Loading...

Loading...
کتب
۵۲ احادیث
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا: ”اے فلاں! کیا تم نے شادی کر لی؟“ انہوں نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی! اللہ کے رسول! نہیں کی ہے، اور نہ ہی میرے پاس ایسا کچھ ہے جس کے ذریعہ میں شادی کر سکوں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس سورۃ «قل هو الله أحد» نہیں ہے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، میرے پاس ہے۔ آپ نے فرمایا: ”سورۃ «قل هو الله أحد» ثواب میں ایک تہائی قرآن کے برابر ہے“۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس سورۃ «إذا جاء نصر الله والفتح» نہیں ہے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ( ہے ) آپ نے فرمایا: ”یہ ایک چوتھائی قرآن ہے“، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس سورۃ «قل يا أيها الكافرون» نہیں ہے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ ( ہے ) آپ نے فرمایا: ” ( یہ ) چوتھائی قرآن ہے“۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس سورۃ «إذا زلزلت الأرض» نہیں ہے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں ( ہے ) آپ نے فرمایا: ”یہ ایک چوتھائی قرآن ہے“، آپ نے فرمایا: ”تم شادی کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا عقبة بن مكرم العمي البصري، قال حدثني ابن ابي فديك، قال اخبرنا سلمة بن وردان، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لرجل من اصحابه " هل تزوجت يا فلان " . قال لا والله يا رسول الله ولا عندي ما اتزوج به . قال " اليس معك (قل هو الله احد ) " . قال بلى . قال " ثلث القران " . قال " اليس معك ( اذا جاء نصر الله والفتح ) " . قال بلى . قال " ربع القران " . قال " اليس معك قل يا ايها الكافرون " . قال بلى قال " ربع القران " . قال " اليس معك (اذا زلزلت الارض ) " . قال بلى . قال " ربع القران " . قال " تزوج تزوج " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی اس بات سے بھی عاجز ہے کہ رات میں ایک تہائی قرآن پڑھ ڈالے؟ ( آپ نے فرمایا ) جس نے «الله الواحد الصمد» پڑھا ( یعنی سورۃ الاخلاص پڑھی ) اس نے تہائی قرآن پڑھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے زائدہ کی روایت سے بہتر اسے روایت کیا ہو، اور ان کی روایت پر ان کی متابعت اسرائیل، فضیل بن عیاض نے کی ہے۔ شعبہ اور ان کے علاوہ کچھ دوسرے لوگوں نے یہ حدیث منصور سے روایت کی ہے اور ان سبھوں نے اس میں اضطراب کا سے کام لیا، ۳- اس باب میں ابوالدرداء، ابو سعید خدری، قتادہ بن نعمان، ابوہریرہ، انس، ابن عمر اور ابومسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة ومحمد بن بشار، قالا حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، قال حدثنا زايدة، عن منصور، عن هلال بن يساف، عن ربيع بن خثيم، عن عمرو بن ميمون، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن امراة، وهي امراة ابي ايوب عن ابي ايوب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايعجز احدكم ان يقرا في ليلة ثلث القران من قرا الله الواحد الصمد فقد قرا ثلث القران " . وفي الباب عن ابي الدرداء وابي سعيد وقتادة بن النعمان وابي هريرة وانس وابن عمر وابي مسعود . قال ابو عيسى هذا حديث حسن ولا نعرف احدا روى هذا الحديث احسن من رواية زايدة وتابعه على روايته اسراييل والفضيل بن عياض وقد روى شعبة وغير واحد من الثقات هذا الحديث عن منصور واضطربوا فيه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا، آپ نے وہاں ایک آدمی کو «قل هو الله أحد الله الصمد» پڑھتے ہوئے سنا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہو گئی“۔ میں نے کہا: کیا چیز واجب ہو گئی؟ آپ نے فرمایا: ”جنت ( واجب ہو گئی ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس حدیث کو صرف مالک بن انس کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا ابو كريب، قال حدثنا اسحاق بن سليمان، عن مالك بن انس، عن عبيد الله بن عبد الرحمن، عن ابن حنين، مولى لال زيد بن الخطاب او مولى زيد بن الخطاب عن ابي هريرة، قال اقبلت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فسمع رجلا يقرا (قل هو الله احد * الله الصمد ) فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وجبت " . قلت وما وجبت قال " الجنة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب لا نعرفه الا من حديث مالك بن انس وابن حنين هو عبيد بن حنين
