Loading...

Loading...
کتب
۳۶ احادیث
سعید بن یسار کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں ابن عمر رضی الله عنہما کے ساتھ چل رہا تھا، میں ان سے پیچھے رہ گیا، تو انہوں نے پوچھا: تم کہاں رہ گئے تھے؟ میں نے کہا: میں وتر پڑھ رہا تھا، انہوں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں تمہارے لیے اسوہ نہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اپنی سواری ہی پر وتر پڑھتے دیکھا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں، ان کا خیال ہے کہ آدمی اپنی سواری پر وتر پڑھ سکتا ہے۔ اور یہی شافعی، احمد، اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ آدمی سواری پر وتر نہ پڑھے، جب وہ وتر کا ارادہ کرے تو اسے اتر کر زمین پر پڑھے۔ یہ بعض اہل کوفہ کا قول ہے ۱؎۔
حدثنا قتيبة، حدثنا مالك بن انس، عن ابي بكر بن عمر بن عبد الرحمن، عن سعيد بن يسار، قال كنت امشي مع ابن عمر في سفر فتخلفت عنه فقال اين كنت فقلت اوترت . فقال اليس لك في رسول الله اسوة رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يوتر على راحلته . قال وفي الباب عن ابن عباس . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح . وقد ذهب بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم الى هذا وراوا ان يوتر الرجل على راحلته . وبه يقول الشافعي واحمد واسحاق . وقال بعض اهل العلم لا يوتر الرجل على الراحلة واذا اراد ان يوتر نزل فاوتر على الارض . وهو قول بعض اهل الكوفة . اخر ابواب الوتر
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھیں، اللہ اس کے لیے جنت میں سونے کا ایک محل تعمیر فرمائے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں ام ہانی، ابوہریرہ، نعیم بن ہمار، ابوذر، عائشہ، ابوامامہ، عتبہ بن عبد سلمی، ابن ابی اوفی، ابو سعید خدری، زید بن ارقم اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو كريب، محمد بن العلاء حدثنا يونس بن بكير، عن محمد بن اسحاق، قال حدثني موسى بن فلان بن انس، عن عمه، ثمامة بن انس بن مالك عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صلى الضحى ثنتى عشرة ركعة بنى الله له قصرا من ذهب في الجنة " . قال وفي الباب عن ام هاني وابي هريرة ونعيم بن همار وابي ذر وعايشة وابي امامة وعتبة بن عبد السلمي وابن ابي اوفى وابي سعيد وزيد بن ارقم وابن عباس . قال ابو عيسى حديث انس حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ مجھے صرف ام ہانی رضی الله عنہا نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہے، ام ہانی رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں داخل ہوئے تو غسل کیا اور آٹھ رکعتیں پڑھیں، میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے اس سے بھی ہلکی نماز کبھی پڑھی ہو، البتہ آپ رکوع اور سجدے پورے پورے کر رہے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- احمد بن حنبل کی نظر میں اس باب میں سب سے زیادہ صحیح ام ہانی رضی الله عنہا کی حدیث ہے۔
حدثنا ابو موسى، محمد بن المثنى حدثنا محمد بن جعفر، اخبرنا شعبة، عن عمرو بن مرة، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، قال ما اخبرني احد، انه راى النبي صلى الله عليه وسلم يصلي الضحى الا ام هاني فانها حدثت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل بيتها يوم فتح مكة فاغتسل فسبح ثمان ركعات ما رايته صلى صلاة قط اخف منها غير انه كان يتم الركوع والسجود . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وكان احمد راى اصح شيء في هذا الباب حديث ام هاني . واختلفوا في نعيم فقال بعضهم نعيم بن خمار وقال بعضهم ابن همار ويقال ابن هبار ويقال ابن همام والصحيح ابن همار . وابو نعيم وهم فيه فقال ابن حماز واخطا فيه ثم ترك فقال نعيم عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى واخبرني بذلك عبد بن حميد عن ابي نعيم
