Loading...

Loading...
کتب
۳۶ احادیث
خارجہ بن حذافہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( حجرے سے نکل کر ) ہمارے پاس آئے اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ایک ایسی نماز کا اضافہ کیا ہے ۱؎، جو تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے، وہ وتر ہے، اللہ نے اس کا وقت تمہارے لیے نماز عشاء سے لے کر فجر کے طلوع ہونے تک رکھا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- خارجہ بن حذافہ کی حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف یزید بن ابی حبیب ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- بعض محدثین کو اس حدیث میں وہم ہوا ہے، انہوں نے عبداللہ بن راشد زرقی کہا ہے، یہ وہم ہے ( صحیح «زوفی» ہے ) ۳- اس باب میں ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو، بریدہ، اور ابو بصرہ غفاری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- ابو بصرہ غفاری کا نام حمیل بن بصرہ ہے، اور بعض لوگوں نے جمیل بن بصرہ کہا ہے، لیکن یہ صحیح نہیں، اور ابو بصرہ غفاری ایک دوسرے شخص ہیں جو ابوذر رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں اور وہ ابوذر کے بھتیجے ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث بن سعد، عن يزيد بن ابي حبيب، عن عبد الله بن راشد الزوفي، عن عبد الله بن ابي مرة الزوفي، عن خارجة بن حذافة، انه قال خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ان الله امدكم بصلاة هي خير لكم من حمر النعم الوتر جعله الله لكم فيما بين صلاة العشاء الى ان يطلع الفجر " . قال وفي الباب عن ابي هريرة وعبد الله بن عمرو وبريدة وابي بصرة الغفاري صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى حديث خارجة بن حذافة حديث غريب لا نعرفه الا من حديث يزيد بن ابي حبيب . وقد وهم بعض المحدثين في هذا الحديث فقال عن عبد الله بن راشد الزرقي وهو وهم في هذا . وابو بصرة الغفاري اسمه حميل بن بصرة وقال بعضهم جميل بن بصرة ولا يصح . وابو بصرة الغفاري رجل اخر يروي عن ابي ذر وهو ابن اخي ابي ذر
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں وتر تمہاری فرض نماز کی طرح لازمی نہیں ہے ۱؎، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنت قرار دیا اور فرمایا: اللہ وتر ( طاق ) ۲؎ ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے، اے اہل قرآن! ۳؎ تم وتر پڑھا کرو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، ابن مسعود اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو بكر بن عياش، حدثنا ابو اسحاق، عن عاصم بن ضمرة، عن علي، قال الوتر ليس بحتم كصلاتكم المكتوبة ولكن سن رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال " ان الله وتر يحب الوتر فاوتروا يا اهل القران " . قال وفي الباب عن ابن عمر وابن مسعود وابن عباس . قال ابو عيسى حديث علي حديث حسن
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں: وتر لازم نہیں ہے جیسا کہ فرض صلاۃ کا معاملہ ہے، بلکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، اسے سفیان ثوری وغیرہ نے بطریق «أبی اسحاق عن عاصم بن حمزة عن علی» روایت کیا ہے ۱؎ اور یہ روایت ابوبکر بن عیاش کی روایت سے زیادہ صحیح ہے اور اسے منصور بن معتمر نے بھی ابواسحاق سے ابوبکر بن عیاش ہی کی طرح روایت کیا ہے۔
وروى سفيان الثوري، وغيره، عن ابي اسحاق، عن عاصم بن ضمرة، عن علي، قال الوتر ليس بحتم كهيية الصلاة المكتوبة ولكن سنة سنها رسول الله صلى الله عليه وسلم . حدثنا بذلك محمد بن بشار حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن ابي اسحاق . وهذا اصح من حديث ابي بكر بن عياش . وقد رواه منصور بن المعتمر عن ابي اسحاق نحو رواية ابي بكر بن عياش
مسروق سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھا ہے۔ شروع رات میں بھی درمیان میں بھی اور آخری حصے میں بھی۔ اور جس وقت آپ کی وفات ہوئی تو آپ کا وتر سحر تک پہنچ گیا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، جابر، ابومسعود انصاری اور ابوقتادہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- بعض اہل علم کے نزدیک یہی پسندیدہ ہے کہ وتر رات کے آخری حصہ میں پڑھی جائے ۱؎۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا ابو بكر بن عياش، حدثنا ابو حصين، عن يحيى بن وثاب، عن مسروق، انه سال عايشة عن وتر، رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت من كل الليل قد اوتر اوله واوسطه واخره فانتهى وتره حين مات الى السحر . قال ابو عيسى ابو حصين اسمه عثمان بن عاصم الاسدي . قال وفي الباب عن علي وجابر وابي مسعود الانصاري وابي قتادة . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح . وهو الذي اختاره بعض اهل العلم الوتر من اخر الليل