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ہر دن دو سو مرتبہ «قل هو الله أحد» پڑھے گا تو قرض کے سوا اس کے پچاس سال تک کے گناہ مٹا دیئے جائیں گے“۔
حدثنا محمد بن مرزوق البصري، قال حدثنا حاتم بن ميمون ابو سهل، عن ثابت البناني، عن انس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من قرا كل يوم مايتى مرة (قل هو الله احد ) محي عنه ذنوب خمسين سنة الا ان يكون عليه دين " . وبهذا الاسناد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اراد ان ينام على فراشه فنام على يمينه ثم قرا (قل هو الله احد ) مية مرة فاذا كان يوم القيامة يقول له الرب يا عبدي ادخل على يمينك الجنة " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من حديث ثابت عن انس وقد روي هذا الحديث من غير هذا الوجه ايضا عن ثابت
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قل هو الله أحد» ایک تہائی قرآن کے برابر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا العباس بن محمد الدوري، قال حدثنا خالد بن مخلد، قال حدثنا سليمان بن بلال، قال حدثنا سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم (قل هو الله احد ) تعدل ثلث القران " . هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سب اکٹھے ہو جاؤ کیونکہ میں تم سب کو تہائی قرآن پڑھ کر سنانے والا ہوں“، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پکار پر جو بھی پہنچ سکا جمع ہو گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، سورۃ «قل هو الله أحد» پڑھی اور ( حجرہ شریفہ میں ) واپس چلے گئے۔ تو بعض صحابہ نے چہ میگوئیاں کرتے ہوئے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: میں عنقریب تمہیں تہائی قرآن پڑھ کر سناؤں گا، میرا خیال یہ ہے کہ ایسا اس وجہ سے ہوا ہے کہ آسمان سے کوئی خبر ( کوئی اطلاع ) آ گئی ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کمرے سے باہر نکلے اور فرمایا: ”میں نے کہا تھا میں تمہیں تہائی قرآن پڑھ کر سناؤں گا تو سن لو یہ سورۃ «قل هو الله أحد» تہائی قرآن کے برابر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا يزيد بن كيسان، قال حدثنا ابو حازم، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " احشدوا فاني ساقرا عليكم ثلث القران " . قال فحشد من حشد ثم خرج نبي الله صلى الله عليه وسلم فقرا (قل هو الله احد ) ثم دخل فقال بعضنا لبعض قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فاني ساقرا عليكم ثلث القران " . اني لارى هذا خبر جاءه من السماء ثم خرج نبي الله صلى الله عليه وسلم فقال " اني قلت ساقرا عليكم ثلث القران الا وانها تعدل بثلث القران " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه . وابو حازم الاشجعي اسمه سلمان
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مسجد قباء میں ایک انصاری شخص ان کی امامت کرتا تھا، اور اس کی عادت یہ تھی کہ جب بھی وہ ارادہ کرتا کہ کوئی سورت نماز میں پڑھے تو اسے پڑھتا لیکن اس سورت سے پہلے «قل هو الله أحد» پوری پڑھتا، پھر اس کے ساتھ دوسری سورت پڑھتا، اور وہ یہ عمل ہر رکعت میں کرتا تھا۔ تو اس کے ساتھیوں ( نمازیوں ) نے اس سے ( اس موضوع پر ) بات کی، انہوں نے کہا: آپ یہ سورت پڑھتے ہیں پھر آپ خیال کرتے ہیں کہ یہ تو آپ کے لیے کافی نہیں ہے یہاں تک کہ دوسری سورت ( بھی ) پڑھتے ہیں، تو آپ یا تو صرف اسے پڑھیں، یا اسے چھوڑ دیں اور کوئی دوسری سورت پڑھیں، تو انہوں نے کہا: میں اسے چھوڑنے والا نہیں، اگر آپ لوگ پسند کریں کہ میں اسے پڑھنے کے ساتھ ساتھ امامت کروں تو امامت کروں گا اور اگر آپ لوگ اس کے ساتھ امامت کرنا پسند نہیں کرتے تو میں آپ لوگوں ( کی امامت ) کو چھوڑ دوں گا۔ اور لوگوں کا حال یہ تھا کہ انہیں اپنوں میں سب سے افضل سمجھتے تھے اور ناپسند کرتے تھے کہ ان کے سوا کوئی دوسرا ان کی امامت کرے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ان لوگوں کے پاس آئے تو انہوں نے آپ کو ساری بات بتائی۔ آپ نے فرمایا: ”اے فلاں! تمہارے ساتھی جو بات کہہ رہے ہیں، اس پر عمل کرنے سے تمہیں کیا چیز روک رہی ہے اور تمہیں کیا چیز مجبور کر رہی ہے کہ ہر رکعت میں تم اس سورت کو پڑھو؟“، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اسے پسند کرتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی محبت تمہیں جنت میں لے جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب صحیح ہے اور یہ عبیداللہ بن عمر کی روایت سے ہے جسے وہ ثابت سے روایت کرتے ہیں۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، قال حدثنا اسماعيل بن ابي اويس، قال حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عبيد الله بن عمر، عن ثابت البناني، عن انس بن مالك، قال كان رجل من الانصار يومهم في مسجد قباء فكان كلما افتتح سورة يقرا لهم في الصلاة يقرا بها افتتح ب (قل هو الله احد ) حتى يفرغ منها ثم يقرا بسورة معها وكان يصنع ذلك في كل ركعة فكلمه اصحابه فقالوا انك تقرا بهذه السورة ثم لا ترى انها تجزيك حتى تقرا بسورة اخرى فاما ان تقرا بها واما ان تدعها وتقرا بسورة اخرى . قال ما انا بتاركها ان احببتم ان اومكم بها فعلت وان كرهتم تركتكم . وكانوا يرونه افضلهم وكرهوا ان يومهم غيره فلما اتاهم النبي صلى الله عليه وسلم اخبروه الخبر فقال " يا فلان ما يمنعك مما يامر به اصحابك وما يحملك ان تقرا هذه السورة في كل ركعة " . فقال يا رسول الله اني احبها . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان حبها ادخلك الجنة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح من هذا الوجه من حديث عبيد الله بن عمر عن ثابت البناني و قد روى مبارك بن فضالة عن ثابت عن انس، ان رجلا، قال يا رسول الله اني احب هذه السورة (قل هو الله احد ) فقال " ان حبك اياها يدخلك الجنة " . حدثنا بذلك ابو داود سليمان بن الاشعث قال حدثنا ابو الوليد قال حدثنا مبارك بن فضالة بهذا
عقبہ بن عامر جہنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ایسی آیات نازل کی ہیں جیسی ( کبھی ) نہیں دیکھی گئی ہیں، وہ یہ ہیں: «قل أعوذ برب الناس» آخر سورۃ تک اور «قل أعوذ برب الفلق» آخر سورۃ تک“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا اسماعيل بن ابي خالد، قال اخبرني قيس بن ابي حازم، عن عقبة بن عامر الجهني، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " قد انزل الله على ايات لم ير مثلهن (قل اعوذ برب الناس ) الى اخر السورة و (قل اعوذ برب الفلق ) الى اخر السورة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ ہر نماز کے بعد معوذتین پڑھا کروں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا ابن لهيعة، عن يزيد بن ابي حبيب، عن على بن رباح، عن عقبة بن عامر، قال امرني رسول الله صلى الله عليه وسلم ان اقرا بالمعوذتين في دبر كل صلاة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور قرآن پڑھنے میں مہارت رکھتا ہے وہ بزرگ پاکباز فرشتوں کے ساتھ ہو گا، اور جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور بڑی مشکل سے پڑھ پاتا ہے، پڑھنا اسے بہت شاق گزرتا ہے تو اسے دہرا اجر ملے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو داود الطيالسي، قال حدثنا شعبة، وهشام، عن قتادة، عن زرارة بن اوفى، عن سعد بن هشام، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الذي يقرا القران وهو ماهر به مع السفرة الكرام البررة والذي يقروه قال هشام وهو شديد عليه قال شعبة وهو عليه شاق فله اجران " . هذا حديث حسن صحيح
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قرآن پڑھا اور اسے پوری طرح حفظ کر لیا، جس چیز کو قرآن نے حلال ٹھہرایا اسے حلال جانا اور جس چیز کو قرآن نے حرام ٹھہرایا اسے حرام سمجھا تو اللہ اسے اس قرآن کے ذریعہ جنت میں داخل فرمائے گا۔ اور اس کے خاندان کے دس ایسے لوگوں کے بارے میں اس ( قرآن ) کی سفارش قبول کرے گا جن پر جہنم واجب ہو چکی ہو گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس کی سند صحیح نہیں ہے، ۳- حفص بن سلیمان حدیث میں ضعیف قرار دیئے گئے ہیں۔