ابو الدرداء رضی الله عنہ یا ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! تو دن کے شروع میں میری رضا کے لیے چار رکعتیں پڑھا کر، میں پورے دن تمہارے لیے کافی ہوں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا ابو جعفر السمناني، حدثنا ابو مسهر، حدثنا اسماعيل بن عياش، عن بحير بن سعد، عن خالد بن معدان، عن جبير بن نفير، عن ابي الدرداء، وابي، ذر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم " عن الله، عز وجل انه قال ابن ادم اركع لي من اول النهار اربع ركعات اكفك اخره " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے چاشت کی دو رکعتوں کی محافظت کی، اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے، اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: وکیع، نضر بن شمیل اور دوسرے کئی ائمہ نے یہ حدیث نہاس بن قہم سے روایت کی ہے۔ اور ہم نہاس کو صرف ان کی اسی حدیث سے جانتے ہیں۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى البصري، حدثنا يزيد بن زريع، عن نهاس بن قهم، عن شداد ابي عمار، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حافظ على شفعة الضحى غفر له ذنوبه وان كانت مثل زبد البحر " . قال ابو عيسى وقد روى وكيع والنضر بن شميل وغير واحد من الايمة هذا الحديث عن نهاس بن قهم ولا نعرفه الا من حديثه
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے۔ یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ اسے نہیں چھوڑیں گے، اور آپ اسے چھوڑ دیتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ اب اسے نہیں پڑھیں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا زياد بن ايوب البغدادي، حدثنا محمد بن ربيعة، عن فضيل بن مرزوق، عن عطية العوفي، عن ابي سعيد الخدري، قال كان نبي الله صلى الله عليه وسلم يصلي الضحى حتى نقول لا يدع ويدعها حتى نقول لا يصلي . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
عبداللہ بن سائب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھل جانے کے بعد ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے، اور فرماتے: ”یہ ایسا وقت ہے جس میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میرا نیک عمل اس میں اوپر چڑھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن سائب رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں علی اور ابوایوب رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ زوال کے بعد چار رکعتیں پڑھتے اور ان کے آخر میں ہی سلام پھیرتے ۲؎۔
حدثنا ابو موسى، محمد بن المثنى حدثنا ابو داود الطيالسي، حدثنا محمد بن مسلم بن ابي الوضاح، هو ابو سعيد المودب عن عبد الكريم الجزري، عن مجاهد، عن عبد الله بن السايب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي اربعا بعد ان تزول الشمس قبل الظهر وقال " انها ساعة تفتح فيها ابواب السماء واحب ان يصعد لي فيها عمل صالح " . قال وفي الباب عن علي وابي ايوب . قال ابو عيسى حديث عبد الله بن السايب حديث حسن غريب . وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يصلي اربع ركعات بعد الزوال لا يسلم الا في اخرهن
