Loading...

Loading...
کتب
۱۱۲ احادیث
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک فتنہ ایسا ہو گا جو تمام عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا، اس کے مقتول جہنمی ہوں گے، اس وقت زبان کھولنا تلوار مارنے سے زیادہ سخت ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: زیاد بن سیمین کوش کی اس کے علاوہ دوسری کوئی حدیث نہیں معلوم ہے، ۳- حماد بن سلمہ نے اسے لیث سے روایت کرتے ہوئے مرفوعاً بیان کیا ہے، اور حماد بن زید نے اسے لیث سے روایت کرتے ہوئے موقوفاً بیان کیا ہے۔
حدثنا عبد الله بن معاوية الجمحي، حدثنا حماد بن سلمة، عن ليث، عن طاوس، عن زياد بن سيمين، كوش عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تكون فتنة تستنظف العرب قتلاها في النار اللسان فيها اشد من السيف " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . سمعت محمد بن اسماعيل يقول لا يعرف لزياد بن سيمين كوش غير هذا الحديث رواه حماد بن سلمة عن ليث فرفعه ورواه حماد بن زيد عن ليث فوقفه
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو حدیثیں بیان کیں، جن میں سے ایک کی حقیقت تو میں نے دیکھ لی ۱؎، اور دوسری کا انتظار کر رہا ہوں، آپ نے فرمایا: ”امانت لوگوں کے دلوں کے جڑ میں اتری پھر قرآن کریم اترا اور لوگوں نے قرآن سے اس کی اہمیت قرآن سے جانی اور سنت رسول سے اس کی اہمیت جانی“ ۲؎، پھر آپ نے ہم سے امانت کے اٹھ جانے کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”آدمی ( رات کو ) سوئے گا اور اس کے دل سے امانت اٹھا لی جائے گی ( اور جب وہ صبح کو اٹھے گا ) تو اس کا تھوڑا سا اثر ایک نقطہٰ کی طرح دل میں رہ جائے گا، پھر جب دوسری بار سوئے گا تو اس کے دل سے امانت اٹھا لی جائے گی اور اس کا اثر کھال موٹا ہونے کی طرح رہ جائے گا ۳؎، جیسے تم اپنے پاؤں پر چنگاری پھیرو تو آبلہ ( پھپھولا ) پڑ جاتا ہے، تم اسے پھولا ہوا پاتے ہو حالانکہ اس میں کچھ نہیں ہوتا“، پھر حذیفہ رضی الله عنہ ایک کنکری لے کر اپنے پاؤں پر پھیرنے لگے اور فرمایا: ”لوگ اس طرح ہو جائیں گے کہ خرید و فروخت کریں گے لیکن ان میں کوئی امانت دار نہ ہو گا، یہاں تک کہ کہا جائے گا: فلاں قبیلہ میں ایک امانت دار آدمی ہے، اور کسی آدمی کی تعریف میں یہ کہا جائے گا: کتنا مضبوط شخص ہے! کتنا ہوشیار اور عقلمند ہے! حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانہ برابر بھی ایمان نہ ہو گا“، حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: میرے اوپر ایک ایسا وقت آیا کہ خرید و فروخت میں کسی کی پرواہ نہیں کرتا تھا، اگر میرا فریق مسلمان ہوتا تو اس کی دینداری میرا حق لوٹا دیتی اور اگر یہودی یا نصرانی ہوتا تو اس کا سردار میرا حق لوٹا دیتا، جہاں تک آج کی بات ہے تو میں تم میں سے صرف فلاں اور فلاں سے خرید و فروخت کرتا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن زيد بن وهب، عن حذيفة بن اليمان، حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثين قد رايت احدهما وانا انتظر الاخر حدثنا " ان الامانة نزلت في جذر قلوب الرجال ثم نزل القران فعلموا من القران وعلموا من السنة " . ثم حدثنا عن رفع الامانة فقال " ينام الرجل النومة فتقبض الامانة من قلبه فيظل اثرها مثل الوكت ثم ينام نومة فتقبض الامانة من قلبه فيظل اثرها مثل المجل كجمر دحرجته على رجلك فنفطت فتراه منتبرا وليس فيه شيء " . ثم اخذ حصاة فدحرجها على رجله قال " فيصبح الناس يتبايعون لا يكاد احدهم يودي الامانة حتى يقال ان في بني فلان رجلا امينا وحتى يقال للرجل ما اجلده واظرفه واعقله وما في قلبه مثقال حبة من خردل من ايمان " . قال ولقد اتى على زمان وما ابالي ايكم