حدثنا علي بن حجر، قال اخبرنا حفص بن سليمان، عن كثير بن زاذان، عن عاصم بن ضمرة، عن علي بن ابي طالب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قرا القران واستظهره فاحل حلاله وحرم حرامه ادخله الله به الجنة وشفعه في عشرة من اهل بيته كلهم وجبت له النار " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه وليس اسناد صحيح . وحفص بن سليمان ابو عمر بزاز كوفي يضعف في الحديث
حارث اعور کہتے ہیں کہ مسجد میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگ گپ شپ اور قصہ کہانیوں میں مشغول ہیں، میں علی رضی الله عنہ کے پاس پہنچا۔ میں نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ دیکھ نہیں رہے ہیں کہ لوگ لایعنی باتوں میں پڑے ہوئے ہیں؟ ۔ انہوں نے کہا: کیا واقعی وہ ایسا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: مگر میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”عنقریب کوئی فتنہ برپا ہو گا“، میں نے کہا: اس فتنہ سے بچنے کی صورت کیا ہو گی؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”کتاب اللہ، اس میں تم سے پہلے کے لوگوں اور قوموں کی خبریں ہیں اور بعد کے لوگوں کی بھی خبریں ہیں، اور تمہارے درمیان کے امور و معاملات کا حکم و فیصلہ بھی اس میں موجود ہے، اور وہ دو ٹوک فیصلہ کرنے والا ہے، ہنسی مذاق کی چیز نہیں ہے۔ جس نے اسے سرکشی سے چھوڑ دیا اللہ اسے توڑ دے گا اور جو اسے چھوڑ کر کہیں اور ہدایت تلاش کرے گا اللہ اسے گمراہ کر دے گا۔ وہ ( قرآن ) اللہ کی مضبوط رسی ہے یہ وہ حکمت بھرا ذکر ہے، وہ سیدھا راستہ ہے، وہ ہے جس کی وجہ سے خواہشیں ادھر ادھر نہیں بھٹک پاتی ہیں، جس کی وجہ سے زبانیں نہیں لڑکھڑاتیں، اور علماء کو ( خواہ کتنا ہی اسے پڑھیں ) آسودگی نہیں ہوتی، اس کے باربار پڑھنے اور تکرار سے بھی وہ پرانا ( اور بے مزہ ) نہیں ہوتا۔ اور اس کی انوکھی ( و قیمتی ) باتیں ختم نہیں ہوتیں، اور وہ قرآن وہ ہے جسے سن کر جن خاموش نہ رہ سکے بلکہ پکار اٹھے: ہم نے ایک عجیب ( انوکھا ) قرآن سنا ہے جو بھلائی کا راستہ دکھاتا ہے، تو ہم اس پر ایمان لے آئے، جو اس کے مطابق بولے گا اس کے مطابق عمل کرے گا اسے اجر و ثواب دیا جائے گا۔ اور جس نے اس کے مطابق فیصلہ کیا اس نے انصاف کیا اور جس نے اس کی طرف بلایا اس نے اس نے سیدھے راستے کی ہدایت دی۔ اعور! ان اچھی باتوں کا خیال رکھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس کی سند مجہول ہے، ۳- حارث کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، قال حدثنا حسين بن علي الجعفي، قال سمعت حمزة الزيات، عن ابي المختار الطايي، عن ابن اخي الحارث الاعور، عن الحارث، قال مررت في المسجد فاذا الناس يخوضون في الاحاديث فدخلت على علي فقلت يا امير المومنين الا ترى ان الناس قد خاضوا في الاحاديث . قال اوقد فعلوها قلت نعم . قال اما اني قد سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الا انها ستكون فتنة " . فقلت ما المخرج منها يا رسول الله قال " كتاب الله فيه نبا ما كان قبلكم وخبر ما بعدكم وحكم ما بينكم هو الفصل ليس بالهزل من تركه من جبار قصمه الله ومن ابتغى الهدى في غيره اضله الله وهو حبل الله المتين وهو الذكر الحكيم وهو الصراط المستقيم هو الذي لا تزيغ به الاهواء ولا تلتبس به الالسنة ولا يشبع منه العلماء ولا يخلق على كثرة الرد ولا تنقضي عجايبه هو الذي لم تنته الجن اذ سمعته حتى قالوا (انا سمعنا قرانا عجبا * يهدي الى الرشد فامنا به ) من قال به صدق ومن عمل به اجر ومن حكم به عدل ومن دعا اليه هدي الى صراط مستقيم " . خذها اليك يا اعور . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث حمزة الزيات واسناده مجهول . وفي حديث الحارث مقال
