Loading...

Loading...
کتب
۵۲ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابی بن کعب رضی الله عنہ کے پاس سے گزرے وہ نماز پڑھ رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”اے ابی ( سنو ) وہ ( آواز سن کر ) متوجہ ہوئے لیکن جواب نہ دیا، نماز جلدی جلدی پوری کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: السلام علیک یا رسول اللہ! ( اللہ کے رسول آپ پر سلامتی نازل ہو ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: وعلیک السلام ( تم پر بھی سلامتی ہو ) ابی! جب میں نے تمہیں بلایا تو تم میرے پاس کیوں نہ حاضر ہوئے؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: ” ( اب تک ) جو وحی مجھ پر نازل ہوئی ہے اس میں تجھے کیا یہ آیت نہیں ملی «استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم لما يحييكم» ”اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول کے کہنے کو بجا لاؤ، جب کہ رسول تم کو تمہاری زندگی بخش چیز کی طرف بلاتے ہوں“ ( انفال ۲۴ ) ، انہوں نے کہا: جی ہاں، اور آئندہ إن شاء اللہ ایسی بات نہ ہو گی۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہیں پسند ہے کہ میں تمہیں ایسی سورت سکھاؤں جیسی سورت نہ تو رات میں نازل ہوئی نہ انجیل میں اور نہ زبور میں اور نہ ہی قرآن میں؟“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ( ضرور سکھائیے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز میں تم ( قرآن ) کیسے پڑھتے ہو؟“ تو انہوں نے ام القرآن ( سورۃ فاتحہ ) پڑھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ تورات میں، انجیل میں، زبور میں ( حتیٰ کہ ) قرآن اس جیسی سورت نازل نہیں ہوئی ہے۔ یہی سبع مثانی ۲؎ ( سات آیتیں ) ہیں اور یہی وہ قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس بن مالک اور ابوسعید بن معلی رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج على ابى بن كعب فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا ابى " . وهو يصلي فالتفت ابى ولم يجبه وصلى ابى فخفف ثم انصرف الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال السلام عليك يا رسول الله . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وعليك السلام ما منعك يا ابى ان تجيبني اذ دعوتك " . فقال يا رسول الله اني كنت في الصلاة . قال " افلم تجد فيما اوحى الله الى ان (استجيبوا لله وللرسول اذا دعاكم لما يحييكم ) " . قال بلى ولا اعود ان شاء الله . قال " تحب ان اعلمك سورة لم ينزل في التوراة ولا في الانجيل ولا في الزبور ولا في الفرقان مثلها " . قال نعم يا رسول الله . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كيف تقرا في الصلاة " . قال فقرا ام القران فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " والذي نفسي بيده ما انزلت في التوراة ولا في الانجيل ولا في الزبور ولا في الفرقان مثلها وانها سبع من المثاني والقران العظيم الذي اعطيته " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن انس بن مالك وفيه عن ابي سعيد بن المعلى
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گنتی کے کچھ لشکری بھیجے ( بھیجتے وقت ) ان سے ( قرآن ) پڑھوایا، تو ان میں سے ہر ایک نے جسے جتنا قرآن یاد تھا پڑھ کر سنایا۔ جب ایک نوعمر نوجوان کا نمبر آیا تو آپ نے اس سے کہا: اے فلاں! تمہارے ساتھ کیا ہے یعنی تمہیں کون کون سی سورتیں یاد ہیں؟ اس نے کہا: مجھے فلاں فلاں اور سورۃ البقرہ یاد ہے۔ آپ نے کہا: کیا تمہیں سورۃ البقرہ یاد ہے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ”جاؤ تم ان سب کے امیر ہو“۔ ان کے شرفاء میں سے ایک نے کہا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! میں نے سورۃ البقرہ صرف اسی ڈر سے یاد نہ کی کہ میں اسے ( نماز تہجد میں ) برابر پڑھ نہ سکوں گا۔ آپ نے فرمایا: ”قرآن سیکھو، اسے پڑھو اور پڑھاؤ۔ کیونکہ قرآن کی مثال اس شخص کے لیے جس نے اسے سیکھا اور پڑھا، اور اس پر عمل کیا اس تھیلی کی ہے جس میں مشک بھری ہوئی ہو اور چاروں طرف اس کی خوشبو پھیل رہی ہو، اور اس شخص کی مثال جس نے اسے سیکھا اور سو گیا اس کا علم اس کے سینے میں بند رہا۔ اس تھیلی کی سی ہے جو مشک بھر کر سیل بند کر دی گئی ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس حدیث کو لیث بن سعد نے سعید مقبری سے، اور سعید نے ابواحمد کے آزاد کردہ غلام عطا سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور انہوں نے اس روایت میں ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال الحلواني، قال حدثنا ابو اسامة، قال حدثنا عبد الحميد بن جعفر، عن سعيد المقبري، عن عطاء، مولى ابي احمد عن ابي هريرة، قال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم بعثا وهم ذو عدد فاستقراهم فاستقرا كل رجل منهم ما معه من القران فاتى على رجل منهم من احدثهم سنا فقال " ما معك يا فلان " . قال معي كذا وكذا وسورة البقرة . قال " امعك سورة البقرة " . فقال نعم . قال " فاذهب فانت اميرهم " . فقال رجل من اشرافهم والله يا رسول الله ما منعني ان اتعلم سورة البقرة الا خشية الا اقوم بها . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تعلموا القران فاقرءوه واقريوه فان مثل القران لمن تعلمه فقراه وقام به كمثل جراب محشو مسكا يفوح بريحه كل مكان ومثل من تعلمه فيرقد وهو في جوفه كمثل جراب وكي على مسك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد رواه الليث بن سعد عن سعيد المقبري، عن عطاء، مولى ابي احمد عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا ولم يذكر فيه عن ابي هريرة . حدثنا قتيبة عن الليث فذكره
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔ وہ گھر جس میں سورۃ البقرہ پڑھی جاتی ہے اس میں شیطان داخل نہیں ہوتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تجعلوا بيوتكم مقابر وان البيت الذي تقرا فيه البقرة لا يدخله الشيطان " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کی ایک چوٹی ہوتی ہے ۱؎ اور قرآن کی چوٹی سورۃ البقرہ ہے، اس سورۃ میں ایک آیت ہے یہ قرآن کی ساری آیتوں کی سردار ہے اور یہ آیت آیۃ الکرسی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف حکیم بن جبیر کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- حکیم بن جبیر کے بارے میں شعبہ نے کلام کیا ہے اور انہیں ضعیف قرار دیا ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا حسين الجعفي، عن زايدة، عن حكيم بن جبير، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لكل شيء سنام وان سنام القران سورة البقرة وفيها اية هي سيدة اى القران هي اية الكرسي " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث حكيم بن جبير . وقد تكلم شعبة في حكيم بن جبير وضعفه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سورۃ مومن کی ( ابتدائی تین آیات ) «حم» سے «إليه المصير» تک اور آیت الکرسی صبح ہی صبح ( بیدار ہونے کے بعد ہی ) پڑھی تو ان دونوں کے ذریعہ شام تک اس کی حفاظت کی جائے گی، اور جس نے ان دونوں کو شام ہوتے ہی پڑھا تو ان کے ذریعہ اس کی صبح ہونے تک حفاظت کی جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- بعض اہل علم نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر بن ابی ملیکہ کے حافظے کے سلسلے میں کلام کیا ہے، ۳- زرارہ بن مصعب کا پورا نام زرارہ بن مصعب بن عبدالرحمٰن بن عوف ہے، اور وہ ابومصعب مدنی کے دادا ہیں۔
حدثنا يحيى بن المغيرة ابو سلمة المخزومي المدني، قال حدثنا ابن ابي فديك، عن عبد الرحمن بن ابي بكر المليكي، عن زرارة بن مصعب، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قرا حم المومن الى : (اليه المصير ) واية الكرسي حين يصبح حفظ بهما حتى يمسي ومن قراهما حين يمسي حفظ بهما حتى يصبح " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وقد تكلم بعض اهل العلم في عبد الرحمن بن ابي بكر بن ابي مليكة المليكي من قبل حفظه . وزرارة بن مصعب هو ابن عبد الرحمن بن عوف وهو جد ابي مصعب المدني
