Loading...

Loading...
کتب
۴۷ احادیث
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں تھے ( اسی دوران ) ایک شخص نے آپ کے گھر میں جھانکا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیر کا پھل لے کر لپکے ( کہ اس کی آنکھیں پھوڑ دیں ) لیکن وہ فوراً پیچھے ہٹ گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، عن حميد، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان في بيته فاطلع عليه رجل فاهوى اليه بمشقص فتاخر الرجل . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے میں ایک سوراخ سے جھانکا ( اس وقت ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ اپنا سر کھجا رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے ( پہلے سے ) معلوم ہوتا کہ تو جھانک رہا ہے تو میں اسے تیری آنکھ میں کونچ دیتا ( تجھے پتا نہیں ) اجازت مانگنے کا حکم تو دیکھنے کے سبب ہی سے ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سهل بن سعد الساعدي، ان رجلا، اطلع على رسول الله صلى الله عليه وسلم من جحر في حجرة النبي صلى الله عليه وسلم ومع النبي صلى الله عليه وسلم مدراة يحك بها راسه فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لو علمت انك تنظر لطعنت بها في عينك انما جعل الاستيذان من اجل البصر " . وفي الباب عن ابي هريرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
کلدہ بن حنبل رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ صفوان بن امیہ نے انہیں دودھ، پیوسی اور ککڑی کے ٹکڑے دے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور آپ اس وقت مکہ کے اونچائی والے حصہ میں تھے، میں آپ کے پاس اجازت لیے اور سلام کئے بغیر چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واپس باہر جاؤ، پھر کہو «السلام علیکم»، کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟“ یہ اس وقت کی بات ہے جب صفوان اسلام لا چکے تھے۔ عمرو بن عبداللہ کہتے ہیں: یہ حدیث امیہ بن صفوان نے مجھ سے بیان کی ہے لیکن انہوں نے یہ نہیں کہا کہ یہ حدیث میں نے کلدہ سے سنی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اسے ہم صرف ابن جریج کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ۳- ابوعاصم نے بھی ابن جریج سے اسی طرح روایت کی ہے۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا روح بن عبادة، عن ابن جريج، اخبرني عمرو بن ابي سفيان، ان عمرو بن عبد الله بن صفوان، اخبره ان كلدة بن حنبل اخبره ان صفوان بن امية بعثه بلبن ولبا وضغابيس الى النبي صلى الله عليه وسلم والنبي صلى الله عليه وسلم باعلى الوادي قال فدخلت عليه ولم اسلم ولم استاذن فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ارجع فقل السلام عليكم اادخل " . وذلك بعد ما اسلم صفوان . قال عمرو واخبرني بهذا الحديث امية بن صفوان ولم يقل سمعته من كلدة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث ابن جريج ورواه ابو عاصم ايضا عن ابن جريج مثل هذا . وضغابيس هو حشيش يوكل
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک قرض کے سلسلے میں جو میرے والد کے ذمہ تھا کچھ بات کرنے کے لیے آپ کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگی تو آپ نے کہا: ”کون ہے؟“۔ میں نے کہا: میں ہوں، آپ نے فرمایا: ”میں میں ( کیا ہے؟ ) “ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا ابن المبارك، انبانا شعبة، عن محمد بن المنكدر، عن جابر، قال استاذنت على النبي صلى الله عليه وسلم في دين كان على ابي فقال " من هذا " . فقلت انا . فقال " انا انا " . كانه كره ذلك . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو سفر سے رات میں بیویوں کے پاس لوٹ کر آنے سے روکا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے جابر رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے، ۳- اس باب میں انس، ابن عمر، اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو رات میں بیویوں کے پاس سفر سے واپس لوٹ کر آنے سے روکا ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس روکنے کے باوجود دو شخص رات میں لوٹ کر اپنی بیویوں کے پاس آئے ( نتیجہ انہیں اس نافرمانی کا یہ ملا ) کہ ان دونوں میں سے ہر ایک نے اپنی بیوی کے پاس ایک دوسرے مرد کو پایا۔