عثمان بن عفان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور سکھلائے“، ابوعبدالرحمٰن سلمی ( راوی حدیث ) کہتے ہیں: یہی وہ چیز ہے جس نے مجھے اپنی اس نشست گاہ ( مسند ) پر بٹھا رکھا ہے، عثمان کے زمانہ میں قرآن کی تعلیم دینی شروع کی ( اور دیتے رہے ) یہاں تک حجاج بن یوسف کے زمانہ میں یہ سلسلہ چلتا رہا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو داود، انبانا شعبة، قال اخبرني علقمة بن مرثد، قال سمعت سعد بن عبيدة، يحدث عن ابي عبد الرحمن، عن عثمان بن عفان، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " خيركم من تعلم القران وعلمه " . قال ابو عبد الرحمن فذاك الذي اقعدني مقعدي هذا . وعلم القران في زمن عثمان حتى بلغ الحجاج بن يوسف . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سب سے بہتر یا تم میں سب سے افضل وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور سکھلائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- عبدالرحمٰن بن مہدی اور کئی دوسروں نے اسی طرح بسند «سفيان الثوري عن علقمة بن مرثد عن أبي عبدالرحمٰن عن عثمان عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۳- سفیان اس کی سند میں سعد بن عبیدہ کا ذکر نہیں کرتے ہیں، ۴- یحییٰ بن سعید قطان نے یہ حدیث بسند «سفيان وشعبة عن علقمة بن مرثد عن سعد بن عبيدة عن أبي عبدالرحمٰن عن عثمان عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی۔ ہم سے بیان کیا اسے محمد بن بشار نے، وہ کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا یحییٰ بن سعید نے سفیان اور شعبہ کے واسطہ سے۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا بشر بن السري، قال حدثنا سفيان، عن علقمة بن مرثد، عن ابي عبد الرحمن السلمي، عن عثمان بن عفان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خيركم - او افضلكم - من تعلم القران وعلمه " . هذا حديث حسن صحيح . وهكذا روى عبد الرحمن بن مهدي وغير واحد عن سفيان الثوري عن علقمة بن مرثد عن ابي عبد الرحمن عن عثمان عن النبي صلى الله عليه وسلم وسفيان لا يذكر فيه عن سعد بن عبيدة . وقد روى يحيى بن سعيد القطان، هذا الحديث عن سفيان، وشعبة، عن علقمة بن مرثد، عن سعد بن عبيدة، عن ابي عبد الرحمن، عن عثمان، عن النبي صلى الله عليه وسلم. حدثنا بذلك، محمد بن بشار قال حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان وشعبة . قال محمد بن بشار وهكذا ذكره يحيى بن سعيد عن سفيان، وشعبة، غير مرة عن علقمة بن مرثد، عن سعد بن عبيدة، عن ابي عبد الرحمن، عن عثمان، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال محمد بن بشار واصحاب سفيان لا يذكرون فيه عن سفيان عن سعد بن عبيدة . قال محمد بن بشار وهو اصح . قال ابو عيسى وقد زاد شعبة في اسناد هذا الحديث سعد بن عبيدة وكان حديث سفيان اشبه . قال علي بن عبد الله قال يحيى بن سعيد ما احد يعدل عندي شعبة واذا خالفه سفيان اخذت بقول سفيان . قال ابو عيسى سمعت ابا عمار يذكر عن وكيع قال قال شعبة سفيان احفظ مني وما حدثني سفيان عن احد بشيء فسالته الا وجدته كما حدثني . وفي الباب عن علي وسعد
علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور سکھلائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کو ہم علی بن ابی طالب کی روایت سے جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں صرف عبدالرحمٰن بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا عبد الواحد بن زياد، عن عبد الرحمن بن اسحاق، عن النعمان بن سعد، عن علي بن ابي طالب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خيركم من تعلم القران وعلمه " . وهذا حديث لا نعرفه من حديث علي عن النبي صلى الله عليه وسلم الا من حديث عبد الرحمن بن اسحاق