بايعت فيه لين كان مسلما ليردنه على دينه ولين كان يهوديا او نصرانيا ليردنه على ساعيه فاما اليوم فما كنت لابايع منكم الا فلانا وفلانا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوواقد لیثی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین کے لیے نکلے تو آپ کا گزر مشرکین کے ایک درخت کے پاس سے ہوا جسے ذات انواط کہا جاتا تھا، اس درخت پر مشرکین اپنے ہتھیار لٹکاتے تھے ۱؎، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے لیے بھی ایک ذات انواط مقرر فرما دیجئیے جیسا کہ مشرکین کا ایک ذات انواط ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! یہ تو وہی بات ہے جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہی تھی کہ ہمارے لیے بھی معبود بنا دیجئیے جیسا ان مشرکوں کے لیے ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم گزشتہ امتوں کی پوری پوری پیروی کرو گے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوواقد لیثی کا نام حارث بن عوف ہے، ۳- اس باب میں ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سنان بن ابي سنان، عن ابي واقد الليثي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لما خرج الى خيبر مر بشجرة للمشركين يقال لها ذات انواط يعلقون عليها اسلحتهم فقالوا يا رسول الله اجعل لنا ذات انواط كما لهم ذات انواط . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " سبحان الله هذا كما قال قوم موسى : (اجعل لنا الها كما لهم الهة ) والذي نفسي بيده لتركبن سنة من كان قبلكم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو واقد الليثي اسمه الحارث بن عوف . وفي الباب عن ابي سعيد وابي هريرة
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک کہ درندے انسانوں سے گفتگو نہ کرنے لگیں، آدمی سے اس کے کوڑے کا کنارہ گفتگو کرنے لگے، اس کے جوتے کا تسمہ گفتگو کرنے لگے اور اس کی ران اس کام کی خبر دینے لگے جو اس کی بیوی نے اس کی غیر حاضری میں انجام دیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف قاسم بن فضل کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- قاسم بن فضل محدثین کے نزدیک ثقہ اور مامون ہیں، یحییٰ بن سعید قطان اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے ان کی توثیق کی ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا ابي، عن القاسم بن الفضل، حدثنا ابو نضرة العبدي، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " والذي نفسي بيده لا تقوم الساعة حتى تكلم السباع الانس وحتى تكلم الرجل عذبة سوطه وشراك نعله وتخبره فخذه بما احدث اهله من بعده " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي هريرة . وهذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث القاسم بن الفضل . والقاسم بن الفضل ثقة مامون عند اهل الحديث وثقه يحيى بن سعيد القطان وعبد الرحمن بن مهدي
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند ( دو ٹکڑوں میں ) ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ گواہ رہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، انس اور جبیر بن مطعم رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، عن شعبة، عن الاعمش، عن مجاهد، عن ابن عمر، قال انفلق القمر على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اشهدوا " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابن مسعود وانس وجبير بن مطعم . وهذا حديث حسن صحيح
