Loading...

Loading...
کتب
۴۳ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، تو اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱ – یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، ابوہریرہ، اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا اسماعيل بن جعفر، حدثني عبد الله بن سعيد بن ابي هند، عن ابيه، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من يرد الله به خيرا يفقهه في الدين " . وفي الباب عن عمر وابي هريرة ومعاوية هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو علم حاصل کرنے کے ارادہ سے کہیں جائے، تو اللہ اس کے لیے جنت کے راستے کو آسان ( و ہموار ) کر دیتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو اسامة، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من سلك طريقا يلتمس فيه علما سهل الله له طريقا الى الجنة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے نکلے تو وہ لوٹنے تک اللہ کی راہ میں ( شمار ) ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض اہل علم نے اسے غیر مرفوع روایت کیا ہے۔
حدثنا نصر بن علي، قال حدثنا خالد بن يزيد العتكي، عن ابي جعفر الرازي، عن الربيع بن انس، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من خرج في طلب العلم فهو في سبيل الله حتى يرجع " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب ورواه بعضهم فلم يرفعه
سخبرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو علم حاصل کرے گا تو یہ اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند ضعیف ہے، ۲- راوی ابوداود نفیع اعمی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، ۳- ہم عبداللہ بن سخبرہ سے مروی زیادہ حدیثیں نہیں جانتے اور نہ ان کے باپ کی ( یعنی یہ دونوں باپ بیٹے غیر معروف قسم کے لوگ ہیں ) ، ابوداؤد کا نام نفیع الاعمیٰ ہے۔ ان کے بارے میں قتادہ اور دوسرے بہت سے اہل علم نے کلام کیا ہے۔
حدثنا محمد بن حميد الرازي، حدثنا محمد بن المعلى، حدثنا زياد بن خيثمة، عن ابي داود، عن عبد الله بن سخبرة، عن سخبرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من طلب العلم كان كفارة لما مضى " . قال ابو عيسى هذا حديث ضعيف الاسناد . ابو داود يضعف ولا نعرف لعبد الله بن سخبرة كبير شيء ولا لابيه واسم ابي داود نفيع الاعمى تكلم فيه قتادة وغير واحد من اهل العلم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے علم دین کی کوئی ایسی بات پوچھی جائے جسے وہ جانتا ہے، پھر وہ اسے چھپائے تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں جابر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن بديل بن قريش اليامي الكوفي، حدثنا عبد الله بن نمير، عن عمارة بن زاذان، عن علي بن الحكم، عن عطاء، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من سيل عن علم علمه ثم كتمه الجم يوم القيامة بلجام من نار " . وفي الباب عن جابر وعبد الله بن عمرو . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن
ابوہارون کہتے ہیں کہ ہم ابو سعید خدری رضی الله عنہ کے پاس ( علم دین حاصل کرنے کے لیے ) آتے، تو وہ کہتے: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے مطابق تمہیں خوش آمدید، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ تمہارے پیچھے ہیں ۱؎ کچھ لوگ تمہارے پاس زمین کے گوشہ گوشہ سے علم دین حاصل کرنے کے لیے آئیں گے تو جب وہ تمہارے پاس آئیں تو تم ان کے ساتھ بھلائی کرنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی بن عبداللہ بن المدینی نے کہا: یحییٰ بن سعید کہتے تھے: شعبہ ابوہارون عبدی کو ضعیف قرار دیتے تھے، ۲- یحییٰ بن سعید کہتے ہیں: ابن عون جب تک زندہ رہے ہمیشہ ابوہارون عبدی سے روایت کرتے رہے، ۳- ابوہارون کا نام عمارہ بن جوین ہے۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا ابو داود الحفري، عن سفيان، عن ابي هارون العبدي، قال كنا ناتي ابا سعيد فيقول مرحبا بوصية رسول الله صلى الله عليه وسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الناس لكم تبع وان رجالا ياتونكم من اقطار الارضين يتفقهون في الدين فاذا اتوكم فاستوصوا بهم خيرا " . قال ابو عيسى قال علي قال يحيى بن سعيد كان شعبة يضعف ابا هارون العبدي . قال يحيى بن سعيد ما زال ابن عون يروي عن ابي هارون العبدي حتى مات . قال ابو عيسى وابو هارون اسمه عمارة بن جوين
