Loading...

Loading...
کتب
۴۷ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم ( صحیح معنوں میں ) مومن نہ بن جاؤ اور تم مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے ( سچی ) محبت نہ کرنے لگو۔ کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز نہ بتاؤں کہ اگر تم اسے کرنے لگو تو تم میں باہمی محبت پیدا ہو جائے ( وہ یہ کہ ) آپس میں سلام کو عام کرو ( پھیلاؤ ) “ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن سلام، شریح بن ہانی عن ابیہ، عبداللہ بن عمرو، براء، انس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " والذي نفسي بيده لا تدخلوا الجنة حتى تومنوا ولا تومنوا حتى تحابوا الا ادلكم على امر اذا انتم فعلتموه تحاببتم افشوا السلام بينكم " . وفي الباب عن عبد الله بن سلام وشريح بن هاني عن ابيه وعبد الله بن عمرو والبراء وانس وابن عمر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: «السلام عليكم»، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( اس کے لیے ) دس نیکیاں ہیں“، پھر ایک دوسرا شخص آیا اور اس نے کہا: «السلام عليكم ورحمة الله»، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( اس کے لیے ) بیس نیکیاں ہیں“، پھر ایک اور آدمی آیا اور اس نے کہا: «السلام عليكم ورحمة الله وبركاته»، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( اس کے لیے ) تیس نیکیاں ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں علی، ابوسعید اور سہل بن حنیف سے بھی روایت ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، والحسين بن محمد الحريري، بلخي قالا حدثنا محمد بن كثير، عن جعفر بن سليمان الضبعي، عن عوف، عن ابي رجاء، عن عمران بن حصين، ان رجلا، جاء الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال السلام عليكم . قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " عشر " . ثم جاء اخر فقال السلام عليكم ورحمة الله فقال النبي صلى الله عليه وسلم " عشرون " . ثم جاء اخر فقال السلام عليكم ورحمة الله وبركاته فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ثلاثون " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه . وفي الباب عن علي وابي سعيد وسهل بن حنيف
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ نے عمر رضی الله عنہ سے ان کے پاس حاضر ہونے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے کہا: «السلام عليكم» کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ عمر رضی الله عنہ نے ( دل میں ) کہا: ابھی تو ایک بار اجازت طلب کی ہے، تھوڑی دیر خاموش رہ کر پھر انہوں نے کہا: «السلام عليكم» کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ عمر رضی الله عنہ نے ( دل میں ) کہا: ابھی تو دو ہی بار اجازت طلب کی ہے۔ تھوڑی دیر ( مزید ) خاموش رہ کر انہوں نے پھر کہا: «السلام عليكم» کیا مجھے اندر داخل ہونے کی اجازت ہے؟ عمر رضی الله عنہ نے ( دل میں کہا ) تین بار اجازت طلب کر چکے، پھر ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ واپس ہو لیے، عمر رضی الله عنہ نے دربان سے کہا: ابوموسیٰ نے کیا کیا؟ اس نے کہا: لوٹ گئے۔ عمر رضی الله عنہ نے کہا انہیں بلا کر میرے پاس لاؤ، پھر جب وہ ان کے پاس آئے تو عمر رضی الله عنہ نے کہا: یہ آپ نے کیا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے سنت پر عمل کیا ہے، عمر رضی الله عنہ نے کہا سنت پر؟ قسم اللہ کی! تمہیں اس کے سنت ہونے پر دلیل و ثبوت پیش کرنا ہو گا ورنہ میں تمہارے ساتھ سخت برتاؤ کروں گا۔ ابو سعید خدری کہتے ہیں: پھر وہ ہمارے پاس آئے، اس وقت ہم انصار کی ایک جماعت کے ساتھ تھے۔ ابوموسیٰ اشعری نے کہا: اے انصار کی جماعت! کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو دوسرے لوگوں سے زیادہ جاننے والے نہیں ہو، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: «الاستئذان ثلاث» ( اجازت طلبی ) تین بار ہے۔ اگر تمہیں اجازت دے دی جائے تو گھر میں جاؤ اور اگر اجازت نہ دی جائے تو لوٹ جاؤ؟ ( یہ سن کر ) لوگ ان سے ہنسی مذاق کرنے لگے، ابو سعید خدری کہتے ہیں: میں نے اپنا سر ابوموسیٰ اشعری کی طرف اونچا کر کے کہا: اس سلسلے میں جو بھی سزا آپ کو ملے گی میں اس میں حصہ دار ہوں گا، راوی کہتے ہیں: پھر وہ ( ابوسعید ) عمر رضی الله عنہ کے پاس آئے، اور ان کو اس حدیث کی خبر دی، عمر نے کہا: مجھے اس حدیث کا علم نہیں تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور جریری کا نام سعید بن ایاس ہے اور ان کی کنیت ابومسعود ہے۔ یہ حدیث ان کے سوا اور لوگوں نے بھی ابونضرہ سے روایت کی ہے، اور ابونضرہ عبدی کا نام منذر بن مالک بن قطعہ ہے، ۲- اس باب میں علی اور سعد کی آزاد کردہ لونڈی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا عبد الاعلى بن عبد الاعلى، عن الجريري، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، قال استاذن ابو موسى على عمر فقال السلام عليكم اادخل قال عمر واحدة . ثم سكت ساعة ثم قال السلام عليكم اادخل قال عمر ثنتان . ثم سكت ساعة فقال السلام عليكم اادخل فقال عمر ثلاث . ثم رجع فقال عمر للبواب ما صنع قال رجع . قال على به . فلما جاءه قال ما هذا الذي صنعت قال السنة . قال السنة والله لتاتيني على هذا ببرهان او ببينة او لافعلن بك . قال فاتانا ونحن رفقة من الانصار فقال يا معشر الانصار الستم اعلم الناس بحديث رسول الله صلى الله عليه وسلم الم يقل رسول الله صلى الله عليه وسلم " الاستيذان ثلاث فان اذن لك والا فارجع " . فجعل القوم يمازحونه قال ابو سعيد ثم رفعت راسي اليه فقلت فما اصابك في هذا من العقوبة فانا شريكك . قال فاتى عمر فاخبره بذلك فقال عمر ما كنت علمت بهذا . وفي الباب عن علي وام طارق مولاة سعد . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح والجريري اسمه سعيد بن اياس يكنى ابا مسعود وقد روى هذا غيره ايضا عن ابي نضرة وابو نضرة العبدي اسمه المنذر بن مالك بن قطعة
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے پاس آنے کی تین بار اجازت مانگی، تو آپ نے مجھے اجازت دے دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابوزمیل کا نام سماک الحنفی ہے، ۳- میرے نزدیک عمر کو ابوموسیٰ کی اس بات پر اعتراض اور انکار اس وجہ سے تھا کہ ابوموسیٰ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اجازت تین بار طلب کی جائے، اگر اجازت مل جائے تو ٹھیک ور نہ لوٹ جاؤ“۔ ( رہ گیا عمر رضی الله عنہ کا اپنا معاملہ ) تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تین بار اجازت طلب کی تھی تو انہیں اجازت مل گئی تھی، اس حدیث کی خبر انہیں نہیں تھی جسے ابوموسیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، آپ نے فرمایا: ”پھر اگر اندر جانے کی اجازت مل جائے تو ٹھیک ورنہ واپس لوٹ جاؤ“۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا عمر بن يونس، حدثنا عكرمة بن عمار، حدثني ابو زميل، حدثني ابن عباس، حدثني عمر بن الخطاب، قال استاذنت على رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثا فاذن لي . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب وابو زميل اسمه سماك الحنفي . وانما انكر عمر عندنا على ابي موسى حيث روى عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " الاستيذان ثلاث فان اذن لك والا فارجع " . وقد كان عمر استاذن على النبي صلى الله عليه وسلم ثلاثا فاذن له ولم يكن علم هذا الذي رواه ابو موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال فان اذن لك والا فارجع
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں آیا ( اس وقت ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک کونے میں تشریف فرما تھے۔ اس نے نماز پڑھی پھر آ کر آپ کو سلام عرض کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «وعليك» ”تم پر بھی سلام ہو، جاؤ دوبارہ نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یحییٰ بن سعید قطان نے یہ حدیث عبیداللہ بن عمر سے اور عبیداللہ بن عمر نے سعید مقبری سے روایت کی ہے، اس میں انہوں نے «عن أبيه عن أبي هريرة» کہا ہے، اس میں «فسلم عليه وقال وعليك» ”اس نے آپ کو سلام کیا اور آپ نے کہا تم پر بھی سلام ہو“ کا ذکر نہیں کیا، ۳- یحییٰ بن سعید کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا عبد الله بن نمير، حدثنا عبيد الله بن عمر، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال دخل رجل المسجد ورسول الله صلى الله عليه وسلم جالس في ناحية المسجد فصلى ثم جاء فسلم عليه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وعليك ارجع فصل فانك لم تصل " . فذكر الحديث بطوله . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وروى يحيى بن سعيد القطان هذا عن عبيد الله بن عمر عن سعيد المقبري فقال عن ابيه عن ابي هريرة ولم يذكر فيه فسلم عليه وقال " وعليك " . قال وحديث يحيى بن سعيد اصح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جبرائیل تمہیں سلام کہتے ہیں، تو انہوں نے جواب میں کہا: وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ ان پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں بنی نمیر کے ایک شخص سے بھی روایت ہے وہ اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں، ۳- زہری نے بھی یہ حدیث ابوسلمہ کے واسطہ سے عائشہ سے روایت کی ہے۔