عبداللہ بن ابی اوفی رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے اللہ تعالیٰ سے کوئی ضرورت ہو یا بنی آدم میں سے کسی سے کوئی کام ہو تو پہلے وہ اچھی طرح وضو کرے، پھر دو رکعتیں ادا کرے، پھر اللہ کی حمد و ثنا بیان کرے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ ( درود ) و سلام بھیجے، پھر کہے: «لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم الحمد لله رب العالمين أسألك موجبات رحمتك وعزائم مغفرتك والغنيمة من كل بر والسلامة من كل إثم لا تدع لي ذنبا إلا غفرته ولا هما إلا فرجته ولا حاجة هي لك رضا إلا قضيتها يا أرحم الراحمين» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ حلیم ( بردبار ) ہے، کریم ( بزرگی والا ) ہے، پاک ہے اللہ جو عرش عظیم کا رب ہے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو رب العالمین ( سارے جہانوں کا پالنہار ) ہے، میں تجھ سے تیری رحمت کو واجب کرنے والی چیزوں کا اور تیری بخشش کے یقینی ہونے کا سوال کرتا ہوں، اور ہر نیکی میں سے حصہ پانے کا اور ہر گناہ سے سلامتی کا سوال کرتا ہوں، اے ارحم الراحمین! تو میرا کوئی گناہ باقی نہ چھوڑ مگر تو اسے بخش دے اور نہ کوئی غم چھوڑ، مگر تو اسے دور فرما دے اور نہ کوئی ایسی ضرورت چھوڑ جس میں تیری خوشنودی ہو مگر تو اسے پوری فرما دے“ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس کی سند میں کلام ہے، فائد بن عبدالرحمٰن کو حدیث کے سلسلے میں ضعیف قرار دیا جاتا ہے، اور فائد ہی ابوالورقاء ہیں۔
حدثنا علي بن عيسى بن يزيد البغدادي، حدثنا عبد الله بن بكر السهمي، . وحدثنا عبد الله بن منير، عن عبد الله بن بكر، عن فايد بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن ابي اوفى، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كانت له الى الله حاجة او الى احد من بني ادم فليتوضا وليحسن الوضوء ثم ليصل ركعتين ثم ليثن على الله وليصل على النبي صلى الله عليه وسلم ثم ليقل لا اله الا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم الحمد لله رب العالمين اسالك موجبات رحمتك وعزايم مغفرتك والغنيمة من كل بر والسلامة من كل اثم لا تدع لي ذنبا الا غفرته ولا هما الا فرجته ولا حاجة هي لك رضا الا قضيتها يا ارحم الراحمين " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب وفي اسناده مقال . فايد بن عبد الرحمن يضعف في الحديث وفايد هو ابو الورقاء
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ہر معاملے میں استخارہ کرنا ۱؎ اسی طرح سکھاتے جیسے آپ ہمیں قرآن کی سورتیں سکھاتے تھے۔ آپ فرماتے: ”تم میں سے کوئی شخص جب کسی کام کا ارادہ کرے تو دو رکعت پڑھے، پھر کہے: «اللهم إني أستخيرك بعلمك وأستقدرك بقدرتك وأسألك من فضلك العظيم فإنك تقدر ولا أقدر وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في ديني ومعيشتي وعاقبة أمري أو قال في عاجل أمري» یا کہے «فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ فيسره لي ثم بارك لي فيه وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني ومعيشتي وعاقبة أمري» یا کہے «في عاجل أمري وآجله فاصرفه عني واصرفني عنه واقدر لي الخير حيث كان ثم أرضني به» ”اے اللہ! میں تیرے علم کے ذریعے تجھ سے بھلائی طلب کرتا ہوں، اور تیری طاقت کے ذریعے تجھ سے طاقت طلب کرتا ہوں، اور تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں، تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا، تو علم والا ہے اور میں لا علم ہوں، تو تمام غیبوں کو خوب جاننے والا ہے، اے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے حق میں، میرے دین، میری روزی اور انجام کے اعتبار سے ( یا آپ نے فرمایا: یا میری دنیا اور آخرت کے لحاظ سے ) بہتر ہے، تو اسے تو میرے لیے آسان بنا دے اور مجھے اس میں برکت عطا فرما، اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے حق میں، میرے دین، میری روزی اور انجام کے اعتبار سے یا فرمایا میری دنیا اور آخرت کے لحاظ سے میرے لیے برا ہے تو اسے تو مجھ سے پھیر دے اور مجھے اس سے پھیر دے اور میرے لیے خیر مقدر فرما دے وہ جہاں بھی ہو، پھر مجھے اس پر راضی کر دے۔“ آپ نے فرمایا: ”اور اپنی حاجت کا نام لے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن ابی الموالی کی روایت سے جانتے ہیں، یہ ایک مدنی ثقہ شیخ ہیں، ان سے سفیان نے بھی ایک حدیث روایت کی ہے، اور عبدالرحمٰن سے دیگر کئی ائمہ نے بھی روایت کی ہے، یہی عبدالرحمٰن بن زید بن ابی الموالی ہیں، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود اور ابوایوب انصاری رضی الله عنہما سے احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد الرحمن بن ابي الموالي، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا الاستخارة في الامور كلها كما يعلمنا السورة من القران يقول " اذا هم احدكم بالامر فليركع ركعتين من غير الفريضة ثم ليقل اللهم اني استخيرك بعلمك واستقدرك بقدرتك واسالك من فضلك العظيم فانك تقدر ولا اقدر وتعلم ولا اعلم وانت علام الغيوب اللهم ان كنت تعلم ان هذا الامر خير لي في ديني ومعيشتي وعاقبة امري او قال في عاجل امري واجله فيسره لي ثم بارك لي فيه وان كنت تعلم ان هذا الامر شر لي في ديني ومعيشتي وعاقبة امري او قال في عاجل امري واجله فاصرفه عني واصرفني عنه واقدر لي الخير حيث كان ثم ارضني به قال ويسمي حاجته " . قال وفي الباب عن عبد الله بن مسعود وابي ايوب . قال ابو عيسى حديث جابر حديث حسن صحيح غريب لا نعرفه الا من حديث عبد الرحمن بن ابي الموالي . وهو شيخ مديني ثقة روى عنه سفيان حديثا وقد روى عن عبد الرحمن غير واحد من الايمة وهو عبد الرحمن بن زيد بن ابي الموالي
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ام سلیم رضی الله عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا کہ مجھے کچھ ایسے کلمات سکھا دیجئیے جنہیں میں نماز ۱؎ میں کہا کروں، آپ نے فرمایا: ”دس بار «الله أكبر» کہو، دس بار «سبحان الله» کہو، دس بار «الحمد لله» کہو، پھر جو چاہو مانگو، وہ ( اللہ ) ہر چیز پر ہاں، ہاں کہتا ہے“، ( یعنی قبول کرتا ہے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس، عبداللہ بن عمرو، فضل بن عباس اور ابورافع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صلاۃ التسبیح کے سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور بھی کئی حدیثیں مروی ہیں لیکن کوئی زیادہ صحیح نہیں ہیں، ۴- ابن مبارک اور دیگر کئی اہل علم صلاۃ التسبیح کے قائل ہیں اور انہوں نے اس کی فضیلت کا ذکر کیا ہے، ۵- ابو وہب محمد بن مزاحم العامری نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن مبارک سے صلاۃ التسبیح کے بارے میں پوچھا کہ جس میں تسبیح پڑھی جاتی ہے، تو انہوں نے کہا: پہلے تکبیر تحریمہ کہے، پھر «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» ”اے اللہ! تیری ذات پاک ہے، اے اللہ تو ہر عیب اور ہر نقص سے پاک ہے سب تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، بابرکت ہے تیرا نام، بلند ہے تیری شان اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں“ کہے، پھر پندرہ مرتبہ «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» کہے، پھر «أعوذ بالله من الشيطان الرجيم» ”اور «بسم الله الرحمن الرحيم» کہے، پھر سورۃ فاتحہ اور کوئی سورۃ پڑھے، پھر دس مرتبہ «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» کہے، پھر رکوع میں جائے اور دس مرتبہ یہی کلمات کہے، پھر سر اٹھائے اور دس مرتبہ یہی کلمات کہے، پھر سجدہ کرے دس بار یہی کلمات کہے پھر سجدے سے اپنا سر اٹھائے اور دس بار یہی کلمات کہے، پھر دوسرا سجدہ کرے اور دس بار یہی کلمات کہے، اس طرح سے وہ چاروں رکعتیں پڑھے، تو ہر رکعت میں یہ کل ۷۵ تسبیحات ہوں گی۔ ہر رکعت کے شروع میں پندرہ تسبیحیں کہے گا، پھر دس دس کہے گا، اور اگر وہ رات کو نماز پڑھ رہا ہو تو میرے نزدیک مستحب ہے کہ وہ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرے اور اگر دن میں پڑھے تو چاہے تو ( دو رکعت کے بعد ) سلام پھیرے اور چاہے تو نہ پھیرے۔ ابو وہب وہب بن زمعہ سے روایت ہے کہ عبدالعزیز بن ابی رزمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک نے کہا: رکوع میں پہلے «سبحان ربي العظيم» اور سجدہ میں پہلے «سبحان ربي الأعلى» تین تین بار کہے، پھر تسبیحات پڑھے۔ عبدالعزیز ہی ابن ابی رزمہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک سے پوچھا: اگر اس نماز میں سہو ہو جائے تو کیا وہ سجدہ سہو میں دس دس تسبیحیں کہے گا؟ انہوں نے کہا: نہیں یہ صرف تین سو تسبیحات ہیں۔
حدثنا احمد بن محمد بن موسى، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا عكرمة بن عمار، حدثني اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك، ان ام سليم، غدت على النبي صلى الله عليه وسلم فقالت علمني كلمات اقولهن في صلاتي . فقال " كبري الله عشرا وسبحي الله عشرا واحمديه عشرا ثم سلي ما شيت يقول نعم نعم " . قال وفي الباب عن ابن عباس وعبد الله بن عمرو والفضل بن عباس وابي رافع . قال ابو عيسى حديث انس حديث حسن غريب . وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم غير حديث في صلاة التسبيح ولا يصح منه كبير شيء . وقد راى ابن المبارك وغير واحد من اهل العلم صلاة التسبيح وذكروا الفضل فيه . حدثنا احمد بن عبدة حدثنا ابو وهب قال سالت عبد الله بن المبارك عن الصلاة التي يسبح فيها فقال يكبر ثم يقول سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا اله غيرك ثم يقول خمس عشرة مرة سبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله اكبر ثم يتعوذ ويقرا (بسم الله الرحمن الرحيم) وفاتحة الكتاب وسورة ثم يقول عشر مرات سبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله اكبر ثم يركع فيقولها عشرا . ثم يرفع راسه من الركوع فيقولها عشرا ثم يسجد فيقولها عشرا ثم يرفع راسه فيقولها عشرا ثم يسجد الثانية فيقولها عشرا يصلي اربع ركعات على هذا فذلك خمس وسبعون تسبيحة في كل ركعة يبدا في كل ركعة بخمس عشرة تسبيحة ثم يقرا ثم يسبح عشرا فان صلى ليلا فاحب الى ان يسلم في الركعتين وان صلى نهارا فان شاء سلم وان شاء لم يسلم . قال ابو وهب واخبرني عبد العزيز بن ابي رزمة عن عبد الله انه قال يبدا في الركوع بسبحان ربي العظيم وفي السجود بسبحان ربي الاعلى ثلاثا ثم يسبح التسبيحات . قال احمد بن عبدة وحدثنا وهب بن زمعة قال اخبرني عبد العزيز وهو ابن ابي رزمة قال قلت لعبد الله بن المبارك ان سها فيها يسبح في سجدتى السهو عشرا عشرا قال لا انما هي ثلاثماية تسبيحة
ابورافع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنے چچا ) عباس رضی الله عنہ سے فرمایا: ”اے چچا! کیا میں آپ کے ساتھ صلہ رحمی نہ کروں، کیا میں آپ کو نہ دوں؟ کیا میں آپ کو نفع نہ پہنچاؤں؟“ وہ بولے: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ چار رکعت نماز پڑھیں، ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھیں، جب قرأت پوری ہو جائے تو «اللہ اکبر»، «الحمد للہ»، «سبحان اللہ»، «لا إلہ إلا اللہ» پندرہ مرتبہ رکوع کرنے سے پہلے کہیں، پھر رکوع میں جائیں تو دس مرتبہ یہی کلمات رکوع میں کہیں، پھر اپنا سر اٹھائیں اور یہی کلمات دس مرتبہ رکوع سے کھڑے ہو کر کہیں۔ پھر سجدے میں جائیں تو یہی کلمات دس مرتبہ کہیں، پھر سر اٹھائیں تو دس مرتبہ یہی کلمات کہیں۔ پھر دوسرے سجدے میں جائیں تو دس مرتبہ یہی کلمات کہیں، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھائیں تو کھڑے ہونے سے پہلے دس مرتبہ یہی کلمات کہیں۔ اسی طرح ہر رکعت میں کہیں، یہ کل ۷۵ کلمات ہوئے اور چاروں رکعتوں میں تین سو کلمات ہوئے۔ تو اگر آپ کے گناہ بہت زیادہ ریت والے بادلوں کے برابر بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرما دے گا“۔ تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! روزانہ یہ کلمات کہنے کی قدرت کس میں ہے؟ آپ نے فرمایا: ”آپ روزانہ یہ کلمات نہیں کہہ سکتے تو ہر جمعہ کو کہیں اور اگر ہر جمعہ کو بھی نہیں کہہ سکتے تو ہر ماہ میں کہیں“، وہ برابر یہی بات کہتے رہے یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: ”تو ایک سال میں آپ اسے کہہ لیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابورافع رضی الله عنہ کی روایت سے غریب ہے۔
حدثنا ابو كريب، محمد بن العلاء حدثنا زيد بن حباب العكلي، حدثنا موسى بن عبيدة، حدثني سعيد بن ابي سعيد، مولى ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن ابي رافع، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم للعباس " يا عم الا اصلك الا احبوك الا انفعك " . قال بلى يا رسول الله . قال " يا عم صل اربع ركعات تقرا في كل ركعة بفاتحة الكتاب وسورة فاذا انقضت القراءة فقل الله اكبر والحمد لله وسبحان الله ولا اله الا الله خمس عشرة مرة قبل ان تركع ثم اركع فقلها عشرا ثم ارفع راسك فقلها عشرا ثم اسجد فقلها عشرا ثم ارفع راسك فقلها عشرا ثم اسجد الثانية فقلها عشرا ثم ارفع راسك فقلها عشرا قبل ان تقوم فتلك خمس وسبعون في كل ركعة وهي ثلاثماية في اربع ركعات فلو كانت ذنوبك مثل رمل عالج لغفرها الله لك " . قال يا رسول الله ومن يستطيع ان يقولها في كل يوم قال " فان لم تستطع ان تقولها في كل يوم فقلها في جمعة فان لم تستطع ان تقولها في جمعة فقلها في شهر " . فلم يزل يقول له حتى قال " فقلها في سنة " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من حديث ابي رافع
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا، اللہ کے رسول! آپ پر سلام بھیجنا تو ہم نے جان لیا ہے ۱؎ لیکن آپ پر صلاۃ ( درود ) بھیجنے کا طریقہ کیا ہے؟ ۔ آپ نے فرمایا: ”کہو: «اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم إنك حميد مجيد وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم إنك حميد مجيد» ۲؎ ”اے اللہ! محمد اور آل محمد پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی ہے، یقیناً تو حمید ( تعریف کے قابل ) اور مجید ( بزرگی والا ) ہے، اور محمد اور آل محمد پر برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم پر برکت نازل فرمائی ہے، یقیناً تو حمید ( تعریف کے قابل ) اور مجید ( بزرگی والا ) ہے“۔ زائدہ نے بطریق اعمش عن الحکم عن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ ایک زائد لفظ کی روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: اور ہم ( درود میں ) «وعلينا معهم» ”یعنی اور ہمارے اوپر بھی رحمت و برکت بھیج“ بھی کہتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، ابوحمید، ابومسعود، طلحہ، ابوسعید، بریدہ، زید بن خارجہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو اسامة، عن مسعر، والاجلح، ومالك بن مغول، عن الحكم بن عتيبة، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن كعب بن عجرة، قال قلنا يا رسول الله هذا السلام عليك قد علمنا فكيف الصلاة عليك قال " قولوا اللهم صل على محمد وعلى ال محمد كما صليت على ابراهيم انك حميد مجيد وبارك على محمد وعلى ال محمد كما باركت على ابراهيم انك حميد مجيد " . قال محمود قال ابو اسامة وزادني زايدة عن الاعمش عن الحكم عن عبد الرحمن بن ابي ليلى قال ونحن نقول وعلينا معهم . قال وفي الباب عن علي وابي حميد وابي مسعود وطلحة وابي سعيد وبريدة وزيد بن خارجة ويقال ابن جارية وابي هريرة . قال ابو عيسى حديث كعب بن عجرة حديث حسن صحيح . وعبد الرحمن بن ابي ليلى كنيته ابو عيسى وابو ليلى اسمه يسار
