احادیث
#2890
سنن ترمذی - Virtues of the Qur'an
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ صحابہ میں سے کسی نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کر دیا اور انہیں معلوم نہیں ہوا کہ وہاں قبر ہے، ( انہوں نے آواز سنی ) اس قبر میں کوئی انسان سورۃ «تبارك الذي بيده الملك» پڑھ رہا تھا، یہاں تک کہ اس نے پوری سورۃ ختم کر دی۔ وہ صحابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے پھر آپ سے کہا: اللہ کے رسول! میں نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کر دیا، مجھے گمان نہیں تھا کہ اس جگہ پر قبر ہے۔ مگر اچانک کیا سنتا ہوں کہ اس جگہ ایک انسان سورۃ «تبارك الملك» پڑھ رہا ہے اور پڑھتے ہوئے اس نے پوری سورۃ ختم کر دی۔ آپ نے فرمایا: «هي المانعة» ”یہ سورۃ مانعہ ہے، یہ نجات دینے والی ہے، اپنے پڑھنے والے کو عذاب قبر سے بچاتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، قال حدثنا يحيى بن عمرو بن مالك النكري، عن ابيه، عن ابي الجوزاء، عن ابن عباس، قال ضرب بعض اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم خباءه على قبر وهو لا يحسب انه قبر فاذا فيه انسان يقرا سورة تبارك الذي بيده الملك حتى ختمها فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اني ضربت خبايي على قبر وانا لا احسب انه قبر فاذا فيه انسان يقرا سورة تبارك الملك حتى ختمها . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هي المانعة هي المنجية تنجيه من عذاب القبر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه . وفي الباب عن ابي هريرة
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Virtues of the Qur'an
- Hadith Index
- #2890
- Book Index
- 16
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirDaif
- Al-AlbaniDaif
- Zubair Ali ZaiDaif
