Loading...

Loading...
کتب
۴۳ احادیث
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے ( ابتداء اسلام میں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے علم ( حدیث ) لکھ لینے کی اجازت طلب کی تو آپ نے ہمیں لکھنے کی اجازت نہ دی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی زید بن اسلم کے واسطہ سے آئی ہے، اور اسے ہمام نے زید بن اسلم سے روایت کیا ہے۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا سفيان بن عيينة، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري، قال استاذنا النبي صلى الله عليه وسلم في الكتابة فلم ياذن لنا . قال ابو عيسى وقد روي هذا الحديث من غير هذا الوجه ايضا عن زيد بن اسلم رواه همام عن زيد بن اسلم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھا کرتا تھا۔ وہ آپ کی حدیثیں سنتا اور یہ حدیثیں اسے بہت پسند آتی تھیں، لیکن وہ انہیں یاد نہیں رکھ پاتا تھا تو اس نے اپنے یاد نہ رکھ پانے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں آپ کی حدیثیں سنتا ہوں اور وہ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں ( مگر ) میں انہیں یاد نہیں رکھ پاتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے داہنے ہاتھ کا سہارا لو ( اور یہ کہتے ہوئے ) آپ نے ہاتھ سے لکھ لینے کا اشارہ فرمایا ”۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند قوی و مستحکم نہیں ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل کو کہتے ہوئے سنا: خلیل بن مرہ منکر الحدیث ہے، ۳- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن الخليل بن مرة، عن يحيى بن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال كان رجل من الانصار يجلس الى النبي صلى الله عليه وسلم فيسمع من النبي صلى الله عليه وسلم الحديث فيعجبه ولا يحفظه فشكا ذلك الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اني اسمع منك الحديث فيعجبني ولا احفظه . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " استعن بيمينك " . واوما بيده للخط . وفي الباب عن عبد الله بن عمرو . قال ابو عيسى هذا حديث اسناده ليس بذلك القايم . وسمعت محمد بن اسماعيل يقول الخليل بن مرة منكر الحديث
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور دوران خطبہ آپ نے کوئی قصہ ( کوئی واقعہ ) بیان کیا تو ابو شاہ نے کہا: اللہ کے رسول! میرے لیے لکھوا دیجئیے ( یعنی کسی سے لکھا دیجئیے ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( صحابہ سے ) کہا ابو شاہ کے لیے لکھ دو۔ حدیث میں پورا واقعہ مذکور ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شیبان نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی جیسی روایت بیان کی ہے۔
حدثنا يحيى بن موسى، ومحمود بن غيلان، قالا حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم خطب فذكر القصة في الحديث . قال ابو شاه اكتبوا لي يا رسول الله . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اكتبوا لابي شاه " . وفي الحديث قصة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روى شيبان عن يحيى بن ابي كثير مثل هذا
ہمام بن منبہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سوائے عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرنے والا مجھ سے زیادہ کوئی نہیں ہے اور میرے اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کے درمیان یہ فرق تھا کہ وہ ( احادیث ) لکھ لیتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور روایت میں «وهب بن منبه، عن أخيه» جو آیا، تو «أخيه» سے مراد ہمام بن منبہ ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن وهب بن منبه، عن اخيه، وهو همام بن منبه قال سمعت ابا هريرة، يقول ليس احد من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم اكثر حديثا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم مني الا عبد الله بن عمرو فانه كان يكتب وكنت لا اكتب . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح ووهب بن منبه عن اخيه هو همام بن منبه