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس پورب سے لوگ علم حاصل کرنے کے لیے آئیں گے پس جب وہ تمہارے پاس آئیں تو ان کے ساتھ بھلائی کرنا“۔ راوی حدیث کہتے ہیں: ابو سعید خدری رضی الله عنہ کا حال یہ تھا کہ جب وہ ہمیں ( طالبان علم دین کو ) دیکھتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے مطابق ہمیں خوش آمدید کہتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ہم اس حدیث کو صرف ابوہارون کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا نوح بن قيس، عن ابي هارون العبدي، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ياتيكم رجال من قبل المشرق يتعلمون فاذا جاءوكم فاستوصوا بهم خيرا " . قال فكان ابو سعيد اذا رانا قال مرحبا بوصية رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال هذا حديث لا نعرفه الا من حديث ابي هارون عن ابي سعيد الخدري
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ علم اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ اسے لوگوں کے سینوں سے کھینچ لے، لیکن وہ علم کو علماء کی وفات کے ذریعہ سے اٹھائے گا، یہاں تک کہ جب وہ کسی عالم کو باقی نہیں رکھے گا تو لوگ اپنا سردار جاہلوں کو بنا لیں گے، ان سے مسئلے پوچھے جائیں گے تو وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے، وہ خود گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث زہری نے عروہ سے اور عروہ نے عبداللہ بن عمرو سے روایت کی ہے، اور زہری نے ( ایک دوسری سند سے ) عروہ سے اور عروہ نے عائشہ رضی الله عنہا کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- اس باب میں عائشہ اور زیاد بن لبید سے بھی روایت ہے۔
حدثنا هارون بن اسحاق الهمداني، حدثنا عبدة بن سليمان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله لا يقبض العلم انتزاعا ينتزعه من الناس ولكن يقبض العلم بقبض العلماء حتى اذا لم يترك عالما اتخذ الناس رءوسا جهالا فسيلوا فافتوا بغير علم فضلوا واضلوا " . وفي الباب عن عايشة وزياد بن لبيد . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روى هذا الحديث الزهري عن عروة عن عبد الله بن عمرو وعن عروة عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم مثل هذا
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اچانک آپ نے اپنی نظریں آسمان پر گاڑ دیں، پھر فرمایا: ”ایسا وقت ( آ گیا ) ہے کہ جس میں لوگوں کے سینوں سے علم اچک لیا جائے گا۔ یہاں تک کہ لوگوں کے پاس کچھ بھی علم نہیں ہو گا، زیاد بن لبید انصاری نے کہا: ( اللہ کے رسول! ) علم ہم سے کس طرح چھین لیا جائے گا جب کہ ہم قرآن پڑھتے ہوں گے۔ قسم اللہ کی! ہم ضرور اسے پڑھیں گے اور ہم ضرور اپنی عورتوں کو اسے پڑھائیں گے اور اپنے بچوں کو سکھائیں گے۔ آپ نے فرمایا: ”اے زیاد تمہاری ماں تمہیں کھو دے! میں تو تمہیں اہل مدینہ کے فقہاء میں سے شمار کرتا تھا۔ یہ تورات اور انجیل بھی تو پاس ہے یہود و نصاریٰ کے کیا کام آئی ان کے؟“ ۱؎ ( کیا فائدہ پہنچایا تورات اور انجیل نے ان کو؟ ) ۔ جبیر ( راوی ) کہتے ہیں: میری ملاقات عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے ہوئی تو میں نے ان سے کہا: کیا آپ نہیں سنتے کہ آپ کے بھائی ابوالدرداء رضی الله عنہ کیا کہتے ہیں؟ پھر ابوالدرداء رضی الله عنہ نے جو کہا تھا وہ میں نے انہیں بتا دیا۔ انہوں نے کہا: ابوالدرداء رضی الله عنہ نے سچ کہا۔ اور اگر تم ( مزید ) جاننا چاہو تو میں تمہیں بتا سکتا ہوں کہ پہلے پہل لوگوں سے اٹھا لیا جانے والا علم، خشوع ہے۔ عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ تم جامع مسجد کے اندر جاؤ گے لیکن وہاں تمہیں کوئی ( صحیح معنوں میں ) خشوع خضوع اپنانے والا شخص دکھائی نہ دے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- معاویہ بن صالح محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں۔ اور یحییٰ بن سعید قطان کے سوا ہم کسی کو نہیں جانتے کہ اس نے ان کے متعلق کچھ کلام کیا ہو، ۳- معاویہ بن صالح سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے، ۴- بعضوں نے یہ حدیث عبدالرحمٰن بن جبیر بن نفیر سے، عبدالرحمٰن نے اپنے والد جبیر سے، جبیر نے عوف بن مالک سے اور عوف بن مالک نے بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا عبد الله بن صالح، حدثني معاوية بن صالح، عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير، عن ابيه، جبير بن نفير عن ابي الدرداء، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فشخص ببصره الى السماء ثم قال " هذا اوان يختلس العلم من الناس حتى لا يقدروا منه على شيء " . فقال زياد بن لبيد الانصاري كيف يختلس منا وقد قرانا القران فوالله لنقرانه ولنقرينه نساءنا وابناءنا . فقال " ثكلتك امك يا زياد ان كنت لاعدك من فقهاء اهل المدينة هذه التوراة والانجيل عند اليهود والنصارى فماذا تغني عنهم " . قال جبير فلقيت عبادة بن الصامت قلت الا تسمع الى ما يقول اخوك ابو الدرداء فاخبرته بالذي قال ابو الدرداء قال صدق ابو الدرداء ان شيت لاحدثنك باول علم يرفع من الناس الخشوع يوشك ان تدخل مسجد جماعة فلا ترى فيه رجلا خاشعا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . ومعاوية بن صالح ثقة عند اهل الحديث ولا نعلم احدا تكلم فيه غير يحيى بن سعيد القطان وقد روي عن معاوية بن صالح نحو هذا . وروى بعضهم هذا الحديث عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير عن ابيه عن عوف بن مالك عن النبي صلى الله عليه وسلم
کعب بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص علم اس واسطے سیکھے کہ اس کے ذریعہ علماء کی برابری کرے ۱؎، کم علم اور بیوقوفوں سے بحث و تکرار کرے یا اس علم کے ذریعہ لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لے تو ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ جہنم میں داخل فرمائے گا ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- اسحاق بن یحییٰ بن طلحہ محدثین کے نزدیک کچھ بہت زیادہ قوی نہیں ہیں، ان کے حافظہ کے سلسلے میں کلام کیا گیا ہے۔
حدثنا ابو الاشعث، احمد بن المقدام العجلي البصري حدثنا امية بن خالد، حدثنا اسحاق بن يحيى بن طلحة، حدثني ابن كعب بن مالك، عن ابيه، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من طلب العلم ليجاري به العلماء او ليماري به السفهاء او يصرف به وجوه الناس اليه ادخله الله النار " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه . واسحاق بن يحيى بن طلحة ليس بذاك القوي عندهم تكلم فيه من قبل حفظه
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے علم کو غیر اللہ کے لیے سیکھا یا وہ اس علم کے ذریعہ اللہ کی رضا کے بجائے کچھ اور حاصل کرنا چاہتا ہے تو ایسا شخص اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے ایوب کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے۔
حدثنا علي بن نصر بن علي، حدثنا محمد بن عباد الهنايي، حدثنا علي بن المبارك، عن ايوب السختياني، عن خالد بن دريك، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من تعلم علما لغير الله او اراد به غير الله فليتبوا مقعده من النار " . وفي الباب عن جابر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه من حديث ايوب الا من هذا الوجه
