Loading...

Loading...
کتب
۱۱۲ احادیث
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی الله عنہ نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنہ کے بارے میں جو فرمایا ہے اسے کس نے یاد رکھا ہے؟ حذیفہ رضی الله عنہ نے کہا: میں نے یاد رکھا ہے، حذیفہ رضی الله عنہ نے بیان کیا: ”آدمی کے لیے جو فتنہ اس کے اہل، مال، اولاد اور پڑوسی کے سلسلے میں ہو گا اسے نماز، روزہ، زکاۃ، امربالمعروف اور نہی عن المنکر مٹا دیتے ہیں“ ۱؎، عمر رضی الله عنہ نے کہا: میں تم سے اس کے بارے میں نہیں پوچھ رہا ہوں، بلکہ اس فتنہ کے بارے میں پوچھ رہا ہوں جو سمندر کی موجوں کی طرح موجیں مارے گا، انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! آپ کے اور اس فتنے کے درمیان ایک بند دروازہ ہے، عمر نے پوچھا: کیا وہ دروازہ کھولا جائے گا یا توڑ دیا جائے گا؟ انہوں نے کہا: توڑ دیا جائے گا، عمر رضی الله عنہ نے کہا: تب تو قیامت تک بند نہیں ہو گا۔ حماد کی روایت میں ہے کہ ابووائل شقیق بن سلمہ نے کہا: میں نے مسروق سے کہا کہ حذیفہ سے اس دروازہ کے بارے میں پوچھو انہوں نے پوچھا تو کہا: وہ دروازہ عمر ہیں ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، انبانا شعبة، عن الاعمش، وحماد، وعاصم بن بهدلة، سمعوا ابا وايل، عن حذيفة، قال قال عمر ايكم يحفظ ما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في الفتنة فقال حذيفة انا . قال حذيفة فتنة الرجل في اهله وماله وولده وجاره يكفرها الصلاة والصوم والصدقة والامر بالمعروف والنهى عن المنكر . فقال عمر لست عن هذا اسالك ولكن عن الفتنة التي تموج كموج البحر قال يا امير المومنين ان بينك وبينها بابا مغلقا . قال عمر ايفتح ام يكسر قال بل يكسر . قال اذا لا يغلق الى يوم القيامة . قال ابو وايل في حديث حماد فقلت لمسروق سل حذيفة عن الباب فساله فقال عمر . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلے اور ہم لوگ نو آدمی تھے، پانچ اور چار، ان میں سے کوئی ایک گنتی والے عرب اور دوسری گنتی والے عجم تھے ۱؎ آپ نے فرمایا: ”سنو: کیا تم لوگوں نے سنا؟ میرے بعد ایسے امراء ہوں گے جو ان کے پاس جائے ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے، وہ مجھ سے نہیں ہے اور نہ میں اس سے ہوں اور نہ وہ میرے حوض پر آئے گا، اور جو شخص ان کے پاس نہ جائے، ان کے ظلم پر ان کی مدد نہ کرے اور نہ ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق کرے، وہ مجھ سے ہے، اور میں اس سے ہوں اور وہ میرے حوض پر آئے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح غریب ہے، ۲- ہم اسے مسعر کی روایت سے اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا هارون بن اسحاق الهمداني، حدثني محمد بن عبد الوهاب، عن مسعر، عن ابي حصين، عن الشعبي، عن عاصم العدوي، عن كعب بن عجرة، قال خرج الينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن تسعة خمسة واربعة احد العددين من العرب والاخر من العجم فقال " اسمعوا هل سمعتم انه سيكون بعدي امراء فمن دخل عليهم فصدقهم بكذبهم واعانهم على ظلمهم فليس مني ولست منه وليس بوارد على الحوض ومن لم يدخل عليهم ولم يعنهم على ظلمهم ولم يصدقهم بكذبهم فهو مني وانا منه وهو وارد على الحوض " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح غريب لا نعرفه من حديث مسعر الا من هذا الوجه . قال هارون فحدثني محمد بن عبد الوهاب، عن سفيان، عن ابي حصين، عن الشعبي، عن عاصم العدوي، عن كعب بن عجرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . قال هارون وحدثني محمد، عن سفيان، عن زبيد، عن ابراهيم، وليس، بالنخعي عن كعب بن عجرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو حديث مسعر . قال وفي الباب عن حذيفة
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں اپنے دین پر صبر کرنے والا آدمی ایسا ہو گا جیسے ہاتھ میں چنگاری پکڑنے والا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- عمر بن شاکر ایک بصریٰ شیخ ہیں، ان سے کئی اہل علم نے حدیث روایت کی ہے۔
حدثنا اسماعيل بن موسى الفزاري ابن بنت السدي الكوفي، حدثنا عمر بن شاكر، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ياتي على الناس زمان الصابر فيهم على دينه كالقابض على الجمر " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من هذا الوجه . وعمر بن شاكر شيخ بصري قد روى عنه غير واحد من اهل العلم
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میری امت اکڑ اکڑ کر چلنے لگے اور بادشاہوں کی اولاد یعنی فارس و روم کے بادشاہوں کی اولاد ان کی خدمت کرنے لگے تو اس وقت ان کے برے لوگ ان کے اچھے لوگوں پر مسلط کر دیئے جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ابومعاویہ نے بھی اسے یحییٰ بن سعید انصاری کے واسطہ سے روایت کیا ہے۔
حدثنا موسى بن عبد الرحمن الكندي الكوفي، حدثنا زيد بن حباب، اخبرني موسى بن عبيدة، حدثني عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا مشت امتي المطيطياء وخدمها ابناء الملوك ابناء فارس والروم سلط شرارها على خيارها " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وقد رواه ابو معاوية عن يحيى بن سعيد الانصاري . حدثنا بذلك، محمد بن اسماعيل الواسطي حدثنا ابو معاوية، عن يحيى بن سعيد، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . ولا يعرف لحديث ابي معاوية عن يحيى بن سعيد عن عبد الله بن دينار عن ابن عمر اصل انما المعروف حديث موسى بن عبيدة . وقد روى مالك بن انس هذا الحديث عن يحيى بن سعيد مرسلا ولم يذكر فيه عن عبد الله بن دينار عن ابن عمر
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک چیز سے بچا لیا جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا تھا، جب کسریٰ ہلاک ہو گیا تو آپ نے پوچھا: ان لوگوں نے کسے خلیفہ بنایا ہے؟ صحابہ نے کہا: اس کی لڑکی کو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ قوم ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتی جس نے عورت کو اپنا حاکم بنایا“، جب عائشہ رضی الله عنہا آئیں یعنی بصرہ کی طرف تو اس وقت میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث یاد کی ۱؎، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے بچا لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا حميد الطويل، عن الحسن، عن ابي بكرة، قال عصمني الله بشيء سمعته من، رسول الله صلى الله عليه وسلم لما هلك كسرى قال " من استخلفوا " . قالوا ابنته . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لن يفلح قوم ولوا امرهم امراة " . قال فلما قدمت عايشة يعني البصرة ذكرت قول رسول الله صلى الله عليه وسلم فعصمني الله به . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس آ کر ٹھہرے اور فرمایا: ”کیا میں تمہارے اچھے لوگوں کو تمہارے برے لوگوں میں سے نہ بتا دوں؟“ لوگ خاموش رہے، آپ نے تین مرتبہ یہی فرمایا، ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! کیوں نہیں؟ آپ ہمارے اچھے لوگوں کو برے لوگوں میں سے بتا دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”تم میں بہتر وہ ہے جس سے خیر کی امید رکھی جائے اور جس کے شر سے مامون ( بےخوف ) رہا جائے اور تم میں سے برا وہ ہے جس سے خیر کی امید نہ رکھی جائے اور جس کے شر سے مامون ( بےخوف ) نہ رہا جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم وقف على اناس جلوس فقال " الا اخبركم بخيركم من شركم " . قال فسكتوا فقال ذلك ثلاث مرات فقال رجل بلى يا رسول الله اخبرنا بخيرنا من شرنا . قال " خيركم من يرجى خيره ويومن شره وشركم من لا يرجى خيره ولا يومن شره " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں تمہارے اچھے حکمرانوں اور برے حکمرانوں کے بارے میں نہ بتا دوں؟ اچھے حکمراں وہ ہیں جن سے تم محبت کرو گے اور وہ تم سے محبت کریں گے، تم ان کے لیے دعائیں کرو گے اور وہ تمہارے لیے دعائیں کریں گے، تمہارے برے حکمراں وہ ہیں جن سے تم نفرت کرو گے اور وہ تم سے نفرت کریں گے تم ان پر لعنت بھیجو گے اور وہ تم پر لعنت بھیجیں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف محمد بن ابوحمید کی روایت سے جانتے ہیں، اور محمد بن ابوحمید حافظے کے تعلق سے ضعیف قرار دیے گئے ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عامر العقدي، حدثنا محمد بن ابي حميد، عن زيد بن اسلم، عن ابيه، عن عمر بن الخطاب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الا اخبركم بخيار امرايكم وشرارهم خيارهم الذين تحبونهم ويحبونكم وتدعون لهم ويدعون لكم وشرار امرايكم الذين تبغضونهم ويبغضونكم وتلعنونهم ويلعنونكم " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث محمد بن ابي حميد . ومحمد يضعف من قبل حفظه
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب تمہارے اوپر ایسے حکمراں ہوں گے جن کے بعض کاموں کو تم اچھا جانو گے اور بعض کاموں کو برا جانو گے، پس جو شخص ان کے برے اعمال پر نکیر کرے وہ مداہنت اور نفاق سے بری رہا اور جس نے دل سے برا جانا تو وہ محفوظ رہا، لیکن جو ان سے راضی ہو اور ان کی اتباع کرے ( وہ ہلاک ہو گیا ) “، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ان سے لڑائی نہ کریں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا هشام بن حسان، عن الحسن، عن ضبة بن محصن، عن ام سلمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " انه سيكون عليكم ايمة تعرفون وتنكرون فمن انكر فقد بري ومن كره فقد سلم ولكن من رضي وتابع " . فقيل يا رسول الله افلا نقاتلهم قال " لا ما صلوا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہارے حکمراں، تمہارے اچھے لوگ ہوں، اور تمہارے مالدار لوگ، تمہارے سخی لوگ ہوں اور تمہارے کام باہمی مشورے سے ہوں تو زمین کی پیٹھ تمہارے لیے اس کے پیٹ سے بہتر ہے، اور جب تمہارے حکمراں تمہارے برے لوگ ہوں، اور تمہارے مالدار تمہارے بخیل لوگ ہوں اور تمہارے کام عورتوں کے ہاتھ میں چلے جائیں تو زمین کا پیٹ تمہارے لیے اس کی پیٹھ سے بہتر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف صالح المری کی روایت سے جانتے ہیں، اور صالح المری کی حدیث میں ایسے غرائب ہیں جن کی روایت کرنے میں وہ منفرد ہیں، کوئی ان کی متابعت نہیں کرتا، حالانکہ وہ بذات خود نیک آدمی ہیں۔
حدثنا احمد بن سعيد الاشقر، حدثنا يونس بن محمد، وهاشم بن القاسم، قالا حدثنا صالح المري، عن سعيد الجريري، عن ابي عثمان النهدي، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا كان امراوكم خياركم واغنياوكم سمحاءكم واموركم شورى بينكم فظهر الارض خير لكم من بطنها واذا كان امراوكم شراركم واغنياوكم بخلاءكم واموركم الى نسايكم فبطن الارض خير لكم من ظهرها " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث صالح المري . وصالح المري في حديثه غرايب ينفرد بها لا يتابع عليها وهو رجل صالح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ ایسے زمانہ میں ہو کہ جو اس کا دسواں حصہ چھوڑ دے جس کا اسے کرنے کا حکم دیا گیا ہے تو وہ ہلاک ہو جائے گا، پھر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ تم میں سے جو اس کے دسویں حصہ پر عمل کرے جس کا اسے کرنے کا حکم دیا گیا ہے تو وہ نجات پا جائے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف نعیم بن حماد کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ سفیان بن عیینہ سے روایت کرتے ہیں، ۲- اس باب میں ابوذر اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابراهيم بن يعقوب الجوزجاني، حدثنا نعيم بن حماد، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " انكم في زمان من ترك منكم عشر ما امر به هلك ثم ياتي زمان من عمل منهم بعشر ما امر به نجا " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث نعيم بن حماد عن سفيان بن عيينة . قال وفي الباب عن ابي ذر وابي سعيد
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”فتنے کی سر زمین وہاں ہے اور آپ نے مشرق ( پورب ) کی طرف اشارہ کیا یعنی جہاں سے شیطان کی شاخ یا سینگ نکلتی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، قال قام رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر فقال " ها هنا ارض الفتن واشار الى المشرق حيث يطلع جذل الشيطان " . او قال " قرن الشيطان " . هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خراسان سے کالے جھنڈے نکلیں گے، ان جھنڈوں کو کوئی چیز پھیر نہیں سکے گی یہاں تک کہ ( فلسطین کے شہر ) ایلیاء میں یہ نصب کیے جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا رشدين بن سعد، عن يونس، عن ابن شهاب الزهري، عن قبيصة بن ذويب، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تخرج من خراسان رايات سود لا يردها شيء حتى تنصب بايلياء " . هذا حديث غريب