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری طرف سے لوگوں کو ( احکام الٰہی ) پہنچا دو اگرچہ ایک آیت ہی ہو، اور بنی اسرائیل سے بیان کرو، ان سے بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں، اور جس نے جان بوجھ کر میری طرف کسی جھوٹ کی نسبت کی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن يوسف، عن ابن ثوبان، هو عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان عن حسان بن عطية، عن ابي كبشة السلولي، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بلغوا عني ولو اية وحدثوا عن بني اسراييل ولا حرج ومن كذب على متعمدا فليتبوا مقعده من النار " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عاصم، عن الاوزاعي، عن حسان بن عطية، عن ابي كبشة السلولي، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . وهذا حديث صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری مانگنے آیا، تو آپ کے پاس اسے کوئی سواری نہ ملی جو اسے منزل مقصود تک پہنچا دیتی۔ آپ نے اسے ایک دوسرے شخص کے پاس بھیج دیا، اس نے اسے سواری فراہم کر دی۔ پھر اس نے آ کر آپ کو اس کی اطلاع دی تو آپ نے فرمایا: ”بھلائی کی طرف رہنمائی کرنے والا ( ثواب میں ) بھلائی کرنے والے ہی کی طرح ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے یعنی انس رضی الله عنہ کی روایت سے جسے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں غریب ہے، ۲- اس باب میں ابومسعود بدری اور بریدہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا نصر بن عبد الرحمن الكوفي، حدثنا احمد بن بشير، عن شبيب بن بشر، عن انس بن مالك، قال اتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل يستحمله فلم يجد عنده ما يتحمله فدله على اخر فحمله . فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فاخبره فقال " ان الدال على الخير كفاعله " . وفي الباب عن ابي مسعود البدري وبريدة . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من هذا الوجه من حديث انس عن النبي صلى الله عليه وسلم
ابومسعود بدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری مانگنے آیا، اور کہا: میں بے سواری کے ہو گیا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ”تم فلاں شخص کے پاس جاؤ“، چنانچہ وہ اس شخص کے پاس گیا اور اس نے اسے سواری دے دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بھلائی کا راستہ دکھایا تو اسے اتنا ہی اجر ملتا ہے جتنا کہ اس کے کرنے والے کو ملتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور ابومسعود بدری کا نام عقبہ بن عمرو ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، انبانا شعبة، عن الاعمش، قال سمعت ابا عمرو الشيباني، يحدث عن ابي مسعود البدري، ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم يستحمله فقال انه قد ابدع بي . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايت فلانا " . فاتاه فحمله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من دل على خير فله مثل اجر فاعله او قال عامله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وابو عمرو الشيباني اسمه سعد بن اياس وابو مسعود البدري اسمه عقبة بن عمرو . حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا عبد الله بن نمير، عن الاعمش، عن ابي عمرو الشيباني، عن ابي مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه وقال " مثل اجر فاعله " . ولم يشك فيه
