبل ان ينام ام ينام قبل ان يغتسل قالت كل ذلك قد كان يفعل فربما اغتسل فنام وربما توضا فنام قلت الحمد لله الذي جعل في الامر سعة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «موقف» ( عرفات ) میں اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہتے تھے: ”ہے کوئی جو مجھے اپنی قوم میں لے چلے، کیونکہ قریش نے مجھے اپنے رب کے کلام ( قرآن ) کی تبلیغ سے روک دیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، قال حدثنا محمد بن كثير، قال اخبرنا اسراييل، قال حدثنا عثمان بن المغيرة، عن سالم بن ابي الجعد، عن جابر، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يعرض نفسه بالموقف فقال " الا رجل يحملني الى قومه فان قريشا قد منعوني ان ابلغ كلام ربي " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب صحيح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: جس کو قرآن نے میری یاد نے مجھ سے سوال کرنے سے مشغول رکھا۔ میں اسے اس سے زیادہ دوں گا جتنا میں مانگنے والوں کو دیتا ہوں، اللہ کے کلام کی فضیلت دوسرے سارے کلام پر ایسی ہے جیسے اللہ کی فضیلت اس کی اپنی ساری مخلوقات پر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، قال حدثنا شهاب بن عباد العبدي، قال حدثنا محمد بن الحسن بن ابي يزيد الهمداني، عن عمرو بن قيس، عن عطية، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يقول الرب عز وجل من شغله القران عن ذكري و مسالتي اعطيته افضل ما اعطي السايلين وفضل كلام الله على ساير الكلام كفضل الله على خلقه " . هذا حديث حسن غريب