Loading...

Loading...
کتب
۳۰۳ احادیث
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم عشاء میں «والشمس وضحاها» اور اس جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بریدہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں براء بن عازب اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ۳- نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے عشاء میں سورۃ «والتين والزيتون» پڑھی۔ ۴- عثمان بن عفان سے مروی ہے کہ وہ عشاء میں «وساط مفصل» کی سورتیں جیسے سورۃ المنافقون اور اس جیسی دوسری سورتیں پڑھا کرتے تھے، ۵- صحابہ کرام اور تابعین سے یہ بھی مروی ہے کہ ان لوگوں نے اس سے زیادہ اور اس سے کم بھی پڑھی ہے۔ گویا ان کے نزدیک معاملے میں وسعت ہے لیکن اس سلسلے میں سب سے بہتر چیز جو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے وہ یہ کہ آپ نے سورۃ «والشمس وضحاها» اور سورۃ «والتين والزيتون» پڑھی۔
حدثنا عبدة بن عبد الله الخزاعي البصري، حدثنا زيد بن الحباب، حدثنا حسين بن واقد، عن عبد الله بن بريدة، عن ابيه، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا في العشاء الاخرة بالشمس وضحاها ونحوها من السور . قال وفي الباب عن البراء بن عازب وانس . قال ابو عيسى حديث بريدة حديث حسن . وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قرا في العشاء الاخرة بالتين والزيتون . وروي عن عثمان بن عفان انه كان يقرا في العشاء بسور من اوساط المفصل نحو سورة المنافقين واشباهها . وروي عن اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين انهم قرءوا باكثر من هذا واقل فكان الامر عندهم واسع في هذا . واحسن شيء في ذلك ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قرا بالشمس وضحاها والتين والزيتون
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے عشاء میں سورۃ «والتين والزيتون» پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن يحيى بن سعيد الانصاري، عن عدي بن ثابت، عن البراء بن عازب، ان النبي صلى الله عليه وسلم قرا في العشاء الاخرة بالتين والزيتون . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فجر پڑھی، آپ پر قرأت دشوار ہو گئی، نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے فرمایا: ”مجھے لگ رہا ہے کہ تم لوگ اپنے امام کے پیچھے قرأت کرتے ہو؟“ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کی قسم ہم قرأت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کیا کرو سوائے سورۃ فاتحہ کے اس لیے کہ جو اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبادہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث زہری نے بھی محمود بن ربیع سے اور محمود نے عبادہ بن صامت سے اور عبادہ نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ آپ نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں جس نے سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی، یہ سب سے صحیح روایت ہے، ۳ – اس باب میں ابوہریرہ، عائشہ، انس، ابوقتادہ اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- صحابہ اور تابعین میں سے اکثر اہل علم کا امام کے پیچھے قرأت کے سلسلے میں عمل اسی حدیث پر ہے۔ ائمہ کرام میں سے مالک بن انس، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول بھی یہی ہے، یہ سبھی لوگ امام کے پیچھے قرأت کے قائل ہیں ۱؎۔
حدثنا هناد، حدثنا عبدة بن سليمان، عن محمد بن اسحاق، عن مكحول، عن محمود بن الربيع، عن عبادة بن الصامت، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الصبح فثقلت عليه القراءة فلما انصرف قال " اني اراكم تقرءون وراء امامكم " . قال قلنا يا رسول الله اي والله . قال " فلا تفعلوا الا بام القران فانه لا صلاة لمن لم يقرا بها " . قال وفي الباب عن ابي هريرة وعايشة وانس وابي قتادة وعبد الله بن عمرو . قال ابو عيسى حديث عبادة حديث حسن . وروى هذا الحديث الزهري عن محمود بن الربيع عن عبادة بن الصامت عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا صلاة لمن لم يقرا بفاتحة الكتاب " . قال وهذا اصح . والعمل على هذا الحديث في القراءة خلف الامام عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين وهو قول مالك بن انس وابن المبارك والشافعي واحمد واسحاق يرون القراءة خلف الامام