اخبرنا احمد بن منيع، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الاسود بن قيس، عن نبيح العنزي، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهاهم ان يطرقوا النساء ليلا . وفي الباب عن انس وابن عمر وابن عباس . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روي من غير وجه عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم . - وقد روي عن ابن عباس ان النبي صلى الله عليه وسلم نهاهم ان يطرقوا النساء ليلا قال فطرق رجلان بعد نهى النبي صلى الله عليه وسلم فوجد كل واحد منهما مع امراته رجلا
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی تحریر لکھے تو لکھنے کے بعد اس پر مٹی ڈالنا چاہیئے، کیونکہ اس سے حاجت برآری کی زیادہ توقع ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث منکر ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے ابوزبیر کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- حمزہ ہمارے نزدیک عمرو نصیبی کے بیٹے ہیں، اور وہ حدیث بیان کرنے میں ضعیف مانے جاتے ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا شبابة، عن حمزة، عن ابي الزبير، عن جابر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا كتب احدكم كتابا فليتربه فانه انجح للحاجة " . قال ابو عيسى هذا حديث منكر لا نعرفه عن ابي الزبير الا من هذا الوجه . قال وحمزة هو عندي ابن عمرو النصيبي هو ضعيف في الحديث
زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا۔ آپ کے سامنے ایک کاتب بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے سنا آپ اس سے فرما رہے تھے: ”تم اپنا قلم اپنے کان پر رکھے رہا کرو کیونکہ اس سے لکھوانے والوں کو آگاہی و یاد دہانی ہو جایا کرے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور یہ سند ضعیف ہے، ۳- عنبسہ بن عبدالرحمٰن اور محم بن زاذان، دونوں حدیث بیان کرنے میں ضعیف قرار دیئے گئے ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبيد الله بن الحارث، عن عنبسة، عن محمد بن زاذان، عن ام سعد، عن زيد بن ثابت، قال دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وبين يديه كاتب فسمعته يقول " ضع القلم على اذنك فانه اذكر للمملي " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه وهو اسناد ضعيف . وعنبسة بن عبد الرحمن ومحمد بن زاذان يضعفان في الحديث
زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے لیے یہود کی کچھ تحریر سیکھ لوں، آپ نے فرمایا: ”قسم اللہ کی! میں یہود کی تحریر پر اعتماد و اطمینان نہیں کرتا“، چنانچہ ابھی آدھا مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ میں نے آپ کے لیے اسے سیکھ لیا۔ کہتے ہیں: پھر جب میں نے سیکھ لیا اور آپ کو یہودیوں کے پاس کچھ لکھ کر بھیجنا ہوا تو میں نے لکھ کر ان کے پاس بھیج دیا، اور جب یہودیوں نے کوئی چیز لکھ کر آپ کے پاس بھیجی تو میں نے ان کی کتاب ( تحریر ) پڑھ کر آپ کو سنا دی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث اس سند کے علاوہ بھی دوسری سند سے زید بن ثابت رضی الله عنہ سے مروی ہے، اسے اعمش نے ثابت بن عبید انصاری کے واسطہ سے زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ میں سریانی زبان سیکھ لوں۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا عبد الرحمن بن ابي الزناد، عن ابيه، عن خارجة بن زيد بن ثابت، عن ابيه، زيد بن ثابت قال امرني رسول الله صلى الله عليه وسلم ان اتعلم له كلمات كتاب يهود . قال " اني والله ما امن يهود على كتاب " . قال فما مر بي نصف شهر حتى تعلمته له قال فلما تعلمته كان اذا كتب الى يهود كتبت اليهم واذا كتبوا اليه قرات له كتابهم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روي من غير هذا الوجه عن زيد بن ثابت رواه الاعمش عن ثابت بن عبيد الانصاري عن زيد بن ثابت قال امرني رسول الله صلى الله عليه وسلم ان اتعلم السريانية
