احادیث
#2682
سنن ترمذی - Knowledge
قیس بن کثیر کہتے ہیں کہ ایک شخص مدینہ سے ابو الدرداء رضی الله عنہ کے پاس دمشق آیا، ابوالدرداء رضی الله عنہ نے اس سے کہا: میرے بھائی! تمہیں یہاں کیا چیز لے کر آئی ہے، اس نے کہا: مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث بیان کرتے ہیں، ابو الدرداء نے کہا: کیا تم کسی اور ضرورت سے تو نہیں آئے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: کیا تم تجارت کی غرض سے تو نہیں آئے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ میں تو صرف اس حدیث کی طلب و تلاش میں آیا ہوں، ابو الدرداء نے کہا: ( اچھا تو سنو ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص علم دین کی تلاش میں کسی راستہ پر چلے، تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ اسے جنت کے راستہ پر لگا دیتا ہے۔ بیشک فرشتے طالب ( علم ) کی خوشی کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں، اور عالم کے لیے آسمان و زمین کی ساری مخلوقات مغفرت طلب کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ پانی کے اندر کی مچھلیاں بھی، اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر، بیشک علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نے کسی کو دینار و درہم کا وارث نہیں بنایا، بلکہ انہوں نے علم کا وارث بنایا ہے۔ اس لیے جس نے اس علم کو حاصل کر لیا، اس نے ( علم نبوی اور وراثت نبوی سے ) پورا پورا حصہ لیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم عاصم بن رجاء بن حیوہ کی روایت کے سوا کسی اور طریقہ سے اس حدیث کو نہیں جانتے، اور اس حدیث کی سند میرے نزدیک متصل نہیں ہے۔ اسی طرح انہیں اسناد سے محمود بن خداش نے بھی ہم سے بیان کی ہے، ۲- یہ حدیث عاصم بن رجاء بن حیوہ نے بسند «داود بن جميل عن كثير بن قيس عن أبي الدرداء عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے۔ اور یہ حدیث محمود بن خداش کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، اور محمد بن اسماعیل بخاری کی رائے ہے کہ یہ زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن خداش البغدادي، حدثنا محمد بن يزيد الواسطي، حدثنا عاصم بن رجاء بن حيوة، عن قيس بن كثير، قال قدم رجل من المدينة على ابي الدرداء وهو بدمشق فقال ما اقدمك يا اخي فقال حديث بلغني انك تحدثه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال اما جيت لحاجة قال لا . قال اما قدمت لتجارة قال لا . قال ما جيت الا في طلب هذا الحديث قال فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من سلك طريقا يبتغي فيه علما سلك الله به طريقا الى الجنة وان الملايكة لتضع اجنحتها رضا لطالب العلم وان العالم ليستغفر له من في السموات ومن في الارض حتى الحيتان في الماء وفضل العالم على العابد كفضل القمر على ساير الكواكب ان العلماء ورثة الانبياء ان الانبياء لم يورثوا دينارا ولا درهما انما ورثوا العلم فمن اخذ به اخذ بحظ وافر " . قال ابو عيسى ولا نعرف هذا الحديث الا من حديث عاصم بن رجاء بن حيوة وليس هو عندي بمتصل هكذا حدثنا محمود بن خداش بهذا الاسناد . وانما يروى هذا الحديث عن عاصم بن رجاء بن حيوة عن الوليد بن جميل عن كثير بن قيس عن ابي الدرداء عن النبي صلى الله عليه وسلم وهذا اصح من حديث محمود بن خداش وراى محمد بن اسماعيل هذا اصح
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Knowledge
- Hadith Index
- #2682
- Book Index
- 38
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiDaif
