Loading...

Loading...
کتب
۱۱۲ احادیث
حسن بصری کہتے ہیں کہ اس حدیث صبح کو آدمی مومن ہو گا اور شام کو کافر ہو جائے گا اور شام کو مومن ہو گا اور صبح کو کافر ہو جائے گا، کا مطلب یہ ہے کہ آدمی صبح کو اپنے بھائی کی جان، عزت اور مال کو حرام سمجھے گا اور شام کو حلال سمجھے گا۔
حدثنا صالح بن عبد الله، حدثنا جعفر بن سليمان، عن هشام، عن الحسن، قال كان يقول في هذا الحديث " يصبح الرجل مومنا ويمسي كافرا ويمسي مومنا ويصبح كافرا " . قال يصبح الرجل محرما لدم اخيه وعرضه وماله ويمسي مستحلا له ويمسي محرما لدم اخيه وعرضه وماله ويصبح مستحلا له
وائل بن حجر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، اس وقت آپ سے ایک آدمی سوال کرتے ہوئے کہہ رہا تھا: آپ بتائیے اگر ہمارے اوپر ایسے حکام الحکمرانی کریں جو ہمارا حق نہ دیں اور اپنے حق کا مطالبہ کریں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا حکم سنو اور ان کی اطاعت کرو، اس لیے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کے جواب دہ ہیں اور تم اپنی ذمہ داریوں کے جواب دہ ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا شعبة، عن سماك بن حرب، عن علقمة بن وايل بن حجر، عن ابيه، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ورجل ساله فقال ارايت ان كان علينا امراء يمنعونا حقنا ويسالونا حقهم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اسمعوا واطيعوا فانما عليهم ما حملوا وعليكم ما حملتم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے بعد ایسے دن آنے والے ہیں جس میں علم اٹھا لیا جائے گا، اور ہرج زیادہ ہو جائے گا“، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہرج کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: ”قتل و خوں ریزی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، خالد بن ولید اور معقل بن یسار رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن شقيق بن سلمة، عن ابي موسى، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من ورايكم اياما يرفع فيها العلم ويكثر فيها الهرج " . قالوا يا رسول الله ما الهرج قال " القتل " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي هريرة وخالد بن الوليد ومعقل بن يسار . وهذا حديث صحيح
معقل بن یسار رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قتل و خوں ریزی کے زمانہ میں عبادت کرنا میری طرف ہجرت کرنے کے مانند ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف حماد بن زید کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ معلی سے روایت کرتے ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن المعلى بن زياد، رده الى معاوية بن قرة رده الى معقل بن يسار رده الى النبي صلى الله عليه وسلم قال " العبادة في الهرج كالهجرة الى " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح غريب انما نعرفه من حديث حماد بن زيد عن المعلى
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میری امت میں تلوار چل پڑے گی تو وہ قیامت تک نہ رکے گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن ابي اسماء، عن ثوبان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا وضع السيف في امتي لم يرفع عنها الى يوم القيامة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عدیسہ بنت اہبان غفاری کہتی ہیں کہ میرے والد کے پاس علی رضی الله عنہ آئے اور ان کو اپنے ساتھ لڑائی کے لیے نکلنے کو کہا، ان سے میرے والد نے کہا: میرے دوست اور آپ کے چچا زاد بھائی ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مجھے وصیت کی کہ ”جب لوگوں میں اختلاف ہو جائے تو میں لکڑی کی تلوار بنا لوں“، لہٰذا میں نے بنا لی ہے، اگر آپ چاہیں تو اسے لے کر آپ کے ساتھ نکلوں، عدیسہ کہتی ہیں: چنانچہ علی رضی الله عنہ نے میرے والد کو چھوڑ دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن عبیداللہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں محمد بن مسلمہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، عن عبد الله بن عبيد، عن عديسة بنت اهبان بن صيفي الغفاري، قالت جاء علي بن ابي طالب الى ابي فدعاه الى الخروج معه فقال له ابي ان خليلي وابن عمك عهد الى اذا اختلف الناس ان اتخذ سيفا من خشب فقد اتخذته فان شيت خرجت به معك . قالت فتركه . قال ابو عيسى وفي الباب عن محمد بن مسلمة . وهذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث عبد الله بن عبيد
