Loading...

Loading...
کتب
۱۱۲ احادیث
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہما جب باغیوں نے عثمان بن عفان رضی الله عنہ کے گھر کا محاصرہ کر رکھا تھا تو انہوں نے اپنے گھر کی چھت پر آ کر کہا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں، کیا تم نہیں جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین صورتوں کے سوا کسی مسلمان کا خون حلال نہیں: شادی کے بعد زنا کرنا، یا اسلام لانے کے بعد مرتد ہو جانا، یا کسی کو ناحق قتل کرنا جس کے بدلے میں قاتل کو قتل کیا جائے، اللہ کی قسم! میں نے نہ جاہلیت میں زنا کیا ہے نہ اسلام میں، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے کے بعد میں مرتد ہوا ہوں اور نہ ہی اللہ کے حرام کردہ کسی نفس کا قاتل ہوں، پھر ( آخر ) تم لوگ کس وجہ سے مجھے قتل کر رہے ہو؟ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اسے حماد بن سلمہ نے یحییٰ بن سعید کے واسطہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے، اور یحییٰ بن سعید قطان اور دوسرے کئی لوگوں نے یحییٰ بن سعید سے یہ حدیث روایت کی ہے، لیکن یہ موقوف ہے نہ کہ مرفوع، ۳- اس باب میں ابن مسعود، عائشہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- اور یہ حدیث عثمان کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی دیگر سندوں بھی سے مرفوعاً مروی ہے۔
حدثنا احمد بن عبدة الضبي، حدثنا حماد بن زيد، عن يحيى بن سعيد، عن ابي امامة بن سهل بن حنيف، ان عثمان بن عفان، اشرف يوم الدار فقال انشدكم الله اتعلمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يحل دم امري مسلم الا باحدى ثلاث زنا بعد احصان او ارتداد بعد اسلام او قتل نفس بغير حق فقتل به " . فوالله ما زنيت في جاهلية ولا في اسلام ولا ارتددت منذ بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا قتلت النفس التي حرم الله فبم تقتلونني قال ابو عيسى وفي الباب عن ابن مسعود وعايشة وابن عباس . وهذا حديث حسن . ورواه حماد بن سلمة عن يحيى بن سعيد فرفعه . وروى يحيى بن سعيد القطان وغير واحد عن يحيى بن سعيد هذا الحديث فاوقفوه ولم يرفعوه وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن عثمان عن النبي صلى الله عليه وسلم مرفوعا
عمرو بن احوص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں سے خطاب کرتے سنا: ”یہ کون سا دن ہے؟“ لوگوں نے کہا: حج اکبر کا دن ہے ۱؎، آپ نے فرمایا: ”تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزت و آبرو تمہارے درمیان اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارے اس شہر میں تمہارے اس دن کی حرمت و تقدس ہے، خبردار! جرم کرنے والے کا وبال خود اسی پر ہے، خبردار! باپ کے قصور کا مواخذہ بیٹے سے اور بیٹے کے قصور کا مواخذہ باپ سے نہ ہو گا، سن لو! شیطان ہمیشہ کے لیے اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ تمہارے اس شہر میں اس کی پوجا ہو گی، البتہ ان چیزوں میں اس کی کچھ اطاعت ہو گی جن کو تم حقیر عمل سمجھتے ہو، وہ اسی سے خوش رہے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- زائدہ نے بھی شبیب بن غرقدہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ہم اس حدیث کو صرف شبیب بن غرقدہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں ابوبکرہ، ابن عباس، جابر، حذیم بن عمرو السعدی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو الاحوص، عن شبيب بن غرقدة، عن سليمان بن عمرو بن الاحوص، عن ابيه، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في حجة الوداع للناس " اى يوم هذا " . قالوا يوم الحج الاكبر . قال " فان دماءكم واموالكم واعراضكم بينكم حرام كحرمة يومكم هذا في بلدكم هذا الا لا يجني جان الا على نفسه الا لا يجني جان على ولده ولا مولود على والده الا وان الشيطان قد ايس من ان يعبد في بلادكم هذه ابدا ولكن ستكون له طاعة فيما تحتقرون من اعمالكم فسيرضى به " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي بكرة وابن عباس وجابر وحذيم بن عمرو السعدي . وهذا حديث حسن صحيح . وروى زايدة عن شبيب بن غرقدة نحوه ولا نعرفه الا من حديث شبيب بن غرقدة
یزید بن سائب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص کھیل کود میں ہو یا سنجیدگی میں اپنے بھائی کی لاٹھی نہ لے اور جو اپنے بھائی کی لاٹھی لے، تو وہ اسے واپس کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف ابن ابی ذئب ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- سائب بن یزید کو شرف صحبت حاصل ہے بچپن میں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی حدیثیں سنی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت ان کی عمر سات سال تھی، ان کے والد یزید بن سائب ۱؎ کی بہت ساری حدیثیں ہیں، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیثیں روایت کی ہیں، سائب بن یزید نمر کے بہن کے بیٹے ہیں، ۳- اس باب میں ابن عمر، سلیمان بن صرد، جعدہ، اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا بندار، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا ابن ابي ذيب، حدثنا عبد الله بن السايب بن يزيد، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا ياخذ احدكم عصا اخيه لاعبا او جادا فمن اخذ عصا اخيه فليردها اليه " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابن عمر وسليمان بن صرد وجعدة وابي هريرة . وهذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث ابن ابي ذيب . والسايب بن يزيد له صحبة قد سمع من النبي صلى الله عليه وسلم احاديث وهو غلام وقبض النبي صلى الله عليه وسلم وهو ابن سبع سنين ووالده يزيد بن السايب له احاديث هو من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وقد روى عن النبي صلى الله عليه وسلم والسايب بن يزيد هو ابن اخت نمر
سائب بن یزید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( میرے والد ) یزید رضی الله عنہ نے حجۃ الوداع کیا، اس وقت میں سات سال کا تھا۔ یحییٰ بن سعید قطان کہتے ہیں: محمد بن یوسف ثبت اور صاحب حدیث ہیں، سائب بن یزید ان کے نانا تھے، محمد بن یوسف کہتے تھے: مجھ سے سائب بن یزید نے حدیث بیان کی ہے، اور وہ میرے نانا ہیں۔
حدثنا قتيبة حدثنا حاتم بن اسماعيل عن محمد بن يوسف عن السايب بن يزيد قال حج يزيد مع النبي صلى الله عليه وسلم حجة الوداع وانا ابن سبع سنين . فقال علي بن المديني عن يحيى بن سعيد القطان كان محمد بن يوسف ثبتا صاحب حديث وكان السايب بن يزيد جده وكان محمد بن يوسف يقول حدثني السايب بن يزيد وهو جدي من قبل امي
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ کرتے تو فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ خالد حذاء کی روایت سے غریب سمجھی جاتی ہے، ۳- ایوب نے محمد بن سیرین کے واسطہ سے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، لیکن اسے مرفوعاً نہیں بیان کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے «وإن كان أخاه لأبيه وأمه» ”اگرچہ اس کا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو“، ۴- اس باب میں ابوبکرہ، ام المؤمنین عائشہ اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا عبد الله بن الصباح العطار الهاشمي، حدثنا محبوب بن الحسن، حدثنا خالد الحذاء، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اشار على اخيه بحديدة لعنته الملايكة " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي بكرة وعايشة وجابر . وهذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه يستغرب من حديث خالد الحذاء . ورواه ايوب عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، نحوه ولم يرفعه وزاد فيه " وان كان اخاه لابيه وامه " . قال واخبرنا بذلك قتيبة حدثنا حماد بن زيد عن ايوب بهذا
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ننگی تلوار لینے اور دینے سے منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حماد بن سلمہ کی روایت سے حسن غریب ہے، ۲- ابن لہیعہ نے یہ حدیث «عن أبي الزبير عن جابر عن بنة الجهني عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، ۳- میرے نزدیک حماد بن سلمہ کی روایت زیادہ صحیح ہے، ۴- اس باب میں ابوبکرہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا عبد الله بن معاوية الجمحي البصري، حدثنا حماد بن سلمة، عن ابي الزبير، عن جابر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يتعاطى السيف مسلولا . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي بكرة . وهذا حديث حسن غريب من حديث حماد بن سلمة . وروى ابن لهيعة هذا الحديث عن ابي الزبير عن جابر عن بنة الجهني عن النبي صلى الله عليه وسلم . وحديث حماد بن سلمة عندي اصح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے فجر پڑھ لی وہ اللہ کی پناہ میں ہے، پھر ( اس بات کا خیال رکھو کہ ) اللہ تعالیٰ تمہارے درپے نہ ہو جائے اس کی پناہ توڑنے کی وجہ سے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں جندب اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا بندار، حدثنا معدي بن سليمان، حدثنا ابن عجلان، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من صلى الصبح فهو في ذمة الله فلا يتبعنكم الله بشيء من ذمته " . قال ابو عيسى وفي الباب عن جندب وابن عمر . وهذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مقام جابیہ میں ( میرے والد ) عمر رضی الله عنہ ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، انہوں نے کہا: لوگو! میں تمہارے درمیان اسی طرح ( خطبہ دینے کے لیے ) کھڑا ہوا ہوں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں اپنے صحابہ کی پیروی کی وصیت کرتا ہوں، پھر ان کے بعد آنے والوں ( یعنی تابعین ) کی پھر ان کے بعد آنے والوں ( یعنی تبع تابعین ) کی، پھر جھوٹ عام ہو جائے گا، یہاں تک کہ قسم کھلائے بغیر آدمی قسم کھائے گا اور گواہ گواہی طلب کیے جانے سے پہلے ہی گواہی دے گا، خبردار! جب بھی کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ خلوت میں ہوتا ہے تو ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے، تم لوگ جماعت کو لازم پکڑو اور پارٹی بندی سے بچو، کیونکہ شیطان اکیلے آدمی کے ساتھ رہتا ہے، دو کے ساتھ اس کا رہنا نسبۃً زیادہ دور کی بات ہے، جو شخص جنت کے درمیانی حصہ میں جانا چاہتا ہو وہ جماعت سے لازمی طور پر جڑا رہے اور جسے اپنی نیکی سے خوشی ملے اور گناہ سے غم لاحق ہو حقیقت میں وہی مومن ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اسے ابن مبارک نے بھی محمد بن سوقہ سے روایت کیا ہے، ۳- یہ حدیث کئی سندوں سے عمر کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا النضر بن اسماعيل ابو المغيرة، عن محمد بن سوقة، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال خطبنا عمر بالجابية فقال يا ايها الناس اني قمت فيكم كمقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فينا فقال " اوصيكم باصحابي ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم يفشو الكذب حتى يحلف الرجل ولا يستحلف ويشهد الشاهد ولا يستشهد الا لا يخلون رجل بامراة الا كان ثالثهما الشيطان عليكم بالجماعة واياكم والفرقة فان الشيطان مع الواحد وهو من الاثنين ابعد من اراد بحبوحة الجنة فليلزم الجماعة من سرته حسنته وساءته سييته فذلك المومن " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه وقد رواه ابن المبارك عن محمد بن سوقة وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا ہاتھ ( اس کی مدد و نصرت ) جماعت کے ساتھ ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے ابن عباس رضی الله عنہما کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا ابراهيم بن ميمون، عن ابن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يد الله مع الجماعة " . هذا حديث حسن غريب لا نعرفه من حديث ابن عباس الا من هذا الوجه
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ میری امت کو یا یہ فرمایا: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو گمراہی پر اکٹھا نہیں کرے گا، اللہ کا ہاتھ ( اس کی مدد و نصرت ) جماعت کے ساتھ ہے، جو شخص جماعت سے الگ ہوا وہ جہنم میں گرا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- سلیمان مدنی میرے نزدیک سلیمان بن سفیان ہی ہیں، ان سے ابوداؤد طیالسی، ابوعامر عقدی اور کئی اہل علم نے روایت کی ہے، ۳- اہل علم کے نزدیک ”جماعت“ سے مراد اصحاب فقہ اور اصحاب علم اور اصحاب حدیث ہیں، ۴- علی بن حسین کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک سے پوچھا: جماعت سے کون لوگ مراد ہیں؟ انہوں نے کہا: ابوبکر و عمر، ان سے کہا گیا: ابوبکر و عمر تو وفات پا گئے، انہوں نے کہا: فلاں اور فلاں، ان سے کہا گیا: فلاں اور فلاں بھی تو وفات پا چکے ہیں تو عبداللہ بن مبارک نے کہا: ابوحمزہ سکری جماعت ہیں ۱؎، ۵- ابوحمزہ کا نام محمد بن میمون ہے، وہ صالح اور نیک شیخ تھے، عبداللہ بن مبارک نے یہ بات ہم سے اس وقت کہی تھی جب ابوحمزہ باحیات تھے۔
حدثنا ابو بكر بن نافع البصري، حدثني المعتمر بن سليمان، حدثنا سليمان المدني، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الله لا يجمع امتي - او قال امة محمد صلى الله عليه وسلم - على ضلالة ويد الله مع الجماعة ومن شذ شذ الى النار " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من هذا الوجه . وسليمان المدني هو عندي سليمان بن سفيان وقد روى عنه ابو داود الطيالسي وابو عامر العقدي وغير واحد من اهل العلم . قال ابو عيسى وتفسير الجماعة عند اهل العلم هم اهل الفقه والعلم والحديث . قال وسمعت الجارود بن معاذ يقول سمعت علي بن الحسن يقول سالت عبد الله بن المبارك من الجماعة فقال ابو بكر وعمر . قيل له قد مات ابو بكر وعمر . قال فلان وفلان . قيل له قد مات فلان وفلان . فقال عبد الله بن المبارك ابو حمزة السكري جماعة . قال ابو عيسى وابو حمزة هو محمد بن ميمون وكان شيخا صالحا وانما قال هذا في حياته عندنا
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو «يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم» ”اے ایمان والو! اپنی فکر کرو گمراہ ہونے والا تمہیں کوئی ضرر نہیں پہنچائے گا جب تم نے ہدایت پالی“ ( المائدہ: ۱۰۵ ) اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جب لوگ ظالم کو دیکھ کر اس کا ہاتھ نہ پکڑیں ( یعنی ظلم نہ روک دیں ) تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا عذاب لوگوں پر عام کر دے“ ۲؎۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا اسماعيل بن ابي خالد، عن قيس بن ابي حازم، عن ابي بكر الصديق، انه قال ايها الناس انكم تقرءون هذه الاية : (يا ايها الذين امنوا عليكم انفسكم لا يضركم من ضل اذا اهتديتم ) واني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان الناس اذا راوا الظالم فلم ياخذوا على يديه اوشك ان يعمهم الله بعقاب منه " . حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يزيد بن هارون، عن اسماعيل بن ابي خالد، نحوه . قال ابو عيسى وفي الباب عن عايشة، وام سلمة والنعمان بن بشير وعبد الله بن عمر وحذيفة . وهذا حديث صحيح . وهكذا روى غير، واحد، عن اسماعيل، نحو حديث يزيد ورفعه بعضهم عن اسماعيل، واوقفه، بعضهم
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم معروف ( بھلائی ) کا حکم دو اور منکر ( برائی ) سے روکو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب بھیج دے پھر تم اللہ سے دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عمرو بن ابي عمرو، عن عبد الله الانصاري، عن حذيفة بن اليمان، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " والذي نفسي بيده لتامرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر او ليوشكن الله ان يبعث عليكم عقابا منه ثم تدعونه فلا يستجاب لكم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . حدثنا علي بن حجر، اخبرنا اسماعيل بن جعفر، عن عمرو بن ابي عمرو، بهذا الاسناد نحوه
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم اپنے امام کو قتل نہ کر دو، اپنی تلواروں سے ایک دوسرے کو قتل نہ کرو اور برے لوگ تمہاری دنیا کے وارث نہ بن جائیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ہم اسے صرف عمرو بن ابی عمرو کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عمرو بن ابي عمرو، عن عبد الله، وهو ابن عبد الرحمن الانصاري الاشهلي عن حذيفة بن اليمان، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " والذي نفسي بيده لا تقوم الساعة حتى تقتلوا امامكم وتجتلدوا باسيافكم ويرث دنياكم شراركم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن انما نعرفه من حديث عمرو بن ابي عمرو
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لشکر کا ذکر کیا جو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، تو ام سلمہ نے عرض کیا: ہو سکتا ہے اس میں کچھ مجبور لوگ بھی ہوں، آپ نے فرمایا: ”وہ اپنی نیتوں پر اٹھائے جائیں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، یہ حدیث «عن نافع بن جبير عن عائشة أيضا عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے بھی آئی ہے۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا سفيان، عن محمد بن سوقة، عن نافع بن جبير، عن ام سلمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه ذكر الجيش الذي يخسف بهم فقالت ام سلمة لعل فيهم المكره . قال " انهم يبعثون على نياتهم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه وقد روي هذا الحديث عن نافع بن جبير عن عايشة ايضا عن النبي صلى الله عليه وسلم
طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ سب سے پہلے ( عید کے دن ) خطبہ کو صلاۃ پر مقدم کرنے والے مروان تھے، ایک آدمی نے کھڑے ہو کر مروان سے کہا: آپ نے سنت کی مخالفت کی ہے، مروان نے کہا: اے فلاں! چھوڑ دی گئی وہ سنت جسے تم ڈھونڈتے ہو ( یہ سن کر ) ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے کہا: اس شخص نے اپنا فرض پورا کر دیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو شخص کوئی برائی دیکھے تو چاہیئے کہ اس برائی کو اپنے ہاتھ سے بدل دے، جسے اتنی طاقت نہ ہو وہ اپنی زبان سے اسے بدل دے اور جسے اس کی طاقت بھی نہ ہو وہ اپنے دل میں اسے برا جانے ۱؎ اور یہ ایمان کا سب سے کمتر درجہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا بندار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن قيس بن مسلم، عن طارق بن شهاب، قال اول من قدم الخطبة قبل الصلاة مروان فقام رجل فقال لمروان خالفت السنة . فقال يا فلان ترك ما هنالك . فقال ابو سعيد اما هذا فقد قضى ما عليه سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من راى منكرا فلينكره بيده ومن لم يستطع فبلسانه ومن لم يستطع فبقلبه وذلك اضعف الايمان " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے حدود پر قائم رہنے والے ( یعنی اس کے احکام کی پابندی کرنے والے ) اور اس کی مخالفت کرنے والوں کی مثال اس قوم کی طرح ہے، جو قرعہ اندازی کے ذریعہ ایک کشتی میں سوار ہوئی، بعض لوگوں کو کشتی کے بالائی طبقہ میں جگہ ملی اور بعض لوگوں کو نچلے حصہ میں، نچلے طبقہ والے اوپر چڑھ کر پانی لیتے تھے تو بالائی طبقہ والوں پر پانی گر جاتا تھا، لہٰذا بالائی حصہ والوں نے کہا: ہم تمہیں اوپر نہیں چڑھنے دیں گے تاکہ ہمیں تکلیف پہنچاؤ ( یہ سن کر ) نچلے حصہ والوں نے کہا: ہم کشتی کے نیچے سوراخ کر کے پانی لیں گے، اب اگر بالائی طبقہ والے ان کے ہاتھ پکڑ کر روکیں گے تو تمام نجات پا جائیں گے اور اگر انہیں ایسا کرنے سے منع نہیں کریں گے تو تمام کے تمام ڈوب جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش، عن الشعبي، عن النعمان بن بشير، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مثل القايم على حدود الله والمدهن فيها كمثل قوم استهموا على سفينة في البحر فاصاب بعضهم اعلاها واصاب بعضهم اسفلها فكان الذين في اسفلها يصعدون فيستقون الماء فيصبون على الذين في اعلاها فقال الذين في اعلاها لا ندعكم تصعدون فتوذوننا فقال الذين في اسفلها فانا ننقبها من اسفلها فنستقي فان اخذوا على ايديهم فمنعوهم نجوا جميعا وان تركوهم غرقوا جميعا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظالم بادشاہ کے سامنے حق کہنا سب سے بہتر جہاد ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوامامہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا القاسم بن دينار الكوفي، حدثنا عبد الرحمن بن مصعب ابو يزيد، حدثنا اسراييل، عن محمد بن جحادة، عن عطية، عن ابي سعيد الخدري، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان من اعظم الجهاد كلمة عدل عند سلطان جاير " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي امامة . وهذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار کافی لمبی نماز پڑھی، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے ایسی نماز پڑھی ہے کہ اس سے پہلے ایسی نماز نہیں پڑھی تھی، آپ نے فرمایا: ”ہاں، یہ امید و خوف کی نماز تھی، میں نے اس میں اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں مانگی ہیں، جن میں سے اللہ تعالیٰ نے دو کو قبول کر لیا اور ایک کو نہیں قبول کیا، میں نے پہلی دعا یہ مانگی کہ میری امت کو عام قحط میں ہلاک نہ کرے، اللہ نے میری یہ دعا قبول کر لی، میں نے دوسری دعا یہ کی کہ ان پر غیروں میں سے کسی دشمن کو نہ مسلط کرے، اللہ نے میری یہ دعا بھی قبول کر لی، میں نے تیسری دعا یہ مانگی کہ ان میں آپس میں ایک کو دوسرے کی لڑائی کا مزہ نہ چکھا تو اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول نہیں فرمائی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں سعد اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا ابي قال، سمعت النعمان بن راشد، يحدث عن الزهري، عن عبد الله بن الحارث، عن عبد الله بن خباب بن الارت، عن ابيه، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة فاطالها قالوا يا رسول الله صليت صلاة لم تكن تصليها قال " اجل انها صلاة رغبة ورهبة اني سالت الله فيها ثلاثا فاعطاني اثنتين ومنعني واحدة سالته ان لا يهلك امتي بسنة فاعطانيها وسالته ان لا يسلط عليهم عدوا من غيرهم فاعطانيها وسالته ان لا يذيق بعضهم باس بعض فمنعنيها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح . وفي الباب عن سعد وابن عمر
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین سمیٹ دی تو میں نے مشرق ( پورب ) و مغرب ( پچھم ) کو دیکھا یقیناً میری امت کی حکمرانی وہاں تک پہنچ کر رہے گی جہاں تک میرے لیے زمین سمیٹی گئی، اور مجھے سرخ و سفید دو خزانے دے گئے، میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لیے دعا کی کہ ان کو کسی عام قحط سے ہلاک نہ کرے اور نہ ان پر غیروں میں سے کوئی ایسا دشمن مسلط کر جو انہیں جڑ سے مٹا دے، میرے رب نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب میں کوئی فیصلہ کر لیتا ہوں تو اسے بدلتا نہیں، تیری امت کے حق میں تیری یہ دعا میں نے قبول کی کہ میں اسے عام قحط سے ہلاک و برباد نہیں کروں گا، اور نہ ہی ان پر کوئی ایسا دشمن مسلط کروں گا جو ان میں سے نہ ہو اور جو انہیں جڑ سے مٹا دے، گو ان کے خلاف تمام روئے زمین کے لوگ جمع ہو جائیں، البتہ ایسا ہو گا کہ انہیں میں سے بعض لوگ بعض کو ہلاک کریں گے، اور بعض کو قیدی بنائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن ابي اسماء الرحبي، عن ثوبان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله زوى لي الارض فرايت مشارقها ومغاربها وان امتي سيبلغ ملكها ما زوي لي منها واعطيت الكنزين الاحمر والاصفر واني سالت ربي لامتي ان لا يهلكها بسنة عامة وان لا يسلط عليهم عدوا من سوى انفسهم فيستبيح بيضتهم وان ربي قال يا محمد اني اذا قضيت قضاء فانه لا يرد واني اعطيتك لامتك ان لا اهلكهم بسنة عامة وان لا اسلط عليهم عدوا من سوى انفسهم فيستبيح بيضتهم ولو اجتمع عليهم من باقطارها او قال من بين اقطارها حتى يكون بعضهم يهلك بعضا ويسبي بعضهم بعضا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام مالک بہزیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنے کا ذکر کیا اور فرمایا: ”وہ بہت جلد ظاہر ہو گا“، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! اس وقت سب سے بہتر کون شخص ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”ایک وہ آدمی جو اپنے جانوروں کے درمیان ہو اور ان کا حق ادا کرنے کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کرتا ہو، اور دوسرا وہ آدمی جو اپنے گھوڑے کا سر پکڑے ہو، وہ دشمن کو ڈراتا ہو اور دشمن اسے ڈراتے ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- لیث بن ابی سلیم نے بھی یہ حدیث «عن طاؤس عن أم مالك البهزية عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں ام مبشر، ابو سعید خدری اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا عمران بن موسى القزاز البصري، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا محمد بن جحادة، عن رجل، عن طاوس، عن ام مالك البهزية، قالت ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم فتنة فقربها قالت قلت يا رسول الله من خير الناس فيها قال " رجل في ماشيته يودي حقها ويعبد ربه ورجل اخذ براس فرسه يخيف العدو ويخيفونه " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ام مبشر وابي سعيد الخدري وابن عباس . وهذا حديث حسن غريب من هذا الوجه وقد رواه الليث بن ابي سليم عن طاوس عن ام مالك البهزية عن النبي صلى الله عليه وسلم