Loading...

Loading...
کتب
۴۷ احادیث
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہمارا آدمی اپنے بھائی سے یا اپنے دوست سے ملتا ہے تو کیا وہ اس کے سامنے جھکے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، اس نے پوچھا: کیا وہ اس سے چمٹ جائے اور اس کا بوسہ لے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، اس نے کہا: پھر تو وہ اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کرے، آپ نے فرمایا: ”ہاں“ ( بس اتنا ہی کافی ہے ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا سويد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا حنظلة بن عبيد الله، عن انس بن مالك، قال قال رجل يا رسول الله الرجل منا يلقى اخاه او صديقه اينحني له قال " لا " . قال افيلتزمه ويقبله قال " لا " . قال افياخذ بيده ويصافحه قال " نعم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی الله عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں مصافحہ کا رواج تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سويد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا همام، عن قتادة، قال قلت لانس بن مالك هل كانت المصافحة في اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قال نعم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکمل سلام ( «السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ» کہنے کے ساتھ ساتھ ) ہاتھ کو ہاتھ میں لینا یعنی ( مصافحہ کرنا ) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف یحییٰ بن سلیم کی روایت سے جسے وہ سفیان سے روایت کرتے ہیں جانتے ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اسے محفوظ شمار نہیں کیا، اور کہا کہ میرے نزدیک یحییٰ بن سلیم نے سفیان کی وہ روایت مراد لی ہے جسے انہوں نے منصور سے روایت کی ہے، اور منصور نے خیثمہ سے اور خیثمہ نے اس سے جس نے ابن مسعود رضی الله عنہ سے سنا ہے اور ابن مسعود نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ آپ نے فرمایا: ” ( بعد نماز عشاء ) بات چیت اور قصہ گوئی نہیں کرنی چاہیئے، سوائے اس شخص کے جس کو ( ابھی کچھ دیر بعد اٹھ کر تہجد کی ) نماز پڑھنی ہے یا سفر کرنا ہے، محمد کہتے ہیں: اور منصور سے مروی ہے انہوں نے ابواسحاق سے اور ابواسحاق نے عبدالرحمٰن بن یزید سے یا ان کے سوا کسی اور سے روایت کی ہے۔ وہ کہتے ہیں: سلام کی تکمیل سے مراد ہاتھ پکڑنا ( مصافحہ کرنا ) ہے، ۳- اس باب میں براء اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن عبدة الضبي، حدثنا يحيى بن سليم الطايفي، عن سفيان، عن منصور، عن خيثمة، عن رجل، عن ابن مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من تمام التحية الاخذ باليد " . وفي الباب عن البراء وابن عمر . قال ابو عيسى هذا حديث غريب ولا نعرفه الا من حديث يحيى بن سليم عن سفيان . قال سالت محمد بن اسماعيل عن هذا الحديث فلم يعده محفوظا وقال انما اراد عندي حديث سفيان عن منصور عن خيثمة عمن سمع ابن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا سمر الا لمصل او مسافر " . قال محمد وانما يروى عن منصور عن ابي اسحاق عن عبد الرحمن بن يزيد او غيره قال من تمام التحية الاخذ باليد
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مریض کی مکمل عیادت یہ ہے کہ تم میں سے عیادت کرنے والا اپنا ہاتھ اس کی پیشانی پر رکھے“، یا آپ نے یہ فرمایا: ” ( راوی کو شبہ ہو گیا ہے ) اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھے، پھر اس سے پوچھے کہ وہ کیسا ہے؟ اور تمہارے سلام کی تکمیل یہ ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے مصافحہ کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: عبیداللہ بن زحر ثقہ ہیں اور علی بن یزید ضعیف ہیں، ۳ – قاسم بن عبدالرحمٰن کی کنیت ابوعبدالرحمٰن ہے اور یہ عبدالرحمٰن بن خالد بن یزید بن معاویہ کے آزاد کردہ غلام ہیں اور ثقہ ہیں اور قاسم شامی ہیں۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله، اخبرنا يحيى بن ايوب، عن عبيد الله بن زحر، عن علي بن يزيد، عن القاسم ابي عبد الرحمن، عن ابي امامة، رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " تمام عيادة المريض ان يضع احدكم يده على جبهته او قال على يده فيساله كيف هو وتمام تحياتكم بينكم المصافحة " . قال ابو عيسى هذا اسناد ليس بالقوي . قال محمد وعبيد الله بن زحر ثقة وعلي بن يزيد ضعيف والقاسم بن عبد الرحمن يكنى ابا عبد الرحمن وهو مولى عبد الرحمن بن خالد بن يزيد بن معاوية وهو ثقة والقاسم شامي
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ زید بن حارثہ مدینہ آئے ( اس وقت ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تشریف فرما تھے، وہ آپ کے پاس آئے اور دروازہ کھٹکھٹایا، تو آپ ان کی طرف ننگے بدن اپنے کپڑے سمیٹتے ہوئے لپکے اور قسم اللہ کی میں نے آپ کو ننگے بدن نہ اس سے پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ اس کے بعد دیکھا ۱؎، آپ نے ( بڑھ کر ) انہیں گلے لگا لیا اور ان کا بوسہ لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف زہری کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، حدثنا ابراهيم بن يحيى بن محمد بن عباد المدني، حدثني ابو يحيى بن محمد، عن محمد بن اسحاق، عن محمد بن مسلم الزهري، عن عروة بن الزبير، عن عايشة، قالت قدم زيد بن حارثة المدينة ورسول الله صلى الله عليه وسلم في بيتي فاتاه فقرع الباب فقام اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم عريانا يجر ثوبه والله ما رايته عريانا قبله ولا بعده فاعتنقه وقبله . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه من حديث الزهري الا من هذا الوجه
صفوان بن عسال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا: چلو اس نبی کے پاس لے چلتے ہیں۔ اس کے ساتھی نے کہا ”نبی“ نہ کہو۔ ورنہ اگر انہوں نے سن لیا تو ان کی چار آنکھیں ہو جائیں گی، پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے ( موسیٰ علیہ السلام کو دی گئیں ) نو کھلی ہوئی نشانیوں کے متعلق پوچھا۔ آپ نے ان سے کہا ( ۱ ) کسی کو اللہ کا شریک نہ بناؤ ( ۲ ) چوری نہ کرو ( ۳ ) زنا نہ کرو ( ۴ ) ناحق کسی کو قتل نہ کرو ( ۵ ) کسی بےگناہ کو حاکم کے سامنے نہ لے جاؤ کہ وہ اسے قتل کر دے ( ۶ ) جادو نہ کرو ( ۷ ) سود مت کھاؤ ( ۸ ) پارسا عورت پر زنا کی تہمت مت لگاؤ ( ۹ ) اور دشمن سے مقابلے کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنے کی کوشش نہ کرو۔ اور خاص تم یہودیوں کے لیے یہ بات ہے کہ «سبت» ( سنیچر ) کے سلسلے میں حد سے آگے نہ بڑھو، ( آپ کا جواب سن کر ) انہوں نے آپ کے ہاتھ پیر چومے اور کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نبی ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”پھر تمہیں میری پیروی کرنے سے کیا چیز روکتی ہے؟“ انہوں نے کہا: داود علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی تھی کہ ان کی اولاد میں ہمیشہ کوئی نبی رہے۔ اس لیے ہم ڈرتے ہیں کہ اگر ہم نے آپ کی اتباع ( پیروی ) کی تو یہودی ہمیں مار ڈالیں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں یزید بن اسود، ابن عمر اور کعب بن مالک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبد الله بن ادريس، وابو اسامة عن شعبة، عن عمرو بن مرة، عن عبد الله بن سلمة، عن صفوان بن عسال، قال قال يهودي لصاحبه اذهب بنا الى هذا النبي . فقال صاحبه لا تقل نبي انه لو سمعك كان له اربعة اعين . فاتيا رسول الله صلى الله عليه وسلم فسالاه عن تسع ايات بينات . فقال لهم " لا تشركوا بالله شييا ولا تسرقوا ولا تزنوا ولا تقتلوا النفس التي حرم الله الا بالحق ولا تمشوا ببريء الى ذي سلطان ليقتله ولا تسحروا ولا تاكلوا الربا ولا تقذفوا محصنة ولا تولوا الفرار يوم الزحف وعليكم خاصة اليهود ان لا تعتدوا في السبت " . قال فقبلوا يده ورجله فقالا نشهد انك نبي . قال " فما يمنعكم ان تتبعوني " . قالوا ان داود دعا ربه ان لا يزال في ذريته نبي وانا نخاف ان تبعناك ان تقتلنا اليهود . وفي الباب عن يزيد بن الاسود وابن عمر وكعب بن مالك . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام ہانی رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ فتح مکہ والے سال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی۔ آپ اس وقت غسل فرما رہے تھے، اور فاطمہ رضی الله عنہا ایک کپڑے سے آپ کو آڑ کیے ہوئے تھیں۔ میں نے سلام کیا تو آپ نے پوچھا: ”کون ہیں یہ؟“ میں نے کہا: میں ام ہانی ہوں، آپ نے فرمایا: ”ام ہانی کا آنا مبارک ہو“۔ راوی کہتے ہیں پھر ابو مرہ نے حدیث کا پورا واقعہ بیان کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن ابي النضر، ان ابا مرة، مولى ام هاني بنت ابي طالب اخبره انه، سمع ام هاني، تقول ذهبت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفتح فوجدته يغتسل وفاطمة تستره بثوب قالت فسلمت فقال " من هذه " . قلت انا ام هاني فقال " مرحبا بام هاني " . قال فذكر في الحديث قصة طويلة هذا حديث حسن صحيح
عکرمہ بن ابی جہل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب میں ( مکہ سے مدینہ ہجرت کر کے ) آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہاجر سوار کا آنا مبارک ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند صحیح نہیں ہے۔ ہم اسے صرف موسیٰ بن مسعود کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ سفیان سے روایت کرتے ہیں۔ موسیٰ بن مسعود حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، ۲- عبدالرحمٰن بن مہدی نے بھی یہ حدیث سفیان سے اور سفیان نے ابواسحاق سے مرسلاً روایت کی ہے۔ اور اس سند میں مصعب بن سعد کا ذکر نہیں کیا ہے اور یہی صحیح تر ہے، ۳- میں نے محمد بن بشار کو کہتے ہوئے سنا: موسیٰ بن مسعود حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، ۴- محمد بن بشار کہتے ہیں: میں نے موسیٰ بن مسعود سے بہت سی حدیثیں لیں، پھر میں نے ان سے حدیثیں لینی چھوڑ دی، ۵- اس باب میں بریدہ، ابن عباس اور ابوجحیفہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا عبد بن حميد، وغير، واحد، قالوا حدثنا موسى بن مسعود ابو حذيفة، عن سفيان، عن ابي اسحاق، عن مصعب بن سعد، عن عكرمة بن ابي جهل، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم جيته " مرحبا بالراكب المهاجر " . وفي الباب عن بريدة وابن عباس وابي جحيفة . قال ابو عيسى هذا حديث ليس اسناده بصحيح لا نعرفه مثل هذا الا من هذا الوجه من حديث موسى بن مسعود عن سفيان . وموسى بن مسعود ضعيف في الحديث . وروى هذا الحديث عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن ابي اسحاق مرسلا ولم يذكر فيه عن مصعب بن سعد . وهذا اصح . قال سمعت محمد بن بشار يقول موسى بن مسعود ضعيف في الحديث . قال محمد بن بشار وكتبت كثيرا عن موسى بن مسعود ثم تركته . كمل كتاب الاستيذان ويتلوه كتاب الادب