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنہ کے بارے میں فرمایا: ”اس وقت تم اپنی کمانیں توڑ ڈالو، کمانوں کی تانت کاٹ ڈالو، اپنے گھروں کے اندر چپکے بیٹھے رہو اور آدم کے بیٹے ( ہابیل ) کے مانند ہو جاؤ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، حدثنا سهل بن حماد، حدثنا همام، حدثنا محمد بن جحادة، عن عبد الرحمن بن ثروان، عن هزيل بن شرحبيل، عن ابي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال في الفتنة " كسروا فيها قسيكم وقطعوا فيها اوتاركم والزموا فيها اجواف بيوتكم وكونوا كابن ادم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح . وعبد الرحمن بن ثروان هو ابو قيس الاودي
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں تم لوگوں سے ایک ایسی حدیث بیان کر رہا ہوں جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور میرے بعد تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث کوئی نہیں بیان کرے گا ۱؎، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے: علم کا اٹھایا جانا، جہالت کا پھیل جانا، زنا کا عام ہو جانا، شراب نوشی، عورتوں کی کثرت اور مردوں کی قلت یہاں تک کہ پچاس عورتوں پر ایک نگراں ہو گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوموسیٰ اشعری اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا النضر بن شميل، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن انس بن مالك، انه قال احدثكم حديثا سمعته من، رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يحدثكم احد بعدي انه سمعه من رسول الله صلى الله عليه وسلم قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من اشراط الساعة ان يرفع العلم ويظهر الجهل ويفشو الزنا وتشرب الخمر ويكثر النساء ويقل الرجال حتى يكون لخمسين امراة قيم واحد " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي موسى وابي هريرة . وهذا حديث حسن صحيح
زبیر بن عدی کہتے ہیں کہ ہم لوگ انس بن مالک رضی الله عنہ کے گھر گئے اور ان سے حجاج کے مظالم کی شکایت کی، تو انہوں نے کہا: ”آنے والا ہر سال ( گزرے ہوئے سال سے ) برا ہو گا، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو“، اسے میں نے تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سفيان الثوري، عن الزبير بن عدي، قال دخلنا على انس بن مالك قال فشكونا اليه ما نلقى من الحجاج فقال " ما من عام الا الذي بعده شر منه حتى تلقوا ربكم " . سمعت هذا من نبيكم صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک روئے زمین پر اللہ اللہ کہا جائے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، عن حميد، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقوم الساعة حتى لا يقال في الارض الله الله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا خالد بن الحارث، عن حميد، عن انس، نحوه ولم يرفعه وهذا اصح من الحديث الاول
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( قیامت کے قریب ) زمین اپنے جگر گوشے یعنی کھمبے کی طرح سونا اور چاندی اگلے گی، اس وقت چور آئے گا اور کہے گا: اسی کے لیے میرا ہاتھ کاٹا گیا ہے، قاتل آئے گا اور کہے گا: اسی کے لیے میں نے قتل کیا ہے، رشتہ ناطہٰ توڑنے والا آئے گا اور کہے گا: اسی کے لیے میں نے رشتہ ناطہٰ توڑا تھا، پھر وہ لوگ اسے چھوڑ دیں گے اور اس میں سے کچھ نہیں لیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا واصل بن عبد الاعلى الكوفي، حدثنا محمد بن فضيل، عن ابيه، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تقيء الارض افلاذ كبدها امثال الاسطوان من الذهب والفضة قال فيجيء السارق فيقول في مثل هذا قطعت يدي ويجيء القاتل فيقول في هذا قتلت ويجيء القاطع فيقول في هذا قطعت رحمي ثم يدعونه فلا ياخذون منه شييا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک بیوقوفوں کی اولاد دنیا میں سب سے زیادہ خوش نصیب نہ ہو جائیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے، ہم اسے صرف عمرو بن ابی عمرو کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عمرو بن ابي عمرو، ح قال وحدثنا علي بن حجر، اخبرنا اسماعيل بن جعفر، عن عمرو بن ابي عمرو، عن عبد الله، وهو ابن عبد الرحمن الانصاري الاشهلي عن حذيفة بن اليمان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقوم الساعة حتى يكون اسعد الناس بالدنيا لكع ابن لكع " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب انما نعرفه من حديث عمرو بن ابي عمرو
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میری امت پندرہ چیزیں کرنے لگے تو اس پر مصیبت نازل ہو گی“، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کون کون سی چیزیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”جب مال غنیمت کو دولت، امانت کو غنیمت اور زکاۃ کو تاوان سمجھا جائے، آدمی اپنی بیوی کی فرمانبرداری کرے، اور اپنی ماں کی نافرمانی کرے گا، اپنے دوست پر احسان کرے اور اپنے باپ پر ظلم کرے، مساجد میں آوازیں بلند ہونے لگیں، رذیل آدمی قوم کا لیڈر بن جائے گا، شر کے خوف سے آدمی کی عزت کی جائے، شراب پی جائے، ریشم پہنا جائے، ( گھروں میں ) گانے والی لونڈیاں اور باجے رکھے جائیں اور اس امت کے آخر میں آنے والے پہلے والوں پر لعنت بھیجیں تو اس وقت تم سرخ آندھی یا زمین دھنسنے اور صورت تبدیل ہونے کا انتظار کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی سند سے علی بن ابوطالب کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- ہم فرج بن فضالہ کے علاوہ دوسرے کسی کو نہیں جانتے جس نے یہ حدیث یحییٰ بن سعید انصاری سے روایت کی ہو اور فرج بن فضالہ کے بارے میں کچھ محدثین نے کلام کیا ہے اور ان کے حافظے کے تعلق سے انہیں ضعیف کہا ہے، ان سے وکیع اور کئی ائمہ نے روایت حدیث کی ہے۔
حدثنا صالح بن عبد الله الترمذي، حدثنا الفرج بن فضالة ابو فضالة الشامي، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن عمرو بن علي، عن علي بن ابي طالب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا فعلت امتي خمس عشرة خصلة حل بها البلاء " . فقيل وما هن يا رسول الله قال " اذا كان المغنم دولا والامانة مغنما والزكاة مغرما واطاع الرجل زوجته وعق امه وبر صديقه وجفا اباه وارتفعت الاصوات في المساجد وكان زعيم القوم ارذلهم واكرم الرجل مخافة شره وشربت الخمور ولبس الحرير واتخذت القينات والمعازف ولعن اخر هذه الامة اولها فليرتقبوا عند ذلك ريحا حمراء او خسفا ومسخا " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه من حديث علي بن ابي طالب الا من هذا الوجه ولا نعلم احدا رواه عن يحيى بن سعيد الانصاري غير الفرج بن فضالة . والفرج بن فضالة قد تكلم فيه بعض اهل الحديث وضعفه من قبل حفظه وقد رواه عنه وكيع وغير واحد من الايمة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مال غنیمت کو دولت، امانت کو مال غنیمت اور زکاۃ کو تاوان سمجھا جائے، دین کی تعلیم کسی دوسرے مقصد سے حاصل کی جائے، آدمی اپنی بیوی کی فرمانبرداری کرے، اور اپنی ماں کی نافرمانی کرے، اپنے دوست کو قریب کرے اور اپنے باپ کو دور کرے گا، مساجد میں آوازیں بلند ہونے لگیں، فاسق و فاجر آدمی قبیلہ کا سردار بن جائے، گھٹیا اور رذیل آدمی قوم کا لیڈر بن جائے گا، شر کے خوف سے آدمی کی عزت کی جائے گی، گانے والی عورتیں اور باجے عام ہو جائیں، شراب پی جائے اور اس امت کے آخر میں آنے والے اپنے سے پہلے والوں پر لعنت بھیجیں گے تو اس وقت تم سرخ آندھی، زلزلہ، زمین دھنسنے، صورت تبدیل ہونے، پتھر برسنے اور مسلسل ظاہر ہونے والی علامتوں کا انتظار کرو، جو اس پرانی لڑی کی طرح مسلسل نازل ہوں گی جس کا دھاگہ ٹوٹ گیا ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا محمد بن يزيد الواسطي، عن المستلم بن سعيد، عن رميح الجذامي، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اتخذ الفىء دولا والامانة مغنما والزكاة مغرما وتعلم لغير الدين واطاع الرجل امراته وعق امه وادنى صديقه واقصى اباه وظهرت الاصوات في المساجد وساد القبيلة فاسقهم وكان زعيم القوم ارذلهم واكرم الرجل مخافة شره وظهرت القينات والمعازف وشربت الخمور ولعن اخر هذه الامة اولها فليرتقبوا عند ذلك ريحا حمراء وزلزلة وخسفا ومسخا وقذفا وايات تتابع كنظام بال قطع سلكه فتتابع " . قال ابو عيسى وفي الباب عن علي . وهذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت میں «خسف»، «مسخ» اور «قذف» واقع ہو گا“ ۱؎، ایک مسلمان نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسا کب ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”جب ناچنے والیاں اور باجے عام ہو جائیں گے اور شراب خوب پی جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث «عن الأعمش عن عبدالرحمٰن بن سابط عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مرسلاً مروی ہے، ۲- یہ حدیث غریب ہے۔
حدثنا عباد بن يعقوب الكوفي، حدثنا عبد الله بن عبد القدوس، عن الاعمش، عن هلال بن يساف، عن عمران بن حصين، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " في هذه الامة خسف ومسخ وقذف " . فقال رجل من المسلمين يا رسول الله ومتى ذاك قال " اذا ظهرت القينات والمعازف وشربت الخمور " . قال ابو عيسى وقد روي هذا الحديث عن الاعمش عن عبد الرحمن بن سابط عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا وهذا حديث غريب
مستورد بن شداد فہری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں قیامت کے زمانہ ہی میں بھیجا گیا پھر میں اس پر سبقت لے گیا جیسے یہ انگلی اس انگلی پر سبقت لے گئی، اور آپ نے اپنی شہادت اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث مستورد بن شداد کی روایت سے غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا محمد بن عمر بن هياج الاسدي الكوفي، حدثنا يحيى بن عبد الرحمن الارحبي، حدثنا عبيدة بن الاسود، عن مجالد، عن قيس بن ابي حازم، عن المستورد بن شداد الفهري، روى عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " بعثت في نفس الساعة فسبقتها كما سبقت هذه هذه " . لاصبعيه السبابة والوسطى . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من حديث المستورد بن شداد لا نعرفه الا من هذا الوجه
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اور قیامت اس طرح بھیجے گئے ہیں“ ( یہ بتانے کے لیے ) ابوداؤد نے شہادت اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا، چنانچہ ان دونوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، انبانا شعبة، عن قتادة، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بعثت انا والساعة كهاتين " . واشار ابو داود بالسبابة والوسطى فما فضل احداهما على الاخرى . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ تم ایسی قوم سے لڑو جس کے جوتے بال کے ہوں گے، اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ تم ایسی قوم سے لڑو جس کے چہرے تہہ بہ تہہ جمی ہوئی ڈھالوں کے مانند ہوں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوبکر صدیق، بریدہ، ابوسعید، عمرو بن تغلب اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي، وعبد الجبار بن العلاء، قالا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تقوم الساعة حتى تقاتلوا قوما نعالهم الشعر ولا تقوم الساعة حتى تقاتلوا قوما كان وجوههم المجان المطرقة " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي بكر الصديق وبريدة وابي سعيد وعمرو بن تغلب ومعاوية . وهذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسریٰ ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہو گا، جب قیصر ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہو گا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم ان کے خزانے کو اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے ( اور یہ واقع ہو چکا ہے ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سعيد بن عبد الرحمن، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا هلك كسرى فلا كسرى بعده واذا هلك قيصر فلا قيصر بعده والذي نفسي بيده لتنفقن كنوزهما في سبيل الله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے حضر موت یا حضر موت کے سمندر کی طرف سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو اکٹھا کرے گی“، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”تم شام چلے جانا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابن عمر رضی الله عنہما کی روایت سے حسن غریب صحیح ہے، ۲- اس باب میں حذیفہ بن اسید، انس، ابوہریرہ اور ابوذر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا حسين بن محمد البغدادي، حدثنا شيبان، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي قلابة، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ستخرج نار من حضرموت او من نحو حضرموت قبل يوم القيامة تحشر الناس " . قالوا يا رسول الله فما تامرنا قال " عليكم بالشام " . قال ابو عيسى وفي الباب عن حذيفة بن اسيد وانس وابي هريرة وابي ذر . وهذا حديث حسن غريب صحيح من حديث ابن عمر