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شفاعت ( سفارش ) کرو تاکہ اجر پاؤ، اللہ اپنے نبی کی زبان سے نکلی ہوئی جس بات ( جس سفارش ) کو بھی چاہتا ہے پورا کر دیتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، والحسن بن علي، وغير، واحد، قالوا حدثنا ابو اسامة، عن بريد بن عبد الله بن ابي بردة، عن جده ابي بردة، عن ابي موسى الاشعري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اشفعوا ولتوجروا وليقض الله على لسان نبيه ما شاء " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وبريد يكنى ابا بردة ايضا وهو كوفي ثقة في الحديث روى عنه شعبة والثوري وابن عيينة
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظلم سے جو بھی خون ہوتا ہے اس خون کے گناہ کا ایک حصہ آدم کے ( پہلے ) بیٹے پر جاتا ہے، کیونکہ اسی نے سب سے پہلے خون کرنے کی سبیل نکالی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، وعبد الرزاق، عن سفيان، عن الاعمش، عن عبد الله بن مرة، عن مسروق، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من نفس تقتل ظلما الا كان على ابن ادم كفل من دمها وذلك لانه اول من اسن القتل " . وقال عبد الرزاق " سن القتل " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الاعمش، بهذا الاسناد نحوه بمعناه قال " سن القتل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے لوگوں کو ہدایت کی طرف بلایا تو جو لوگ اس کی پیروی کریں گے ان کے اجر کے برابر ہدایت کی طرف بلانے والے کو بھی ثواب ملے گا بغیر اس کے کہ اس کی اتباع کرنے والوں کے اجر و ثواب میں کچھ بھی کمی ہو، اور جس نے ضلالت ( و گمراہی ) کی طرف بلایا تو جو لوگ اس کی پیروی کریں گے ان کے گناہوں کے برابر گمراہی کی طرف بلانے والے کو بھی گناہ ملے گا بغیر اس کے کہ اس کی وجہ سے ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی کمی ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا اسماعيل بن جعفر، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من دعا الى هدى كان له من الاجر مثل اجور من يتبعه لا ينقص ذلك من اجورهم شييا ومن دعا الى ضلالة كان عليه من الاثم مثل اثام من يتبعه لا ينقص ذلك من اثامهم شييا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی اچھا طریقہ جاری کیا ( کوئی اچھی سنت قائم کی ) اور اس اچھے طریقہ کی پیروی کی گئی تو اسے ( ایک تو ) اسے اپنے عمل کا اجر ملے گا اور ( دوسرے ) جو اس کی پیروی کریں گے ان کے اجر و ثواب میں کسی طرح کی کمی کیے گئے بغیر ان کے اجر و ثواب کے برابر بھی اسے ثواب ملے گا، اور جس نے کوئی برا طریقہ جاری کیا اور اس برے طریقے کی پیروی کی گئی تو ایک تو اس پر اپنے عمل کا بوجھ ( گناہ ) ہو گا اور ( دوسرے ) جو لوگ اس کی پیروی کریں گے ان کے گناہوں کے برابر بھی اسی پر گناہ ہو گا، بغیر اس کے کہ اس کی پیروی کرنے والوں کے گناہوں میں کوئی کمی کی گئی ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے جریر بن عبداللہ سے آئی ہے، اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- یہ حدیث منذر بن جریر بن عبداللہ سے بھی آئی ہے، جسے وہ اپنے والد جریر بن عبداللہ سے اور جریر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، ۴- یہ حدیث عبیداللہ بن جریر سے بھی آئی ہے، اور عبیداللہ اپنے والد جریر سے اور جریر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ۵- اس باب میں حذیفہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا المسعودي، عن عبد الملك بن عمير، عن ابن جرير بن عبد الله، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من سن سنة خير فاتبع عليها فله اجره ومثل اجور من اتبعه غير منقوص من اجورهم شييا ومن سن سنة شر فاتبع عليها كان عليه وزره ومثل اوزار من اتبعه غير منقوص من اوزارهم شييا " . وفي الباب عن حذيفة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روي من غير وجه عن جرير بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا . وقد روي هذا الحديث عن المنذر بن جرير بن عبد الله عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم . وقد روي عن عبيد الله بن جرير عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم ايضا
عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہمیں نماز فجر کے بعد ایک موثر نصیحت فرمائی جس سے لوگوں کی آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ گئیں اور دل لرز گئے، ایک شخص نے کہا: یہ نصیحت ایسی ہے جیسی نصیحت دنیا سے ( آخری بار ) رخصت ہو کر جانے والے کیا کرتے ہیں، تو اللہ کے رسول! آپ ہمیں کس بات کی وصیت کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”میں تم لوگوں کو اللہ سے ڈرتے رہنے، امیر کی بات سننے اور اسے ماننے کی نصیحت کرتا ہوں، اگرچہ تمہارا حاکم اور امیر ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ تم میں سے آئندہ جو زندہ رہے گا وہ ( امت کے اندر ) بہت سارے اختلافات دیکھے گا تو تم ( باقی رہنے والوں ) کو میری وصیت ہے کہ نئے نئے فتنوں اور نئی نئی بدعتوں میں نہ پڑنا، کیونکہ یہ سب گمراہی ہیں۔ چنانچہ تم میں سے جو شخص ان حالات کو پالے تو اسے چاہیئے کہ وہ میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت پر قائم اور جمار ہے اور میری اس نصیحت کو اپنے دانتوں کے ذریعے مضبوطی سے دبا لے“۔ ( اور اس پر عمل پیرا رہے ) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ثور بن یزید نے بسند «خالد بن معدان عن عبدالرحمٰن بن عمرو السلمي عن العرباض بن سارية عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا بقية بن الوليد، عن بحير بن سعد، عن خالد بن معدان، عن عبد الرحمن بن عمرو السلمي، عن العرباض بن سارية، قال وعظنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما بعد صلاة الغداة موعظة بليغة ذرفت منها العيون ووجلت منها القلوب فقال رجل ان هذه موعظة مودع فماذا تعهد الينا يا رسول الله قال " اوصيكم بتقوى الله والسمع والطاعة وان عبد حبشي فانه من يعش منكم يرى اختلافا كثيرا واياكم ومحدثات الامور فانها ضلالة فمن ادرك ذلك منكم فعليه بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين عضوا عليها بالنواجذ " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روى ثور بن يزيد، عن خالد بن معدان، عن عبد الرحمن بن عمرو السلمي، عن العرباض بن سارية، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا . حدثنا بذلك الحسن بن علي الخلال وغير واحد قالوا حدثنا ابو عاصم عن ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن عبد الرحمن بن عمرو السلمي عن العرباض بن سارية عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه والعرباض بن سارية يكنى ابا نجيح . وقد روي هذا الحديث عن حجر بن حجر عن عرباض بن سارية عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
عمرو بن عوف رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث رضی الله عنہ سے کہا: ”سمجھ لو“ ( جان لو ) انہوں نے کہا: سمجھنے اور جاننے کی چیز کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”سمجھ لو اور جان لو“، انہوں نے عرض کیا: سمجھنے اور جاننے کی چیز کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”جس نے میری کسی ایسی سنت کو زندہ کیا جس پر لوگوں نے میرے بعد عمل کرنا چھوڑ دیا ہے، تو اسے اتنا ثواب ملے گا جتنا کہ اس سنت پر عمل کرنے والوں کو ملے گا، یہ ان کے اجروں میں سے کچھ بھی کمی نہیں کرے گا، اور جس نے گمراہی کی کوئی نئی بدعت نکالی جس سے اللہ اور اس کا رسول راضی و خوش نہیں، تو اسے اس پر عمل کرنے والوں کے گناہوں کے برابر گناہ ہو گا، اس کے گناہوں میں سے کچھ بھی کمی نہیں کرے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- محم بن عیینہ مصیصی شامی ہیں، ۳- اور کثیر بن عبداللہ سے مراد کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف مزنی ہیں۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا محمد بن عيينة، عن مروان بن معاوية الفزاري، عن كثير بن عبد الله، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لبلال بن الحارث " اعلم " . قال ما اعلم يا رسول الله قال " اعلم يا بلال " . قال ما اعلم يا رسول الله قال " انه من احيا سنة من سنتي قد اميتت بعدي فان له من الاجر مثل من عمل بها من غير ان ينقص من اجورهم شييا ومن ابتدع بدعة ضلالة لا يرضاها الله ورسوله كان عليه مثل اثام من عمل بها لا ينقص ذلك من اوزار الناس شييا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . ومحمد بن عيينة هو مصيصي شامي وكثير بن عبد الله هو ابن عمرو بن عوف المزني
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بیٹے: اگر تم سے ہو سکے کہ صبح و شام تم اس طرح گزارے کہ تمہارے دل میں کسی کے لیے بھی کھوٹ ( بغض، حسد، کینہ وغیرہ ) نہ ہو تو ایسا کر لیا کرو“، پھر آپ نے فرمایا: ”میرے بیٹے! ایسا کرنا میری سنت ( اور میرا طریقہ ) ہے، اور جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ میرے ساتھ جنت میں رہے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث میں ایک طویل قصہ بھی ہے، ۲- اس سند سے یہ حدیث حسن غریب ہے، ۳- محمد بن عبداللہ انصاری ثقہ ہیں، اور ان کے باپ بھی ثقہ ہیں، ۴- علی بن زید صدوق ہیں ( ان کا شمار سچوں میں ہے ) بس ان میں اتنی سی کمی و خرابی ہے کہ وہ بسا اوقات بعض روایات کو جسے دوسرے راوی موقوفاً روایت کرتے ہیں اسے یہ مرفوع روایت کر دیتے ہیں، ۵- میں نے محمد بن بشار کو کہتے ہوئے سنا کہ ابوالولید نے کہا: شعبہ کہتے ہیں کہ مجھ سے علی بن زید نے حدیث بیان کی اور علی بن زید رفاع تھے، ۶- ہم سعید بن مسیب کی انس کے واسطہ سے اس طویل حدیث کے سوا اور کوئی روایت نہیں جانتے، ۷- عباد بن میسرہ منقری نے یہ حدیث علی بن زید کے واسطہ سے انس سے روایت کی ہے، لیکن انہوں نے اس حدیث میں سعید بن مسیب کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا، ۸- میں نے اس حدیث کا محمد بن اسماعیل بخاری سے ذکر کر کے اس کے متعلق جاننا چاہا تو انہوں نے اس کے متعلق اپنی لاعلمی کا اظہار کیا، ۹- انس بن مالک سے سعید بن مسیب کی روایت سے یہ یا اس کے علاوہ کوئی بھی حدیث معروف نہیں ہے۔ انس بن مالک ۹۳ ہجری میں انتقال فرما گئے اور سعید بن مسیب ان کے دو سال بعد ۹۵ ہجری میں اللہ کو پیارے ہوئے۔
حدثنا مسلم بن حاتم الانصاري البصري، حدثنا محمد بن عبد الله الانصاري، عن ابيه، عن علي بن زيد، عن سعيد بن المسيب، قال قال انس بن مالك قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا بنى ان قدرت ان تصبح وتمسي ليس في قلبك غش لاحد فافعل " . ثم قال لي " يا بنى وذلك من سنتي ومن احيا سنتي فقد احبني . ومن احبني كان معي في الجنة " . وفي الحديث قصة طويلة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه . ومحمد بن عبد الله الانصاري ثقة وابوه ثقة وعلي بن زيد صدوق الا انه ربما يرفع الشىء الذي يوقفه غيره . قال وسمعت محمد بن بشار يقول قال ابو الوليد قال شعبة حدثنا علي بن زيد وكان رفاعا ولا نعرف لسعيد بن المسيب عن انس رواية الا هذا الحديث بطوله . وقد روى عباد بن ميسرة المنقري هذا الحديث عن علي بن زيد عن انس ولم يذكر فيه عن سعيد بن المسيب . قال ابو عيسى وذاكرت به محمد بن اسماعيل فلم يعرفه ولم يعرف لسعيد بن المسيب عن انس هذا الحديث ولا غيره ومات انس بن مالك سنة ثلاث وتسعين ومات سعيد بن المسيب بعده بسنتين مات سنة خمس وتسعين
