Loading...

Loading...
کتب
۱۱۲ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ تقریباً تیس دجال اور کذاب نکلیں گے، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر بن سمرہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن همام بن منبه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقوم الساعة حتى ينبعث دجالون كذابون قريب من ثلاثين كلهم يزعم انه رسول الله " . قال ابو عيسى وفي الباب عن جابر بن سمرة وابن عمر . وهذا حديث حسن صحيح
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ میری امت کے کچھ قبیلے مشرکین سے مل جائیں، اور بتوں کی پرستش کریں، اور میری امت میں عنقریب تیس جھوٹے ( دعویدار ) نکلیں گے، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبین ہوں میرے بعد کوئی ( دوسرا ) نبی نہیں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن ابي اسماء الرحبي، عن ثوبان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقوم الساعة حتى تلحق قبايل من امتي بالمشركين وحتى يعبدوا الاوثان وانه سيكون في امتي ثلاثون كذابون كلهم يزعم انه نبي وانا خاتم النبيين لا نبي بعدي " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنو ثقیف میں ایک جھوٹا اور ہلاک کرنے والا ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: کہا جاتا ہے کذاب اور جھوٹے سے مراد مختار بن ابی عبید ثقفی اور ہلاک کرنے والا سے مراد حجاج بن یوسف ہے ۱؎۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا الفضل بن موسى، عن شريك بن عبد الله، عن عبد الله بن عصم، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " في ثقيف كذاب ومبير " . قال ابو عيسى يقال الكذاب المختار بن ابي عبيد والمبير الحجاج بن يوسف . حدثنا ابو داود سليمان بن سلم البلخي اخبرنا النضر بن شميل عن هشام بن حسان قال احصوا ما قتل الحجاج صبرا فبلغ ماية الف وعشرين الف قتيل . قال ابو عيسى وفي الباب عن اسماء بنت ابي بكر . حدثنا عبد الرحمن بن واقد، حدثنا شريك، نحوه بهذا الاسناد . وهذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث شريك . وشريك يقول عبد الله بن عصم واسراييل يقول عبد الله بن عصمة
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”تمام لوگوں سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں، پھر ان کے بعد آنے والے، پھر ان کے بعد آنے والے، پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو موٹے تازے ہوں گے، موٹاپا پسند کریں گے اور گواہی طلب کرنے سے پہلے ہی گواہی دیتے پھریں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: محمد بن فضیل نے یہ حدیث اسی طرح «عن الأعمش عن علي بن مدرك عن هلال بن يساف» کی سند سے روایت کی ہے، کئی حفاظ نے اسے «عن الأعمش عن هلال بن يساف» کی سند سے روایت کی ہے، اس میں علی بن مدرک کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا واصل بن عبد الاعلى، حدثنا محمد بن الفضيل، عن الاعمش، عن علي بن مدرك، عن هلال بن يساف، عن عمران بن حصين، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " خير الناس قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم ياتي من بعدهم قوم يتسمنون ويحبون السمن يعطون الشهادة قبل ان يسالوها " . قال ابو عيسى هكذا روى محمد بن فضيل هذا الحديث عن الاعمش عن علي بن مدرك عن هلال بن يساف وروى غير واحد من الحفاظ هذا الحديث عن الاعمش عن هلال بن يساف ولم يذكروا فيه علي بن مدرك . قال وحدثنا الحسين بن حريث، حدثنا وكيع، عن الاعمش، حدثنا هلال بن يساف، عن عمران بن حصين، عن النبي صلى الله عليه وسلم فذكر نحوه . وهذا اصح عندي من حديث محمد بن فضيل وقد روي من غير وجه عن عمران بن حصين عن النبي صلى الله عليه وسلم
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جن کے درمیان میں بھیجا گیا ہوں، پھر وہ لوگ ہیں جو ان کے بعد ہوں گے“، عمران بن حصین کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے تیسرے زمانہ کا ذکر کیا یا نہیں، ”پھر اس کے بعدا یسے لوگ پیدا ہوں گے جن سے گواہی نہیں طلب کی جائے گی پھر بھی گواہی دیتے رہیں گے، خیانت کریں گے امانت دار نہیں ہوں گے اور ان میں موٹاپا عام ہو جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن زرارة بن اوفى، عن عمران بن حصين، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خير امتي القرن الذي بعثت فيهم ثم الذين يلونهم " . قال ولا اعلم ذكر الثالث ام لا " ثم ينشا اقوام يشهدون ولا يستشهدون ويخونون ولا يوتمنون ويفشو فيهم السمن " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد بارہ امیر ( خلیفہ ) ہوں گے“، پھر آپ نے کوئی ایسی بات کہی جسے میں نہیں سمجھ سکا، لہٰذا میں نے اپنے قریب بیٹھے ہوئے آدمی سے سوال کیا تو اس نے کہا کہ آپ نے فرمایا: ”یہ بارہ کے بارہ ( خلیفہ ) قبیلہ قریش سے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابو كريب، محمد بن العلاء حدثنا عمر بن عبيد الطنافسي، عن سماك بن حرب، عن جابر بن سمرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يكون من بعدي اثنا عشر اميرا " . قال ثم تكلم بشيء لم افهمه فسالت الذي يليني فقال قال " كلهم من قريش " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . حدثنا ابو كريب، حدثنا عمر بن عبيد، عن ابيه، عن ابي بكر بن ابي موسى، عن جابر بن سمرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثل هذا الحديث وقد روي من غير وجه عن جابر بن سمرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب يستغرب من حديث ابي بكر بن ابي موسى عن جابر بن سمرة . وفي الباب عن ابن مسعود وعبد الله بن عمرو
زیاد بن کسیب عدوی کہتے ہیں کہ میں ابوبکرہ رضی الله عنہ کے ساتھ ابن عامر کے منبر کے نیچے تھا، اور وہ خطبہ دے رہے تھے، ان کے بدن پر باریک کپڑا تھا، ابوبلال نے کہا: ہمارے امیر کو دیکھو فاسقوں کا لباس پہن رکھا ہے، ابوبکرہ رضی الله عنہ نے کہا: خاموش رہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو شخص زمین پر اللہ کے بنائے ہوئے سلطان ( حاکم ) کو ذلیل کرے تو اللہ اسے ذلیل کرے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا بندار، حدثنا ابو داود، حدثنا حميد بن مهران، عن سعد بن اوس، عن زياد بن كسيب العدوي، قال كنت مع ابي بكرة تحت منبر ابن عامر وهو يخطب وعليه ثياب رقاق فقال ابو بلال انظروا الى اميرنا يلبس ثياب الفساق . فقال ابو بكرة اسكت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من اهان سلطان الله في الارض اهانه الله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے کہا گیا: کاش! آپ کسی کو خلیفہ نامزد کر دیتے، انہوں نے کہا: اگر میں کسی کو خلیفہ مقرر کروں تو ابوبکر رضی الله عنہ نے خلیفہ مقرر کیا ہے اور اگر کسی کو خلیفہ نہ مقرر کروں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلیفہ نہیں مقرر کیا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث میں ایک قصہ بھی مذکور ہے ۲؎، ۲- یہ حدیث صحیح ہے، اور کئی سندوں سے ابن عمر رضی الله عنہما سے مروی ہے۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن ابيه، قال قيل لعمر بن الخطاب لو استخلفت قال ان استخلف فقد استخلف ابو بكر وان لم استخلف لم يستخلف رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى وفي الحديث قصة طويلة . وهذا حديث صحيح قد روي من غير وجه عن ابن عمر
سعید بن جمہان کہتے ہیں کہ ہم سے سفینہ رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں تیس سال تک خلافت رہے گی، پھر اس کے بعد ملوکیت آ جائے گی“، پھر مجھ سے سفینہ رضی الله عنہ نے کہا: ابوبکر رضی الله عنہ کی خلافت، عمر رضی الله عنہ کی خلافت، عثمان رضی الله عنہ کی خلافت اور علی رضی الله عنہ کی خلافت، شمار کرو ۱؎، راوی حشرج بن نباتہ کہتے ہیں کہ ہم نے اسے تیس سال پایا، سعید بن جمہان کہتے ہیں کہ میں نے سفینہ رضی الله عنہ سے کہا: بنو امیہ یہ سمجھتے ہیں کہ خلافت ان میں ہے؟ کہا: بنو زرقاء جھوٹ اور غلط کہتے ہیں، بلکہ ان کا شمار تو بدترین بادشاہوں میں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- کئی لوگوں نے یہ حدیث سعید بن جمہان سے روایت کی ہے، ہم اسے صرف سعید بن جمہان ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں عمر اور علی رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلافت کے بارے میں کسی چیز کی وصیت نہیں فرمائی۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا سريج بن النعمان، حدثنا حشرج بن نباتة، عن سعيد بن جمهان، قال حدثني سفينة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الخلافة في امتي ثلاثون سنة ثم ملك بعد ذلك " . ثم قال لي سفينة امسك خلافة ابي بكر وخلافة عمر وخلافة عثمان . ثم قال لي امسك خلافة علي . قال فوجدناها ثلاثين سنة . قال سعيد فقلت له ان بني امية يزعمون ان الخلافة فيهم . قال كذبوا بنو الزرقاء بل هم ملوك من شر الملوك . قال ابو عيسى وفي الباب عن عمر وعلي قالا لم يعهد النبي صلى الله عليه وسلم في الخلافة شييا . وهذا حديث حسن قد رواه غير واحد عن سعيد بن جمهان ولا نعرفه الا من حديث سعيد بن جمهان
عبداللہ بن ابی ہذیل کہتے ہیں کہ قبیلہ ربیعہ کے کچھ لوگ عمرو بن العاص رضی الله عنہ کے پاس تھے، قبیلہ بکر بن وائل کے ایک آدمی نے کہا: قریش باز رہیں ۱؎، ورنہ اللہ تعالیٰ خلافت کو ان کے علاوہ جمہور عرب میں کر دے گا، عمرو بن العاص رضی الله عنہ نے کہا: تم جھوٹ اور غلط کہہ رہے ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قریش قیامت تک خیر ( اسلام ) و شر ( جاہلیت ) میں لوگوں کے حاکم ہیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، ابن عمر اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا حسين بن محمد البصري، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا شعبة، عن حبيب بن الزبير، قال سمعت عبد الله بن ابي الهذيل، يقول كان ناس من ربيعة عند عمرو بن العاصي فقال رجل من بكر بن وايل لتنتهين قريش او ليجعلن الله هذا الامر في جمهور من العرب غيرهم . فقال عمرو بن العاصي كذبت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " قريش ولاة الناس في الخير والشر الى يوم القيامة " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابن مسعود وابن عمر وجابر . وهذا حديث حسن غريب صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات اور دن اس وقت تک باقی رہیں گے ( یعنی قیامت نہیں آئے گی ) یہاں تک کہ جہجاہ نامی ایک غلام بادشاہت کرے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن بشار العبدي، حدثنا ابو بكر الحنفي، عن عبد الحميد بن جعفر، عن عمر بن الحكم، قال سمعت ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يذهب الليل والنهار حتى يملك رجل من الموالي يقال له جهجاه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنی امت پر گمراہ کن اماموں ( حاکموں ) سے ڈرتا ہوں“ ۱؎، نیز فرمایا: ”میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر غالب رہے گی، ان کی مدد نہ کرنے والے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا حکم ( قیامت ) آ جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ میں نے علی بن مدینی کو کہتے سنا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ”میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر غالب رہے گی“ ذکر کی اور کہا: وہ اہل حدیث ہیں۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن ابي اسماء الرحبي، عن ثوبان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما اخاف على امتي الايمة المضلين " . قال وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تزال طايفة من امتي على الحق ظاهرين لا يضرهم من يخذلهم حتى ياتي امر الله " . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن صحيح . قال سمعت محمد بن اسماعيل يقول سمعت علي بن المديني يقول وذكر هذا الحديث عن النبي صلى الله عليه وسلم " لا تزال طايفة من امتي ظاهرين على الحق " . فقال علي هم اهل الحديث
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک کہ میرے گھرانے کا ایک آدمی جو میرا ہم نام ہو گا عرب کا بادشاہ نہ بن جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، ابو سعید خدری، ام سلمہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا عبيد بن اسباط بن محمد القرشي الكوفي، قال حدثني ابي، حدثنا سفيان الثوري، عن عاصم بن بهدلة، عن زر، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تذهب الدنيا حتى يملك العرب رجل من اهل بيتي يواطي اسمه اسمي " . قال ابو عيسى وفي الباب عن علي وابي سعيد وام سلمة وابي هريرة . وهذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے گھرانے کا ایک آدمی جو میرا ہم نام ہو گا حکومت کرے گا“۔ ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: اگر دنیا کا صرف ایک دن بھی باقی رہے تو اللہ تعالیٰ اس دن کو لمبا کر دے گا یہاں تک کہ وہ آدمی حکومت کر لے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبد الجبار بن العلاء بن عبد الجبار العطار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عاصم، عن زر، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يلي رجل من اهل بيتي يواطي اسمه اسمي " . قال عاصم واخبرنا ابو صالح، عن ابي هريرة، قال لو لم يبق من الدنيا الا يوم لطول الله ذلك اليوم حتى يلي . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم اس بات سے ڈرے کہ ہمارے نبی کے بعد کچھ حادثات پیش آئیں، لہٰذا ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ”میری امت میں مہدی ہیں جو نکلیں گے اور پانچ، سات یا نو تک زندہ رہیں گے، ( اس گنتی میں زیدالعمی کی طرف سے شک ہوا ہے“، راوی کہتے ہیں: ہم نے عرض کیا: ان گنتیوں سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: سال ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ان کے پاس ایک آدمی آئے گا اور کہے گا: مہدی! مجھے دیجئیے، مجھے دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”وہ اس آدمی کے کپڑے میں ( دینار و درہم ) اتنا رکھ دیں گے کہ وہ اٹھا نہ سکے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابو سعید خدری کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی سندوں سے یہ حدیث مروی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، قال سمعت زيدا العمي، قال سمعت ابا الصديق الناجي، يحدث عن ابي سعيد الخدري، قال خشينا ان يكون، بعد نبينا حدث فسالنا نبي الله صلى الله عليه وسلم فقال " ان في امتي المهدي يخرج يعيش خمسا او سبعا او تسعا " . زيد الشاك . قال قلنا وما ذاك قال " سنين " . قال " فيجيء اليه رجل فيقول يا مهدي اعطني اعطني " . قال " فيحثي له في ثوبه ما استطاع ان يحمله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن وقد روي من غير وجه عن ابي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم . وابو الصديق الناجي اسمه بكر بن عمرو ويقال بكر بن قيس
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! عنقریب تمہارے درمیان عیسیٰ بن مریم حاکم اور منصف بن کر اتریں گے، وہ صلیب کو توڑیں گے، سور کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کر دیں گے، اور مال کی زیادتی اس طرح ہو جائے گی کہ اسے کوئی قبول کرنے والا نہ ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث بن سعد، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكما مقسطا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله احد " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوعبیدہ بن جراح رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”نوح علیہ السلام کے بعد کوئی نبی ایسا نہیں ہے جس نے اپنی امت کو دجال سے نہ ڈرایا ہو اور میں بھی تمہیں اس سے ڈرا رہا ہوں“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اس کا حال بیان کیا اور فرمایا: ”ہو سکتا ہے مجھے دیکھنے والے یا میری بات سننے والے کچھ لوگ اسے پا لیں“، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس دن ہمارے دل کیسے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”آج کی طرح یا اس سے بہتر“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابوعبیدہ بن جراح کی روایت سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن بسر، عبداللہ بن حارث بن جزی، عبداللہ بن مغفل اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا عبد الله بن معاوية الجمحي، حدثنا حماد بن سلمة، عن خالد الحذاء، عن عبد الله بن شقيق، عن عبد الله بن سراقة، عن ابي عبيدة بن الجراح، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " انه لم يكن نبي بعد نوح الا قد انذر الدجال قومه واني انذركموه " . فوصفه لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " لعله سيدركه بعض من راني او سمع كلامي " . قالوا يا رسول الله فكيف قلوبنا يوميذ قال " مثلها يعني اليوم او خير " . قال ابو عيسى وفي الباب عن عبد الله بن بسر وعبد الله بن الحارث بن جزى وعبد الله بن مغفل وابي هريرة . وهذا حديث حسن غريب من حديث ابي عبيدة بن الجراح لا نعرفه الا من حديث خالد الحذاء وقد رواه شعبة ايضا عن خالد الحذاء . وابو عبيدة بن الجراح اسمه عامر بن عبد الله بن الجراح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور اللہ کی شان کے لائق اس کی تعریف کی پھر دجال کا ذکر کیا اور فرمایا: ”میں تمہیں دجال سے ڈرا رہا ہوں اور تمام نبیوں نے اس سے اپنی قوم کو ڈرایا ہے، نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا ہے، لیکن میں اس کے بارے میں تم سے ایک ایسی بات کہہ رہا ہوں جسے کسی نبی نے اپنی قوم سے نہیں کہی، تم لوگ اچھی طرح جان لو گے کہ وہ کانا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں“، زہری کہتے ہیں: ہمیں عمر بن ثابت انصاری نے خبر دی کہ انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس دن لوگوں کو دجال کے فتنے سے ڈرا رہے تھے ( اس دن ) آپ نے فرمایا: ”تم جانتے ہو کہ کوئی آدمی اپنے رب کو مرنے سے پہلے نہیں دیکھ سکتا، اور اس کی آنکھوں کے درمیان ”ک، ف، ر“ لکھا ہو گا، اس کے عمل کو ناپسند سمجھنے والے اسے پڑھ لیں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، اخبرنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، قال قام رسول الله صلى الله عليه وسلم في الناس فاثنى على الله بما هو اهله ثم ذكر الدجال فقال " اني لانذركموه وما من نبي الا وقد انذر قومه ولقد انذره نوح قومه ولكني ساقول لكم فيه قولا لم يقله نبي لقومه تعلمون انه اعور وان الله ليس باعور " . قال الزهري واخبرني عمر بن ثابت الانصاري، انه اخبره بعض، اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ان النبي صلى الله عليه وسلم قال يوميذ للناس وهو يحذرهم فتنته " تعلمون انه لن يرى احد منكم ربه حتى يموت وانه مكتوب بين عينيه ك ف ر يقراه من كره عمله " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود تم سے لڑیں گے اور تم ان پر غالب ہو جاؤ گے یہاں تک کہ پتھر کہے گا: اے مسلمان! میرے پیچھے یہ یہودی ہے اسے قتل کر دو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " تقاتلكم اليهود فتسلطون عليهم حتى يقول الحجر يا مسلم هذا يهودي ورايي فاقتله " . قال هذا حديث حسن صحيح
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا: ”دجال مشرق ( پورب ) میں ایک جگہ سے نکلے گا جسے خراسان کہا جاتا ہے، اس کے پیچھے ایسے لوگ ہوں گے جن کے چہرے تہ بہ تہ ڈھال کی طرح ہوں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- عبداللہ بن شوذب اور کئی لوگوں نے اسے ابوالتیاح سے روایت کیا ہے، ہم اسے صرف ابوتیاح کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں ابوہریرہ اور عائشہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، واحمد بن منيع، قالا حدثنا روح بن عبادة، حدثنا سعيد بن ابي عروبة، عن ابي التياح، عن المغيرة بن سبيع، عن عمرو بن حريث، عن ابي بكر الصديق، قال حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الدجال يخرج من ارض بالمشرق يقال لها خراسان يتبعه اقوام كان وجوههم المجان المطرقة " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي هريرة وعايشة . وهذا حديث حسن غريب . وقد رواه عبد الله بن شوذب وغير واحد عن ابي التياح ولا نعرفه الا من حديث ابي التياح