ابان بن عثمان کہتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی الله عنہ دوپہر کے وقت مروان کے پاس سے نکلے ( لوٹے ) ، ہم نے کہا: مروان کو ان سے کوئی چیز پوچھنا ہو گی تبھی ان کو اس وقت بلا بھیجا ہو گا، پھر ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ہاں، انہوں نے ہم سے کئی چیزیں پوچھیں جسے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو مجھ سے کوئی حدیث سنے پھر اسے یاد رکھ کر اسے دوسروں کو پہنچا دے، کیونکہ بہت سے احکام شرعیہ کا علم رکھنے والے اس علم کو اس تک پہنچا دیتے ہیں جو اس سے زیادہ ذی علم اور عقلمند ہوتے ہیں۔ اور بہت سے شریعت کا علم رکھنے والے علم تو رکھتے ہیں، لیکن فقیہہ نہیں ہوتے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- زید بن ثابت کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، معاذ بن جبل، جبیر بن مطعم، ابو الدرداء اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، اخبرنا شعبة، اخبرنا عمر بن سليمان، من ولد عمر بن الخطاب قال سمعت عبد الرحمن بن ابان بن عثمان، يحدث عن ابيه، قال خرج زيد بن ثابت من عند مروان نصف النهار قلنا ما بعث اليه في هذه الساعة الا لشيء ساله عنه فقمنا فسالناه فقال نعم سالنا عن اشياء سمعناها من رسول الله صلى الله عليه وسلم سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " نضر الله امرا سمع منا حديثا فحفظه حتى يبلغه غيره فرب حامل فقه الى من هو افقه منه ورب حامل فقه ليس بفقيه " . وفي الباب عن عبد الله بن مسعود ومعاذ بن جبل وجبير بن مطعم وابي الدرداء وانس . قال ابو عيسى حديث زيد بن ثابت حديث حسن
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ اس شخص کو تروتازہ ( اور خوش ) رکھے جس نے مجھ سے کوئی بات سنی پھر اس نے اسے جیسا کچھ مجھ سے سنا تھا ہوبہو دوسروں تک پہنچا دیا کیونکہ بہت سے لوگ جنہیں بات ( حدیث ) پہنچائی جائے پہنچانے والے سے کہیں زیادہ بات کو توجہ سے سننے اور محفوظ رکھنے والے ہوتے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث کو عبدالملک بن عمیر نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ کے واسطہ سے بیان کیا۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، انبانا شعبة، عن سماك بن حرب، قال سمعت عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، يحدث عن ابيه، قال قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " نضر الله امرا سمع منا شييا فبلغه كما سمع فرب مبلغ اوعى من سامع " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد رواه عبد الملك بن عمير عن عبد الرحمن بن عبد الله
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات کو سنے اور توجہ سے سنے، اسے محفوظ رکھے اور دوسروں تک پہنچائے، کیونکہ بہت سے علم کی سمجھ رکھنے والے علم کو اس تک پہنچا دیتے ہیں جو ان سے زیادہ سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ تین چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے ایک مسلمان کا دل دھوکہ نہیں کھا سکتا، ( ۱ ) عمل خالص اللہ کے لیے ( ۲ ) مسلمانوں کے ائمہ کے ساتھ خیر خواہی ( ۳ ) اور مسلمانوں کی جماعت سے جڑ کر رہنا، کیونکہ دعوت ان کا چاروں طرف سے احاطہٰ کرتی ہے“۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن عبد الملك بن عمير، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، يحدث عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " نضر الله امرا سمع مقالتي فوعاها وحفظها وبلغها فرب حامل فقه الى من هو افقه منه . ثلاث لا يغل عليهن قلب مسلم اخلاص العمل لله ومناصحة ايمة المسلمين ولزوم جماعتهم فان الدعوة تحيط من ورايهم
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جان بوجھ کر میری طرف جھوٹ کی نسبت کی تو وہ جہنم میں اپنا ٹھکانا بنا لے“ ۱؎۔
حدثنا ابو هشام الرفاعي، حدثنا ابو بكر بن عياش، حدثنا عاصم، عن زر، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كذب على متعمدا فليتبوا مقعده من النار
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر جھوٹ نہ باندھو کیونکہ مجھ پر جھوٹ باندھنے والا جہنم میں داخل ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوبکر، عمر، عثمان، زبیر، سعید بن زید، عبداللہ بن عمرو، انس، جابر، ابن عباس، ابوسعید، عمرو بن عبسہ، عقبہ بن عامر، معاویہ، بریدہ، ابوموسیٰ، ابوامامہ، عبداللہ بن عمر، مقنع اور اوس ثقفی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا اسماعيل بن موسى الفزاري ابن بنت السدي، حدثنا شريك بن عبد الله، عن منصور بن المعتمر، عن ربعي بن حراش، عن علي بن ابي طالب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تكذبوا على فانه من كذب على يلج في النار " . وفي الباب عن ابي بكر وعمر وعثمان والزبير وسعيد بن زيد وعبد الله بن عمرو وانس وجابر وابن عباس وابي سعيد وعمرو بن عبسة وعقبة بن عامر ومعاوية وبريدة وابي موسى الغافقي وابي امامة وعبد الله بن عمر والمنقع واوس الثقفي . قال ابو عيسى حديث علي حديث حسن صحيح . قال عبد الرحمن بن مهدي منصور بن المعتمر اثبت اهل الكوفة . وقال وكيع لم يكذب ربعي بن حراش في الاسلام كذبة
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے میرے متعلق جھوٹی بات کہی“، ( انس کہتے ہیں ) میرا خیال ہے کہ آپ نے «من كذب علي» کے بعد «متعمدا» کا لفظ بھی کہا یعنی جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا، ”تو ایسے شخص کا ٹھکانا جہنم ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ یعنی زہری کی اس روایت سے جسے وہ انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں، ۲- یہ حدیث متعدد سندوں سے انس رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث بن سعد، عن ابن شهاب، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كذب على - حسبت انه قال متعمدا فليتبوا بيته من النار " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه من حديث الزهري عن انس . وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن انس عن النبي صلى الله عليه وسلم
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے میری طرف منسوب کر کے جان بوجھ کر کوئی جھوٹی حدیث بیان کی تو وہ دو جھوٹ بولنے والوں میں سے ایک ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ نے حکم سے، حکم نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے، عبدالرحمٰن نے سمرہ سے، اور سمرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی ہے، ۳- اعمش اور ابن ابی لیلیٰ نے حکم سے، حکم نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے، عبدالرحمٰن نے علی رضی الله عنہ سے اور علی رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، اور عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی حدیث جسے وہ سمرہ سے روایت کرتے ہیں، محدثین کے نزدیک زیادہ صحیح ہے، ۴- اس باب میں علی ابن ابی طالب اور سمرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۵- میں نے ابو محمد عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث «من حدث عني حديثا وهو يرى أنه كذب فهو أحد الكاذبين» کے متعلق پوچھا کہ اس سے مراد کیا ہے، میں نے ان سے کہا کیا یہ کہ جس نے کوئی حدیث بیان کی اور وہ جانتا ہے کہ اس کی اسناد میں کچھ خطا ( غلطی اور کمی ) ہے تو کیا یہ خوف و خطرہ محسوس کیا جائے کہ ایسا شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کی زد اور وعید میں آ گیا۔ یا اس سے مراد یہ ہے کہ لوگوں نے حدیث مرسل بیان کی تو انہیں میں سے کچھ لوگوں نے اس مرسل کو مرفوع کر دیا یا اس کی اسناد کو ہی الٹ پلٹ دیا تو یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کی زد میں آئیں گے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں۔ اس کا معنی ( و مطلب ) یہ ہے کہ جب کوئی شخص حدیث روایت کرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک اس حدیث کے مرفوع ہونے کی کوئی اصل ( وجہ و سبب ) نہ جانی جاتی ہو، اور وہ شخص اسے مرفوع کر کے بیان کر دے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا یا ایسا کیا ہے تو مجھے ڈر ہے کہ ایسا ہی شخص اس حدیث کا مصداق ہو گا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن حبيب بن ابي ثابت، عن ميمون بن ابي شبيب، عن المغيرة بن شعبة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من حدث عني حديثا وهو يرى انه كذب فهو احد