احادیث
#2717
سنن ترمذی - Seeking Permission
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ابوسفیان بن حرب رضی الله عنہ نے ان سے بیان کیا کہ وہ قریش کے کچھ تاجروں کے ساتھ شام میں تھے کہ ہرقل ( شہنشاہ شام ) نے انہیں بلا بھیجا، تو وہ سب اس کے پاس آئے، پھر سفیان نے آگے بات بڑھائی۔ کہا: پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا۔ پھر خط پڑھا گیا، اس میں لکھا تھا «بسم الله الرحمن الرحيم من محمد عبدالله ورسوله إلى هرقل عظيم الروم السلام على من اتبع الهدى أمابعد» ”میں شروع کرتا ہوں اس اللہ کے نام سے جو رحمان ( بڑا مہربان ) اور رحیم ( نہایت رحم کرنے والا ) ہے۔ یہ خط محمد کی جانب سے ہے جو اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اور ہرقل کے پاس بھیجا جا رہا ہے جو روم کے شہنشاہ ہیں۔ سلامتی ہے اس شخص کے لیے جو ہدایت کی پیروی کرے۔ امابعد: حمد و نعت کے بعد … الخ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوسفیان کا نام صخر بن حرب رضی الله عنہ تھا۔
حدثنا سويد بن نصر، انبانا عبد الله بن المبارك، انبانا يونس، عن الزهري، اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس، انه اخبره ان ابا سفيان بن حرب اخبره ان هرقل ارسل اليه في نفر من قريش وكانوا تجارا بالشام فاتوه فذكر الحديث قال ثم دعا بكتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقري فاذا فيه بسم الله الرحمن الرحيم من محمد عبد الله ورسوله الى هرقل عظيم الروم السلام على من اتبع الهدى اما بعد . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وابو سفيان اسمه صخر بن حرب
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Seeking Permission
- Hadith Index
- #2717
- Book Index
- 30
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
