احادیث
#311
سنن ترمذی - Salat (Prayer)
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فجر پڑھی، آپ پر قرأت دشوار ہو گئی، نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے فرمایا: ”مجھے لگ رہا ہے کہ تم لوگ اپنے امام کے پیچھے قرأت کرتے ہو؟“ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کی قسم ہم قرأت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کیا کرو سوائے سورۃ فاتحہ کے اس لیے کہ جو اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبادہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث زہری نے بھی محمود بن ربیع سے اور محمود نے عبادہ بن صامت سے اور عبادہ نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ آپ نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں جس نے سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی، یہ سب سے صحیح روایت ہے، ۳ – اس باب میں ابوہریرہ، عائشہ، انس، ابوقتادہ اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- صحابہ اور تابعین میں سے اکثر اہل علم کا امام کے پیچھے قرأت کے سلسلے میں عمل اسی حدیث پر ہے۔ ائمہ کرام میں سے مالک بن انس، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول بھی یہی ہے، یہ سبھی لوگ امام کے پیچھے قرأت کے قائل ہیں ۱؎۔
حدثنا هناد، حدثنا عبدة بن سليمان، عن محمد بن اسحاق، عن مكحول، عن محمود بن الربيع، عن عبادة بن الصامت، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الصبح فثقلت عليه القراءة فلما انصرف قال " اني اراكم تقرءون وراء امامكم " . قال قلنا يا رسول الله اي والله . قال " فلا تفعلوا الا بام القران فانه لا صلاة لمن لم يقرا بها " . قال وفي الباب عن ابي هريرة وعايشة وانس وابي قتادة وعبد الله بن عمرو . قال ابو عيسى حديث عبادة حديث حسن . وروى هذا الحديث الزهري عن محمود بن الربيع عن عبادة بن الصامت عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا صلاة لمن لم يقرا بفاتحة الكتاب " . قال وهذا اصح . والعمل على هذا الحديث في القراءة خلف الامام عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين وهو قول مالك بن انس وابن المبارك والشافعي واحمد واسحاق يرون القراءة خلف الامام
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Salat (Prayer)
- Hadith Index
- #311
- Book Index
- 163
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirDaif
- Al-AlbaniDaif
- Zubair Ali ZaiSahih