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں تم مجھے چھوڑے رکھو، پھر جب میں تم سے کوئی چیز بیان کروں تو اسے لے لو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ بہت زیادہ سوالات کرنے اور اپنے انبیاء سے کثرت سے اختلافات کرنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اتركوني ما تركتكم فاذا حدثتكم فخذوا عني فانما هلك من كان قبلكم بكثرة سوالهم واختلافهم على انبيايهم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے مرفوعاً روایت ہے ”عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ لوگ علم کی تلاش میں کثرت سے لمبے لمبے سفر طے کریں گے، لیکن ( کہیں بھی ) انہیں مدینہ کے عالم سے بڑا کوئی عالم نہ ملے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عیینہ سے مروی یہ حدیث حسن ہے، ۲- سفیان بن عیینہ سے اس بارے میں جب پوچھا گیا کہ عالم مدینہ کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: مالک بن انس ہیں، ۳- اسحاق بن موسیٰ کہتے ہیں: میں نے ابن عیینہ کو کہتے سنا کہ وہ ( یعنی عالم مدینہ ) عمری عبدالعزیز بن عبداللہ زاہد ہیں، ۴- میں نے یحییٰ بن موسیٰ کو کہتے ہوئے سنا عبدالرزاق کہتے تھے کہ وہ ( عالم مدینہ ) مالک بن انس ہیں، ۵- عمری یہ عبدالعزیز بن عبداللہ ہیں، اور یہ عمر بن خطاب کی اولاد میں سے ہیں۔
حدثنا الحسن بن الصباح البزار، واسحاق بن موسى الانصاري، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابن جريج، عن ابي الزبير، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، رواية " يوشك ان يضرب الناس، اكباد الابل يطلبون العلم فلا يجدون احدا اعلم من عالم المدينة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن وهو حديث ابن عيينة . وقد روي عن ابن عيينة انه قال في هذا سيل من عالم المدينة فقال انه مالك بن انس . وقال اسحاق بن موسى سمعت ابن عيينة يقول هو العمري عبد الله بن عبد العزيز الزاهد . وسمعت يحيى بن موسى يقول قال عبد الرزاق هو مالك بن انس . والعمري هو عبد الله بن عبد العزيز من ولد عمر بن الخطاب
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عبادت کرنے والوں کے مقابلہ میں اکیلا شیطان پر حاوی اور بھاری ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے ولید بن مسلم کی روایت سے صرف اسی سند جانتے ہیں۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا الوليد بن مسلم، حدثنا روح بن جناح، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فقيه اشد على الشيطان من الف عابد " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب ولا نعرفه الا من هذا الوجه من حديث الوليد بن مسلم
قیس بن کثیر کہتے ہیں کہ ایک شخص مدینہ سے ابو الدرداء رضی الله عنہ کے پاس دمشق آیا، ابوالدرداء رضی الله عنہ نے اس سے کہا: میرے بھائی! تمہیں یہاں کیا چیز لے کر آئی ہے، اس نے کہا: مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث بیان کرتے ہیں، ابو الدرداء نے کہا: کیا تم کسی اور ضرورت سے تو نہیں آئے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: کیا تم تجارت کی غرض سے تو نہیں آئے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ میں تو صرف اس حدیث کی طلب و تلاش میں آیا ہوں، ابو الدرداء نے کہا: ( اچھا تو سنو ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص علم دین کی تلاش میں کسی راستہ پر چلے، تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ اسے جنت کے راستہ پر لگا دیتا ہے۔ بیشک فرشتے طالب ( علم ) کی خوشی کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں، اور عالم کے لیے آسمان و زمین کی ساری مخلوقات مغفرت طلب کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ پانی کے اندر کی مچھلیاں بھی، اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر، بیشک علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نے کسی کو دینار و درہم کا وارث نہیں بنایا، بلکہ انہوں نے علم کا وارث بنایا ہے۔ اس لیے جس نے اس علم کو حاصل کر لیا، اس نے ( علم نبوی اور وراثت نبوی سے ) پورا پورا حصہ لیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم عاصم بن رجاء بن حیوہ کی روایت کے سوا کسی اور طریقہ سے اس حدیث کو نہیں جانتے، اور اس حدیث کی سند میرے نزدیک متصل نہیں ہے۔ اسی طرح انہیں اسناد سے محمود بن خداش نے بھی ہم سے بیان کی ہے، ۲- یہ حدیث عاصم بن رجاء بن حیوہ نے بسند «داود بن جميل عن كثير بن قيس عن أبي الدرداء عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے۔ اور یہ حدیث محمود بن خداش کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، اور محمد بن اسماعیل بخاری کی رائے ہے کہ یہ زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن خداش البغدادي، حدثنا محمد بن يزيد الواسطي، حدثنا عاصم بن رجاء بن حيوة، عن قيس بن كثير، قال قدم رجل من المدينة على ابي الدرداء وهو بدمشق فقال ما اقدمك يا اخي فقال حديث بلغني انك تحدثه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال اما جيت لحاجة قال لا . قال اما قدمت لتجارة قال لا . قال ما جيت الا في طلب هذا الحديث قال فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من سلك طريقا يبتغي فيه علما سلك الله به طريقا الى الجنة وان الملايكة لتضع اجنحتها رضا لطالب العلم وان العالم ليستغفر له من في السموات ومن في الارض حتى الحيتان في الماء وفضل العالم على العابد كفضل القمر على ساير الكواكب ان العلماء ورثة الانبياء ان الانبياء لم يورثوا دينارا ولا درهما انما ورثوا العلم فمن اخذ به اخذ بحظ وافر " . قال ابو عيسى ولا نعرف هذا الحديث الا من حديث عاصم بن رجاء بن حيوة وليس هو عندي بمتصل هكذا حدثنا محمود بن خداش بهذا الاسناد . وانما يروى هذا الحديث عن عاصم بن رجاء بن حيوة عن الوليد بن جميل عن كثير بن قيس عن ابي الدرداء عن النبي صلى الله عليه وسلم وهذا اصح من حديث محمود بن خداش وراى محمد بن اسماعيل هذا اصح
یزید بن سلمہ جعفی کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے بہت سی حدیثیں آپ سے سنی ہیں، میں ڈرتا ہوں کہ کہیں بعد کی حدیثیں شروع کی حدیثوں کو بھلا نہ دیں، آپ مجھے کوئی ایسا کلمہ ( کوئی ایسی بات ) بتا دیجئیے جو دونوں ( اول و آخر ) کو ایک ساتھ باقی رکھنے کا ذریعہ بنے۔ آپ نے فرمایا: ”جو کچھ بھی تم جانتے ہو ان کے متعلق اللہ کا خوف و تقویٰ ملحوظ رکھو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ایسی ہے جس کی سند متصل نہیں ہے، یہ حدیث میرے نزدیک مرسل ہے۔ ۲- میرے نزدیک ابن اشوع نے یزید بن سلمی ( کے دور ) کو نہیں پایا ہے، ۳- ابن اشوع کا نام سعید بن اشوع ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو الاحوص، عن سعيد بن مسروق، عن ابن اشوع، عن يزيد بن سلمة الجعفي، قال قال يزيد بن سلمة يا رسول الله اني قد سمعت منك، حديثا كثيرا اخاف ان ينسيني، اوله اخره فحدثني بكلمة تكون جماعا . قال " اتق الله فيما تعلم " . قال ابو عيسى هذا حديث ليس اسناده بمتصل وهو عندي مرسل . ولم يدرك عندي ابن اشوع يزيد بن سلمة وابن اشوع اسمه سعيد بن اشوع
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق میں دو خصلتیں ( صفتیں ) جمع نہیں ہو سکتی ہیں: حسن اخلاق اور دین کی سمجھ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم عوف کی اس حدیث کو صرف شیخ خلف بن ایوب عامری کی روایت سے جانتے ہیں، اور ابوکریب محمد بن علاء کے سوا کسی کو ہم نہیں جانتے جس نے خلف بن ایوب عامری سے روایت کی ہے، اور ہم نہیں جانتے کہ وہ کیسے شخص ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا خلف بن ايوب العامري، عن عوف، عن ابن سيرين، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خصلتان لا تجتمعان في منافق حسن سمت ولا فقه في الدين " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . ولا نعرف هذا الحديث من حديث عوف الا من حديث هذا الشيخ خلف بن ايوب العامري ولم ار احدا يروي عنه غير ابي كريب محمد بن العلاء ولا ادري كيف هو