احادیث
#2680
سنن ترمذی - Knowledge
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے مرفوعاً روایت ہے ”عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ لوگ علم کی تلاش میں کثرت سے لمبے لمبے سفر طے کریں گے، لیکن ( کہیں بھی ) انہیں مدینہ کے عالم سے بڑا کوئی عالم نہ ملے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عیینہ سے مروی یہ حدیث حسن ہے، ۲- سفیان بن عیینہ سے اس بارے میں جب پوچھا گیا کہ عالم مدینہ کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: مالک بن انس ہیں، ۳- اسحاق بن موسیٰ کہتے ہیں: میں نے ابن عیینہ کو کہتے سنا کہ وہ ( یعنی عالم مدینہ ) عمری عبدالعزیز بن عبداللہ زاہد ہیں، ۴- میں نے یحییٰ بن موسیٰ کو کہتے ہوئے سنا عبدالرزاق کہتے تھے کہ وہ ( عالم مدینہ ) مالک بن انس ہیں، ۵- عمری یہ عبدالعزیز بن عبداللہ ہیں، اور یہ عمر بن خطاب کی اولاد میں سے ہیں۔
حدثنا الحسن بن الصباح البزار، واسحاق بن موسى الانصاري، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابن جريج، عن ابي الزبير، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، رواية " يوشك ان يضرب الناس، اكباد الابل يطلبون العلم فلا يجدون احدا اعلم من عالم المدينة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن وهو حديث ابن عيينة . وقد روي عن ابن عيينة انه قال في هذا سيل من عالم المدينة فقال انه مالك بن انس . وقال اسحاق بن موسى سمعت ابن عيينة يقول هو العمري عبد الله بن عبد العزيز الزاهد . وسمعت يحيى بن موسى يقول قال عبد الرزاق هو مالك بن انس . والعمري هو عبد الله بن عبد العزيز من ولد عمر بن الخطاب
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Knowledge
- Hadith Index
- #2680
- Book Index
- 36
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirDaif
- Al-AlbaniDaif
- Zubair Ali ZaiDaif