حذیفہ بن اسید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اپنے کمرے سے جھانکا، اس وقت ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو! مغرب ( پچھم ) سے سورج کا نکلنا، یاجوج ماجوج کا نکلنا، دابہ ( جانور ) کا نکلنا، تین بار زمین کا دھنسنا: ایک پورب میں، ایک پچھم میں اور ایک جزیرہ عرب میں، عدن کے اندر سے آگ کا نکلنا جو لوگوں کو ہانکے یا اکٹھا کرے گی، جہاں لوگ رات گزاریں گے وہیں رات گزارے گی اور جہاں لوگ قیلولہ کریں گے وہیں قیلولہ کرے گی۔
حدثنا بندار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن فرات القزاز، عن ابي الطفيل، عن حذيفة بن اسيد، قال اشرف علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم من غرفة ونحن نتذاكر الساعة فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تقوم الساعة حتى تروا عشر ايات طلوع الشمس من مغربها وياجوج وماجوج والدابة وثلاثة خسوف خسف بالمشرق وخسف بالمغرب وخسف بجزيرة العرب ونار تخرج من قعر عدن تسوق الناس او تحشر الناس فتبيت معهم حيث باتوا وتقيل معهم حيث قالوا " . حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن فرات، نحوه وزاد فيه " الدخان " . حدثنا هناد، حدثنا ابو الاحوص، عن فرات القزاز، نحو حديث وكيع عن سفيان، . حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود الطيالسي، عن شعبة، والمسعودي، سمعا من، فرات القزاز نحو حديث عبد الرحمن عن سفيان عن فرات وزاد فيه " الدجال او الدخان " . حدثنا ابو موسى، محمد بن المثنى حدثنا ابو النعمان الحكم بن عبد الله العجلي، عن شعبة، عن فرات، نحو حديث ابي داود عن شعبة، وزاد، فيه قال " والعاشرة اما ريح تطرحهم في البحر واما نزول عيسى ابن مريم " . قال ابو عيسى وفي الباب عن علي وابي هريرة وام سلمة وصفية بنت حيى . وهذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین صفیہ بنت حی رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ ( اللہ کے ) اس گھر پر حملہ کرنے سے باز نہیں آئیں گے، یہاں تک کہ ایک ایسا لشکر لڑائی کرنے کے لیے آئے گا کہ جب اس لشکر کے لوگ مقام بیدا میں ہوں گے، تو ان کے آگے والے اور پیچھے والے دھنسا دے جائیں گے اور ان کے بیچ والے بھی نجات نہیں پائیں گے ( یعنی تمام لوگ دھنسا دے جائیں گے ) “۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان میں سے جو ناپسند کرتے رہے ہوں ان کے افعال کو وہ بھی؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ان کی نیتوں کے مطابق انہیں اٹھائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن سلمة بن كهيل، عن ابي ادريس المرهبي، عن مسلم بن صفوان، عن صفية، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا ينتهي الناس عن غزو هذا البيت حتى يغزو جيش حتى اذا كانوا بالبيداء او ببيداء من الارض خسف باولهم واخرهم ولم ينج اوسطهم " . قلت يا رسول الله فمن كره منهم قال " يبعثهم الله على ما في انفسهم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت کے آخری عہد میں یہ واقعات ظاہر ہوں گے زمین کا دھنسنا، صورت تبدیل ہونا اور آسمان سے پتھر برسنا“، عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ہلاک کر دئیے جائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، جب فسق و فجور عام ہو جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث عائشہ کی روایت سے غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- راوی عبداللہ بن عمر عمری کے حفظ کے تعلق سے یحییٰ بن سعید نے کلام کیا ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا صيفي بن ربعي، عن عبد الله بن عمر، عن عبيد الله بن عمر، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يكون في اخر هذه الامة خسف ومسخ وقذف " . قالت قلت يا رسول الله انهلك وفينا الصالحون قال " نعم اذا ظهر الخبث " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من حديث عايشة لا نعرفه الا من هذا الوجه . وعبد الله بن عمر تكلم فيه يحيى بن سعيد من قبل حفظه