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے پہلے کسریٰ و قیصر، نجاشی اور سارے سرکش و متکبر بادشاہوں کو اللہ کی طرف دعوت دیتے ہوئے خطوط لکھ کر بھیجے۔ اس نجاشی سے وہ نجاشی ( بادشاہ حبش اصحمہ ) مراد نہیں ہے کہ جن کے انتقال پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا يوسف بن حماد البصري، حدثنا عبد الاعلى، عن سعيد، عن قتادة، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كتب قبل موته الى كسرى والى قيصر والى النجاشي والى كل جبار يدعوهم الى الله وليس بالنجاشي الذي صلى عليه النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ابوسفیان بن حرب رضی الله عنہ نے ان سے بیان کیا کہ وہ قریش کے کچھ تاجروں کے ساتھ شام میں تھے کہ ہرقل ( شہنشاہ شام ) نے انہیں بلا بھیجا، تو وہ سب اس کے پاس آئے، پھر سفیان نے آگے بات بڑھائی۔ کہا: پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا۔ پھر خط پڑھا گیا، اس میں لکھا تھا «بسم الله الرحمن الرحيم من محمد عبدالله ورسوله إلى هرقل عظيم الروم السلام على من اتبع الهدى أمابعد» ”میں شروع کرتا ہوں اس اللہ کے نام سے جو رحمان ( بڑا مہربان ) اور رحیم ( نہایت رحم کرنے والا ) ہے۔ یہ خط محمد کی جانب سے ہے جو اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اور ہرقل کے پاس بھیجا جا رہا ہے جو روم کے شہنشاہ ہیں۔ سلامتی ہے اس شخص کے لیے جو ہدایت کی پیروی کرے۔ امابعد: حمد و نعت کے بعد … الخ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوسفیان کا نام صخر بن حرب رضی الله عنہ تھا۔
حدثنا سويد بن نصر، انبانا عبد الله بن المبارك، انبانا يونس، عن الزهري، اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس، انه اخبره ان ابا سفيان بن حرب اخبره ان هرقل ارسل اليه في نفر من قريش وكانوا تجارا بالشام فاتوه فذكر الحديث قال ثم دعا بكتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقري فاذا فيه بسم الله الرحمن الرحيم من محمد عبد الله ورسوله الى هرقل عظيم الروم السلام على من اتبع الهدى اما بعد . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وابو سفيان اسمه صخر بن حرب
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عجمی ( بادشاہوں ) کو خطوط بھیجنے کا ارادہ فرمایا تو آپ کو بتایا گیا کہ عجمی بغیر مہر لگا ہوا خط قبول نہیں کرتے چنانچہ آپ نے ( مہر کے لیے ) ایک انگوٹھی بنوائی، تو ان میں آپ کی ہتھیلی میں اس کی چمک کو اس وقت دیکھ رہا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا معاذ بن هشام، حدثني ابي، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال لما اراد نبي الله صلى الله عليه وسلم ان يكتب الى العجم قيل له ان العجم لا يقبلون الا كتابا عليه خاتم فاصطنع خاتما . قال فكاني انظر الى بياضه في كفه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
مقداد بن اسود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے دو دوست ( مدینہ ) آئے، فقر و فاقہ اور جہد و مشقت کی بنا پر ہماری سماعت متاثر ہو گئی تھی ۱؎ اور ہماری آنکھیں دھنس گئی تھیں، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرنے لگے لیکن ہمیں کسی نے قبول نہ کیا ۲؎، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تو آپ ہمیں اپنے گھر لے آئے، اس وقت آپ کے پاس تین بکریاں تھیں۔ آپ نے فرمایا: ”ان کا دودھ ہم سب کے لیے دوہو“، تو ہم دوہتے اور ہر شخص اپنا حصہ پیتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ اٹھا کر رکھ دیتے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں تشریف لاتے اور اس انداز سے سلام کرتے تھے کہ سونے والا جاگ نہ اٹھے اور جاگنے والا سن بھی لے ۳؎، پھر آپ مسجد آتے نماز تہجد پڑھتے پھر جا کر اپنے حصے کا دودھ پیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سويد، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا سليمان بن المغيرة، حدثنا ثابت البناني، حدثنا ابن ابي ليلى، عن المقداد بن الاسود، قال اقبلت انا وصاحبان، لي قد ذهبت اسماعنا وابصارنا من الجهد فجعلنا نعرض انفسنا على اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فليس احد يقبلنا فاتينا النبي صلى الله عليه وسلم فاتى بنا اهله فاذا ثلاثة اعنز فقال النبي صلى الله عليه وسلم " احتلبوا هذا اللبن بيننا " . فكنا نحتلبه فيشرب كل انسان نصيبه ونرفع لرسول الله صلى الله عليه وسلم نصيبه فيجيء رسول الله صلى الله عليه وسلم من الليل فيسلم علينا تسليما لا يوقظ النايم ويسمع اليقظان ثم ياتي المسجد فيصلي ثم ياتي شرابه فيشربه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت سلام کیا جب آپ پیشاب کر رہے تھے، تو آپ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔
حدثنا محمد بن بشار، ونصر بن علي، قالا حدثنا ابو احمد، عن سفيان، عن الضحاك بن عثمان، عن نافع، عن ابن عمر، ان رجلا، سلم على النبي صلى الله عليه وسلم وهو يبول فلم يرد عليه يعني السلام . حدثنا محمد بن يحيى النيسابوري، حدثنا محمد بن يوسف، عن سفيان، عن الضحاك بن عثمان، بهذا الاسناد نحوه . وفي الباب عن علقمة بن الفغواء، وجابر، والبراء، والمهاجر بن قنفذ، . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
جابر بن سلیم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنا چاہتا تھا، مگر آپ تک پہنچ نہ سکا، میں بیٹھا رہا پھر کچھ لوگ سامنے آئے جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھے۔ میں آپ سے واقف نہ تھا، آپ ان لوگوں میں صلح صفائی کرا رہے تھے، جب آپ ( اس کام سے ) فارغ ہوئے تو آپ کے ساتھ کچھ دوسرے لوگ بھی اٹھ کھڑے ہوئے، ان لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! جب میں نے ( لوگوں کو ) ایسا کہتے دیکھا تو میں نے کہا: ” «علیک السلام یا رسول اللہ» !“ ( آپ پر سلامتی ہو اے اللہ کے رسول ) اور ایسا میں نے تین بار کہا، آپ نے فرمایا: ” «علیک السلام» میت کا سلام ہے“ ۱؎، آپ نے بھی ایسا تین بار کہا، پھر آپ میری طرف پوری طرح متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”جب آدمی اپنے مسلمان بھائی سے ملے تو اس کے لیے مناسب یہ ہے کہ کہے «السلام علیکم ورحمة اللہ» پھر آپ نے میرے سلام کا جواب اس طرح لوٹایا، فرمایا: «وعلیک ورحمة اللہ وعلیک ورحمة اللہ وعلیک ورحمة اللہ» ( تین بار ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابوغفار نے یہ حدیث بسند «ابو تمیمہ الہجیمی عن ابی جری جابر بن سلیم الہجیمی» سے روایت کی ہے، ہجیمی کہتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا پھر آگے پوری حدیث بیان کر دی۔ ابو تمیمہ کا نام طریف بن مجالد ہے۔
حدثنا سويد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا خالد الحذاء، عن ابي تميمة الهجيمي، عن رجل، من قومه قال طلبت النبي صلى الله عليه وسلم فلم اقدر عليه فجلست فاذا نفر هو فيهم ولا اعرفه وهو يصلح بينهم فلما فرغ قام معه بعضهم فقالوا يا رسول الله . فلما رايت ذلك قلت عليك السلام يا رسول الله عليك السلام يا رسول الله عليك السلام يا رسول الله . قال " ان عليك السلام تحية الميت ان عليك السلام تحية الميت " . ثلاثا ثم اقبل على فقال " اذا لقي الرجل اخاه المسلم فليقل السلام عليكم ورحمة الله " . ثم رد على النبي صلى الله عليه وسلم قال " وعليك ورحمة الله وعليك ورحمة الله وعليك ورحمة الله " . قال ابو عيسى وقد روى هذا الحديث ابو غفار، عن ابي تميمة الهجيمي، عن ابي جرى، جابر بن سليم الهجيمي قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم فذكر الحديث . وابو تميمة اسمه طريف بن مجالد
جابر بن سلیم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، پھر آپ سے عرض کیا: «علیک السلام» آپ پر سلامتی ہو تو آپ نے فرمایا: «علیک السلام» مت کہو بلکہ «السلام علیک» کہو اور آگے پورا لمبا قصہ بیان کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا بذلك الحسن بن علي الخلال حدثنا ابو اسامة عن ابي غفار المثنى بن سعيد الطايي عن ابي تميمة الهجيمي عن جابر بن سليم قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت عليك السلام . فقال " لا تقل عليك السلام ولكن قل السلام عليك " . وذكر قصة طويلة وهذا حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام کرتے تو تین بار سلام کرتے اور جب کوئی بات کہتے تو اسے تین بار دھراتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ فائدہ ۱؎: تاکہ بات اچھی طرح سمجھ میں آ جائے۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا عبد الله بن المثنى، حدثنا ثمامة بن عبد الله بن انس بن مالك، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا سلم سلم ثلاثا واذا تكلم بكلمة اعادها ثلاثا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