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اس نماز سے فارغ ہونے کے بعد جس میں آپ نے بلند آواز سے قرأت کی تھی تو فرمایا: ”کیا تم میں سے ابھی کسی نے میرے ساتھ قرأت کی ہے؟“ ایک شخص نے عرض کیا: جی ہاں اللہ کے رسول! ( میں نے کی ہے ) آپ نے فرمایا: ”تبھی تو میں یہ کہہ رہا تھا: آخر کیا بات ہے کہ قرآن کی قرأت میں میری آواز سے آواز ٹکرائی جا رہی ہے اور مجھ پر غالب ہونے کی کوشش کی جاری ہے“، وہ ( زہری ) کہتے ہیں: تو جب لوگوں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے یہ بات سنی تو لوگ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ان نمازوں میں قرأت کرنے سے رک گئے جن میں آپ بلند آواز سے قرأت کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابن اکیمہ لیثی کا نام عمارہ ہے انہیں عمرو بن اکیمہ بھی کہا جاتا ہے، زہری کے دیگر تلامذہ نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے لیکن ان لوگوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے «قال الزهري فانتهى الناس عن القراءة حين سمعوا ذلك من رسول الله صلى الله عليه وسلم» ”زہری نے کہا کہ لوگ قرأت سے رک گئے جس وقت ان لوگوں نے اسے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے سنا“ ۳- اس باب میں ابن مسعود، عمران بن حصین اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- اس حدیث میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو ان لوگوں کے لیے رکاوٹ کا سبب بنے جن کی رائے امام کے پیچھے بھی قرأت کی ہے، اس لیے کہ ابوہریرہ رضی الله عنہ ہی ہیں جنہوں نے یہ حدیث روایت کی ہے اور انہوں نے ہی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے یہ حدیث بھی روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ”جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی تو وہ ناقص ہے، ناقص ہے، ناتمام ہے“ تو ان سے ایک شخص نے جس نے ان سے یہ حدیث اخذ کی تھی پوچھا کہ میں کبھی امام کے پیچھے ہوتا ہوں ( تو کیا کروں؟ ) تو انہوں نے کہا: تم اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کر۔ ابوعثمان نہدی سے روایت ہے کہ ابوہریرہ رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ مجھے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ میں اعلان کر دوں کہ سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی، ۵- اکثر محدثین نے اس بات کو پسند کیا ہے کہ جب امام بلند آواز سے قرأت کرے تو مقتدی قرأت نہ کرے، اور کہا ہے کہ وہ امام کے سکتوں کا «تتبع» کرتا رہے، ”یعنی وہ امام کے سکتوں کے درمیان پڑھ لیا کرے“، ۶- امام کے پیچھے قرأت کے سلسلہ میں اہل علم کا اختلاف ہے، صحابہ و تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم امام کے پیچھے قرأت کے قائل ہیں، مالک بن انس، عبداللہ بن مبارک شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ امام کے پیچھے قرأت کرتا ہوں اور لوگ بھی کرتے ہیں سوائے کوفیوں میں سے چند لوگوں کے، اور میرا خیال ہے کہ جو نہ پڑھے اس کی بھی نماز درست ہے، ۷- اور اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے اس سلسلہ میں سختی برتی ہے، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ سورۃ فاتحہ کا چھوڑنا جائز نہیں اگرچہ وہ امام کے پیچھے ہو، یہ لوگ کہتے ہیں کہ بغیر سورۃ فاتحہ کے نماز کفایت نہیں کرتی، یہ لوگ اس حدیث کی طرف گئے ہیں جسے عبادہ بن صامت نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ اور خود عبادہ بن صامت رضی الله عنہ نے بھی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے بعد امام کے پیچھے قرأت کی ہے، ان کا عمل نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اسی قول پر رہا ہے کہ سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں، یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ وغیرہ کا بھی قول ہے، ۸- رہے احمد بن حنبل تو وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے فرمان ”سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی“ کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ اکیلے نماز پڑھ رہا ہو تب سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہو گی۔ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کی حدیث سے یہ استدلال کیا ہے جس میں ہے کہ ”جس نے کوئی رکعت پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی تو اس کی نماز نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ وہ امام کے پیچھے ہو ۱؎“۔ احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ یہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ میں ایک شخص ہیں اور انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے فرمان ”سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی“ کی تفسیر یہ کی ہے کہ یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جو اکیلے پڑھ رہا ہو۔ ان سب کے باوجود احمد بن حنبل نے امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنے ہی کو پسند کیا ہے اور کہا ہے کہ آدمی سورۃ فاتحہ کو نہ چھوڑے اگرچہ امام کے پیچھے ہو۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جس نے کوئی رکعت ایسی پڑھی جس میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی تو اس نے نماز ہی نہیں پڑھی، سوائے اس کے کہ وہ امام کے پیچھے ہو ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن ابي نعيم، وهب بن كيسان انه سمع جابر بن عبد الله، يقول من صلى ركعة لم يقرا فيها بام القران فلم يصل الا ان يكون وراء الامام . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
فاطمہ بنت حسین اپنی دادی فاطمہ کبریٰ رضی الله عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر درود و سلام بھیجتے اور یہ دعا پڑھتے: «رب اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب رحمتك» ”اے میرے رب! میرے گناہ بخش دے اور اپنی رحمت کے دروازے میرے لیے کھول دے“ اور جب نکلتے تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر صلاۃ ( درود ) و سلام بھیجتے اور یہ کہتے: «رب اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب فضلك» ”اے میرے رب! میرے گناہ بخش دے اور اپنے فضل کے دروازے میرے لیے کھول دے“۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، عن ليث، عن عبد الله بن الحسن، عن امه، فاطمة بنت الحسين عن جدتها، فاطمة الكبرى قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا دخل المسجد صلى على محمد وسلم وقال " رب اغفر لي ذنوبي وافتح لي ابواب رحمتك " . واذا خرج صلى على محمد وسلم وقال " رب اغفر لي ذنوبي وافتح لي ابواب فضلك
اسماعیل بن ابراہیم بن راہویہ کا بیان ہے کہ میں عبداللہ بن حسن سے مکہ میں ملا تو میں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھ سے اسے بیان کیا اور کہا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوتے تو یہ کہتے «رب افتح لي باب رحمتك» ”اے میرے رب! اپنی رحمت کے دروازہ میرے لیے کھول دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- فاطمہ رضی الله عنہا کی حدیث ( شواہد کی بنا پر ) حسن ہے، ورنہ اس کی سند متصل نہیں ہے، ۲- فاطمہ بنت حسین نے فاطمہ کبریٰ کو نہیں پایا ہے، وہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چند ماہ ہی تک زندہ رہیں، ۳- اس باب میں ابوحمید، ابواسید اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
وقال علي بن حجر قال اسماعيل بن ابراهيم فلقيت عبد الله بن الحسن بمكة فسالته عن هذا الحديث، فحدثني به، قال كان اذا دخل قال " رب افتح لي باب رحمتك واذا خرج $$قال رب افتح لي باب فضلك " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي حميد وابي اسيد وابي هريرة . قال ابو عيسى حديث فاطمة حديث حسن وليس اسناده بمتصل . وفاطمة بنت الحسين لم تدرك فاطمة الكبرى انما عاشت فاطمة بعد النبي صلى الله عليه وسلم اشهرا