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سورج ڈوبنے کے بعد میں مسجد میں داخل ہوا، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ابوذر! جانتے ہو سورج کہاں جاتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”وہ سجدے کی اجازت لینے جاتا ہے، اسے اجازت مل جاتی ہے لیکن ایک وقت اس سے کہا جائے گا: اسی جگہ سے نکلو جہاں سے آئے ہو، لہٰذا وہ پچھم سے نکلے گا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «وذلك مستقر لها» ”یہ اس کا ٹھکانا ہے“، راوی کہتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی قرأت یہی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں صفوان بن عسال، حذیفہ، اسید، انس اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم التيمي، عن ابيه، عن ابي ذر، قال دخلت المسجد حين غابت الشمس والنبي صلى الله عليه وسلم جالس فقال " يا ابا ذر اتدري اين تذهب هذه " . قال قلت الله ورسوله اعلم . قال " فانها تذهب تستاذن في السجود فيوذن لها وكانها قد قيل لها اطلعي من حيث جيت فتطلع من مغربها " . قال ثم قرا " وذلك مستقر لها " . قال وذلك قراءة عبد الله بن مسعود . قال ابو عيسى وفي الباب عن صفوان بن عسال وحذيفة بن اسيد وانس وابي موسى . وهذا حديث حسن صحيح
زینب بنت جحش رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو کر اٹھے تو آپ کا چہرہ مبارک سرخ تھا اور آپ فرما رہے تھے: «لا إله إلا الله» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں“ آپ نے اسے تین بار دہرایا، پھر فرمایا:“ اس شر ( فتنہ ) سے عرب کے لیے تباہی ہے جو قریب آ گیا ہے، آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو گیا ہے اور آپ نے ( ہاتھ کی انگلیوں سے ) دس کی گرہ لگائی“ ۱؎، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ہلاک کر دئیے جائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، جب برائی زیادہ ہو جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ( سند میں چار عورتوں کا تذکرہ کر کے ) سفیان بن عیینہ نے یہ حدیث اچھی طرح بیان کی ہے، حمیدی، علی بن مدینی اور دوسرے کئی محدثین نے یہ حدیث سفیان بن عیینہ سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- حمیدی کہتے ہیں کہ سفیان بن عیینہ نے کہا: میں نے اس حدیث کی سند میں زہری سے چار عورتوں کا واسطہ یاد کیا ہے: «عن زينب بنت أبي سلمة، عن حبيبة، عن أم حبيبة، عن زينب بنت جحش»، زینب بنت ابی سلمہ اور حبیبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سوتیلی لڑکیاں ہیں اور ام حبیبہ اور زینب بنت جحش نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ہیں، ۴- معمر اور کئی لوگوں نے یہ حدیث زہری سے اسی طرح روایت کی ہے مگر اس میں ”حبیبہ“ کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے، ابن عیینہ کے بعض شاگردوں نے ابن عیینہ سے یہ حدیث روایت کرتے وقت اس میں ”ام حبیبہ“ کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي، وابو بكر بن نافع وغير واحد قالوا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عروة بن الزبير، عن زينب بنت ابي سلمة، عن حبيبة، عن ام حبيبة، عن زينب بنت جحش، قالت استيقظ رسول الله صلى الله عليه وسلم من نوم محمرا وجهه وهو يقول " لا اله الا الله يرددها ثلاث مرات ويل للعرب من شر قد اقترب فتح اليوم من ردم ياجوج وماجوج مثل هذه " وعقد عشرا . قالت زينب قلت يا رسول الله افنهلك وفينا الصالحون قال " نعم اذا كثر الخبث " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد جود سفيان هذا الحديث . هكذا روى الحميدي وعلي بن المديني وغير واحد من الحفاظ عن سفيان بن عيينة نحو هذا . وقال الحميدي قال سفيان بن عيينة حفظت من الزهري في هذا الحديث اربع نسوة زينب بنت ابي سلمة عن حبيبة وهما ربيبتا النبي صلى الله عليه وسلم عن ام حبيبة عن زينب بنت جحش زوجى النبي صلى الله عليه وسلم . وروى معمر وغيره هذا الحديث عن الزهري ولم يذكروا فيه عن حبيبة وقد روى بعض اصحاب ابن عيينة هذا الحديث عن ابن عيينة ولم يذكروا فيه عن ام حبيبة
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آخری زمانہ ۱؎ میں ایک قوم نکلے گی جس کے افراد نوعمر اور سطحی عقل والے ہوں گے، وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، قرآن کی بات کریں گے لیکن وہ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے جیسے شکار سے تیر آر پار نکل جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- دوسری حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے جس میں آپ نے انہیں لوگوں کی طرح اوصاف بیان کیا کہ وہ لوگ قرآن پڑھیں گے، مگر ان کے گلے کے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جیسے کمان سے تیر نکل جاتا ہے، ان سے مقام حروراء کی طرف منسوب خوارج اور دوسرے خوارج مراد ہیں، ۳- اس باب میں علی، ابوسعید اور ابوذر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو كريب، محمد بن العلاء حدثنا ابو بكر بن عياش، عن عاصم، عن زر، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يخرج في اخر الزمان قوم احداث الاسنان سفهاء الاحلام يقرءون القران لا يجاوز تراقيهم يقولون من قول خير البرية يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية " . قال ابو عيسى وفي الباب عن علي وابي سعيد وابي ذر . وهذا حديث حسن صحيح . وقد روي في غير هذا الحديث عن النبي صلى الله عليه وسلم حيث وصف هولاء القوم الذين يقرءون القران لا يجاوز تراقيهم يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية انما هم الخوارج والحرورية وغيرهم من الخوارج
اسید بن حضیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے فلاں کو عامل بنا دیا اور مجھے عامل نہیں بنایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ میرے بعد ( غلط ) ترجیح دیکھو گے، لہٰذا تم اس پر صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے حوض کوثر پر ملو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، حدثنا شعبة، عن قتادة، حدثنا انس بن مالك، عن اسيد بن حضير، ان رجلا، من الانصار قال يا رسول الله استعملت فلانا ولم تستعملني . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انكم سترون بعدي اثرة فاصبروا حتى تلقوني على الحوض " . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میرے بعد عنقریب ( غلط ) ترجیح اور ایسے امور دیکھو گے جنہیں تم برا جانو گے“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسے وقت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”تم حکام کا حق ادا کرنا ( ان کی اطاعت کرنا ) اور اللہ سے اپنا حق مانگو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، عن الاعمش، عن زيد بن وهب، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " انكم سترون بعدي اثرة وامورا تنكرونها " . قالوا فما تامرنا يا رسول الله قال " ادوا اليهم حقهم وسلوا الله الذي لكم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کچھ پہلے پڑھائی پھر خطبہ دینے کھڑے ہوئے، اور آپ نے قیامت تک ہونے والی تمام چیزوں کے بارے میں ہمیں خبر دی، یاد رکھنے والوں نے اسے یاد رکھا اور بھولنے والے بھول گئے، آپ نے جو باتیں بیان فرمائیں اس میں سے ایک بات یہ بھی تھی: ”دنیا میٹھی اور سرسبز ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں خلیفہ بنائے گا ۱؎، پھر دیکھے گا کہ تم کیسا عمل کرتے ہو؟ خبردار! دنیا سے اور عورتوں سے بچ کے رہو“ ۲؎، آپ نے یہ بھی فرمایا: ”خبردار! حق جان لینے کے بعد کسی آدمی کو لوگوں کا خوف اسے بیان کرنے سے نہ روک دے“، ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے روتے ہوئے کہا: اللہ کی قسم! ہم نے بہت ساری چیزیں دیکھی ہیں اور ( بیان کرنے سے ) ڈر گئے آپ نے یہ بھی بیان فرمایا: ”خبردار! قیامت کے دن ہر عہد توڑنے والے کے لیے اس کے عہد توڑنے کے مطابق ایک جھنڈا ہو گا اور امام عام کے عہد توڑنے سے بڑھ کر کوئی عہد توڑنا نہیں، اس عہد کے توڑنے والے کا جھنڈا اس کے سرین کے پاس نصب کیا جائے گا“، اس دن کی جو باتیں ہمیں یاد رہیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی: ”جان لو! انسان مختلف درجہ کے پیدا کیے گئے ہیں کچھ لوگ پیدائشی مومن ہوتے ہیں، مومن بن کر زندگی گزارتے ہیں اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوتے ہیں، کچھ لوگ کافر پیدا ہوتے ہیں، کافر بن کر زندگی گزارتے ہیں اور کفر کی حالت میں مرتے ہیں، کچھ لوگ مومن پیدا ہوتے ہیں، مومن بن کر زندگی گزارتے ہیں اور کفر کی حالت میں ان کی موت آتی ہے، کچھ لوگ کافر پیدا ہوتے ہیں، کافر بن کر زندہ رہتے ہیں، اور ایمان کی حالت میں ان کی موت آتی ہے، کچھ لوگوں کو غصہ دیر سے آتا ہے اور جلد ٹھنڈا ہو جاتا ہے، کچھ لوگوں کو غصہ جلد آتا ہے اور دیر سے ٹھنڈا ہوتا ہے، یہ دونوں برابر ہیں، جان لو! کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں جلد غصہ آتا ہے اور دیر سے ٹھنڈا ہوتا ہے، جان لو! ان میں سب سے بہتر وہ ہیں جو دیر سے غصہ ہوتے ہیں اور جلد ٹھنڈے ہو جاتے ہیں، اور سب سے برے وہ ہیں جو جلد غصہ ہوتے ہیں اور دیر سے ٹھنڈے ہوتے ہیں، جان لو! کچھ لوگ اچھے ڈھنگ سے قرض ادا کرتے ہیں اور اچھے ڈھنگ سے قرض وصول کرتے ہیں، کچھ لوگ بدسلوکی سے قرض ادا کرتے ہیں، اور بدسلوکی سے وصول کرتے ہیں، جان لو! ان میں سب سے اچھا وہ ہے جو اچھے ڈھنگ سے قرض ادا کرتا ہے اور اچھے ڈھنگ سے وصول کرتا ہے، اور سب سے برا وہ ہے جو برے ڈھنگ سے ادا کرتا ہے، اور بدسلوکی سے وصول کرتا ہے، جان لو! غصہ انسان کے دل میں ایک چنگاری ہے کیا تم غصہ ہونے والے کی آنکھوں کی سرخی اور اس کی گردن کی رگوں کو پھولتے ہوئے نہیں دیکھتے ہو؟ لہٰذا جس شخص کو غصہ کا احساس ہو وہ زمین سے چپک جائے“، ابو سعید خدری کہتے ہیں: ہم لوگ سورج کی طرف مڑ کر دیکھنے لگے کہ کیا ابھی ڈوبنے میں کچھ باقی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جان لو! دنیا کے گزرے ہوئے حصہ کی بہ نسبت اب جو حصہ باقی ہے وہ اتنا ہی ہے جتنا حصہ آج کا تمہارے گزرے ہوئے دن کی بہ نسبت باقی ہے“ ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حذیفہ، ابومریم، ابوزید بن اخطب اور مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ان لوگوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے قیامت تک ہونے والی چیزوں کو بیان فرمایا۔
قرہ بن ایاس المزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ملک شام والوں میں خرابی پیدا ہو جائے گی تو تم میں کوئی اچھائی باقی نہیں رہے گی، میری امت کے ایک گروہ کو ہمیشہ اللہ کی مدد سے حاصل رہے گی، اس کی مدد نہ کرنے والے قیامت تک اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن حوالہ، ابن عمر، زید بن ثابت اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری نے کہا کہ علی بن مدینی نے کہا: ان سے مراد اہل حدیث ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، حدثنا شعبة، عن معاوية بن قرة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا فسد اهل الشام فلا خير فيكم لا تزال طايفة من امتي منصورين لا يضرهم من خذلهم حتى تقوم الساعة " . قال محمد بن اسماعيل قال علي بن المديني هم اصحاب الحديث . قال ابو عيسى وفي الباب عن عبد الله بن حوالة وابن عمر وزيد بن ثابت وعبد الله بن عمرو . وهذا حديث حسن صحيح . حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا بهز بن حكيم، عن ابيه، عن جده، قال قلت يا رسول الله اين تامرني قال " ها هنا " . ونحا بيده نحو الشام . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میرے بعد کافر ہو کر ایک دوسرے کی گردنیں مت مارنا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، جریر، ابن عمر، کرز بن علقمہ، واثلہ اور صنابحی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو حفص، عمرو بن علي حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا فضيل بن غزوان، حدثنا عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض " . قال ابو عيسى وفي الباب عن عبد الله بن مسعود وجرير وابن عمر وكرز بن علقمة وواثلة بن الاسقع والصنابحي . وهذا حديث حسن صحيح
بسر بن سعید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ نے عثمان بن عفان رضی الله عنہ کے دور خلافت میں ہونے والے فتنہ کے وقت کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب ایک ایسا فتنہ ہو گا جس میں بیٹھنے والا کھڑا ہونے والے سے بہتر ہو گا، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا“، میں نے عرض کیا: آپ بتائیے اگر کوئی میرے گھر میں گھس آئے اور قتل کرنے کے لیے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھائے تو میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: ”آدم کے بیٹے ( ہابیل ) کی طرح ہو جانا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- بعض لوگوں نے اسے لیث بن سعد سے روایت کرتے ہوئے سند میں «رجلا» ( ایک آدمی ) کا اضافہ کیا ہے، ۳- سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کی روایت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث دوسری سند سے بھی آئی ہے، ۴- اس باب میں ابوہریرہ، خباب بن ارت، ابوبکرہ، ابن مسعود، ابوواقد، ابوموسیٰ اشعری اور خرشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن عياش بن عباس، عن بكير بن عبد الله بن الاشج، عن بسر بن سعيد، ان سعد بن ابي وقاص، قال عند فتنة عثمان بن عفان اشهد ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " انها ستكون فتنة القاعد فيها خير من القايم والقايم خير من الماشي والماشي خير من الساعي " . قال افرايت ان دخل على بيتي وبسط يده الى ليقتلني . قال " كن كابن ادم " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي هريرة وخباب بن الارت وابي بكرة وابن مسعود وابي واقد وابي موسى وخرشة . وهذا حديث حسن . وروى بعضهم هذا الحديث عن الليث بن سعد وزاد في الاسناد رجلا . قال ابو عيسى وقد روي هذا الحديث عن سعد عن النبي صلى الله عليه وسلم من غير هذا الوجه