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیام اللیل ( تہجد ) تیرہ رکعت ہوتی تھی۔ ان میں پانچ رکعتیں وتر کی ہوتی تھیں، ان ( پانچ ) میں آپ صرف آخری رکعت ہی میں قعدہ کرتے تھے، پھر جب مؤذن اذان دیتا تو آپ کھڑے ہو جاتے اور دو ہلکی رکعتیں پڑھتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوایوب رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا خیال ہے کہ ( جس ) وتر کی پانچ رکعتیں ہیں، ان میں وہ صرف آخری رکعت میں قعدہ کرے گا، ۴- میں نے اس حدیث کے بارے میں کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نو اور سات رکعت وتر پڑھتے تھے“ ابومصعب مدینی سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نو اور سات رکعتیں کیسے پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو دو رکعت پڑھتے اور سلام پھیرتے جاتے، پھر ایک رکعت وتر پڑھ لیتے۔
حدثنا اسحاق بن منصور الكوسج، حدثنا عبد الله بن نمير، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كانت صلاة النبي صلى الله عليه وسلم من الليل ثلاث عشرة ركعة يوتر من ذلك بخمس لا يجلس في شيء منهن الا في اخرهن فاذا اذن الموذن قام فصلى ركعتين خفيفتين . قال وفي الباب عن ابي ايوب . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح . وقد راى بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم الوتر بخمس وقالوا لا يجلس في شيء منهن الا في اخرهن . قال ابو عيسى وسالت ابا مصعب المديني عن هذا الحديث كان النبي صلى الله عليه وسلم يوتر بالتسع والسبع قلت كيف يوتر بالتسع والسبع قال يصلي مثنى مثنى ويسلم ويوتر بواحدة
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے تھے، ان میں مفصل میں سے نو سورتیں پڑھتے ہر رکعت میں تین تین سورتیں پڑھتے، اور سب سے آخر میں «قل هو الله أحد» پڑھتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عمران بن حصین، ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا، ابن عباس، ابوایوب انصاری اور عبدالرحمٰن بن ابزی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ عبدالرحمٰن بن ابزیٰ نے اسے ابی بن کعب سے روایت کی ہے۔ نیز یہ بھی مروی ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابزیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( براہ راست ) روایت کی ہے۔ اسی طرح بعض لوگوں نے روایت کی ہے، اس میں انہوں نے «ابی» کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اور بعض نے «ابی» کے واسطے کا ذکر کیا ہے۔ ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کی ایک جماعت کا خیال یہی ہے کہ آدمی وتر تین رکعت پڑھے، ۳- سفیان ثوری کہتے ہیں کہ اگر تم چاہو تو پانچ رکعت وتر پڑھو، اور چاہو تو تین رکعت پڑھو، اور چاہو تو صرف ایک رکعت پڑھو۔ اور میں تین رکعت ہی پڑھنے کو مستحب سمجھتا ہوں۔ ابن مبارک اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے، ۴- محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ لوگ وتر کبھی پانچ رکعت پڑھتے تھے، کبھی تین اور کبھی ایک، وہ ہر ایک کو مستحسن سمجھتے تھے ۲؎۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن ابي اسحاق، عن الحارث، عن علي، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يوتر بثلاث يقرا فيهن بتسع سور من المفصل يقرا في كل ركعة بثلاث سور اخرهن (قل هو الله احد ) . قال وفي الباب عن عمران بن حصين وعايشة وابن عباس وابي ايوب . وعبد الرحمن بن ابزى عن ابى بن كعب ويروى ايضا عن عبد الرحمن بن ابزى عن النبي صلى الله عليه وسلم . هكذا روى بعضهم فلم يذكروا فيه عن ابى وذكر بعضهم عن عبد الرحمن بن ابزى عن ابى . قال ابو عيسى وقد ذهب قوم من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم الى هذا وراوا ان يوتر الرجل بثلاث . قال سفيان ان شيت اوترت بخمس وان شيت اوترت بثلاث وان شيت اوترت بركعة . قال سفيان والذي استحب ان اوتر بثلاث ركعات . وهو قول ابن المبارك واهل الكوفة . حدثنا سعيد بن يعقوب الطالقاني حدثنا حماد بن زيد عن هشام عن محمد بن سيرين قال كانوا يوترون بخمس وبثلاث وبركعة ويرون كل ذلك حسنا