الكاذبين " . وفي الباب عن علي بن ابي طالب وسمرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وروى شعبة عن الحكم عن عبد الرحمن بن ابي ليلى عن سمرة عن النبي صلى الله عليه وسلم هذا الحديث وروى الاعمش وابن ابي ليلى عن الحكم عن عبد الرحمن بن ابي ليلى عن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم وكان حديث عبد الرحمن بن ابي ليلى عن سمرة عند اهل الحديث اصح . قال سالت ابا محمد عبد الله بن عبد الرحمن عن حديث النبي صلى الله عليه وسلم " من حدث عني حديثا وهو يرى انه كذب فهو احد الكاذبين " . قلت له من روى حديثا وهو يعلم ان اسناده خطا ايخاف ان يكون قد دخل في حديث النبي صلى الله عليه وسلم او اذا روى الناس حديثا مرسلا فاسنده بعضهم او قلب اسناده يكون قد دخل في هذا الحديث . فقال لا انما معنى هذا الحديث اذا روى الرجل حديثا ولا يعرف لذلك الحديث عن النبي صلى الله عليه وسلم اصل فحدث به فاخاف ان يكون قد دخل في هذا الحديث
ابورافع رضی الله عنہ وغیرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم میں سے کسی کو ہرگز اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے آراستہ تخت پر ٹیک لگائے ہو اور اس کے پاس میرے امر یا نہی کی قسم کا کوئی حکم پہنچے تو وہ یہ کہے کہ میں کچھ نہیں جانتا، ہم نے تو اللہ کی کتاب میں جو چیز پائی اس کی پیروی کی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض راویوں نے سفیان سے، سفیان نے ابن منکدر سے اور ابن منکدر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو مرسلاً روایت کیا ہے۔ اور بعض نے یہ حدیث سالم ابوالنضر سے، سالم نے عبیداللہ بن ابورافع سے، عبیداللہ نے اپنے والد ابورافع سے اور ابورافع نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ ۳- ابن عیینہ جب اس حدیث کو علیحدہ بیان کرتے تھے تو محمد بن منکدر کی حدیث کو سالم بن نضر کی حدیث سے جدا جدا بیان کرتے تھے اور جب دونوں حدیثوں کو جمع کر دیتے تو اسی طرح روایت کرتے ( جیسا کہ اس حدیث میں ہے ) ۔ ۴- ابورافع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ہیں اور ان کا نام اسلم ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن محمد بن المنكدر، وسالم ابي النضر، عن عبيد الله بن ابي رافع، عن ابي رافع، وغيره، رفعه قال " لا الفين احدكم متكيا على اريكته ياتيه امر مما امرت به او نهيت عنه فيقول لا ادري ما وجدنا في كتاب الله اتبعناه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وروى بعضهم عن سفيان عن ابن المنكدر عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا وسالم ابي النضر عن عبيد الله بن ابي رافع عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم . وكان ابن عيينة اذا روى هذا الحديث على الانفراد بين حديث محمد بن المنكدر من حديث سالم ابي النضر واذا جمعهما روى هكذا . وابو رافع مولى النبي صلى الله عليه وسلم اسمه اسلم
مقدام بن معدیکرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار رہو! قریب ہے کہ کوئی آدمی اپنے آراستہ تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور وہ کہے: ہمارے اور تمہارے درمیان ( فیصلے کی چیز ) بس اللہ کی کتاب ہے۔ اس میں جو چیز ہم حلال پائیں گے پس اسی کو حلال سمجھیں گے، اور اس میں جو چیز حرام پائیں گے بس اسی کو ہم حرام جانیں گے، یاد رکھو! بلا شک و شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو چیز حرام قرار دے دی ہے وہ ویسے ہی حرام ہے جیسے کہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیز“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا معاوية بن صالح، عن الحسن بن جابر اللخمي، عن المقدام بن معديكرب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا هل عسى رجل يبلغه الحديث عني وهو متكي على اريكته فيقول بيننا وبينكم كتاب الله فما وجدنا فيه حلالا استحللناه وما وجدنا فيه حراما حرمناه وان ما حرم رسول الله صلى الله عليه وسلم كما حرم الله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه