احادیث
#466
سنن ترمذی - The Witr Prayer
زید بن اسلم (مرسلاً) کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو وتر پڑھے بغیر سو جائے، اور جب صبح کو اٹھے تو پڑھ لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۱؎، ۲- میں نے ابوداود سجزی یعنی سلیمان بن اشعث کو سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے احمد بن حنبل سے عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ان کے بھائی عبداللہ میں کوئی مضائقہ نہیں، ۳- میں نے محمد ( محمد بن اسماعیل بخاری ) کو ذکر کرتے سنا، وہ علی بن عبداللہ ( ابن المدینی ) سے روایت کر رہے تھے کہ انہوں نے عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم کو ضعیف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ( ان کے بھائی ) عبداللہ بن زید بن اسلم ثقہ ہیں، ۴- کوفہ کے بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ آدمی وتر پڑھ لے جب اسے یاد آ جائے، گو سورج نکلنے کے بعد یاد آئے۔ یہی سفیان ثوری بھی کہتے ہیں ۲؎۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد الله بن زيد بن اسلم، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من نام عن وتره فليصل اذا اصبح " . قال ابو عيسى وهذا اصح من الحديث الاول . قال ابو عيسى سمعت ابا داود السجزي يعني سليمان بن الاشعث يقول سالت احمد بن حنبل عن عبد الرحمن بن زيد بن اسلم فقال اخوه عبد الله لا باس به . قال وسمعت محمدا يذكر عن علي بن عبد الله انه ضعف عبد الرحمن بن زيد بن اسلم وقال عبد الله بن زيد بن اسلم ثقة . قال وقد ذهب بعض اهل العلم بالكوفة الى هذا الحديث فقالوا يوتر الرجل اذا ذكر وان كان بعد ما طلعت الشمس . وبه يقول سفيان الثوري
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- The Witr Prayer
- Hadith Index
- #466
- Book Index
- 14
Grades
- Zubair Ali ZaiSahih