انس بن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی الله عنہما سے پوچھا: کیا میں فجر کی دو رکعت سنت لمبی پڑھوں؟ تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد دو دو رکعت پڑھتے تھے، اور وتر ایک رکعت، اور فجر کی دو رکعت سنت پڑھتے ( گویا کہ ) تکبیر آپ کے کانوں میں ہو رہی ہوتی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، جابر، فضل بن عباس، ابوایوب انصاری اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ و تابعین میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان کا خیال ہے کہ آدمی دو رکعتوں اور تیسری رکعت کے درمیان ( سلام کے ذریعہ ) فصل کرے، ایک رکعت سے وتر کرے۔ مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ یہی کہتے ہیں ۲؎۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن انس بن سيرين، قال سالت ابن عمر فقلت اطيل في ركعتى الفجر فقال كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل مثنى مثنى ويوتر بركعة وكان يصلي الركعتين والاذان في اذنه . يعني يخفف . قال وفي الباب عن عايشة وجابر والفضل بن عباس وابي ايوب وابن عباس . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين راوا ان يفصل الرجل بين الركعتين والثالثة يوتر بركعة . وبه يقول مالك والشافعي واحمد واسحاق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» تینوں کو ایک ایک رکعت میں پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی، عائشہ اور عبدالرحمٰن بن ابزیٰ ( رضی الله عنہم ) جنہوں نے ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، بھی احادیث آئی ہیں، اور اسے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے بغیر ابی کے واسطے کے براہ راست نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی روایت کیا جاتا ہے، ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ وتر میں تیسری رکعت میں معوذتین اور «قل هو الله أحد» پڑھتے تھے، ۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم نے جس بات کو پسند کیا ہے، وہ یہ ہے کہ «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» تینوں میں سے ایک ایک ہر رکعت میں پڑھتے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا شريك، عن ابي اسحاق، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يقرا في الوتر ب (سبح اسم ربك الاعلى ) و (قل يا ايها الكافرون ) و (قل هو الله احد ) في ركعة ركعة . قال وفي الباب عن علي وعايشة وعبد الرحمن بن ابزى عن ابى بن كعب ويروى عن عبد الرحمن بن ابزى عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قرا في الوتر في الركعة الثالثة بالمعوذتين و (قل هو الله احد ) . والذي اختاره اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ومن بعدهم ان يقرا ب (سبح اسم ربك الاعلى ) و (قل يا ايها الكافرون ) و (قل هو الله احد ) . يقرا في كل ركعة من ذلك بسورة
عبدالعزیز بن جریج کہتے ہیں کہ ہم نے عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں کیا پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: پہلی رکعت میں «سبح اسم ربك الأعلى»، دوسری میں «قل يا أيها الكافرون»، اور تیسری میں «قل هو الله أحد» اور معوذتین ۱؎ پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ عبدالعزیز راوی اثر عطاء کے شاگرد ابن جریج کے والد ہیں، اور ابن جریج کا نام عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج ہے، ۳- یحییٰ بن سعید انصاری نے یہ حدیث بطریق: «عمرة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے۔
حدثنا اسحاق بن ابراهيم بن حبيب بن الشهيد البصري، حدثنا محمد بن سلمة الحراني، عن خصيف، عن عبد العزيز بن جريج، قال سالنا عايشة باى شيء كان يوتر رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت كان يقرا في الاولى ب (سبح اسم ربك الاعلى ) وفي الثانية ب(قل يا ايها الكافرون ) وفي الثالثة ب (قل هو الله احد ) والمعوذتين . قال ابو عيسى . وهذا حديث حسن غريب . قال وعبد العزيز هذا هو والد ابن جريج صاحب عطاء وابن جريج اسمه عبد الملك بن عبد العزيز بن جريج . وقد روى يحيى بن سعيد الانصاري هذا الحديث عن عمرة عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم
حسن بن علی رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات سکھائے جنہیں میں وتر میں پڑھا کروں، وہ کلمات یہ ہیں: «اللهم اهدني فيمن هديت وعافني فيمن عافيت وتولني فيمن توليت وبارك لي فيما أعطيت وقني شر ما قضيت فإنك تقضي ولا يقضى عليك وإنه لا يذل من واليت تباركت ربنا وتعاليت» ”اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں کے زمرہ میں شامل فرما جنہیں تو نے ہدایت سے نوازا ہے، مجھے عافیت دے کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے عافیت بخشی ہے، میری سرپرستی فرما کر، ان لوگوں میں شامل فرما جن کی تو نے سرپرستی کی ہے، اور جو کچھ تو نے مجھے عطا فرمایا ہے اس میں برکت عطا فرما، اور جس شر کا تو نے فیصلہ فرما دیا ہے اس سے مجھے محفوظ رکھ، یقیناً فیصلہ تو ہی صادر فرماتا ہے، تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جا سکتا، اور جس کا تو والی ہو وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہو سکتا، اے ہمارے رب! تو بہت برکت والا اور بہت بلند و بالا ہے۔“ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اسے ہم صرف اسی سند سے یعنی ابوالحوراء سعدی کی روایت سے جانتے ہیں، ان کا نام ربیعہ بن شیبان ہے، ۳- میرے علم میں وتر کے قنوت کے سلسلے میں اس سے بہتر کوئی اور چیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہو معلوم نہیں، ۴- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۵- اہل علم کا وتر کے قنوت میں اختلاف ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کا خیال ہے کہ وتر میں قنوت پورے سال ہے، اور انہوں نے رکوع سے پہلے قنوت پڑھنا پسند کیا ہے، اور یہی بعض اہل علم کا قول ہے سفیان ثوری، ابن مبارک، اسحاق اور اہل کوفہ بھی یہی کہتے ہیں، ۶- علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ وہ صرف رمضان کے نصف آخر میں قنوت پڑھتے تھے، اور رکوع کے بعد پڑھتے تھے، ۷- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں، شافعی اور احمد بھی یہی کہتے ہیں ۱؎۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن بريد بن ابي مريم، عن ابي الحوراء السعدي، قال قال الحسن بن علي رضى الله عنهما علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم كلمات اقولهن في الوتر " اللهم اهدني فيمن هديت وعافني فيمن عافيت وتولني فيمن توليت وبارك لي فيما اعطيت وقني شر ما قضيت فانك تقضي ولا يقضى عليك وانه لا يذل من واليت تباركت ربنا وتعاليت " . قال وفي الباب عن علي . قال ابو عيسى هذا حديث حسن لا نعرفه الا من هذا الوجه من حديث ابي الحوراء السعدي واسمه ربيعة بن شيبان . ولا نعرف عن النبي صلى الله عليه وسلم في القنوت في الوتر شييا احسن من هذا . واختلف اهل العلم في القنوت في الوتر فراى عبد الله بن مسعود القنوت في الوتر في السنة كلها واختار القنوت قبل الركوع . وهو قول بعض اهل العلم وبه يقول سفيان الثوري وابن المبارك واسحاق واهل الكوفة . وقد روي عن علي بن ابي طالب انه كان لا يقنت الا في النصف الاخر من رمضان وكان يقنت بعد الركوع . وقد ذهب بعض اهل العلم الى هذا وبه يقول الشافعي واحمد
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو وتر پڑھے بغیر سو جائے، یا اسے پڑھنا بھول جائے تو جب یاد آئے یا جاگے پڑھ لے“۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، حدثنا عبد الرحمن بن زيد بن اسلم، عن ابيه، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من نام عن الوتر او نسيه فليصل اذا ذكر واذا استيقظ
زید بن اسلم (مرسلاً) کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو وتر پڑھے بغیر سو جائے، اور جب صبح کو اٹھے تو پڑھ لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۱؎، ۲- میں نے ابوداود سجزی یعنی سلیمان بن اشعث کو سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے احمد بن حنبل سے عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ان کے بھائی عبداللہ میں کوئی مضائقہ نہیں، ۳- میں نے محمد ( محمد بن اسماعیل بخاری ) کو ذکر کرتے سنا، وہ علی بن عبداللہ ( ابن المدینی ) سے روایت کر رہے تھے کہ انہوں نے عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم کو ضعیف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ( ان کے بھائی ) عبداللہ بن زید بن اسلم ثقہ ہیں، ۴- کوفہ کے بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ آدمی وتر پڑھ لے جب اسے یاد آ جائے، گو سورج نکلنے کے بعد یاد آئے۔ یہی سفیان ثوری بھی کہتے ہیں ۲؎۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد الله بن زيد بن اسلم، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من نام عن وتره فليصل اذا اصبح " . قال ابو عيسى وهذا اصح من الحديث الاول . قال ابو عيسى سمعت ابا داود السجزي يعني سليمان بن الاشعث يقول سالت احمد بن حنبل عن عبد الرحمن بن زيد بن اسلم فقال اخوه عبد الله لا باس به . قال وسمعت محمدا يذكر عن علي بن عبد الله انه ضعف عبد الرحمن بن زيد بن اسلم وقال عبد الله بن زيد بن اسلم ثقة . قال وقد ذهب بعض اهل العلم بالكوفة الى هذا الحديث فقالوا يوتر الرجل اذا ذكر وان كان بعد ما طلعت الشمس . وبه يقول سفيان الثوري
