Loading...

Loading...
کتب
۱۱۲ احادیث
معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ملحمہ عظمی ( بڑی لڑائی ) ، فتح قسطنطنیہ اور خروج دجال ( یہ تینوں واقعات ) سات مہینے کے اندر ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں صعب بن جثامہ، عبداللہ بن بسر، عبداللہ بن مسعود اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا الحكم بن المبارك، حدثنا الوليد بن مسلم، عن ابي بكر بن ابي مريم، عن الوليد بن سفيان، عن يزيد بن قطيب السكوني، عن ابي بحرية، صاحب معاذ عن معاذ بن جبل، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الملحمة العظمى وفتح القسطنطينية وخروج الدجال في سبعة اشهر " . قال ابو عيسى وفي الباب عن الصعب بن جثامة وعبد الله بن بسر وعبد الله بن مسعود وابي سعيد الخدري . وهذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قسطنطنیہ قیامت کے قریب فتح ہو گا۔ محمود بن غیلان کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، عن شعبة، عن يحيى بن سعيد، عن انس بن مالك، قال فتح القسطنطينية مع قيام الساعة . قال هذا حديث غريب . والقسطنطينية هي مدينة الروم تفتح عند خروج الدجال والقسطنطينية قد فتحت في زمان بعض اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم
نواس بن سمعان کلابی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صبح دجال کا ذکر کیا، تو آپ نے ( اس کی حقارت اور اس کے فتنے کی سنگینی بیان کرتے ہوئے دوران گفتگو ) آواز کو بلند اور پست کیا ۱؎ حتیٰ کہ ہم نے گمان کیا کہ وہ ( مدینہ کی ) کھجوروں کے جھنڈ میں ہے، پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے واپس آ گئے، ( جب بعد میں ) پھر آپ کے پاس گئے تو آپ نے ہم پر دجال کے خوف کا اثر جان لیا اور فرمایا: ”کیا معاملہ ہے؟“ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے صبح دجال کا ذکر کرتے ہوئے ( اس کی حقارت اور سنگینی بیان کرتے ہوئے ) اپنی آواز کو بلند اور پست کیا یہاں تک کہ ہمیں گمان ہونے لگا کہ وہ کھجوروں کے درمیان ہے۔ آپ نے فرمایا: ”دجال کے علاوہ دوسری چیزوں سے میں تم پر زیادہ ڈرتا ہوں، اگر وہ نکلے اور میں تمہارے بیچ موجود ہوں تو میں تمہاری جگہ خود اس سے نمٹ لوں گا، اور اگر وہ نکلے اور میں تمہارے بیچ موجود نہ رہوں تو ہر آدمی خود اپنے نفس کا دفاع کرے گا، اور اللہ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ ( جانشیں ) ہے ۲؎، دجال گھونگھریالے بالوں والا جوان ہو گا، اس کی ایک آنکھ انگور کی طرح ابھری ہوئی ہو گی تو ان میں اسے عبدالعزیٰ بن قطن سے تشبیہ دیتا ہوں، پس تم میں سے جو شخص اسے پا لے اسے چاہیئے کہ وہ سورۃ الکہف کی ابتدائی آیات پڑھے، وہ شام اور عراق کے درمیان سے نکلے گا اور دائیں بائیں فساد پھیلائے گا، اللہ کے بندو! ثابت قدم رہنا“۔ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! روئے زمین پر ٹھہرنے کی اس کی مدت کیا ہو گی؟ آپ نے فرمایا: ”چالیس دن، ایک دن ایک سال کے برابر ہو گا، ایک دن ایک مہینہ کے برابر ہو گا، ایک دن ہفتہ کے برابر ہو گا اور باقی دن تمہارے دنوں کی طرح ہوں گے“، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بتائیے وہ ایک دن جو ایک سال کے برابر ہو گا کیا اس میں ایک دن کی نماز کافی ہو گی؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں بلکہ اس کا اندازہ کر کے پڑھنا“۔ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! زمین میں وہ کتنی تیزی سے اپنا کام کرے گا؟ آپ نے فرمایا: ”اس بارش کی طرح کہ جس کے پیچھے ہوا لگی ہوتی ہے ( اور وہ بارش کو نہایت تیزی سے پورے علاقے میں پھیلا دیتی ہے ) ، وہ کچھ لوگوں کے پاس آئے گا، انہیں دعوت دے گا تو وہ اس کو جھٹلائیں گے اور اس کی بات رد کر دیں گے، لہٰذا وہ ان کے پاس سے چلا جائے گا مگر اس کے پیچھے پیچھے ان ( انکار کرنے والوں ) کے مال بھی چلے جائیں گے، ان کا حال یہ ہو گا کہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں رہے، پھر وہ کچھ دوسرے لوگوں کے پاس جائے گا، انہیں دعوت دے گا، اور اس کی دعوت قبول کریں گے اور اس کی تصدیق کریں گے، تب وہ آسمان کو بارش برسانے کا حکم دے گا۔ آسمان بارش برسائے گا، وہ زمین کو غلہ اگانے کا حکم دے گا، زمین غلہ اگائے گی، ان کے چرنے والے جانور شام کو جب ( چراگاہ سے ) واپس آئیں گے، تو ان کے کوہان پہلے سے کہیں زیادہ لمبے ہوں گے، ان کی کوکھیں زیادہ کشادہ ہوں گی اور ان کے تھن کامل طور پر ( دودھ سے ) بھرے ہوں گے، پھر وہ کسی ویران جگہ میں آئے گا اور اس سے کہے گا: اپنا خزانہ نکال، پھر وہاں سے واپس ہو گا تو اس زمین کے خزانے شہد کی مکھیوں کے سرداروں کی طرح اس کے پیچھے لگ جائیں گے، پھر وہ ایک بھرپور اور مکمل جوان کو بلائے گا اور تلوار سے مار کر اس کے دو ٹکڑے کر دے گا۔ پھر اسے بلائے گا اور وہ روشن چہرے کے ساتھ ہنستا ہوا آ جائے گا، پس دجال اسی حالت میں ہو گا کہ اسی دوران عیسیٰ بن مریم علیہما السلام دمشق کی مشرقی جانب سفید مینار پر زرد کپڑوں میں ملبوس دو فرشتوں کے بازو پر ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے، جب وہ اپنا سر جھکائیں گے تو پانی ٹپکے گا اور جب اٹھائیں گے تو اس سے موتی کی طرح چاندی کی بوندیں گریں گی، ان کی سانس کی بھاپ جس کافر کو بھی پہنچے گی وہ مر جائے گا اور ان کی سانس کی بھاپ ان کی حد نگاہ تک محسوس کی جائے گی، وہ دجال کو ڈھونڈیں گے یہاں تک کہ اسے باب لد ۳؎ کے پاس پا لیں گے اور اسے قتل کر دیں گے۔ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ جتنا چاہے گا عیسیٰ علیہ السلام ٹھہریں گے، پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس وحی بھیجے گا کہ میرے بندوں کو طور کی طرف لے جاؤ، اس لیے کہ میں نے کچھ ایسے بندے اتارے ہیں جن سے لڑنے کی کسی میں تاب نہیں ہے، ”اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو بھیجے گا اور وہ ویسے ہی ہوں گے جیسا اللہ تعالیٰ نے کہا ہے: «من كل حدب ينسلون» ”ہر بلندی سے پھیل پڑیں گے“ ( الأنبياء: ۹۶ ) ان کا پہلا گروہ ( شام کی ) بحیرہ طبریہ ( نامی جھیل ) سے گزرے گا اور اس کا تمام پانی پی جائے گا، پھر اس سے ان کا دوسرا گروہ گزرے گا تو کہے گا: اس میں کبھی پانی تھا ہی نہیں، پھر وہ لوگ چلتے رہیں گے یہاں تک کہ جبل بیت المقدس تک پہنچیں گے تو کہیں گے: ہم نے زمین والوں کو قتل کر دیا اب آؤ آسمان والوں کو قتل کریں، چنانچہ وہ لوگ آسمان کی طرف اپنے تیر چلائیں گے چنانچہ اللہ تعالیٰ ان کو خون سے سرخ کر کے ان کے پاس واپس کر دے گا، ( اس عرصے میں ) عیسیٰ بن مریم علیہما السلام اور ان کے ساتھی گھرے رہیں گے، یہاں تک کہ ( شدید قحط سالی کی وجہ سے ) اس وقت بیل کی ایک سری ان کے لیے تمہارے سو دینار سے بہتر معلوم ہو گی ( چیزیں اس قدر مہنگی ہوں گی ) ، پھر عیسیٰ بن مریم اور ان کے ساتھی اللہ کی طرف متوجہ ہوں گے، تو اللہ تعالیٰ یاجوج و ماجوج کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کر دے گا، جس سے وہ سب دفعتاً ایک جان کی طرح مر جائیں گے، عیسیٰ اور ان کے ساتھی ( پہاڑ سے ) اتریں گے تو ایک بالشت بھی ایسی جگہ نہ ہو گی جو ان کی لاشوں کی گندگی، سخت بدبو اور خون سے بھری ہوئی نہ ہو، پھر عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ کی طرف متوجہ ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ایسے بڑے پرندوں کو بھیجے گا جن کی گردنیں بختی اونٹوں کی گردنوں کی طرح ہوں گی، وہ لاشوں کو اٹھا کر گڈھوں میں پھینک دیں گے، مسلمان ان کے کمان، تیر اور ترکش سے سات سال تک ایندھن جلائیں گے ۴؎۔ پھر اللہ تعالیٰ ان پر ایسی بارش برسائے گا جسے کوئی کچا اور پکا گھر نہیں روک پائے گا، یہ بارش زمین کو دھو دے گی اور اسے آئینہ کی طرح صاف شفاف کر دے گی، پھر زمین سے کہا جائے گا: اپنا پھل نکال اور اپنی برکت واپس لا، چنانچہ اس وقت ایک انار ایک جماعت کے لیے کافی ہو گا، اس کے چھلکے سے یہ جماعت سایہ حاصل کرے گی، اور دودھ میں ایسی برکت ہو گی کہ لوگوں کی ایک بڑی جماعت کے لیے ایک دودھ دینے والی اونٹنی کافی ہو گی، اور دودھ دینے والی ایک گائے لوگوں کے ایک قبیلے کو کافی ہو گی اور دودھ دینے والی ایک بکری لوگوں میں سے ایک گھرانے کو کافی ہو گی، لوگ اسی حال میں ( کئی سالوں تک ) رہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہوا بھیجے گا جو سارے مومنوں کی روح قبض کر لے گی اور باقی لوگ گدھوں کی طرح کھلے عام زنا کریں گے، پھر انہیں لوگوں پر قیامت ہو گی“ ۵؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف عبدالرحمٰن یزید بن جابر کی روایت سے جانتے ہیں۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”سنو! تمہارا رب کانا نہیں ہے جب کہ دجال کانا ہے، اس کی داہنی آنکھ انگور کی طرح ابھری ہوئی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث عبداللہ بن عمر کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں سعد، حذیفہ، ابوہریرہ، اسماء، جابر بن عبداللہ، ابوبکرہ، عائشہ، انس، ابن عباس اور فلتان بن عاصم رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى الصنعاني، حدثنا المعتمر بن سليمان، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه سيل عن الدجال فقال " الا ان ربكم ليس باعور الا وانه اعور عينه اليمنى كانها عنبة طافية " . قال وفي الباب عن سعد وحذيفة وابي هريرة واسماء وجابر بن عبد الله وابي بكرة وعايشة وانس وابن عباس والفلتان بن عاصم . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح غريب من حديث عبيد الله بن عمر
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال مدینہ ( کے قریب ) آئے گا تو فرشتوں کو اس کی نگرانی کرتے ہوئے پائے گا، اللہ نے چاہا تو اس میں دجال اور طاعون نہیں داخل ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، فاطمہ بنت قیس، اسامہ بن زید، سمرہ بن جندب اور محجن رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا عبدة بن عبد الله الخزاعي البصري، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا شعبة، عن قتادة، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ياتي الدجال المدينة فيجد الملايكة يحرسونها فلا يدخلها الطاعون ولا الدجال ان شاء الله " . قال وفي الباب عن ابي هريرة وفاطمة بنت قيس واسامة بن زيد وسمرة بن جندب ومحجن . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان یمن کی طرف سے نکلا ہے اور کفر مشرق ( پورب ) کی طرف سے، سکون و اطمینان والی زندگی بکری والوں کی ہے، اور فخر و ریاکاری فدادین یعنی گھوڑے اور اونٹ والوں میں ہے، جب مسیح دجال احد کے پیچھے آئے گا تو فرشتے اس کا رخ شام کی طرف پھیر دیں گے اور شام ہی میں وہ ہلاک ہو جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الايمان يمان والكفر من قبل المشرق والسكينة لاهل الغنم والفخر والرياء في الفدادين اهل الخيل واهل الوبر ياتي المسيح اذا جاء دبر احد صرفت الملايكة وجهه قبل الشام وهنالك يهلك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
مجمع بن جاریہ انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”ابن مریم علیہما السلام دجال کو باب لد کے پاس قتل کریں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمران بن حصین، نافع بن عتبہ، ابوبرزہ، حذیفہ بن اسید، ابوہریرہ، کیسان، عثمان، جابر، ابوامامہ، ابن مسعود، عبداللہ بن عمرو، سمرہ بن جندب، نواس بن سمعان، عمرو بن عوف اور حذیفہ بن یمان رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، انه سمع عبيد الله بن عبد الله بن ثعلبة الانصاري، يحدث عن عبد الرحمن بن يزيد الانصاري، من بني عمرو بن عوف يقول سمعت عمي، مجمع بن جارية الانصاري يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " يقتل ابن مريم الدجال بباب لد " . قال وفي الباب عن عمران بن حصين ونافع بن عتبة وابي برزة وحذيفة بن اسيد وابي هريرة وكيسان وعثمان بن ابي العاصي وجابر وابي امامة وابن مسعود وعبد الله بن عمرو وسمرة بن جندب والنواس بن سمعان وعمرو بن عوف وحذيفة بن اليمان . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی نبی ایسا نہیں تھا جس نے اپنی امت کو کانے اور جھوٹے ( دجال ) سے نہ ڈرایا ہو، سنو! وہ کانا ہے، جب کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے، اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ ” «ک»، «ف»، «ر» “ لکھا ہوا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن قتادة، قال سمعت انسا، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من نبي الا وقد انذر امته الاعور الكذاب الا انه اعور وان ربكم ليس باعور مكتوب بين عينيه ك ف ر " . هذا حديث حسن صحيح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حج یا عمرہ میں ابن صائد ( ابن صیاد ) میرے ساتھ تھا، لوگ آگے چلے گئے اور ہم دونوں پیچھے رہ گئے، جب میں اس کے ساتھ اکیلے رہ گیا تو لوگ اس کے بارے میں جو کہتے تھے اس کی وجہ سے میرے رونگٹے کھڑے ہونے لگے اور اس سے مجھے خوف محسوس ہونے لگا، چنانچہ جب میں سواری سے اترا تو اس سے کہا: اس درخت کے پاس اپنا سامان رکھ دو، پھر اس نے کچھ بکریوں کو دیکھا تو پیالہ لیا اور جا کر دودھ نکال لایا، پھر میرے پاس دودھ لے آیا اور مجھ سے کہا: ابوسعید! پیو، لیکن میں نے اس کے ہاتھ کا کچھ بھی پینا پسند نہیں کیا، اس وجہ سے جو لوگ اس کے بارے میں کچھ کہتے تھے ( یعنی دجال ہے ) چنانچہ میں نے اس سے کہا: آج کا دن سخت گرمی کا ہے اس لیے میں آج دودھ پینا بہتر نہیں سمجھتا، اس نے کہا: ابوسعید! میں نے ارادہ کیا ہے کہ ایک رسی سے اپنے آپ کو اس درخت سے باندھ لوں اور گلا گھونٹ کر مر جاؤں یہ اس وجہ سے کہ لوگ جو میرے بارے میں کہتے ہیں، بدگمانی کرتے ہیں، آپ بتائیے لوگوں سے میری باتیں بھلے ہی چھپی ہوں مگر آپ سے تو نہیں چھپی ہیں؟ انصار کی جماعت! کیا آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے سب سے بڑے جانکار نہیں ہیں؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دجال کے بارے میں ) یہ نہیں فرمایا ہے کہ وہ کافر ہے؟ جب کہ میں مسلمان ہوں، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ بانجھ ہے؟ اس کی اولاد نہیں ہو گی، جب کہ میں نے مدینہ میں اپنی اولاد چھوڑی ہے، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ مدینہ اور مکہ میں داخل نہیں ہو گا؟ کیا میں مدینہ کا نہیں ہوں؟ اور اب آپ کے ساتھ چل کر مکہ جا رہا ہوں، ابو سعید خدری کہتے ہیں: اللہ کی قسم! وہ ایسی ہی دلیلیں پیش کرتا رہا یہاں تک کہ میں کہنے لگا: شاید لوگ اس کے متعلق جھوٹ بولتے ہیں، پھر اس نے کہا: ابوسعید! اللہ کی قسم! اس کے بارے میں آپ کو سچی بات بتاؤں؟ اللہ کی قسم! میں دجال کو جانتا ہوں، اس کے باپ کو جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ اس وقت زمین کے کس خطہٰ میں ہے تب میں نے کہا: تمہارے لیے تمام دن تباہی ہو ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا عبد الاعلى بن عبد الاعلى، عن الجريري، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، قال صحبني ابن صايد اما حجاجا واما معتمرين فانطلق الناس وتركت انا وهو فلما خلصت به اقشعررت منه واستوحشت منه مما يقول الناس فيه فلما نزلت قلت له ضع متاعك حيث تلك الشجرة . قال فابصر غنما فاخذ القدح فانطلق فاستحلب ثم اتاني بلبن فقال لي يا ابا سعيد اشرب . فكرهت ان اشرب من يده شييا لما يقول الناس فيه فقلت له هذا اليوم يوم صايف واني اكره فيه اللبن . قال لي يا ابا سعيد هممت ان اخذ حبلا فاوثقه الى شجرة ثم اختنق لما يقول الناس لي وفي ارايت من خفي عليه حديثي فلن يخفى عليكم الستم اعلم الناس بحديث رسول الله صلى الله عليه وسلم يا معشر الانصار الم يقل رسول الله صلى الله عليه وسلم انه كافر وانا مسلم الم يقل رسول الله صلى الله عليه وسلم انه عقيم لا يولد له وقد خلفت ولدي بالمدينة الم يقل رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يدخل او لا تحل له مكة والمدينة الست من اهل المدينة وهو ذا انطلق معك الى مكة . فوالله ما زال يجيء بهذا حتى قلت فلعله مكذوب عليه ثم قال يا ابا سعيد والله لاخبرنك خبرا حقا والله اني لاعرفه واعرف والده واعرف اين هو الساعة من الارض . فقلت تبا لك ساير اليوم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابن صائد سے مدینہ کے کسی راستہ میں ملے، آپ نے اسے پکڑ لیا، وہ ایک یہودی لڑکا تھا، اس کے سر پر ایک چوٹی تھی، اس وقت آپ کے ساتھ ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما بھی تھے، آپ نے فرمایا: ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“، اس نے کہا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لایا ہوں“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم کیا دیکھتے ہو؟“ ۱؎ اس نے کہا: پانی کے اوپر ایک عرش دیکھتا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سمندر کے اوپر ابلیس کا عرش دیکھتے ہو“، آپ نے فرمایا: ”اور بھی کچھ دیکھتے ہو؟“ اس نے کہا: ایک سچا اور دو جھوٹے یا دو جھوٹے اور ایک سچے کو دیکھتا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر معاملہ مشتبہ ہو گیا ہے“، پھر آپ نے اسے چھوڑ دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عمر، حسین بن علی، ابن عمر، ابوذر، ابن مسعود، جابر اور حفصہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا عبد الاعلى، عن الجريري، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، قال لقي رسول الله صلى الله عليه وسلم ابن صايد في بعض طرق المدينة فاحتبسه وهو غلام يهودي وله ذوابة ومعه ابو بكر وعمر فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " اتشهد اني رسول الله " . فقال اتشهد انت اني رسول الله فقال النبي صلى الله عليه وسلم " امنت بالله وملايكته وكتبه ورسله واليوم الاخر " . قال له النبي صلى الله عليه وسلم " ما ترى " . قال ارى عرشا فوق الماء . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ترى عرش ابليس فوق البحر . قال " فما ترى " . قال ارى صادقا وكاذبين او صادقين وكاذبا . قال النبي صلى الله عليه وسلم " لبس عليه " . فدعاه قال وفي الباب عن عمر وحسين بن علي وابن عمر وابي ذر وابن مسعود وجابر وحفصة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال کے باپ اور ماں تیس سال تک اس حال میں رہیں گے کہ ان کے ہاں کوئی لڑکا پیدا نہیں ہو گا، پھر ایک کانا لڑکا پیدا ہو گا جس میں نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہو گا، اس کی آنکھیں سوئیں گی مگر دل نہیں سوئے گا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے والدین کا حلیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”اس کا باپ دراز قد اور دبلا ہو گا اور اس کی ناک چونچ کی طرح ہو گی، اس کی ماں بھاری بھر کم اور لمبے ہاتھ والی ہو گی“، ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہم نے مدینہ کے اندر یہود میں ایک ایسے ہی لڑکے کے بارے میں سنا، چنانچہ میں اور زبیر بن عوام چلے یہاں تک کہ اس کے والدین کے پاس گئے تو وہ ویسے ہی تھے، جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا، ہم نے پوچھا: کیا تمہارا کوئی لڑکا ہے؟ انہوں نے کہا: ہمارے ہاں تیس سال تک کوئی لڑکا پیدا نہیں ہوا، پھر ہم سے ایک لڑکا پیدا ہوا جس میں نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہے، اس کی آنکھیں سوتی ہیں مگر اس کا دل نہیں سوتا، ہم ان کے پاس سے نکلے تو وہ لڑکا دھوپ میں ایک موٹی چادر پر لیٹا تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا، پھر اس نے اپنے سر سے کپڑے ہٹایا اور پوچھا: تم دونوں نے کیا کہا ہے؟ ہم نے کہا: ہم نے جو کہا ہے کیا تم نے اسے سن لیا؟ اس نے کہا: ہاں، میری آنکھیں سوتی ہیں، مگر دل نہیں سوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف حماد بن سلمہ کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا عبد الله بن معاوية الجمحي، حدثنا حماد بن سلمة، عن علي بن زيد، عن عبد الرحمن بن ابي بكرة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يمكث ابو الدجال وامه ثلاثين عاما لا يولد لهما ولد ثم يولد لهما غلام اعور اضر شيء واقله منفعة تنام عيناه ولا ينام قلبه " . ثم نعت لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ابويه فقال " ابوه طوال ضرب اللحم كان انفه منقار وامه امراة فرضاخية طويلة اليدين " . فقال ابو بكرة فسمعنا بمولود في اليهود بالمدينة فذهبت انا والزبير بن العوام حتى دخلنا على ابويه فاذا نعت رسول الله صلى الله عليه وسلم فيهما فقلنا هل لكما ولد فقالا مكثنا ثلاثين عاما لا يولد لنا ولد ثم ولد لنا غلام اعور اضر شيء واقله منفعة تنام عيناه ولا ينام قلبه . قال فخرجنا من عندهما فاذا هو منجدل في الشمس في قطيفة له وله همهمة فكشف عن راسه فقال ما قلتما قلنا وهل سمعت ما قلنا قال نعم تنام عيناى ولا ينام قلبي . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث حماد بن سلمة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ جس میں عمر بن خطاب بھی تھے ابن صیاد کے پاس سے گزرے، اس وقت وہ بچوں کے ساتھ بنی مغالہ کے ٹیلوں کے پاس کھیل رہا تھا، وہ ایک چھوٹا بچہ تھا اس لیے اسے آپ کی آمد کا احساس اس وقت تک نہ ہو سکا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس کی پیٹھ پر مارا، پھر فرمایا: ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ ابن صیاد نے آپ کی طرف دیکھ کر کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے رسول ہیں، پھر ابن صیاد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ہوں“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تمہارے پاس ( غیب کی ) کون سی چیز آتی ہے؟“ ابن صیاد نے کہا: میرے پاس ایک سچا اور ایک جھوٹا آتا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے اوپر تیرا معاملہ مشتبہ ہو گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے لیے ( دل میں ) ایک بات چھپاتا ہوں“ اور آپ نے آیت: «يوم تأتي السماء بدخان مبين» ۱؎ چھپا لی، ابن صیاد نے کہا: وہ ( چھپی ہوئی چیز ) «دخ» ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھٹکار ہو تجھ پر تو اپنی حد سے آگے نہیں بڑھ سکے گا“، عمر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئیے میں اس کی گردن اڑا دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ حقیقی دجال ہے تو تم اس پر غالب نہیں آ سکتے اور اگر وہ نہیں ہے تو اسے قتل کرنے میں کوئی بھلائی نہیں ہے“۔ عبدالرزاق کہتے ہیں: «حقا» سے آپ کی مراد دجال ہے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، اخبرنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر بابن صياد في نفر من اصحابه فيهم عمر بن الخطاب وهو يلعب مع الغلمان عند اطم بني مغالة وهو غلام فلم يشعر حتى ضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم ظهره بيده ثم قال " اتشهد اني رسول الله " . فنظر اليه ابن صياد فقال اشهد انك رسول الاميين . ثم قال ابن صياد للنبي صلى الله عليه وسلم اتشهد انت اني رسول الله فقال النبي صلى الله عليه وسلم " امنت بالله وبرسله " . ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم " ما ياتيك " . قال ابن صياد ياتيني صادق وكاذب . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " خلط عليك الامر " . ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني خبات لك خبييا " . وخبا له : (يوم تاتي السماء بدخان مبين ) فقال ابن صياد هو الدخ . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اخسا فلن تعدو قدرك " . قال عمر يا رسول الله ايذن لي فاضرب عنقه . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان يك حقا فلن تسلط عليه وان لا يكنه فلا خير لك في قتله " . قال عبد الرزاق يعني الدجال . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج روئے زمین پر جو بھی زندہ ہے سو سال بعد نہیں رہے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، ابو سعید خدری اور بریدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما على الارض نفس منفوسة - يعني اليوم تاتي عليها ماية سنة " . قال وفي الباب عن ابن عمر وابي سعيد وبريدة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخری عمر میں ایک رات ہمیں عشاء پڑھائی، جب آپ سلام پھیر چکے تو کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”کیا تم نے اپنی اس رات کو دیکھا اس وقت جتنے بھی آدمی اس روئے زمین پر ہیں سو سال گزر جانے کے بعد ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا“۔ ابن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں: یہ سن کر لوگ مغالطے میں پڑ گئے کہ یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی حدیث بیان کرتے ہیں کہ سو سال کے بعد قیامت آ جائے گی، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ جو آج باقی ہیں ان میں سے کوئی روئے زمین پر باقی نہیں رہے گا، یعنی اس نسل اور قرن کے لوگ ختم ہو جائیں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، اخبرنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سالم بن عبد الله، وابي، بكر بن سليمان وهو ابن ابي حثمة ان عبد الله بن عمر، قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات ليلة صلاة العشاء في اخر حياته فلما سلم قال " ارايتكم ليلتكم هذه على راس ماية سنة منها لا يبقى ممن هو على ظهر الارض احد " . قال ابن عمر فوهل الناس في مقالة رسول الله صلى الله عليه وسلم تلك فيما يتحدثونه من هذه الاحاديث عن ماية سنة وانما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يبقى ممن هو اليوم على ظهر الارض احد " . يريد بذلك ان ينخرم ذلك القرن . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہوا کو گالی مت دو، اگر اس میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھو تو یہ دعا پڑھو «اللهم إنا نسألك من خير هذه الريح وخير ما فيها وخير ما أمرت به ونعوذ بك من شر هذه الريح وشر ما فيها وشر ما أمرت به» ”یعنی اے اللہ! ہم تجھ سے اس ہوا کی بہتری مانگتے ہیں اور وہ بہتری جو اس میں ہے اور وہ بہتری جس کی یہ مامور ہے، اور تیری پناہ مانگتے ہیں اس ہوا کی شر سے اور اس شر سے جو اس میں ہے اور اس شر سے جس کی یہ مامور ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، ابوہریرہ، عثمان، انس، ابن عباس اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا اسحاق بن ابراهيم بن حبيب بن الشهيد البصري، حدثنا محمد بن فضيل، حدثنا الاعمش، عن حبيب بن ابي ثابت، عن ذر، عن سعيد بن عبد الرحمن بن ابزى، عن ابيه، عن ابى بن كعب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تسبوا الريح فاذا رايتم ما تكرهون فقولوا اللهم انا نسالك من خير هذه الريح وخير ما فيها وخير ما امرت به ونعوذ بك من شر هذه الريح وشر ما فيها وشر ما امرت به " . قال وفي الباب عن عايشة وابي هريرة وعثمان بن ابي العاصي وانس وابن عباس وجابر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے، ہنسے پھر فرمایا: ”تمیم داری نے مجھ سے ایک بات بیان کی ہے جس سے میں بےحد خوش ہوں اور چاہتا ہوں کہ تم سے بھی بیان کروں، انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ فلسطین کے کچھ لوگ سمندر میں ایک کشتی پر سوار ہوئے، وہ کشتی ( طوفان میں پڑنے کی وجہ سے ) کسی اور طرف چلی گئی حتیٰ کہ انہیں سمندر کے کسی جزیرہ میں ڈال دیا، اچانک ان لوگوں نے بہت کپڑے پہنے ایک رینگنے والی چیز کو دیکھا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، ان لوگوں نے پوچھا: تم کیا ہو؟ اس نے کہا: میں جساسہ ( جاسوسی کرنے والی ) ہوں، ان لوگوں نے کہا: ہمیں ( اپنے بارے میں ) بتاؤ، اس نے کہا: نہ میں تم لوگوں کو کچھ بتاؤں گی اور نہ ہی تم لوگوں سے کچھ پوچھوں گی، البتہ تم لوگ بستی کے آخر میں جاؤ وہاں ایک آدمی ہے، جو تم کو بتائے گا اور تم سے پوچھے گا، چنانچہ ہم لوگ بستی کے آخر میں آئے تو وہاں ایک آدمی زنجیر میں بندھا ہوا تھا اس نے کہا: مجھے زغر ( ملک شام کی ایک بستی کا نام ہے ) کے چشمہ کے بارے میں بتاؤ، ہم نے کہا: بھرا ہوا ہے اور چھلک رہا ہے، اس نے کہا: مجھے بیسان کی کھجوروں کے بارے میں بتاؤ جو اردن اور فلسطین کے درمیان ہے، کیا اس میں پھل آیا؟ ہم نے کہا: ہاں، اس نے کہا: مجھے نبی ( آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بارے میں بتاؤ کیا وہ مبعوث ہوئے؟ ہم نے کہا: ہاں، اس نے کہا: بتاؤ لوگ ان کی طرف کیسے جاتے ہیں؟ ہم نے کہا: تیزی سے، اس نے زور سے چھلانگ لگائی حتیٰ کہ آزاد ہونے کے قریب ہو گیا، ہم نے پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے کہا کہ وہ دجال ہے اور طیبہ کے علاوہ تمام شہروں میں داخل ہو گا، طیبہ سے مراد مدینہ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث شعبہ کے واسطہ سے قتادہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اسے کئی لوگوں نے شعبی کے واسطہ سے فاطمہ بنت قیس سے روایت کیا ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا معاذ بن هشام، حدثنا ابي، عن قتادة، عن الشعبي، عن فاطمة بنت قيس، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم صعد المنبر فضحك فقال " ان تميما الداري حدثني بحديث ففرحت فاحببت ان احدثكم حدثني ان ناسا من اهل فلسطين ركبوا سفينة في البحر فجالت بهم حتى قذفتهم في جزيرة من جزاير البحر فاذا هم بدابة لباسة ناشرة شعرها فقالوا ما انت قالت انا الجساسة . قالوا فاخبرينا . قالت لا اخبركم ولا استخبركم ولكن ايتوا اقصى القرية فان ثم من يخبركم ويستخبركم . فاتينا اقصى القرية فاذا رجل موثق بسلسلة فقال اخبروني عن عين زغر . قلنا ملاى تدفق . قال اخبروني عن البحيرة قلنا ملاى تدفق . قال اخبروني عن نخل بيسان الذي بين الاردن وفلسطين هل اطعم قلنا نعم . قال اخبروني عن النبي هل بعث قلنا نعم . قال اخبروني كيف الناس اليه قلنا سراع . قال فنز نزوة حتى كاد . قلنا فما انت قال انه الدجال وانه يدخل الامصار كلها الا طيبة . وطيبة المدينة " . قال ابو عيسى وهذا حديث صحيح غريب من حديث قتادة عن الشعبي وقد رواه غير واحد عن الشعبي عن فاطمة بنت قيس
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے نفس کو ذلیل کرے“، صحابہ نے عرض کیا: اپنے نفس کو کیسے ذلیل کرے گا؟ آپ نے فرمایا: ”اپنے آپ کو ایسی مصیبت سے دو چار کرے جسے جھیلنے کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عمرو بن عاصم، حدثنا حماد بن سلمة، عن علي بن زيد، عن الحسن، عن جندب، عن حذيفة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا ينبغي للمومن ان يذل نفسه " . قالوا وكيف يذل نفسه . قال " يتعرض من البلاء لما لا يطيق " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم“، صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے مظلوم ہونے کی صورت میں تو اس کی مدد کی لیکن ظالم ہونے کی صورت میں اس کی مدد کیسے کروں؟ آپ نے فرمایا: ”اسے ظلم سے باز رکھو، اس کے لیے یہی تمہاری مدد ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن حاتم المكتب، حدثنا محمد بن عبد الله الانصاري، حدثنا حميد الطويل، عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " انصر اخاك ظالما او مظلوما " . قلنا يا رسول الله نصرته مظلوما فكيف انصره ظالما قال " تكفه عن الظلم فذاك نصرك اياه " . قال وفي الباب عن عايشة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بادیہ ( صحراء و بیابان ) کی سکونت اختیار کی وہ سخت طبیعت والا ہو گیا، جس نے شکار کا پیچھا کیا وہ غافل ہو گیا اور جو بادشاہ کے دروازے پر آیا وہ فتنوں کا شکار ہو گیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابن عباس رضی الله عنہما کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف ثوری کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن ابي موسى، عن وهب بن منبه، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من سكن البادية جفا ومن اتبع الصيد غفل ومن اتى ابواب السلاطين افتتن " . قال وفي الباب عن ابي هريرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من حديث ابن عباس لا نعرفه الا من حديث الثوري