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسجد آئے تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوقتادہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- محمد بن عجلان اور دیگر کئی لوگوں نے عامر بن عبداللہ بن زبیر سے بھی یہ حدیث روایت کی ہے جیسے مالک بن انس کی روایت ہے، ۳- سہیل بن ابی صالح ۲؎ نے یہ حدیث بطریق: «عامر بن عبد الله بن الزبير عن عمرو بن سليم الزرقي عن جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم» سے روایت کی ہے، ۴ – یہ حدیث غیر محفوظ ہے اور صحیح ابوقتادہ کی حدیث ہے، اس باب میں جابر، ابوامامہ، ابوہریرہ، ابوذر اور کعب بن مالک سے بھی احادیث آئی ہیں، ہمارے اصحاب کا عمل اسی حدیث پر ہے: انہوں نے مستحب قرار دیا ہے کہ جب آدمی مسجد میں داخل ہو تو جب تک دو رکعتیں نہ پڑھ لے، نہ بیٹھے الا یہ کہ اس کے پاس کوئی عذر ہو، ۵- علی بن مدینی کہتے ہیں: سہیل بن ابی صالح کی حدیث میں غلطی ہوئی ہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا مالك بن انس، عن عامر بن عبد الله بن الزبير، عن عمرو بن سليم الزرقي، عن ابي قتادة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا جاء احدكم المسجد فليركع ركعتين قبل ان يجلس " . قال وفي الباب عن جابر وابي امامة وابي هريرة وابي ذر وكعب بن مالك . قال ابو عيسى وحديث ابي قتادة حديث حسن صحيح . وقد روى هذا الحديث محمد بن عجلان وغير واحد عن عامر بن عبد الله بن الزبير نحو رواية مالك بن انس . وروى سهيل بن ابي صالح هذا الحديث عن عامر بن عبد الله بن الزبير عن عمرو بن سليم الزرقي عن جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم . وهذا حديث غير محفوظ والصحيح حديث ابي قتادة . والعمل على هذا الحديث عند اصحابنا استحبوا اذا دخل الرجل المسجد ان لا يجلس حتى يصلي ركعتين الا ان يكون له عذر . قال علي بن المديني وحديث سهيل بن ابي صالح خطا اخبرني بذلك اسحاق بن ابراهيم عن علي بن المديني
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوائے قبرستان اور حمام ( غسل خانہ ) کے ساری زمین مسجد ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی عبداللہ بن عمرو، ابوہریرہ، جابر، ابن عباس، حذیفہ، انس، ابوامامہ اور ابوذر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ان لوگوں نے کہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے پوری زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور طہارت و پاکیزگی کا ذریعہ بنائی گئی ہے، ۲- ابوسعید رضی الله عنہ کی حدیث عبدالعزیز بن محمد سے دو طریق سے مروی ہے، بعض لوگوں نے ابوسعید کے واسطے کا ذکر کیا ہے اور بعض نے نہیں کیا ہے، اس حدیث میں اضطراب ہے، سفیان ثوری نے بطریق: «عمرو بن يحيى عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً روایت کی ہے۔ اور حماد بن سلمہ نے یہ حدیث بطریق: «عمرو بن يحيى عن أبيه عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرفوعاً روایت کی ہے۔ اور محمد بن اسحاق نے بھی یہ حدیث بطریق: «عمرو بن يحيى عن أبيه» اور ان کا کہنا ہے کہ یحییٰ کی اکثر احادیث آئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوسعید ہی کے واسطہ سے مروی ہیں، لیکن اس میں انہوں نے ابوسعید کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، گویا ثوری کی روایت «عمرو بن يحيى عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» زیادہ ثابت اور زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، وابو عمار الحسين بن حريث المروزي قالا حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عمرو بن يحيى، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الارض كلها مسجد الا المقبرة والحمام " . قال ابو عيسى وفي الباب عن علي وعبد الله بن عمرو وابي هريرة وجابر وابن عباس وحذيفة وانس وابي امامة وابي ذر قالوا ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " جعلت لي الارض مسجدا وطهورا " . قال