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يحيى بن زكريا بن ابي زايدة، حدثنا عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " بادروا الصبح بالوتر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو“۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اوتروا قبل ان تصبحوا
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب فجر طلوع ہو گئی تو تہجد ( قیام اللیل ) اور وتر کا سارا وقت ختم ہو گیا، لہٰذا فجر کے طلوع ہونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سلیمان بن موسیٰ ان الفاظ کے ساتھ منفرد ہیں، ۲- نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”فجر کے بعد وتر نہیں“، ۳- بہت سے اہل علم کا یہی قول ہے۔ اور شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں: یہ لوگ نماز فجر کے بعد وتر پڑھنے کو درست نہیں سمجھتے ۱؎۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا ابن جريج، عن سليمان بن موسى، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا طلع الفجر فقد ذهب كل صلاة الليل والوتر فاوتروا قبل طلوع الفجر " . قال ابو عيسى وسليمان بن موسى قد تفرد به على هذا اللفظ . وروي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " لا وتر بعد صلاة الصبح " . وهو قول غير واحد من اهل العلم . وبه يقول الشافعي واحمد واسحاق لا يرون الوتر بعد صلاة الصبح
طلق بن علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”ایک رات میں دو بار وتر نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس شخص کے بارے میں اہل علم میں اختلاف ہے جو رات کے شروع حصہ میں وتر پڑھ لیتا ہو پھر رات کے آخری حصہ میں قیام اللیل ( تہجد ) کے لیے اٹھتا ہو، تو صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے بعض اہل علم کی رائے وتر کو توڑ دینے کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ وہ اس میں ایک رکعت اور ملا لے تاکہ ( وہ جفت ہو جائے ) پھر جتنا چاہے پڑھے اور نماز کے آخر میں وتر پڑھ لے۔ اس لیے کہ ایک رات میں دو بار وتر نہیں، اسحاق بن راہویہ اسی طرف گئے ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ جب اس نے رات کے شروع حصہ میں وتر پڑھ لی پھر سو گیا، پھر رات کے آخری میں بیدار ہوا تو وہ جتنی نماز چاہے پڑھے، وتر کو نہ توڑے بلکہ وتر کو اس کے اپنے حال ہی پر رہنے دے۔ سفیان ثوری، مالک بن انس، ابن مبارک، شافعی اور اہل کوفہ اور احمد کا یہی قول ہے۔ اور یہی زیادہ صحیح ہے، اس لیے کہ کئی دوسری روایتوں میں مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر کے بعد نماز پڑھی ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ملازم بن عمرو، حدثني عبد الله بن بدر، عن قيس بن طلق بن علي، عن ابيه، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا وتران في ليلة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . واختلف اهل العلم في الذي يوتر من اول الليل ثم يقوم من اخره فراى بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ومن بعدهم نقض الوتر وقالوا يضيف اليها ركعة ويصلي ما بدا له ثم يوتر في اخر صلاته لانه " لا وتران في ليلة " . وهو الذي ذهب اليه اسحاق . وقال بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم اذا اوتر من اول الليل ثم نام ثم قام من اخر الليل فانه يصلي ما بدا له ولا ينقض وتره ويدع وتره على ما كان . وهو قول سفيان الثوري ومالك بن انس وابن المبارك والشافعي واهل الكوفة واحمد . وهذا اصح لانه قد روي من غير وجه ان النبي صلى الله عليه وسلم قد صلى بعد الوتر
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابوامامہ، عائشہ رضی الله عنہما اور دیگر کئی لوگوں سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا حماد بن مسعدة، عن ميمون بن موسى المريي، عن الحسن، عن امه، عن ام سلمة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي بعد الوتر ركعتين . قال ابو عيسى وقد روي نحو هذا عن ابي امامة وعايشة وغير واحد عن النبي صلى الله عليه وسلم