Loading...

Loading...
کتب
۳۰۳ احادیث
اس سند سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی برابر نماز ہی میں رہتا ہے جب تک وہ اس کا انتظار کرتا ہے اور فرشتے اس کے لیے برابر دعا کرتے رہتے ہیں جب تک وہ مسجد میں رہتا ہے، کہتے ہیں «اللهم اغفر له» ”اللہ! اسے بخش دے“ «اللهم ارحمه» ”اے اللہ! اس پر رحم فرما“ جب تک وہ «حدث» نہیں کرتا“، تو حضر موت کے ایک شخص نے پوچھا: «حدث» کیا ہے ابوہریرہ؟ تو ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا: آہستہ سے یا زور سے ہوا خارج کرنا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، ابوسعید، انس، عبداللہ بن مسعود اور سہل بن سعد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن همام بن منبه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يزال احدكم في صلاة ما دام ينتظرها ولا تزال الملايكة تصلي على احدكم ما دام في المسجد اللهم اغفر له اللهم ارحمه ما لم يحدث " . فقال رجل من حضرموت وما الحدث يا ابا هريرة قال فساء او ضراط . قال وفي الباب عن علي وابي سعيد وانس وعبد الله بن مسعود وسهل بن سعد . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «خمرہ» ”چھوٹی چٹائی“ پر نماز پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام حبیبہ، ابن عمر، ام سلیم، عائشہ، میمونہ، ام کلثوم بنت ابی سلمہ بن عبدالاسد ( ام کلثوم بنت ابی سلمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا ہے ) اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا یہی خیال ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «خمرہ» پر نماز ثابت ہے، ۴- «خمرہ» چھوٹی چٹائی کو کہتے ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن سماك بن حرب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي على الخمرة . قال وفي الباب عن ام حبيبة وابن عمر وام سليم وعايشة وميمونة وام كلثوم بنت ابي سلمة بن عبد الاسد ولم تسمع من النبي صلى الله عليه وسلم وام سلمة . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح . وبه يقول بعض اهل العلم . وقال احمد واسحاق قد ثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم الصلاة على الخمرة . قال ابو عيسى والخمرة هو حصير قصير
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چٹائی پر نماز پڑھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں انس اور مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے، البتہ اہل علم کی ایک جماعت نے زمین پر نماز پڑھنے کو استحباباً پسند کیا ہے۔
حدثنا نصر بن علي، حدثنا عيسى بن يونس، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر، عن ابي سعيد، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى على حصير . قال وفي الباب عن انس والمغيرة بن شعبة . قال ابو عيسى وحديث ابي سعيد حديث حسن . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم . الا ان قوما من اهل العلم اختاروا الصلاة على الارض استحبابا . وابو سفيان اسمه طلحة بن نافع
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے گھل مل جایا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ میرے چھوٹے بھائی سے کہتے: ابوعمیر! «ما فعل النغير» ”بلبل کا کیا ہوا؟“ ہماری چٹائی ۱؎ پر چھڑکاؤ کیا گیا پھر آپ نے اس پر نماز پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ وہ چادر اور قالین پر نماز پڑھنے میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن شعبة، عن ابي التياح الضبعي، قال سمعت انس بن مالك، يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخالطنا حتى ان كان يقول لاخ لي صغير " يا ابا عمير ما فعل النغير " . قال ونضح بساط لنا فصلى عليه . قال وفي الباب عن ابن عباس . قال ابو عيسى حديث انس حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ومن بعدهم لم يروا بالصلاة على البساط والطنفسة باسا . وبه يقول احمد واسحاق . واسم ابي التياح يزيد بن حميد
معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باغات میں نماز پڑھنا پسند فرماتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حیطان سے مراد «بساتین» ”باغات“ ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: معاذ کی حدیث غریب ہے، اسے ہم حسن بن ابی جعفر ہی کی روایت سے جانتے ہیں، اور حسن بن ابی جعفر کو یحییٰ بن سعید وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، حدثنا الحسن بن ابي جعفر، عن ابي الزبير، عن ابي الطفيل، عن معاذ بن جبل، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يستحب الصلاة في الحيطان . قال ابو داود يعني البساتين . قال ابو عيسى حديث معاذ حديث غريب لا نعرفه الا من حديث الحسن بن ابي جعفر . والحسن بن ابي جعفر قد ضعفه يحيى بن سعيد وغيره وابو الزبير اسمه محمد بن مسلم بن تدرس وابو الطفيل اسمه عامر بن واثلة
طلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم سے کوئی اپنے آگے کجاوے کی پچھلی لکڑی کی مانند کوئی چیز رکھ لے تو نماز پڑھے اور اس کی پرواہ نہ کرے کہ اس کے آگے سے کون گزرا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- طلحہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، سہل بن ابی حثمہ، ابن عمر، سبرہ بن معبد جہنی، ابوجحیفہ اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، وهناد، قالا حدثنا ابو الاحوص، عن سماك بن حرب، عن موسى بن طلحة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا وضع احدكم بين يديه مثل موخرة الرحل فليصل ولا يبالي من مر وراء ذلك " . قال وفي الباب عن ابي هريرة وسهل بن ابي حثمة وابن عمر وسبرة بن معبد الجهني وابي جحيفة وعايشة . قال ابو عيسى حديث طلحة حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم وقالوا سترة الامام سترة لمن خلفه
بسر بن سعید سے روایت ہے کہ زید بن خالد جہنی نے انہیں ابوجہیم رضی الله عنہ کے پاس بھیجا تاکہ وہ ان سے یہ پوچھیں کہ انہوں نے مصلی کے آگے سے گزرنے والے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ہے؟ تو ابوجہیم رضی الله عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اگر مصلی کے آگے سے گزرنے والا جان لے کہ اس پر کیا ( گناہ ) ہے تو اس کے لیے مصلی کے آگے سے گزرنے سے چالیس … تک کھڑا رہنا بہتر ہو گا۔ ابونضر سالم کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے چالیس دن کہا، یا چالیس مہینے کہا یا چالیس سال۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوجہیم رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری، ابوہریرہ، ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کا سو سال کھڑے رہنا اس بات سے بہتر ہے کہ وہ اپنے بھائی کے سامنے سے گزرے اور وہ نماز پڑھ رہا ہو“، ۴- اہل علم کے نزدیک عمل اسی پر ہے، ان لوگوں نے نمازی کے آگے سے گزرنے کو مکروہ جانا ہے، لیکن ان کی یہ رائے نہیں کہ آدمی کی نماز کو باطل کر دے گا۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك بن انس، عن ابي النضر، عن بسر بن سعيد، ان زيد بن خالد الجهني، ارسله الى ابي جهيم يساله ماذا سمع من، رسول الله صلى الله عليه وسلم في المار بين يدى المصلي فقال ابو جهيم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو يعلم المار بين يدى المصلي ماذا عليه لكان ان يقف اربعين خير له من ان يمر بين يديه " . قال ابو النضر لا ادري قال اربعين يوما او شهرا او سنة قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي سعيد الخدري وابي هريرة وابن عمر وعبد الله بن عمرو . قال ابو عيسى وحديث ابي جهيم حديث حسن صحيح . وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " لان يقف احدكم ماية عام خير له من ان يمر بين يدى اخيه وهو يصلي " . والعمل عليه عند اهل العلم كرهوا المرور بين يدى المصلي ولم يروا ان ذلك يقطع صلاة الرجل . واسم ابي النضر سالم مولى عمر بن عبيد الله المديني
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں ایک گدھی پر ( اپنے بھائی ) فضل رضی الله عنہ کے پیچھے سوار تھا، ہم آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں صحابہ کو نماز پڑھا رہے تھے، ہم گدھی سے اترے اور صف میں مل گئے۔ اور وہ ( گدھی ) ان لوگوں کے سامنے پھرنے لگی، تو اس نے ان کی نماز باطل نہیں کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، فضل بن عباس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ اور ان کے بعد تابعین میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ نماز کو کوئی چیز باطل نہیں کرتی، سفیان ثوری اور شافعی بھی یہی کہتے ہیں ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا معمر، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس، قال كنت رديف الفضل على اتان فجينا والنبي صلى الله عليه وسلم يصلي باصحابه بمنى . قال فنزلنا عنها فوصلنا الصف فمرت بين ايديهم فلم تقطع صلاتهم . قال ابو عيسى وفي الباب عن عايشة والفضل بن عباس وابن عمر . قال ابو عيسى وحديث ابن عباس حديث حسن صحيح . والعمل عليه عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ومن بعدهم من التابعين قالوا لا يقطع الصلاة شيء . وبه يقول سفيان الثوري والشافعي
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی نماز پڑھے اور اس کے سامنے کجاوے کی آخری ( لکڑی یا کہا: کجاوے کی بیچ کی لکڑی کی طرح ) کوئی چیز نہ ہو تو: کالے کتے، عورت اور گدھے کے گزرنے سے اس کی نماز باطل ہو جائے گی“ ۱؎ میں نے ابوذر سے کہا: لال، اور سفید کے مقابلے میں کالے کی کیا خصوصیت ہے؟ انہوں نے کہا: میرے بھتیجے! تم نے مجھ سے ایسے ہی پوچھا ہے جیسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا تو آپ نے فرمایا: ”کالا کتا شیطان ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوذر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری، حکم بن عمرو بن غفاری، ابوہریرہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ گدھا، عورت اور کالا کتا نماز کو باطل کر دیتا ہے۔ احمد بن حنبل کہتے ہیں: مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ کالا کتا نماز باطل کر دیتا ہے لیکن گدھے اور عورت کے سلسلے میں مجھے کچھ تذبذب ہے، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: کالے کتے کے سوا کوئی اور چیز نماز باطل نہیں کرتی۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، اخبرنا يونس بن عبيد، ومنصور بن زاذان، عن حميد بن هلال، عن عبد الله بن الصامت، قال سمعت ابا ذر، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا صلى الرجل وليس بين يديه كاخرة الرحل او كواسطة الرحل قطع صلاته الكلب الاسود والمراة والحمار " . فقلت لابي ذر ما بال الاسود من الاحمر من الابيض فقال يا ابن اخي سالتني كما سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " الكلب الاسود شيطان " . قال وفي الباب عن ابي سعيد والحكم بن عمرو الغفاري وابي هريرة وانس . قال ابو عيسى حديث ابي ذر حديث حسن صحيح . وقد ذهب بعض اهل العلم اليه قالوا يقطع الصلاة الحمار والمراة والكلب الاسود . قال احمد الذي لا اشك فيه ان الكلب الاسود يقطع الصلاة وفي نفسي من الحمار والمراة شيء . قال اسحاق لا يقطعها شيء الا الكلب الاسود
عمر بن ابی سلمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کے گھر میں اس حال میں نماز پڑھتے دیکھا، کہ آپ ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمر بن ابی سلمہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، جابر، سلمہ بن الاکوع، انس، عمرو بن ابی اسید، عبادہ بن صامت، ابو سعید خدری، کیسان، ابن عباس، عائشہ، ام ہانی، عمار بن یاسر، طلق بن علی، اور عبادہ بن صامت انصاری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ صحابہ کرام اور ان کے بعد تابعین وغیرہم سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ آدمی دو کپڑوں میں نماز پڑھے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عمر بن ابي سلمة، انه راى رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي في بيت ام سلمة مشتملا في ثوب واحد . قال وفي الباب عن ابي هريرة وجابر وسلمة بن الاكوع وانس وعمرو بن ابي اسيد وعبادة بن الصامت وابي سعيد وكيسان وابن عباس وعايشة وام هاني وعمار بن ياسر وطلق بن علي وصامت الانصاري . قال ابو عيسى حديث عمر بن ابي سلمة حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ومن بعدهم من التابعين وغيرهم قالوا لا باس بالصلاة في الثوب الواحد . وقد قال بعض اهل العلم يصلي الرجل في ثوبين
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے آئے تو سولہ یا سترہ ماہ تک آپ نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی طرف رخ کرنا پسند فرماتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے «قد نرى تقلب وجهك في السماء فلنولينك قبلة ترضاها فول وجهك شطر المسجد الحرام» ”ہم آپ کے چہرے کو باربار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، اب ہم آپ کو اس قبلہ کی جانب متوجہ کریں گے جس سے آپ خوش ہو جائیں، اب آپ اپنا رخ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیجئے“ نازل فرمائی، تو آپ نے اپنا چہرہ کعبہ کی طرف پھیر لیا اور آپ یہی چاہتے بھی تھے، ایک شخص نے آپ کے ساتھ عصر پڑھی، پھر وہ انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا اور وہ لوگ عصر میں بیت المقدس کی طرف چہرہ کئے رکوع کی حالت میں تھے، اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس حال میں نماز پڑھی ہے کہ آپ اپنا رخ کعبہ کی طرف کئے ہوئے تھے، تو وہ لوگ بھی رکوع کی حالت ہی میں ( خانہ کعبہ کی طرف ) پھر گئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- براء کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، ابن عباس، عمارہ بن اوس، عمرو بن عوف مزنی اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن البراء بن عازب، قال لما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة صلى نحو بيت المقدس ستة او سبعة عشر شهرا وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحب ان يوجه الى الكعبة فانزل الله تعالى: (قد نرى تقلب وجهك في السماء فلنولينك قبلة ترضاها فول وجهك شطر المسجد الحرام) فوجه نحو الكعبة وكان يحب ذلك فصلى رجل معه العصر ثم مر على قوم من الانصار وهم ركوع في صلاة العصر نحو بيت المقدس فقال هو يشهد انه صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وانه قد وجه الى الكعبة . قال فانحرفوا وهم ركوع . قال وفي الباب عن ابن عمر وابن عباس وعمارة بن اوس وعمرو بن عوف المزني وانس . قال ابو عيسى وحديث البراء حديث حسن صحيح . وقد رواه سفيان الثوري عن ابي اسحاق
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں وہ لوگ نماز فجر میں رکوع میں تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال كانوا ركوعا في صلاة الصبح . قال ابو عيسى وحديث ابن عمر حديث صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشرق ( پورب ) اور مغرب ( پچھم ) کے درمیان جو ہے سب قبلہ ہے“ ۱؎۔
حدثنا محمد بن ابي معشر، حدثنا ابي، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما بين المشرق والمغرب قبلة
یحییٰ بن موسیٰ کا بیان ہے کہ ہم سے محمد بن ابی معشر نے بھی اسی کے مثل بیان کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث ان سے اور بھی کئی سندوں سے مروی ہے، ۲- بعض اہل علم نے ابومعشر کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے۔ ان کا نام نجیح ہے، وہ بنی ہاشم کے مولیٰ ہیں، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: میں ان سے کوئی روایت نہیں کرتا حالانکہ لوگوں نے ان سے روایت کی ہے نیز بخاری کہتے ہیں کہ عبداللہ بن جعفر مخرمی کی حدیث جسے انہوں نے بسند «عثمان بن محمد اخنسی عن سعید المقبری عن أبی ہریرہ» روایت کی ہے، ابومعشر کی حدیث سے زیادہ قوی اور زیادہ صحیح ہے ( یہ حدیث آگے آ رہی ہے جو اسی معنی کی ہے ) ۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا محمد بن ابي معشر، مثله . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة قد روي عنه، من غير هذا الوجه . وقد تكلم بعض اهل العلم في ابي معشر من قبل حفظه واسمه نجيح مولى بني هاشم . قال محمد لا اروي عنه شييا وقد روى عنه الناس . قال محمد وحديث عبد الله بن جعفر المخرمي عن عثمان بن محمد الاخنسي عن سعيد المقبري عن ابي هريرة اقوى من حديث ابي معشر واصح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشرق ( پورب ) اور مغرب ( پچھم ) کے درمیان جو ہے وہ سب قبلہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- کئی صحابہ سے مروی ہے کہ مشرق و مغرب کے درمیان جو ہے سب قبلہ ہے۔ ان میں عمر بن خطاب، علی بن ابی طالب، اور ابن عباس رضی الله عنہم بھی شامل ہیں، ابن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں: جب آپ مغرب کو دائیں طرف اور مشرق کو بائیں طرف رکھ کر قبلہ رخ کھڑے ہوں گے تو ان دونوں سمتوں کے درمیان جو ہو گا وہ قبلہ ہو گا، ابن مبارک کہتے ہیں: مشرق و مغرب کے درمیان جو ہے سب قبلہ ہے، یہ اہل مشرق ۱؎ کے لیے ہے۔ اور عبداللہ بن مبارک نے اہل مرو ۲؎ کے لیے بائیں طرف جھکنے کو پسند کیا ہے۔
حدثنا الحسن بن بكر المروزي، حدثنا المعلى بن منصور، حدثنا عبد الله بن جعفر المخرمي، عن عثمان بن محمد الاخنسي، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما بين المشرق والمغرب قبلة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وانما قيل عبد الله بن جعفر المخرمي لانه من ولد المسور بن مخرمة . وقد روي عن غير واحد من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم " ما بين المشرق والمغرب قبلة " . منهم عمر بن الخطاب وعلي بن ابي طالب وابن عباس . وقال ابن عمر اذا جعلت المغرب عن يمينك والمشرق عن يسارك فما بينهما قبلة اذا استقبلت القبلة . وقال ابن المبارك " ما بين المشرق والمغرب قبلة " . هذا لاهل المشرق . واختار عبد الله بن المبارك التياسر لاهل مرو
عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک تاریک رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے۔ تو ہم نہیں جان سکے کہ قبلہ کس طرف ہے، ہم میں سے ہر شخص نے اسی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لی جس طرف پہلے سے اس کا رخ تھا۔ جب ہم نے صبح کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا چنانچہ اس وقت آیت کریمہ «فأينما تولوا فثم وجه الله» ”تم جس طرف رخ کر لو اللہ کا منہ اسی طرف ہے“ نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند کچھ زیادہ اچھی نہیں ہے۔ ہم اسے صرف اشعث بن سمان ہی کی روایت سے جانتے ہیں، اور اشعث بن سعید ابوالربیع سمان حدیث کے معاملے میں ضعیف گردانے جاتے ہیں، ۲- اکثر اہل علم اسی کی طرف گئے ہیں کہ جب کوئی بدلی میں غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھ لے پھر نماز پڑھ لینے کے بعد پتہ چلے اس نے غیر قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی ہے تو اس کی نماز درست ہے۔ سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، حدثنا اشعث بن سعيد السمان، عن عاصم بن عبيد الله، عن عبد الله بن عامر بن ربيعة، عن ابيه، قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر في ليلة مظلمة فلم ندر اين القبلة فصلى كل رجل منا على حياله فلما اصبحنا ذكرنا ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فنزل: (فاينما تولوا فثم وجه الله) . قال ابو عيسى هذا حديث ليس اسناده بذاك لا نعرفه الا من حديث اشعث السمان . واشعث بن سعيد ابو الربيع السمان يضعف في الحديث . وقد ذهب اكثر اهل العلم الى هذا . قالوا اذا صلى في الغيم لغير القبلة ثم استبان له بعد ما صلى انه صلى لغير القبلة فان صلاته جايزة . وبه يقول سفيان الثوري وابن المبارك واحمد واسحاق
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات مقامات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے: کوڑا کرکٹ ڈالنے کی جگہ میں، مذبح میں، قبرستان میں، عام راستوں پر، حمام ( غسل خانہ ) میں اونٹ باندھنے کی جگہ میں اور بیت اللہ کی چھت پر۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا المقري، حدثنا يحيى بن ايوب، عن زيد بن جبيرة، عن داود بن الحصين، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى ان يصلى في سبعة مواطن في المزبلة والمجزرة والمقبرة وقارعة الطريق وفي الحمام وفي معاطن الابل وفوق ظهر بيت الله
اس سند سے بھی اس مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کی سند کوئی زیادہ قوی نہیں ہے، زید بن جبیرۃ کے سلسلہ میں ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا گیا ہے، ۲- زید بن جبیر کوفی ان سے زیادہ قوی اور ان سے پہلے کے ہیں انہوں نے ابن عمر رضی الله عنہما سے سنا ہے، ۳- اس باب میں ابو مرثد کناز بن حصین، جابر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- لیث بن سعد نے یہ حدیث بطریق: «عبد الله بن عمر العمري عن نافع عن ابن عمر عن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے۔ داود کی حدیث جسے انہوں نے بطریق: «عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» سے روایت کی ہے۔ لیث بن سعد کی حدیث سے زیادہ قرین صواب اور زیادہ صحیح ہے، عبداللہ بن عمر عمری کو بعض اہل حدیث نے ان کے حفظ کے تعلق سے ضعیف گردانا ہے، انہیں میں سے یحییٰ بن سعیدالقطان بھی ہیں
حدثنا علي بن حجر، حدثنا سويد بن عبد العزيز، عن زيد بن جبيرة، عن داود بن حصين، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه بمعناه . قال وفي الباب عن ابي مرثد وجابر وانس . ابو مرثد اسمه كناز بن حصين . قال ابو عيسى وحديث ابن عمر اسناده ليس بذاك القوي . وقد تكلم في زيد بن جبيرة من قبل حفظه . قال ابو عيسى وزيد بن جبير الكوفي اثبت من هذا واقدم وقد سمع من ابن عمر . وقد روى الليث بن سعد هذا الحديث عن عبد الله بن عمر العمري عن نافع عن ابن عمر عن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله . وحديث داود عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم اشبه واصح من حديث الليث بن سعد . وعبد الله بن عمر العمري ضعفه بعض اهل الحديث من قبل حفظه منهم يحيى بن سعيد القطان
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو ۱؎ اور اونٹ باندھنے کی جگہ میں نہ پڑھو“۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا يحيى بن ادم، عن ابي بكر بن عياش، عن هشام، عن ابن سيرين، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صلوا في مرابض الغنم ولا تصلوا في اعطان الابل