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کا اپنا ایک احاطہٰ تھا اس میں کھجوریں رکھی ہوئی تھیں۔ جن آتا تھا اور اس میں سے اٹھا لے جاتا تھا، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی شکایت کی۔ آپ نے فرمایا: ”جاؤ جب دیکھو کہ وہ آیا ہوا ہے تو کہو: بسم اللہ ( اللہ کے نام سے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان“، ابوذر رضی الله عنہ نے اسے پکڑ لیا تو وہ قسمیں کھا کھا کر کہنے لگا کہ مجھے چھوڑ دو، دوبارہ وہ ایسی حرکت نہیں کرے گا، چنانچہ انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا، ”تمہارے قیدی نے کیا کیا؟ !“ انہوں نے کہا: اس نے قسمیں کھائیں کہ اب وہ دوبارہ ایسی حرکت نہ کرے گا۔ آپ نے فرمایا: ”اس نے جھوٹ کہا: وہ جھوٹ بولنے کا عادی ہے“، راوی کہتے ہیں: انہوں نے اسے دوبارہ پکڑا، اس نے پھر قسمیں کھائیں کہ اسے چھوڑ دو، وہ دوبارہ نہ آئے گا تو انہوں نے اسے ( دوبارہ ) چھوڑ دیا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے پوچھا: ”تمہارے قیدی نے کیا کیا؟“ انہوں نے کہا: اس نے قسم کھائی کہ وہ پھر لوٹ کر نہ آئے گا۔ آپ نے فرمایا: ”اس نے جھوٹ کہا، وہ تو جھوٹ بولنے کا عادی ہے“۔ ( پھر جب وہ آیا ) تو انہوں نے اسے پکڑ لیا، اور کہا: اب تمہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جائے بغیر نہ چھوڑوں گا۔ اس نے کہا: مجھے چھوڑ دو، میں تمہیں ایک چیز یعنی آیت الکرسی بتا رہا ہوں۔ تم اسے اپنے گھر میں پڑھ لیا کرو۔ تمہارے قریب شیطان نہ آئے گا اور نہ ہی کوئی اور آئے گا“، پھر ابوذر رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا: ”تمہارے قیدی نے کیا کیا؟“ تو انہوں نے آپ کو وہ سب کچھ بتایا جو اس نے کہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے بات تو صحیح کہی ہے، لیکن وہ ہے پکا جھوٹا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابی بن کعب رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا ابو احمد، قال حدثنا سفيان، عن ابن ابي ليلى، عن اخيه، عيسى عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن ابي ايوب الانصاري، انه كانت له سهوة فيها تمر فكانت تجيء الغول فتاخذ منه قال فشكا ذلك الى النبي صلى الله عليه وسلم قال " فاذهب فاذا رايتها فقل بسم الله اجيبي رسول الله صلى الله عليه وسلم " . قال فاخذها فحلفت ان لا تعود فارسلها فجاء الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ما فعل اسيرك " . قال حلفت ان لا تعود فقال " كذبت وهي معاودة للكذب " . قال فاخذها مرة اخرى فحلفت ان لا تعود فارسلها فجاء الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ما فعل اسيرك " . قال حلفت ان لا تعود . فقال " كذبت وهي معاودة للكذب " . فاخذها فقال ما انا بتاركك حتى اذهب بك الى النبي صلى الله عليه وسلم . فقالت اني ذاكرة لك شييا اية الكرسي اقراها في بيتك فلا يقربك شيطان ولا غيره . قال فجاء الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ما فعل اسيرك " . قال فاخبره بما قالت . قال " صدقت وهي كذوب " . هذا حديث حسن غريب . وفي الباب عن ابى بن كعب
ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رات میں سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھیں وہ اس کے لیے کافی ہو گئیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، قال حدثنا جرير بن عبد الحميد، عن منصور بن المعتمر، عن ابراهيم بن يزيد، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن ابي مسعود الانصاري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قرا الايتين من اخر سورة البقرة في ليلة كفتاه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان پیدا کرنے سے دو ہزار سال پہلے ایک کتاب لکھی، اس کتاب کی دو آیتیں نازل کیں اور انہیں دونوں آیتوں پر سورۃ البقرہ کو ختم کیا، جس گھر میں یہ دونوں آیتیں ( مسلسل ) تین راتیں پڑھی جائیں گی ممکن نہیں ہے کہ شیطان اس گھر کے قریب آ سکے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، قال حدثنا حماد بن سلمة، عن اشعث بن عبد الرحمن الجرمي، عن ابي قلابة، عن ابي الاشعث الجرمي، عن النعمان بن بشير، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الله كتب كتابا قبل ان يخلق السماوات والارض بالفى عام انزل منه ايتين ختم بهما سورة البقرة ولا يقران في دار ثلاث ليال فيقربها شيطان " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
نواس بن سمعان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن اور قرآن والا جو دنیا میں قرآن پر عمل کرتا ہے دونوں آئیں گے ان کی پیشوائی سورۃ البقرہ اور آل عمران کریں گی“۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سورتوں کی تین مثالیں دیں، اس کے بعد پھر میں ان سورتوں کو نہ بھولا۔ آپ نے فرمایا: ”گویا کہ وہ دونوں چھتریاں ہیں، جن کے بیچ میں شگاف اور پھٹن ہیں، یا گویا کہ وہ دونوں کالی بدلیاں ہیں، یا گویا کہ وہ صف بستہ چڑیوں کا سائبان ہیں، یہ دونوں سورتیں اپنے پڑھنے والوں اور ان پر عمل کرنے والوں کا لڑ جھگڑ کر دفاع و بچاؤ کر رہی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- اس باب میں بریدہ اور ابوامامہ سے بھی روایت ہے، ۳- اس حدیث کا بعض اہل علم کے نزدیک معنی و مفہوم یہ ہے کہ قرآن پڑھنے کا ثواب آئے گا۔ اس حدیث اور اس جیسی دیگر احادیث کی بعض اہل علم نے یہی تفسیر کی ہے کہ قرآن پڑھنے کا ثواب آئے گا، نواس رضی الله عنہ کی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، مفسرین کی اس تفسیر کی دلیل اور اس کا ثبوت ملتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول «وأهله الذين يعملون به في الدنيا» میں اشارہ ہے کہ قرآن کے آنے سے مراد ان کے اعمال کا ثواب ہے۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، قال اخبرنا هشام بن اسماعيل ابو عبد الملك العطار، قال حدثنا محمد بن شعيب، حدثنا ابراهيم بن سليمان، عن الوليد بن عبد الرحمن، انه حدثهم عن جبير بن نفير، عن نواس بن سمعان، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ياتي القران واهله الذين يعملون به في الدنيا تقدمه سورة البقرة وال عمران " . قال نواس وضرب لهما رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثة امثال ما نسيتهن بعد قال " تاتيان كانهما غيابتان وبينهما شرق او كانهما غمامتان سوداوان او كانهما ظلة من طير صواف تجادلان عن صاحبهما " . وفي الباب عن بريدة وابي امامة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه . ومعنى هذا الحديث عند اهل العلم انه يجيء ثواب قراءته كذا فسر بعض اهل العلم هذا الحديث وما يشبه هذا من الاحاديث انه يجيء ثواب قراءة القران . وفي حديث النواس عن النبي صلى الله عليه وسلم ما يدل على ما فسروا اذ قال النبي صلى الله عليه وسلم " واهله الذين يعملون به في الدنيا " . ففي هذا دلالة انه يجيء ثواب العمل
سفیان بن عیینہ سے روایت ہے، وہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی اس حدیث «ما خلق الله من سماء ولا أرض أعظم من آية الكرسي» کی تفسیر میں کہتے ہیں: آیت الکرسی کی فضیلت اس وجہ سے ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور اللہ کا کلام اللہ کی مخلوق یعنی آسمان و زمین سے بڑھ کر ہے۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، قال حدثنا الحميدي، قال حدثنا سفيان بن عيينة، في تفسير حديث عبد الله بن مسعود قال ما خلق الله من سماء ولا ارض اعظم من اية الكرسي . قال سفيان لان اية الكرسي هو كلام الله وكلام الله اعظم من خلق الله من السماء والارض
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی سورۃ الکہف پڑھ رہا تھا کہ اسی دوران اس نے اپنے چوپائے ( سواری ) کو دیکھا کہ وہ ( اپنے کھونٹے پر ) ناچنے اور اچھل کود کرنے لگا۔ اس نے نظر ( ادھر ادھر ) دوڑائی تو اسے ایک بدلی سی نظر آئی، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس ( واقعہ ) کا آپ سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ سکینت ( طمانینت ) تھی جو قرآن کی وجہ سے یا قرآن پڑھنے پر نازل ہوئی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں اسید بن حضیر سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو داود، قال حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، قال سمعت البراء بن عازب يقول بينما رجل يقرا سورة الكهف اذ راى دابته تركض فنظر فاذا مثل الغمامة او السحابة فاتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " تلك السكينة نزلت مع القران او نزلت على القران " . وفي الباب عن اسيد بن حضير . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابو الدرداء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سورۃ الکہف کی ابتدائی تین آیات پڑھیں وہ دجال کے فتنہ سے بچا لیا گیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، عن قتادة، عن سالم بن ابي الجعد، عن معدان بن ابي طلحة، عن ابي الدرداء، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من قرا ثلاث ايات من اول الكهف عصم من فتنة الدجال " . حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا معاذ بن هشام، قال حدثني ابي، عن قتادة، بهذا الاسناد نحوه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے، اور قرآن کا دل سورۃ یاسین ہے۔ اور جس نے سورۃ یاسین پڑھی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے پڑھنے کے صلے میں دس مرتبہ قرآن شریف پڑھنے کا ثواب لکھے گا“۔ اس سند سے بھی یہ سابقہ حدیث کی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس حدیث کو ہم صرف حمید بن عبدالرحمٰن کی روایت سے جانتے ہیں۔ اور اہل بصرہ قتادہ کی روایت کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ اور ہارون ابو محمد شیخ مجہول ہیں۔ ۳- اس باب میں ابوبکر صدیق سے بھی روایت ہے، اور یہ روایت سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے۔ ۴- اس کی سند ضعیف ہے اور اس باب میں ابوہریرہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا قتيبة وسفيان بن وكيع، قالا حدثنا حميد بن عبد الرحمن الرواسي، عن الحسن بن صالح، عن هارون ابي محمد، عن مقاتل بن حيان، عن قتادة، عن انس، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان لكل شيء قلبا وقلب القران يس ومن قرا يس كتب الله له بقراءتها قراءة القران عشر مرات " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث حميد بن عبد الرحمن وبالبصرة لا يعرفون من حديث قتادة الا من هذا الوجه . وهارون ابو محمد شيخ مجهول . حدثنا ابو موسى محمد بن المثنى، قال حدثنا احمد بن سعيد الدارمي، قال حدثنا قتيبة، عن حميد بن عبد الرحمن، بهذا . وفي الباب عن ابي بكر الصديق، ولا يصح من قبل اسناده اسناده ضعيف . و في الباب عن ابي هريرة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سورۃ «حم الدخان» کسی رات میں پڑھے وہ اس حال میں صبح کرے گا کہ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کر رہے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- عمر بن ابی خثعم ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ وہ منکر الحدیث ہیں۔
حدثنا سفيان بن وكيع، قال حدثنا زيد بن حباب، عن عمر بن ابي خثعم، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قرا حم الدخان في ليلة اصبح يستغفر له سبعون الف ملك " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه . وعمر بن ابي خثعم يضعف . قال محمد وهو منكر الحديث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جمعہ کی رات میں «حم الدخان» پڑھے گا اسے بخش دیا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- ہشام ابوالمقدام ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، ۳- حسن بصری نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے نہیں سنا ہے، ایوب، یونس بن عبید اور علی بن زید نے ایسا ہی کہا ہے۔
حدثنا نصر بن عبد الرحمن الكوفي، قال حدثنا زيد بن حباب، عن هشام ابي المقدام، عن الحسن، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قرا حم الدخان في ليلة الجمعة غفر له " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه . وهشام ابو المقدام يضعف ولم يسمع الحسن من ابي هريرة هكذا قال ايوب ويونس بن عبيد وعلي بن زيد
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ صحابہ میں سے کسی نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کر دیا اور انہیں معلوم نہیں ہوا کہ وہاں قبر ہے، ( انہوں نے آواز سنی ) اس قبر میں کوئی انسان سورۃ «تبارك الذي بيده الملك» پڑھ رہا تھا، یہاں تک کہ اس نے پوری سورۃ ختم کر دی۔ وہ صحابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے پھر آپ سے کہا: اللہ کے رسول! میں نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کر دیا، مجھے گمان نہیں تھا کہ اس جگہ پر قبر ہے۔ مگر اچانک کیا سنتا ہوں کہ اس جگہ ایک انسان سورۃ «تبارك الملك» پڑھ رہا ہے اور پڑھتے ہوئے اس نے پوری سورۃ ختم کر دی۔ آپ نے فرمایا: «هي المانعة» ”یہ سورۃ مانعہ ہے، یہ نجات دینے والی ہے، اپنے پڑھنے والے کو عذاب قبر سے بچاتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، قال حدثنا يحيى بن عمرو بن مالك النكري، عن ابيه، عن ابي الجوزاء، عن ابن عباس، قال ضرب بعض اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم خباءه على قبر وهو لا يحسب انه قبر فاذا فيه انسان يقرا سورة تبارك الذي بيده الملك حتى ختمها فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اني ضربت خبايي على قبر وانا لا احسب انه قبر فاذا فيه انسان يقرا سورة تبارك الملك حتى ختمها . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هي المانعة هي المنجية تنجيه من عذاب القبر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه . وفي الباب عن ابي هريرة
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن کی تیس آیتوں کی ایک سورۃ نے ایک آدمی کی شفاعت ( سفارش ) کی تو اسے بخش دیا گیا، یہ سورۃ «تبارك الذي بيده الملك» ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، عن قتادة، عن عباس الجشمي، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان سورة من القران ثلاثون اية شفعت لرجل حتى غفر له وهي سورة تبارك الذي بيده الملك " . هذا حديث حسن
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تک «الم تنزيل» اور «تبارك الذي بيده الملك» پڑھ نہ لیتے سوتے نہ تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو کئی ایک رواۃ نے لیث بن ابی سلیم سے اسی طرح روایت کیا ہے، ۲- مغیرہ بن مسلم نے ابوزبیر سے، اور ابوزبیر نے جابر کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- زہیر روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں: میں نے ابوزبیر سے کہا: آپ نے جابر سے سنا ہے، تو انہوں نے یہی حدیث بیان کی؟ ابوالزبیر نے کہا: مجھے صفوان یا ابن صفوان نے اس کی خبر دی ہے۔ تو ان زہیر نے ابوالزبیر سے جابر کے واسطہ سے اس حدیث کی روایت کا انکار کیا ہے۔
حدثنا هريم بن مسعر، - ترمذي - قال حدثنا الفضيل بن عياض، عن ليث، عن ابي الزبير، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان لا ينام حتى يقرا : (الم * تنزيل ) و ( تبارك الذي بيده الملك ) . قال ابو عيسى هذا حديث رواه غير واحد عن ليث بن ابي سليم مثل هذا . ورواه مغيرة بن مسلم عن ابي الزبير عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا . وروى زهير قال قلت لابي الزبير سمعت من جابر يذكر هذا الحديث . فقال ابو الزبير انما اخبرنيه صفوان او ابن صفوان وكان زهيرا انكر ان يكون هذا الحديث عن ابي الزبير عن جابر . حدثنا هناد، حدثنا ابو الاحوص، عن ليث، عن ابي الزبير، عن جابر، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . حدثنا هريم بن مسعر، قال حدثنا فضيل، عن ليث، عن طاوس، قال تفضلان على كل سورة من القران بسبعين حسنة
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سورۃ «إذا زلزلت الأرض» سورۃ پڑھی تو اسے آدھا قرآن پڑھنے کے برابر ثواب ملے گا، اور جس نے سورۃ «قل يا أيها الكافرون» پڑھی تو اسے چوتھائی قرآن پڑھنے کے برابر ثواب ملے گا، اور جس نے سورۃ «قل هو الله أحد» پڑھی تو اسے ایک تہائی قرآن پڑھنے کا ثواب ملے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے کسی اور سے نہیں صرف انہیں حسن بن مسلم کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
(حدثنا محمد بن موسى الحرشي البصري، قال حدثنا الحسن بن سلم بن صالح العجلي، قال حدثنا ثابت البناني، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قرا اذا زلزلت عدلت له بنصف القران ومن قرا قل يا ايها الكافرون ) عدلت له بربع القران ومن قرا قل هو الله احد ) عدلت له بثلث القران " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث هذا الشيخ الحسن بن سلم . وفي الباب عن ابن عباس
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إذا زلزلت» ( ثواب میں ) آدھے قرآن کے برابر ہے، اور «قل هو الله أحد» تہائی قرآن کے برابر ہے اور «قل يا أيها الكافرون» چوتھائی قرآن کے برابر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف یمان بن مغیرہ کی روایت ہی سے جانتے ہیں۔
حدثنا علي بن حجر، قال اخبرنا يزيد بن هارون، قال اخبرنا يمان بن المغيرة العنزي، حدثنا عطاء، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا زلزلت تعدل نصف القران وقل هو الله احد تعدل ثلث القران و قل يا ايها الكافرون تعدل ربع القران " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث يمان بن المغيرة