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ نیک اعمال کی طرف جلدی کرو، ان فتنوں کے خوف سے جو سخت تاریک رات کی طرح ہیں جس میں آدمی صبح کے وقت مومن اور شام کے وقت کافر ہو گا، شام کے وقت مومن اور صبح کے وقت کافر ہو گا، دنیاوی ساز و سامان کے بدلے آدمی اپنا دین بیچ دے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " بادروا بالاعمال فتنا كقطع الليل المظلم يصبح الرجل مومنا ويمسي كافرا ويمسي مومنا ويصبح كافرا يبيع احدهم دينه بعرض من الدنيا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات بیدار ہوئے اور فرمایا: ”سبحان اللہ! آج کی رات کتنے فتنے اور کتنے خزانے نازل ہوئے! حجرہ والیوں ( امہات المؤمنین ) کو کوئی جگانے والا ہے؟ سنو! دنیا میں کپڑا پہننے والی بہت سی عورتیں آخرت میں ننگی ہوں گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سويد بن نصر، حدثنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن هند بنت الحارث، عن ام سلمة، ان النبي صلى الله عليه وسلم استيقظ ليلة فقال " سبحان الله ماذا انزل الليلة من الفتنة ماذا انزل من الخزاين من يوقظ صواحب الحجرات يا رب كاسية في الدنيا عارية في الاخرة " . هذا حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے سخت تاریک رات کی طرح فتنے ( ظاہر ) ہوں گے، جن میں آدمی صبح کو مومن ہو گا اور شام میں کافر ہو جائے گا، شام میں مومن ہو گا اور صبح کو کافر ہو جائے گا، دنیاوی ساز و سامان کے بدلے کچھ لوگ اپنا دین بیچ دیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، جندب، نعمان بن بشیر اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث بن سعد، عن يزيد بن ابي حبيب، عن سعد بن سنان، عن انس بن مالك، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " تكون بين يدى الساعة فتن كقطع الليل المظلم يصبح الرجل فيها مومنا ويمسي كافرا ويمسي مومنا ويصبح كافرا يبيع اقوام دينهم بعرض من الدنيا " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي هريرة وجندب والنعمان بن بشير وابي موسى . وهذا حديث غريب من هذا الوجه
حدثنا عمران بن موسى القزاز البصري، حدثنا حماد بن زيد، حدثنا علي بن زيد بن جدعان القرشي، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد الخدري، قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما صلاة العصر بنهار ثم قام خطيبا فلم يدع شييا يكون الى قيام الساعة الا اخبرنا به حفظه من حفظه ونسيه من نسيه وكان فيما قال " ان الدنيا حلوة خضرة وان الله مستخلفكم فيها فناظر كيف تعملون الا فاتقوا الدنيا واتقوا النساء " . وكان فيما قال " الا لا يمنعن رجلا هيبة الناس ان يقول بحق اذا علمه " . قال فبكى ابو سعيد فقال قد والله راينا اشياء فهبنا . وكان فيما قال " الا انه ينصب لكل غادر لواء يوم القيامة بقدر غدرته ولا غدرة اعظم من غدرة امام عامة يركز لواوه عند استه " . وكان فيما حفظنا يوميذ " الا ان بني ادم خلقوا على طبقات شتى فمنهم من يولد مومنا ويحيا مومنا ويموت مومنا ومنهم من يولد كافرا ويحيا كافرا ويموت كافرا ومنهم من يولد مومنا ويحيا مومنا ويموت كافرا ومنهم من يولد كافرا ويحيا كافرا ويموت مومنا الا وان منهم البطيء الغضب سريع الفىء ومنهم سريع الغضب سريع الفىء فتلك بتلك الا وان منهم سريع الغضب بطيء الفىء الا وخيرهم بطيء الغضب سريع الفىء الا وشرهم سريع الغضب بطيء الفىء الا وان منهم حسن القضاء حسن الطلب ومنهم سيي القضاء حسن الطلب ومنهم حسن القضاء سيي الطلب فتلك بتلك الا وان منهم السيي القضاء السيي الطلب الا وخيرهم الحسن القضاء الحسن الطلب الا وشرهم سيي القضاء سيي الطلب الا وان الغضب جمرة في قلب ابن ادم اما رايتم الى حمرة عينيه وانتفاخ اوداجه فمن احس بشيء من ذلك فليلصق بالارض " . قال وجعلنا نلتفت الى الشمس هل بقي منها شيء فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا انه لم يبق من الدنيا فيما مضى منها الا كما بقي من يومكم هذا فيما مضى منه " . قال ابو عيسى وفي الباب عن حذيفة وابي مريم وابي زيد بن اخطب والمغيرة بن شعبة وذكروا ان النبي صلى الله عليه وسلم حدثهم بما هو كاين الى ان تقوم الساعة . وهذا حديث حسن