ابو عيسى حديث ابي سعيد قد روي عن عبد العزيز بن محمد روايتين منهم من ذكره عن ابي سعيد ومنهم من لم يذكره . وهذا حديث فيه اضطراب . روى سفيان الثوري عن عمرو بن يحيى عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسل . ورواه حماد بن سلمة عن عمرو بن يحيى عن ابيه عن ابي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم . ورواه محمد بن اسحاق عن عمرو بن يحيى عن ابيه قال وكان عامة روايته عن ابي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم . ولم يذكر فيه عن ابي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم . وكان رواية الثوري عن عمرو بن يحيى عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم اثبت واصح مرسلا
عثمان بن عفان رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے اللہ کی رضا کے لیے مسجد بنائی، تو اللہ اس کے لیے اسی جیسا گھر بنائے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عثمان رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوبکر، عمر، علی، عبداللہ بن عمرو، انس، ابن عباس، عائشہ، ام حبیبہ، ابوذر، عمرو بن عبسہ، واثلہ بن اسقع، ابوہریرہ اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا بندار، حدثنا ابو بكر الحنفي، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، عن ابيه، عن محمود بن لبيد، عن عثمان بن عفان، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " من بنى لله مسجدا بنى الله له مثله في الجنة " . قال وفي الباب عن ابي بكر وعمر وعلي وعبد الله بن عمرو وانس وابن عباس وعايشة وام حبيبة وابي ذر وعمرو بن عبسة وواثلة بن الاسقع وابي هريرة وجابر بن عبد الله . قال ابو عيسى حديث عثمان حديث حسن صحيح . ومحمود بن لبيد قد ادرك النبي صلى الله عليه وسلم ومحمود بن الربيع قد راى النبي صلى الله عليه وسلم وهما غلامان صغيران مدنيان
انس رضی الله عنہ سے روایت کی گئی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے لیے کوئی مسجد بنائی، چھوٹی ہو یا بڑی، اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا“۔
وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " من بنى لله مسجدا صغيرا كان او كبيرا بنى الله له بيتا في الجنة " . حدثنا بذلك قتيبة حدثنا نوح بن قيس عن عبد الرحمن مولى قيس عن زياد النميري عن انس عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں اور قبروں پر مساجد بنانے والے اور چراغ جلانے والے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور عائشہ رضی الله عنہما سے احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن محمد بن جحادة، عن ابي صالح، عن ابن عباس، قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم زايرات القبور والمتخذين عليها المساجد والسرج . قال وفي الباب عن ابي هريرة وعايشة . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن . وابو صالح هذا هو مولى ام هاني بنت ابي طالب واسمه باذان ويقال باذام ايضا
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد میں سوتے تھے اور ہم نوجوان تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم میں کی ایک جماعت نے مسجد میں سونے کی اجازت دی ہے، ابن عباس کہتے ہیں: کوئی اسے سونے اور قیلولے کی جگہ نہ بنائے ۱؎ اور بعض اہل علم ابن عباس کے قول کی طرف گئے ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، قال كنا ننام على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد ونحن شباب . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح . وقد رخص قوم من اهل العلم في النوم في المسجد . قال ابن عباس لا يتخذه مبيتا ولا مقيلا . وقوم من اهل العلم ذهبوا الى قول ابن عباس
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اشعار پڑھنے، خرید و فروخت کرنے، اور جمعہ کے دن نماز ( جمعہ ) سے پہلے حلقہ باندھ کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے، ۲- عمرو کے باپ شعیب: محمد بن عبداللہ بن عمرو بن العاص کے بیٹے ہیں ۱؎، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ میں نے احمد اور اسحاق بن راہویہ کو ( اور ان دونوں کے علاوہ انہوں نے کچھ اور لوگوں کا ذکر کیا ہے ) دیکھا کہ یہ لوگ عمرو بن شعیب کی حدیث سے استدلال کرتے تھے، محمد بن اسماعیل کہتے ہیں کہ شعیب بن محمد نے اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما سے سنا ہے، ۳ – جن لوگوں نے عمرو بن شعیب کی حدیث میں کلام کرنے والوں نے انہیں صرف اس لیے ضعیف قرار دیا ہے کہ وہ اپنے دادا ( عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما ) کے صحیفے ( صحیفہ الصادقہ ) سے روایت کرتے ہیں، گویا ان لوگوں کا خیال ہے کہ یہ احادیث انہوں نے اپنے دادا سے نہیں سنی ہیں ۲؎ علی بن عبداللہ ( ابن المدینی ) کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید ( قطان ) سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا: عمرو بن شعیب کی حدیث ہمارے نزدیک ضعیف ہے، ۴- اس باب میں بریدہ، جابر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۵- اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے مسجد میں خرید و فروخت کو مکروہ قرار دیا ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں ۳؎، ۶- اور تابعین میں سے بعض اہل علم سے مسجد میں خرید و فروخت کرنے کی رخصت مروی ہے، ۷- نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیثوں میں مسجد میں شعر پڑھنے کی رخصت مروی ہے ۴؎۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن عجلان، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه نهى عن تناشد الاشعار في المسجد وعن البيع والاشتراء فيه وان يتحلق الناس فيه يوم الجمعة قبل الصلاة . قال وفي الباب عن بريدة وجابر وانس . قال ابو عيسى حديث عبد الله بن عمرو بن العاص حديث حسن . وعمرو بن شعيب هو ابن محمد بن عبد الله بن عمرو بن العاص . قال محمد بن اسماعيل رايت احمد واسحاق وذكر غيرهما يحتجون بحديث عمرو بن شعيب . قال محمد وقد سمع شعيب بن محمد من جده عبد الله بن عمرو . قال ابو عيسى ومن تكلم في حديث عمرو بن شعيب انما ضعفه لانه يحدث عن صحيفة جده كانهم راوا انه لم يسمع هذه الاحاديث من جده . قال علي بن عبد الله وذكر عن يحيى بن سعيد انه قال حديث عمرو بن شعيب عندنا واهي . وقد كره قوم من اهل العلم البيع والشراء في المسجد وبه يقول احمد واسحاق . وقد روي عن بعض اهل العلم من التابعين رخصة في البيع والشراء في المسجد . وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم في غير حديث رخصة في انشاد الشعر في المسجد
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنی خدرہ کے ایک شخص اور بنی عمرو بن عوف کے ایک شخص کے درمیان بحث ہو گئی کہ کون سی مسجد ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ۱؎ تو خدری نے کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ( یعنی مسجد نبوی ) ہے، دوسرے نے کہا: وہ مسجد قباء ہے، چنانچہ وہ دونوں اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: ”وہ یہ مسجد ہے، یعنی مسجد نبوی اور اس میں ( یعنی مسجد قباء میں ) بھی بہت خیر و برکت ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- علی بن عبداللہ بن المدینی نے یحییٰ بن سعید القطان سے ( سند میں موجود راوی ) محمد بن ابی یحییٰ اسلمی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ان میں کوئی قابل گرفت بات نہیں ہے، اور ان کے بھائی انیس بن ابی یحییٰ ان سے زیادہ ثقہ ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن انيس بن ابي يحيى، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري، قال امترى رجل من بني خدرة ورجل من بني عمرو بن عوف في المسجد الذي اسس على التقوى فقال الخدري هو مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم . وقال الاخر هو مسجد قباء . فاتيا رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذلك فقال " هو هذا يعني مسجده وفي ذلك خير كثير " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال حدثنا ابو بكر عن علي بن عبد الله قال سالت يحيى بن سعيد عن محمد بن ابي يحيى الاسلمي فقال لم يكن به باس واخوه انيس بن ابي يحيى اثبت منه
اسید بن ظہیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد قباء میں نماز پڑھنے کا ثواب ایک عمرہ کے برابر ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اسید کی حدیث حسن، غریب ہے، ۲- اس باب میں سہل بن حنیف رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- ہم اسید بن ظہیر کی کوئی ایسی چیز نہیں جانتے جو صحیح ہو سوائے اس حدیث کے۔
حدثنا محمد بن العلاء ابو كريب، وسفيان بن وكيع، قالا حدثنا ابو اسامة، عن عبد الحميد بن جعفر، قال حدثنا ابو الابرد، مولى بني خطمة انه سمع اسيد بن ظهير الانصاري، وكان، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم يحدث عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الصلاة في مسجد قباء كعمرة " . قال وفي الباب عن سهل بن حنيف . قال ابو عيسى حديث اسيد حديث حسن غريب . ولا نعرف لاسيد بن ظهير شييا يصح غير هذا الحديث ولا نعرفه الا من حديث ابي اسامة عن عبد الحميد بن جعفر . وابو الابرد اسمه زياد مديني
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری اس مسجد کی ایک نماز دوسری مساجد کی ہزار نمازوں سے زیادہ بہتر ہے، سوائے مسجد الحرام کے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- کئی سندوں سے مروی ہے، ۳- اس باب میں علی، میمونہ، ابوسعید، جبیر بن مطعم، ابن عمر، عبداللہ بن زبیر اور ابوذر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، ح وحدثنا قتيبة، عن مالك، عن زيد بن رباح، وعبيد الله بن ابي عبد الله الاغر، عن ابي عبد الله الاغر، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " صلاة في مسجدي هذا خير من الف صلاة فيما سواه الا المسجد الحرام " . قال ابو عيسى ولم يذكر قتيبة في حديثه عن عبيد الله انما ذكر عن زيد بن رباح عن ابي عبد الله الاغر عن ابي هريرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو عبد الله الاغر اسمه سلمان . وقد روي عن ابي هريرة من غير وجه عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال وفي الباب عن علي وميمونة وابي سعيد وجبير بن مطعم وابن عمر وعبد الله بن الزبير وابي ذر
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین مساجد کے سوا کسی اور جگہ کے لیے سفر نہ کیا جائے، ۱- مسجد الحرام کے لیے، ۲- میری اس مسجد ( مسجد نبوی ) کے لیے، ۳- مسجد الاقصیٰ کے لیے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبد الملك بن عمير، عن قزعة، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تشد الرحال الا الى ثلاثة مساجد مسجد الحرام ومسجدي هذا ومسجد الاقصى " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کی تکبیر ( اقامت ) کہہ دی جائے تو ( نماز میں سے ) اس کی طرف دوڑ کر مت آؤ، بلکہ چلتے ہوئے اس حال میں آؤ کہ تم پر سکینت طاری ہو، تو جو پاؤ اسے پڑھو اور جو چھوٹ جائے، اسے پوری کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوقتادہ، ابی بن کعب، ابوسعید، زید بن ثابت، جابر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- اہل علم کا مسجد کی طرف چل کر جانے میں اختلاف ہے: ان میں سے بعض کی رائے ہے کہ جب تکبیر تحریمہ کے فوت ہونے کا ڈر ہو، وہ دوڑے یہاں تک کہ بعض لوگوں کے بارے میں مذکور ہے کہ وہ نماز کے لیے قدرے دوڑ کر جاتے تھے اور بعض لوگوں نے دوڑ کر جانے کو مکروہ قرار دیا ہے اور آہستگی و وقار سے جانے کو پسند کیا ہے۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں، ان دونوں کا کہنا ہے کہ عمل ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث پر ہے۔ اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اگر تکبیر تحریمہ کے چھوٹ جانے کا ڈر ہو تو دوڑ کر جانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اقيمت الصلاة فلا تاتوها وانتم تسعون ولكن ايتوها وانتم تمشون وعليكم السكينة فما ادركتم فصلوا وما فاتكم فاتموا " . وفي الباب عن ابي قتادة وابى بن كعب وابي سعيد وزيد بن ثابت وجابر وانس . قال ابو عيسى اختلف اهل العلم في المشى الى المسجد فمنهم من راى الاسراع اذا خاف فوت التكبيرة الاولى حتى ذكر عن بعضهم انه كان يهرول الى الصلاة . ومنهم من كره الاسراع واختار ان يمشي على تودة ووقار وبه يقول احمد واسحاق وقالا العمل على حديث ابي هريرة . وقال اسحاق ان خاف فوت التكبيرة الاولى فلا باس ان يسرع في المشى
اس سند سے بھی ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کے ساتھ مروی ہے جیسے ابوسلمہ کی حدیث ہے جسے انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے۔ اسی طرح کہا ہے عبدالرزاق نے وہ روایت کرتے ہیں کہ سعید بن المسیب سے اور سعید بن مسیب نے بواسطہ ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اور یہ یزید بن زریع کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۱؎۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو حديث ابي سلمة عن ابي هريرة بمعناه . هكذا قال عبد الرزاق عن سعيد بن المسيب عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم . وهذا اصح من حديث يزيد بن زريع
حدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك بن انس، عن ابن شهاب، عن ابن اكيمة الليثي، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم انصرف من صلاة جهر فيها بالقراءة فقال " هل قرا معي احد منكم انفا " . فقال رجل نعم يا رسول الله . قال " اني اقول ما لي انازع القران " . قال فانتهى الناس عن القراءة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فيما جهر فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم من الصلوات بالقراءة حين سمعوا ذلك من رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال وفي الباب عن ابن مسعود وعمران بن حصين وجابر بن عبد الله . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وابن اكيمة الليثي اسمه عمارة . ويقال عمرو بن اكيمة . وروى بعض اصحاب الزهري هذا الحديث وذكروا هذا الحرف قال قال الزهري فانتهى الناس عن القراءة حين سمعوا ذلك من رسول الله صلى الله عليه وسلم . وليس في هذا الحديث ما يدخل على من راى القراءة خلف الامام لان ابا هريرة هو الذي روى عن النبي صلى الله عليه وسلم هذا الحديث وروى ابو هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " من صلى صلاة لم يقرا فيها بام القران فهي خداج فهي خداج غير تمام " . فقال له حامل الحديث اني اكون احيانا وراء الامام قال اقرا بها في نفسك . وروى ابو عثمان النهدي عن ابي هريرة قال امرني النبي صلى الله عليه وسلم ان انادي ان لا صلاة الا بقراءة فاتحة الكتاب . واختار اكثر اصحاب الحديث ان لا يقرا الرجل اذا جهر الامام بالقراءة وقالوا يتتبع سكتات الامام . وقد اختلف اهل العلم في القراءة خلف الامام فراى اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين ومن بعدهم القراءة خلف الامام وبه يقول مالك بن انس وعبد الله بن المبارك والشافعي واحمد واسحاق . وروي عن عبد الله بن المبارك انه قال انا اقرا خلف الامام والناس يقرءون الا قوما من الكوفيين وارى ان من لم يقرا صلاته جايزة . وشدد قوم من اهل العلم في ترك قراءة فاتحة الكتاب وان كان خلف الامام فقالوا لا تجزي صلاة الا بقراءة فاتحة الكتاب وحده كان او خلف الامام . وذهبوا الى ما روى عبادة بن الصامت عن النبي صلى الله عليه وسلم . وقرا عبادة بن الصامت بعد النبي صلى الله عليه وسلم خلف الامام وتاول قول النبي صلى الله عليه وسلم " لا صلاة الا بقراءة فاتحة الكتاب " . وبه يقول الشافعي واسحاق وغيرهما . واما احمد بن حنبل فقال معنى قول النبي صلى الله عليه وسلم " لا صلاة لمن لم يقرا بفاتحة الكتاب " . اذا كان وحده . واحتج بحديث جابر بن عبد الله حيث قال من صلى ركعة لم يقرا فيها بام القران فلم يصل الا ان يكون وراء الامام . قال احمد بن حنبل فهذا رجل من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم تاول قول النبي صلى الله عليه وسلم " لا صلاة لمن لم يقرا بفاتحة الكتاب " . ان هذا اذا كان وحده . واختار احمد مع هذا القراءة خلف الامام وان لا يترك الرجل فاتحة الكتاب وان كان خلف الامام