ابوواقد حارث بن عوف لیثی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے، آپ کے ساتھ لوگ بھی بیٹھے تھے، اسی دوران اچانک تین آدمی آئے، ان میں سے دو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھ آئے، اور ایک واپس چلا گیا، جب وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر رکے تو انہوں نے سلام کیا، پھر ان دونوں میں سے ایک نے مجلس میں کچھ جگہ ( گنجائش ) دیکھی تو وہ اسی میں ( گھس کر ) بیٹھ گیا۔ اور دوسرا شخص ان لوگوں کے ( یعنی صحابہ ) کے پیچھے جا کر بیٹھ گیا۔ اور تیسرا تو پیٹھ موڑے چلا ہی گیا تھا، پھر جب فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا: ”کیا میں تمہیں تینوں اشخاص کے متعلق نہ بتاؤں؟ ( سنو ) ان میں سے ایک نے اللہ کی پناہ حاصل کی تو اللہ نے اسے پناہ دی اور دوسرے نے شرم کی تو اللہ نے بھی اس سے شرم کی اور رہا تیسرا شخص تو اس نے اعراض کیا، چنانچہ اللہ نے بھی اس سے اعراض کیا، منہ پھیر لیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابو مرہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی الله عنہا کے آزاد کردہ غلام ہیں اور ان کا نام یزید ہے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ عقیل ابن ابی طالب کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
حدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن ابي مرة، مولى عقيل بن ابي طالب عن ابي واقد الليثي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بينما هو جالس في المسجد والناس معه اذ اقبل ثلاثة نفر فاقبل اثنان الى رسول الله صلى الله عليه وسلم وذهب واحد فلما وقفا على رسول الله صلى الله عليه وسلم سلما فاما احدهما فراى فرجة في الحلقة فجلس فيها واما الاخر فجلس خلفهم واما الاخر فادبر ذاهبا فلما فرغ رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الا اخبركم عن النفر الثلاثة اما احدهم فاوى الى الله فاواه الله واما الاخر فاستحيا فاستحيا الله منه واما الاخر فاعرض فاعرض الله عنه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو واقد الليثي اسمه الحارث بن عوف وابو مرة مولى ام هاني بنت ابي طالب واسمه يزيد ويقال مولى عقيل بن ابي طالب
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تو جس کو جہاں جگہ ملتی وہیں بیٹھ جاتا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث زہیر بن معاویہ نے سماک سے بھی روایت کی ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا شريك، عن سماك بن حرب، عن جابر بن سمرة، قال كنا اذا اتينا النبي صلى الله عليه وسلم جلس احدنا حيث ينتهي . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب . وقد رواه زهير بن معاوية عن سماك ايضا
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ( سند میں اس بات کی صراحت ہے کہ ابواسحاق نے براء سے سنا نہیں ہے اس لیے سند میں انقطاع ہے، لیکن شواہد کی بناء پر صحیح ہے، بالخصوص شعبہ کی روایت ہونے کی وجہ سے قوی ہے ) انصار کے کچھ لوگ راستے میں بیٹھے ہوئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے پاس سے گزر ہوا تو آپ نے ان سے فرمایا: ” ( یوں تو راستے میں بیٹھنا اچھا نہیں ہے ) لیکن اگر تم بیٹھنا ضروری سمجھتے ہو تو سلام کا جواب دیا کرو، مظلوم کی مدد کیا کرو، اور ( بھولے بھٹکے ہوئے کو ) راستہ بتا دیا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور ابوشریح خزاعی رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن البراء، ولم يسمعه منه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر بناس من الانصار وهم جلوس في الطريق فقال " ان كنتم لا بد فاعلين فردوا السلام واعينوا المظلوم واهدوا السبيل " . وفي الباب عن ابي هريرة وابي شريح الخزاعي . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے ملتے اور ( سلام ) و مصافحہ کرتے ہیں تو ان دونوں کے ایک دوسرے سے علیحدہ اور جدا ہونے سے پہلے انہیں بخش دیا جاتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث براء سے متعدد سندوں سے بھی مروی ہے۔
حدثنا سفيان بن وكيع، واسحاق بن منصور، قالا حدثنا عبد الله بن نمير، عن الاجلح، عن ابي اسحاق، عن البراء بن عازب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من مسلمين يلتقيان فيتصافحان الا غفر لهما قبل ان يفترقا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من حديث ابي اسحاق عن البراء . وقد روي هذا الحديث عن البراء من غير وجه والاجلح هو ابن عبد الله بن حجية بن عدي الكندي