احادیث
#2916
سنن ترمذی - Virtues of the Qur'an
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے نیک اعمال کے اجر و ثواب میرے سامنے پیش کیے گئے یہاں تک کہ اس تنکے کا ثواب بھی پیش کیا گیا جسے آدمی مسجد سے نکال کر پھینک دیتا ہے۔ اور مجھ پر میری امت کے گناہ ( بھی ) پیش کیے گئے تو میں نے کوئی گناہ اس سے بڑھ کر نہیں دیکھا کہ کسی کو قرآن کی کوئی سورۃ یا کوئی آیت یاد ہو اور اس نے اسے بھلا دیا ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- میں نے اس حدیث کا تذکرہ محمد بن اسماعیل بخاری سے کیا تو اس کو وہ پہچان نہ سکے اور انہوں نے اس حدیث کو غریب قرار دیا، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری نے یہ بھی کہا کہ میں نہیں جانتا کہ مطلب بن عبداللہ کی کسی صحابی رسول سے سماع ثابت ہے، سوائے مطلب کے اس قول کے کہ مجھ سے اس شخص نے روایت کی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حاضرین میں موجود تھا، ۵- میں نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن ( دارمی ) کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ہم مطلب کا سماع کسی صحابی رسول سے نہیں جانتے، ۶- عبداللہ ( دارمی یہ بھی ) کہتے ہیں: علی بن مدینی اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ مطلب نے انس سے سنا ہے۔
حدثنا عبد الوهاب بن الحكم الوراق البغدادي، قال حدثنا عبد المجيد بن عبد العزيز، عن ابن جريج، عن المطلب بن عبد الله بن حنطب، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " عرضت على اجور امتي حتى القذاة يخرجها الرجل من المسجد وعرضت على ذنوب امتي فلم ار ذنبا اعظم من سورة من القران او اية اوتيها رجل ثم نسيها " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه . قال وذاكرت به محمد بن اسماعيل فلم يعرفه واستغربه . قال محمد ولا اعرف للمطلب بن عبد الله بن حنطب سماعا من احد من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم الا قوله حدثني من شهد خطبة النبي صلى الله عليه وسلم . قال وسمعت عبد الله بن عبد الرحمن يقول لا نعرف للمطلب سماعا من احد من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم . قال عبد الله وانكر علي بن المديني ان يكون المطلب سمع من انس
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Virtues of the Qur'an
- Hadith Index
- #2916
- Book Index
- 42
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirDaif
- Al-AlbaniDaif
- Zubair Ali ZaiDaif
