احادیث
#2701
سنن ترمذی - Seeking Permission
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ کچھ یہودیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: «السّام عليك» ”تم پر موت و ہلاکت آئے“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا: «عليكم» ۱؎، عائشہ نے ( اس پر دو لفظ بڑھا کر ) کہا «بل عليكم السام واللعنة» ”بلکہ تم پر ہلاکت اور لعنت ہو“۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں رفق، نرم روی اور ملائمیت کو پسند کرتا ہے“، عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: کیا آپ نے سنا نہیں؟ انہوں نے کیا کہا ہے؟ ۔ آپ نے فرمایا: ”تبھی تو میں نے «عليكم» کہا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو بصرہ غفاری، ابن عمر، انس اور ابوعبدالرحمٰن جہنی سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت ان رهطا من اليهود دخلوا على النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا السام عليك . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " عليكم " . فقالت عايشة فقلت بل عليكم السام واللعنة . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " يا عايشة ان الله يحب الرفق في الامر كله " . قالت عايشة الم تسمع ما قالوا قال " قد قلت عليكم " . وفي الباب عن ابي بصرة الغفاري وابن عمر وانس وابي عبد الرحمن الجهني . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Seeking Permission
- Hadith Index
- #2701
- Book Index
- 14
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