حدثنا علي بن المنذر الكوفي، حدثنا محمد بن فضيل، عن زكريا بن ابي زايدة، عن عامر الشعبي، حدثني ابو سلمة، ان عايشة، حدثته ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لها " ان جبريل يقريك السلام " . قالت وعليه السلام ورحمة الله وبركاته . وفي الباب عن رجل من بني نمير عن ابيه عن جده . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد رواه الزهري ايضا عن ابي سلمة عن عايشة
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ پوچھا گیا: اللہ کے رسول! جب دو آدمی آپس میں ملیں تو سلام کرنے میں پہل کون کرے؟ آپ نے فرمایا: ”ان دونوں میں سے جو اللہ کے زیادہ قریب ہے“ ۱؎۔ ( وہ پہل کرے گا ) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: ابوفروہ رہاوی مقارب الحدیث ہیں، مگر ان کے بیٹے محمد بن یزید ان سے منکر حدیثیں روایت کرتے ہیں۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا قران بن تمام الاسدي، عن ابي فروة الرهاوي، يزيد بن سنان عن سليم بن عامر، عن ابي امامة، قال قيل يا رسول الله الرجلان يلتقيان ايهما يبدا بالسلام فقال " اولاهما بالله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . قال محمد ابو فروة الرهاوي مقارب الحديث الا ان ابنه محمد بن يزيد يروي عنه مناكير
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے غیروں سے مشابہت اختیار کرے، نہ یہود کی مشابہت کرو اور نہ نصاریٰ کی، یہودیوں کا سلام انگلیوں کا اشارہ ہے اور نصاریٰ کا سلام ہتھیلیوں کا اشارہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند ضعیف ہے، ۲- ابن مبارک نے یہ حدیث ابن لھیعہ سے روایت کی ہے، اور اسے انہوں نے مرفوع نہیں کیا ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابن لهيعة، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ليس منا من تشبه بغيرنا لا تشبهوا باليهود ولا بالنصارى فان تسليم اليهود الاشارة بالاصابع وتسليم النصارى الاشارة بالاكف " . قال ابو عيسى هذا حديث اسناده ضعيف . وروى ابن المبارك هذا الحديث عن ابن لهيعة فلم يرفعه
سیار کہتے ہیں کہ میں ثابت بنانی کے ساتھ جا رہا تھا، وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کیا، ثابت نے ( اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے ) کہا: میں انس رضی الله عنہ کے ساتھ ( جا رہا ) تھا وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے سلام کیا، پھر انس نے ( اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے ) کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اسے کئی لوگوں نے ثابت سے روایت کیا ہے، ۳- یہ حدیث متعدد سندوں سے انس رضی الله عنہ سے بھی روایت کی گئی ہے۔
حدثنا ابو الخطاب، زياد بن يحيى البصري حدثنا ابو عتاب، سهل بن حماد حدثنا شعبة، عن سيار، قال كنت امشي مع ثابت البناني فمر على صبيان فسلم عليهم فقال ثابت كنت مع انس فمر على صبيان فسلم عليهم وقال انس كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فمر على صبيان فسلم عليهم . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح رواه غير واحد عن ثابت وروي من غير وجه عن انس . حدثنا قتيبة حدثنا جعفر بن سليمان عن ثابت عن انس عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
اسماء بنت یزید رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مسجد میں گزرے وہاں عورتوں کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی، چنانچہ آپ نے انہیں اپنے ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- عبدالحمید ( راوی ) نے بھی پتے ہاتھ سے اشارہ کیا ( کہ اس طرح ) ، ۳- احمد بن حنبل کہتے ہیں: شہر بن حوشب کے واسطہ سے عبدالحمید بن بہرام کی روایت میں کوئی حرج نہیں ہے، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: شہر حسن الحدیث ہیں اور ان کو روایت حدیث میں قوی بخاری کہتے ہیں: ان کے بارے میں ابن عون نے کلام کیا ہے۔ ابن عون کہتے ہیں: «إن شهرا نزكوه» کے واسطہ سے کہا: شہر کی شخصیت کو محدثین نے داغ دار بتایا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ نضر کہتے ہیں «نزكوه» کا مطلب یہ ہے کہ «طعنوا فيه» یعنی ان کی شخصیت کو داغ دار بتایا ہے، اور لوگوں نے ان پر جرح اس لیے کی ہے کہ وہ سلطان ( حکومت ) کے ملازم بن گئے ہیں۔