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا اسے اس کے بدلے ایک نیکی ملے گی، اور ایک نیکی دس گنا بڑھا دی جائے گی، میں نہیں کہتا «الم» ایک حرف ہے، بلکہ «الف» ایک حرف ہے، «لام» ایک حرف ہے اور «میم» ایک حرف ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ابن مسعود سے روایت کی گئی ہے، ۲- اس حدیث کو ابوالاحوص نے ابن مسعود سے روایت کیا ہے۔ بعض نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے اور بعض نے اسے ابن مسعود سے موقوفاً روایت کیا ہے، ۳- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا ابو بكر الحنفي، قال حدثنا الضحاك بن عثمان، عن ايوب بن موسى، قال سمعت محمد بن كعب القرظي، يقول سمعت عبد الله بن مسعود، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قرا حرفا من كتاب الله فله به حسنة والحسنة بعشر امثالها لا اقول الم حرف ولكن الف حرف ولام حرف وميم حرف " . ويروى هذا الحديث من غير هذا الوجه عن ابن مسعود ورواه ابو الاحوص عن ابن مسعود رفعه بعضهم ووقفه بعضهم عن ابن مسعود . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه . سمعت قتيبة بن سعيد يقول بلغني ان محمد بن كعب القرظي ولد في حياة النبي صلى الله عليه وسلم ومحمد بن كعب يكنى ابا حمزة
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کسی بندے کی کوئی بات اتنی زیادہ توجہ اور ہمہ تن گوش ہو کر نہیں سنتا جتنی دو رکعتیں پڑھنے والے بندے کی سنتا ہے، اور بندہ جب تک نماز پڑھ رہا ہوتا ہے اس کے سر پر نیکی کی بارش ہوتی رہتی ہے، اور بندے اللہ عزوجل سے ( کسی چیز سے ) اتنا قریب نہیں ہوتے جتنا اس چیز سے جو اس کی ذات سے نکلی ہے“، ابونضر کہتے ہیں: آپ اس قول سے قرآن مراد لیتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- بکر بن خنیس کے بارے میں ابن مبارک نے کلام کیا ہے اور آخر امر یعنی بعد میں ( ان کے ضعیف ہونے کی وجہ سے ) ان سے روایت کرنی چھوڑ دی تھی، ۳- یہ حدیث زید بن ارطاۃ کے واسطہ سے جبیر بن نفیر سے مروی ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل طریقہ سے روایت کی ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، قال حدثنا ابو النضر، قال حدثنا بكر بن خنيس، عن ليث بن ابي سليم، عن زيد بن ارطاة، عن ابي امامة، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ما اذن الله لعبد في شيء افضل من ركعتين يصليهما وان البر ليذر على راس العبد ما دام في صلاته وما تقرب العباد الى الله بمثل ما خرج منه " . قال ابو النضر يعني القران . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه . وبكر بن خنيس قد تكلم فيه ابن المبارك وتركه في اخر امره . وقد روي هذا الحديث، عن زيد بن ارطاة عن جبير بن نفير، عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسل
جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ کی طرف رجوع کرنے کے لیے قرآن سے بڑھ کر کوئی اور ذریعہ نہیں پا سکتے“۔
حدثنا بذلك اسحاق بن منصور قال حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن معاوية، عن العلاء بن الحارث، عن زيد بن ارطاة، عن جبير بن نفير، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " انكم لن ترجعوا الى الله بافضل مما خرج منه " . يعني القران
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص جس کے دل میں قرآن کا کچھ حصہ یاد نہ ہو وہ ویران گھر کی طرح ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، قال حدثنا جرير، عن قابوس بن ابي ظبيان، عن ابيه، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الذي ليس في جوفه شيء من القران كالبيت الخرب " . هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( قیامت کے دن ) صاحب قرآن سے کہا جائے گا: ( قرآن ) پڑھتا جا اور ( بلندی کی طرف ) چڑھتا جا۔ اور ویسے ہی ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جس طرح تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر ترتیل کے ساتھ پڑھتا تھا۔ پس تیری منزل وہ ہو گی جہاں تیری آخری آیت کی تلاوت ختم ہو گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو داود الحفري وابو نعيم، عن سفيان، عن عاصم بن ابي النجود، عن زر، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يقال يعني لصاحب القران اقرا وارتق ورتل كما كنت ترتل في الدنيا فان منزلتك عند اخر اية تقرا بها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . حدثنا بندار، قال حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن سفيان، عن عاصم، بهذا الاسناد نحوه