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ( دشمنوں پر ) تمہاری مدد کی جائے گی، تمہیں مال و دولت ملے گی اور تمہارے لیے قلعے کے دروازے کھولے جائیں گے، پس تم میں سے جو شخص ایسا وقت پائے اسے چاہیئے کہ وہ اللہ سے ڈرے، بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے اور جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے تو اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، انبانا شعبة، عن سماك بن حرب، قال سمعت عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، يحدث عن ابيه، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " انكم منصورون ومصيبون ومفتوح لكم فمن ادرك ذلك منكم فليتق الله وليامر بالمعروف ولينه عن المنكر ومن كذب على متعمدا فليتبوا مقعده من النار " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا الوليد بن مسلم، وعبد الله بن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، دخل حديث احدهما في حديث الاخر عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر عن يحيى بن جابر الطايي عن عبد الرحمن بن جبير عن ابيه جبير بن نفير عن النواس بن سمعان الكلابي قال ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم الدجال ذات غداة فخفض فيه ورفع حتى ظنناه في طايفة النخل . قال فانصرفنا من عند رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم رجعنا اليه فعرف ذلك فينا فقال " ما شانكم " . قال قلنا يا رسول الله ذكرت الدجال الغداة فخفضت فيه ورفعت حتى ظنناه في طايفة النخل . قال " غير الدجال اخوف لي عليكم ان يخرج وانا فيكم فانا حجيجه دونكم وان يخرج ولست فيكم فامرو حجيج نفسه والله خليفتي على كل مسلم انه شاب قطط عينه قايمة شبيه بعبد العزى بن قطن فمن راه منكم فليقرا فواتح سورة اصحاب الكهف قال يخرج ما بين الشام والعراق فعاث يمينا وشمالا يا عباد الله اثبتوا " . قال قلنا يا رسول الله وما لبثه في الارض قال " اربعين يوما يوم كسنة ويوم كشهر ويوم كجمعة وساير ايامه كايامكم " . قال قلنا يا رسول الله ارايت اليوم الذي كالسنة اتكفينا فيه صلاة يوم قال " لا ولكن اقدروا له " . قال قلنا يا رسول الله فما سرعته في الارض قال " كالغيث استدبرته الريح فياتي القوم فيدعوهم فيكذبونه ويردون عليه قوله فينصرف عنهم فتتبعه اموالهم فيصبحون ليس بايديهم شيء ثم ياتي القوم فيدعوهم فيستجيبون له ويصدقونه فيامر السماء ان تمطر فتمطر ويامر الارض ان تنبت فتنبت فتروح عليهم سارحتهم كاطول ما كانت ذرى وامده خواصر وادره ضروعا قال ثم ياتي الخربة فيقول لها اخرجي كنوزك فينصرف منها فتتبعه كيعاسيب النحل ثم يدعو رجلا شابا ممتليا شبابا فيضربه بالسيف فيقطعه جزلتين ثم يدعوه فيقبل يتهلل وجهه يضحك فبينما هو كذلك اذ هبط عيسى ابن مريم عليه السلام بشرقي دمشق عند المنارة البيضاء بين مهرودتين واضعا يديه على اجنحة ملكين اذا طاطا راسه قطر واذا رفعه تحدر منه جمان كاللولو قال ولا يجد ريح نفسه يعني احد الا مات وريح نفسه منتهى بصره قال فيطلبه حتى يدركه بباب لد فيقتله قال فيلبث كذلك ما شاء الله . قال ثم يوحي الله اليه ان حرز عبادي الى الطور فاني قد انزلت عبادا لي لا يدان لاحد بقتالهم . قال ويبعث الله ياجوج وماجوج وهم كما قال الله: ( من كل حدب ينسلون ) . قال فيمر اولهم ببحيرة الطبرية فيشرب ما فيها ثم يمر بها اخرهم فيقول لقد كان بهذه مرة ماء ثم يسيرون حتى ينتهوا الى جبل بيت المقدس فيقولون لقد قتلنا من في الارض هلم فلنقتل من في السماء . فيرمون بنشابهم الى السماء فيرد الله عليهم نشابهم محمرا دما ويحاصر عيسى ابن مريم واصحابه حتى يكون راس الثور يوميذ خيرا لاحدهم من ماية دينار لاحدكم اليوم . قال فيرغب عيسى ابن مريم الى الله واصحابه قال فيرسل الله اليهم النغف في رقابهم فيصبحون فرسى موتى كموت نفس واحدة قال ويهبط عيسى واصحابه فلا يجد موضع شبر الا وقد ملاته زهمتهم ونتنهم ودماوهم قال فيرغب�� عيسى الى الله واصحابه قال فيرسل الله عليهم طيرا كاعناق البخت قال فتحملهم فتطرحهم بالمهبل ويستوقد المسلمون من قسيهم ونشابهم وجعابهم سبع سنين قال ويرسل الله عليهم مطرا لا يكن منه بيت وبر ولا مدر قال فيغسل الارض فيتركها كالزلفة قال ثم يقال للارض اخرجي ثمرتك وردي بركتك . فيوميذ تاكل العصابة من الرمانة ويستظلون بقحفها ويبارك في الرسل حتى ان الفيام من الناس ليكتفون باللقحة من الابل وان القبيلة ليكتفون باللقحة من البقر وان الفخذ ليكتفون باللقحة من الغنم فبينما هم كذلك اذ بعث الله ريحا فقبضت روح كل مومن ويبقى ساير الناس يتهارجون كما تتهارج الحمر فعليهم تقوم الساعة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب لا نعرفه الا من حديث عبد الرحمن بن يزيد بن جابر