حدثنا سويد، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا عبد الحميد بن بهرام، انه سمع شهر بن حوشب، يقول سمعت اسماء بنت يزيد، تحدث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر في المسجد يوما وعصبة من النساء قعود فالوى بيده بالتسليم واشار عبد الحميد بيده . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . قال احمد بن حنبل لا باس بحديث عبد الحميد بن بهرام عن شهر بن حوشب . وقال محمد بن اسماعيل شهر حسن الحديث وقوى امره وقال انما تكلم فيه ابن عون ثم روى عن هلال بن ابي زينب عن شهر بن حوشب . انبانا ابو داود المصاحفي بلخي اخبرنا النضر بن شميل عن ابن عون قال ان شهرا نزكوه . قال ابو داود قال النضر تركوه اى طعنوا فيه وانما طعنوا فيه لانه ولي امر السلطان
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”بیٹے! جب تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ تو انہیں سلام کیا کرو، یہ سلام تمہارے لیے اور تمہارے گھر والوں کے لیے خیر و برکت کا باعث ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا ابو حاتم البصري الانصاري، مسلم بن حاتم حدثنا محمد بن عبد الله الانصاري، عن ابيه، عن علي بن زيد، عن سعيد بن المسيب، قال قال انس بن مالك قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا بنى اذا دخلت على اهلك فسلم يكون بركة عليك وعلى اهل بيتك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بات چیت شروع کرنے سے پہلے سلام کیا کرو“
حدثنا الفضل بن الصباح، - بغدادي - حدثنا سعيد بن زكريا، عن عنبسة بن عبد الرحمن، عن محمد بن زاذان، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " السلام قبل الكلام " . وبهذا الاسناد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تدعوا احدا الى الطعام حتى يسلم " . قال ابو عيسى هذا حديث منكر لا نعرفه الا من هذا الوجه . وسمعت محمدا يقول عنبسة بن عبد الرحمن ضعيف في الحديث ذاهب ومحمد بن زاذان منكر الحديث
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود و نصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو، اور جب تمہاری ان کے کسی فرد سے راستے میں ملاقات ہو جائے تو اسے تنگ راستے سے ہی جانے پر مجبور کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تبدءوا اليهود والنصارى بالسلام واذا لقيتم احدهم في الطريق فاضطروهم الى اضيقه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ کچھ یہودیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: «السّام عليك» ”تم پر موت و ہلاکت آئے“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا: «عليكم» ۱؎، عائشہ نے ( اس پر دو لفظ بڑھا کر ) کہا «بل عليكم السام واللعنة» ”بلکہ تم پر ہلاکت اور لعنت ہو“۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں رفق، نرم روی اور ملائمیت کو پسند کرتا ہے“، عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: کیا آپ نے سنا نہیں؟ انہوں نے کیا کہا ہے؟ ۔ آپ نے فرمایا: ”تبھی تو میں نے «عليكم» کہا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو بصرہ غفاری، ابن عمر، انس اور ابوعبدالرحمٰن جہنی سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت ان رهطا من اليهود دخلوا على النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا السام عليك . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " عليكم " . فقالت عايشة فقلت بل عليكم السام واللعنة . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " يا عايشة ان الله يحب الرفق في الامر كله " . قالت عايشة الم تسمع ما قالوا قال " قد قلت عليكم " . وفي الباب عن ابي بصرة الغفاري وابن عمر وانس وابي عبد الرحمن الجهني . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح
اسامہ بن زید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی مجلس کے پاس سے گزرے جس میں مسلمان اور یہود دونوں تھے تو آپ نے انہیں سلام کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن عروة، ان اسامة بن زيد، اخبره ان النبي صلى الله عليه وسلم مر بمجلس وفيه اخلاط من المسلمين واليهود فسلم عليهم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار پیدل چلنے والے کو اور پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو، اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو ( یعنی چھوٹی جماعت بڑی جماعت کو سلام کرے“۔ اور ابن مثنی نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے: ”چھوٹا اپنے بڑے کو سلام کرے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ سے متعدد سندوں سے مروی ہے، ۲- ایوب سختیانی، یونس بن عبید اور علی بن یزید کہتے ہیں کہ حسن بصری نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے نہیں سنا ہے، ۳- اس باب میں عبدالرحمٰن بن شبل، فضالہ بن عبید اور جابر رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔)
حدثنا محمد بن المثنى، وابراهيم بن يعقوب، قالا حدثنا روح بن عبادة، عن حبيب بن الشهيد، عن الحسن، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يسلم الراكب على الماشي والماشي على القاعد والقليل على الكثير " . وزاد ابن المثنى في حديثه " ويسلم الصغير على الكبير " . وفي الباب عن عبد الرحمن بن شبل وفضالة بن عبيد وجابر . قال ابو عيسى هذا حديث قد روي من غير وجه عن ابي هريرة . وقال ايوب السختياني ويونس بن عبيد وعلي بن زيد ان الحسن لم يسمع من ابي هريرة
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوٹا بڑے کو، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سويد بن نصر، انبانا عبد الله بن المبارك، انبانا معمر، عن همام بن منبه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يسلم الصغير على الكبير والمار على القاعد والقليل على الكثير " . قال وهذا حديث حسن صحيح
فضالہ بن عبید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار پیدل چلنے والے کو اور چلنے والا کھڑے ہوئے شخص کو اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سويد بن نصر، انبانا عبد الله، انبانا حيوة بن شريح، اخبرني ابو هاني، اسمه حميد بن هاني الخولاني عن ابي علي الجنبي، عن فضالة بن عبيد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يسلم الفارس على الماشي والماشي على القايم والقليل على الكثير " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وابو علي الجنبي اسمه عمرو بن مالك
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص کسی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے، پھر اگر اس کا دل بیٹھنے کو چاہے تو بیٹھ جائے۔ پھر جب اٹھ کر جانے لگے تو سلام کرے۔ پہلا ( سلام ) دوسرے ( سلام ) سے زیادہ ضروری نہیں ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث ابن عجلان سے بھی آئی ہے، ابن عجلان نے بسند «سعيد المقبري عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن عجلان، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا انتهى احدكم الى مجلس فليسلم فان بدا له ان يجلس فليجلس ثم اذا قام فليسلم فليست الاولى باحق من الاخرة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد روي هذا الحديث ايضا عن ابن عجلان عن سعيد المقبري عن ابيه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( گھر میں داخل ہونے کی ) اجازت ملنے سے پہلے ہی جس نے ( دروازے کا ) پردہ کھسکا کر کسی کے گھر کے اندر جھانکا، اور گھر والے کی بیوی کی پردہ دری کی تو اس نے ایک ایسا کام کیا جس کا کرنا اس کے لیے حلال نہ تھا، جس وقت اس نے اپنی نگاہ اندر ڈالی تھی کاش اس وقت اس کا سامنا کسی ایسے شخص سے ہو جاتا جو اس کی دونوں آنکھیں پھوڑ دیتا تو میں اس پر اسے خوں بہا نہ دیتا۔ اور اگر کوئی شخص ایسے دروازے کے سامنے سے گزرا جس پر کوئی پردہ پڑا ہوا نہیں ہے اور دروازہ بند بھی نہیں ہے پھر اس کی نظر اٹھ گئی تو اس کی کچھ خطا نہیں۔ غلطی و کوتاہی تو گھر والے کی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اس طرح کی حدیث صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں ابوہریرہ اور ابوامامہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابن لهيعة، عن عبيد الله بن ابي جعفر، عن ابي عبد الرحمن الحبلي، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كشف سترا فادخل بصره في البيت قبل ان يوذن له فراى عورة اهله فقد اتى حدا لا يحل له ان ياتيه لو انه حين ادخل بصره استقبله رجل ففقا عينيه ما غيرت عليه وان مر رجل على باب لا ستر له غير مغلق فنظر فلا خطيية عليه انما الخطيية على اهل البيت " . وفي الباب عن ابي هريرة وابي امامة . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه مثل هذا الا من حديث ابن لهيعة وابو عبد الرحمن الحبلي اسمه عبد الله بن يزيد