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن مجھ سے لوگوں میں سب سے زیادہ قریب ۱؎ وہ ہو گا جو مجھ پر سب سے زیادہ صلاۃ ( درود ) بھیجے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا ”جو مجھ پر ایک بار صلاۃ ( درود ) بھیجتا ہے، اللہ اس پر اس کے بدلے دس بار صلاۃ ( درود ) بھیجتا ہے ۲؎، اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں“ ( یہی حدیث آگے آ رہی ہے ) ۔
حدثنا محمد بن بشار، بندار حدثنا محمد بن خالد ابن عثمة، حدثني موسى بن يعقوب الزمعي، حدثني عبد الله بن كيسان، ان عبد الله بن شداد، اخبره عن عبد الله بن مسعود، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اولى الناس بي يوم القيامة اكثرهم على صلاة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وروي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " من صلى على صلاة صلى الله عليه بها عشرا وكتب له بها عشر حسنات
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مجھ پر ایک بار صلاۃ ( درود ) بھیجے گا، اللہ اس کے بدلے اس پر دس بار صلاۃ ( درود ) بھیجے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف، عامر بن ربیعہ، عمار، ابوطلحہ، انس اور ابی بن کعب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- سفیان ثوری اور دیگر کئی اہل علم سے مروی ہے کہ رب کے صلاۃ ( درود ) سے مراد اس کی رحمت ہے اور فرشتوں کے صلاۃ ( درود ) سے مراد استغفار ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا اسماعيل بن جعفر، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صلى على صلاة صلى الله عليه بها عشرا " . قال وفي الباب عن عبد الرحمن بن عوف وعامر بن ربيعة وعمار وابي طلحة وانس وابى بن كعب . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . وروي عن سفيان الثوري وغير واحد من اهل العلم قالوا صلاة الرب الرحمة وصلاة الملايكة الاستغفار
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دعا آسمان اور زمین کے درمیان رکی رہتی ہے، اس میں سے ذرا سی بھی اوپر نہیں جاتی جب تک کہ تم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ ( درود ) نہیں بھیج لیتے۔
حدثنا ابو داود، سليمان بن سلم المصاحفي البلخي اخبرنا النضر بن شميل، عن ابي قرة الاسدي، عن سعيد بن المسيب، عن عمر بن الخطاب، قال ان الدعاء موقوف بين السماء والارض لا يصعد منه شيء حتى تصلي على نبيك صلى الله عليه وسلم
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں ہمارے بازار میں کوئی خرید و فروخت نہ کرے جب تک کہ وہ دین میں خوب سمجھ نہ پیدا کر لے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- علاء بن عبدالرحمٰن بن یعقوب یہ باپ بیٹے اور دادا تینوں تابعی ہیں، علاء کے دادا اور یعقوب کبار تابعین میں سے ہیں، انہوں نے عمر بن خطاب رضی الله عنہ کو پایا ہے اور ان سے روایت بھی کی ہے ۲؎۔
حدثنا عباس العنبري، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن مالك بن انس، عن العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب، عن ابيه، عن جده، قال قال عمر بن الخطاب لا يبع في سوقنا الا من قد تفقه في الدين . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . عباس هو ابن عبد العظيم . قال ابو عيسى والعلاء بن عبد الرحمن هو ابن يعقوب وهو مولى الحرقة والعلاء هو من التابعين سمع من انس بن مالك وغيره . وعبد الرحمن بن يعقوب والد العلاء هو ايضا من التابعين سمع من ابي هريرة وابي سعيد الخدري وابن عمر . ويعقوب جد العلاء هو من كبار التابعين ايضا قد ادرك عمر بن الخطاب وروى عنه . ابواب الجمعة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم