Loading...

Loading...
کتب
۳۰۳ احادیث
اس سند سے بھی اسی کے مثل یا اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ہمارے اصحاب کے نزدیک عمل اسی پر ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، ۲- ابوحصین کی حدیث جسے انہوں نے بطریق: «أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے غریب ہے، ۳- اسے اسرائیل نے بطریق: «أبي حصين عن أبي صالح عن أبي هريرة» موقوفاً روایت کیا ہے، اور انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، ۴- اس باب میں جابر بن سمرہ، براء، سبرہ بن معبد جہنی، عبداللہ بن مغفل، ابن عمر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا يحيى بن ادم، عن ابي بكر بن عياش، عن ابي حصين، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمثله او بنحوه . قال وفي الباب عن جابر بن سمرة والبراء وسبرة بن معبد الجهني وعبد الله بن مغفل وابن عمر وانس . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . وعليه العمل عند اصحابنا وبه يقول احمد واسحاق . وحديث ابي حصين عن ابي صالح عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم حديث غريب . ورواه اسراييل عن ابي حصين عن ابي صالح عن ابي هريرة موقوفا ولم يرفعه . واسم ابي حصين عثمان بن عاصم الاسدي
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، عن شعبة، عن ابي التياح الضبعي، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي في مرابض الغنم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو التياح الضبعي اسمه يزيد بن حميد
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ضرورت سے بھیجا تو میں ضرورت پوری کر کے آیا تو ( دیکھا کہ ) آپ اپنی سواری پر مشرق ( پورب ) کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے، اور سجدہ رکوع سے زیادہ پست تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، یہ حدیث دیگر اور سندوں سے بھی جابر سے مروی ہے، ۲- اس باب میں انس، ابن عمر، ابوسعید، عامر بن ربیعہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور اسی پر بیشتر اہل علم کے نزدیک عمل ہے، ہم ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں جانتے، یہ لوگ آدمی کے اپنی سواری پر نفل نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے، خواہ اس کا رخ قبلہ کی طرف ہو یا کسی اور طرف ہو۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، ويحيى بن ادم، قالا حدثنا سفيان، عن ابي الزبير، عن جابر، قال بعثني النبي صلى الله عليه وسلم في حاجة فجيت وهو يصلي على راحلته نحو المشرق والسجود اخفض من الركوع . قال وفي الباب عن انس وابن عمر وابي سعيد وعامر بن ربيعة . قال ابو عيسى حديث جابر حديث حسن صحيح وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن جابر . والعمل على هذا عند عامة اهل العلم لا نعلم بينهم اختلافا . لا يرون باسا ان يصلي الرجل على راحلته تطوعا حيثما كان وجهه الى القبلة او غيرها
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ یا اپنی سواری کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی، نیز اپنی سواری پر نماز پڑھتے رہتے چاہے وہ جس طرف متوجہ ہوتی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہی بعض اہل علم کا قول ہے کہ اونٹ کو سترہ بنا کر اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ۲؎۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى الى بعيره او راحلته وكان يصلي على راحلته حيثما توجهت به . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وهو قول بعض اهل العلم لا يرون بالصلاة الى البعير باسا ان يستتر به
انس رضی الله عنہ سے کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب شام کا کھانا حاضر ہو، اور نماز کھڑی کر دی جائے ۱؎ تو پہلے کھا لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، ابن عمر، سلمہ بن اکوع، اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ انہیں میں سے ابوبکر، عمر اور ابن عمر رضی الله عنہم بھی ہیں، اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ پہلے کھانا کھائے اگرچہ جماعت چھوٹ جائے۔ ۴- اس حدیث کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ پہلے کھانا کھائے گا جب اسے کھانا خراب ہونے کا اندیشہ ہو، لیکن جس کی طرف صحابہ کرام وغیرہ میں سے بعض اہل علم گئے ہیں، وہ اتباع کے زیادہ لائق ہے، ان لوگوں کا مقصود یہ ہے کہ آدمی ایسی حالت میں نماز میں نہ کھڑا ہو کہ اس کا دل کسی چیز کے سبب مشغول ہو، اور ابن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ ہم نماز کے لیے کھڑے نہیں ہوتے جب تک ہمارا دل کسی اور چیز میں لگا ہوتا ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن انس، يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا حضر العشاء واقيمت الصلاة فابدءوا بالعشاء " . قال وفي الباب عن عايشة وابن عمر وسلمة بن الاكوع وام سلمة . قال ابو عيسى حديث انس حديث حسن صحيح . وعليه العمل عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم ابو بكر وعمر وابن عمر . وبه يقول احمد واسحاق يقولان يبدا بالعشاء وان فاتته الصلاة في الجماعة . قال ابو عيسى سمعت الجارود يقول سمعت وكيعا يقول في هذا الحديث يبدا بالعشاء اذا كان طعاما يخاف فساده . والذي ذهب اليه بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم اشبه بالاتباع وانما ارادوا ان لا يقوم الرجل الى الصلاة وقلبه مشغول بسبب شيء . وقد روي عن ابن عباس انه قال لا نقوم الى الصلاة وفي انفسنا شيء
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب شام کا کھانا ( تمہارے سامنے ) رکھ دیا جائے اور نماز کھڑی ہو جائے تو پہلے کھانا کھاؤ“، ابن عمر رضی الله عنہما شام کا کھانا کھا رہے تھے اور امام کی قرأت سن رہے تھے۔
وروي عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " اذا وضع العشاء واقيمت الصلاة فابدءوا بالعشاء " . قال وتعشى ابن عمر وهو يسمع قراءة الامام . قال حدثنا بذلك هناد حدثنا عبدة عن عبيد الله عن نافع عن ابن عمر
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اونگھے اور وہ نماز پڑھ رہا ہو تو سو جائے یہاں تک کہ اس سے نیند چلی جائے، اس لیے کہ تم میں سے کوئی جب نماز پڑھے اور اونگھ رہا ہو تو شاید وہ استغفار کرنا چاہتا ہو لیکن اپنے آپ کو گالیاں دے بیٹھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هارون بن اسحاق الهمداني، حدثنا عبدة بن سليمان الكلابي، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا نعس احدكم وهو يصلي فليرقد حتى يذهب عنه النوم فان احدكم اذا صلى وهو ينعس لعله يذهب يستغفر فيسب نفسه " . قال وفي الباب عن انس وابي هريرة . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح
ابوعطیہ عقیلی کہتے ہیں کہ مالک بن حویرث رضی الله عنہ ہماری نماز پڑھنے کی جگہ میں آتے اور حدیث بیان کرتے تھے تو ایک دن نماز کا وقت ہوا تو ہم نے ان سے کہا کہ آپ آگے بڑھئیے ( اور نماز پڑھائیے ) ۔ انہوں نے کہا: تمہیں میں سے کوئی آگے بڑھ کر نماز پڑھائے یہاں تک کہ میں تمہیں بتاؤں کہ میں کیوں نہیں آگے بڑھتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو کسی قوم کی زیارت کو جائے تو ان کی امامت نہ کرے بلکہ ان کی امامت ان ہی میں سے کسی آدمی کو کرنی چاہیئے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ صاحب خانہ زیارت کرنے والے سے زیادہ امامت کا حقدار ہے، بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب اسے اجازت دے دی جائے تو اس کے نماز پڑھانے میں کوئی حرج نہیں ہے، اسحاق بن راہویہ نے مالک بن حویرث رضی الله عنہ کی حدیث کے مطابق کہا ہے اور انہوں نے اس مسئلہ میں سختی برتی ہے کہ صاحب خانہ کو کوئی اور نماز نہ پڑھائے اگرچہ صاحب خانہ اسے اجازت دیدے، نیز وہ کہتے ہیں: اسی طرح کا حکم مسجد کے بارے میں بھی ہے کہ وہ جب ان کی زیارت کے لیے آیا ہو انہیں میں سے کسی آدمی کو ان کی نماز پڑھانی چاہیئے۔
حدثنا محمود بن غيلان، وهناد، قالا حدثنا وكيع، عن ابان بن يزيد العطار، عن بديل بن ميسرة العقيلي، عن ابي عطية، رجل منهم قال كان مالك بن الحويرث ياتينا في مصلانا يتحدث فحضرت الصلاة يوما فقلنا له تقدم . فقال ليتقدم بعضكم حتى احدثكم لم لا اتقدم سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من زار قوما فلا يومهم وليومهم رجل منهم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم قالوا صاحب المنزل احق بالامامة من الزاير . وقال بعض اهل العلم اذا اذن له فلا باس ان يصلي به . وقال اسحاق بحديث مالك بن الحويرث وشدد في ان لا يصلي احد بصاحب المنزل وان اذن له صاحب المنزل . قال وكذلك في المسجد لا يصلي بهم في المسجد اذا زارهم يقول ليصل بهم رجل منهم
ثوبان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کے گھر کے اندر جھانک کر دیکھے جب تک کہ گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہ لے لے۔ اگر اس نے ( جھانک کر ) دیکھا تو گویا وہ اندر داخل ہو گیا۔ اور کوئی لوگوں کی امامت اس طرح نہ کرے کہ ان کو چھوڑ کر دعا کو صرف اپنے لیے خاص کرے، اگر اس نے ایسا کیا تو اس نے ان سے خیانت کی، اور نہ کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو اور حال یہ ہو کہ وہ پاخانہ اور پیشاب کو روکے ہوئے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ثوبان رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث معاویہ بن صالح سے بھی مروی ہے، معاویہ نے اس کو بطریق: «سفر بن نسير عن يزيد بن شريح عن أبي أمامة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، نیز یہ حدیث یزید بن شریح ہی کے واسطے سے بطریق: «أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی گئی ہے۔ یزید بن شریح کی حدیث بطریق: «أبي حى المؤذن عن ثوبان» سند کے اعتبار سے سب سے عمدہ اور مشہور ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ اور ابوامامہ رضی الله عنہما سے احادیث آئی ہیں۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثني حبيب بن صالح، عن يزيد بن شريح، عن ابي حى الموذن الحمصي، عن ثوبان، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يحل لامري ان ينظر في جوف بيت امري حتى يستاذن فان نظر فقد دخل ولا يوم قوما فيخص نفسه بدعوة دونهم فان فعل فقد خانهم ولا يقوم الى الصلاة وهو حقن " . قال وفي الباب عن ابي هريرة وابي امامة . قال ابو عيسى حديث ثوبان حديث حسن . وقد روي هذا الحديث عن معاوية بن صالح عن السفر بن نسير عن يزيد بن شريح عن ابي امامة عن النبي صلى الله عليه وسلم . وروي هذا الحديث عن يزيد بن شريح عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم . وكان حديث يزيد بن شريح عن ابي حى الموذن عن ثوبان في هذا اجود اسنادا واشهر
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین لوگوں پر لعنت فرمائی ہے: ایک وہ شخص جو لوگوں کی امامت کرے اور لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں۔ دوسری وہ عورت جو رات گزارے اور اس کا شوہر اس سے ناراض ہو، تیسرا وہ جو «حي على الفلاح» سنے اور اس کا جواب نہ دے ( یعنی جماعت میں حاضر نہ ہو ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی یہ حدیث صحیح نہیں ہے کیونکہ حقیقت میں یہ حدیث حسن ( بصریٰ ) سے بغیر کسی واسطے کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً مروی ہے، ۲- محمد بن قاسم کے سلسلہ میں احمد بن حنبل نے کلام کیا ہے، انہوں نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے۔ اور یہ کہ وہ حافظ نہیں ہیں ۱؎، ۳- اس باب میں ابن عباس، طلحہ، عبداللہ بن عمرو اور ابوامامہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- بعض اہل علم کے یہاں یہ مکروہ ہے کہ آدمی لوگوں کی امامت کرے اور وہ اسے ناپسند کرتے ہوں اور جب امام ظالم ( قصوروار ) نہ ہو تو گناہ اسی پر ہو گا جو ناپسند کرے۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ کا اس سلسلہ میں یہ کہنا ہے کہ جب ایک یا دو یا تین لوگ ناپسند کریں تو اس کے انہیں نماز پڑھانے میں کوئی حرج نہیں، الا یہ کہ لوگوں کی اکثریت اسے ناپسند کرتی ہو۔
حدثنا عبد الاعلى بن واصل بن عبد الاعلى الكوفي، حدثنا محمد بن القاسم الاسدي، عن الفضل بن دلهم، عن الحسن، قال سمعت انس بن مالك، يقول لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثة رجل ام قوما وهم له كارهون وامراة باتت وزوجها عليها ساخط ورجل سمع حى على الفلاح ثم لم يجب . قال وفي الباب عن ابن عباس وطلحة وعبد الله بن عمرو وابي امامة . قال ابو عيسى حديث انس لا يصح لانه قد روي هذا الحديث عن الحسن عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسل . قال ابو عيسى ومحمد بن القاسم تكلم فيه احمد بن حنبل وضعفه وليس بالحافظ . وقد كره قوم من اهل العلم ان يوم الرجل قوما وهم له كارهون فاذا كان الامام غير ظالم فانما الاثم على من كرهه . وقال احمد واسحاق في هذا اذا كره واحد او اثنان او ثلاثة فلا باس ان يصلي بهم حتى يكرهه اكثر القوم
عمرو بن حارث بن مصطلق کہتے ہیں: کہا جاتا تھا کہ قیامت کے روز سب سے سخت عذاب دو طرح کے لوگوں کو ہو گا: ایک اس عورت کو جو اپنے شوہر کی نافرمانی کرے، دوسرے اس امام کو جسے لوگ ناپسند کرتے ہوں۔ منصور کہتے ہیں کہ ہم نے امام کے معاملے میں پوچھا تو ہمیں بتایا گیا کہ اس سے مراد ظالم ائمہ ہیں، لیکن جو امام سنت قائم کرے تو گناہ اس پر ہو گا جو اسے ناپسند کرے۔
حدثنا هناد، حدثنا جرير، عن منصور، عن هلال بن يساف، عن زياد بن ابي الجعد، عن عمرو بن الحارث بن المصطلق، قال كان يقال اشد الناس عذابا يوم القيامة اثنان امراة عصت زوجها وامام قوم وهم له كارهون . قال هناد قال جرير قال منصور فسالنا عن امر الامام فقيل لنا انما عنى بهذا ايمة ظلمة فاما من اقام السنة فانما الاثم على من كرهه
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا: ”تین لوگوں کی نماز ان کے کانوں سے اوپر نہیں جاتی: ایک بھگوڑے غلام کی جب تک کہ وہ ( اپنے مالک کے پاس ) لوٹ نہ آئے، دوسرے عورت کی جو رات گزارے اور اس کا شوہر اس سے ناراض ہو، تیسرے اس امام کی جسے لوگ ناپسند کرتے ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، حدثنا علي بن الحسن، حدثنا الحسين بن واقد، حدثنا ابو غالب، قال سمعت ابا امامة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاثة لا تجاوز صلاتهم اذانهم العبد الابق حتى يرجع وامراة باتت وزوجها عليها ساخط وامام قوم وهم له كارهون " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه . وابو غالب اسمه حزور
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر پڑے، آپ کو خراش آ گئی ۱؎ تو آپ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی، ہم نے بھی آپ کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھی۔ پھر آپ نے ہماری طرف پلٹ کر فرمایا: ”امام ہوتا ہی اس لیے ہے یا امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے تاکہ اس کی اقتداء کی جائے، جب وہ «الله أكبر» کہے تو تم بھی «الله أكبر» کہو، اور جب وہ رکوع کرے، تو تم بھی رکوع کرو، اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، اور جب وہ «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «ربنا لك الحمد» کہو، اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، ابوہریرہ، جابر، ابن عمر اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض صحابہ کرام جن میں میں جابر بن عبداللہ، اسید بن حضیر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم وغیرہ ہیں اسی حدیث کی طرف گئے ہیں اور یہی قول احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی ہے، ۴- بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ جب امام بیٹھ کر پڑھے تو مقتدی کھڑے ہو کر ہی پڑھیں، اگر انہوں نے بیٹھ کر پڑھی تو یہ نماز انہیں کافی نہ ہو گی، یہ سفیان ثوری، مالک بن انس، ابن مبارک اور شافعی کا قول ہے ۲؎۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن انس بن مالك، انه قال خر رسول الله صلى الله عليه وسلم عن فرس فجحش فصلى بنا قاعدا فصلينا معه قعودا ثم انصرف فقال " انما الامام او انما جعل الامام ليوتم به فاذا كبر فكبروا واذا ركع فاركعوا واذا رفع فارفعوا واذا قال سمع الله لمن حمده فقولوا ربنا ولك الحمد واذا سجد فاسجدوا واذا صلى قاعدا فصلوا قعودا اجمعون " . قال وفي الباب عن عايشة وابي هريرة وجابر وابن عمر ومعاوية . قال ابو عيسى وحديث انس ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خر عن فرس فجحش حديث حسن صحيح . وقد ذهب بعض اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم الى هذا الحديث منهم جابر بن عبد الله واسيد بن حضير وابو هريرة وغيرهم . وبهذا الحديث يقول احمد واسحاق . وقال بعض اهل العلم اذا صلى الامام جالسا لم يصل من خلفه الا قياما فان صلوا قعودا لم تجزهم . وهو قول سفيان الثوري ومالك بن انس وابن المبارك والشافعي
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری میں جس میں آپ کی وفات ہوئی ابوبکر کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ اور عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو“، اور ان سے یہ بھی مروی ہے کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیماری میں نکلے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے تو آپ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں نماز پڑھی، لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کر رہے تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے۔ اور انہی سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔ اور انس بن مالک سے بھی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا شبابة بن سوار، عن شعبة، عن نعيم بن ابي هند، عن ابي وايل، عن مسروق، عن عايشة، قالت صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم خلف ابي بكر في مرضه الذي مات فيه قاعدا . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح . وقد روي عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " اذا صلى الامام جالسا فصلوا جلوسا " . وروي عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج في مرضه وابو بكر يصلي بالناس فصلى الى جنب ابي بكر والناس ياتمون بابي بكر وابو بكر ياتم بالنبي صلى الله عليه وسلم . وروي عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى خلف ابي بكر قاعدا . وروي عن انس بن مالك ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى خلف ابي بكر وهو قاعد
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی اور آپ ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح اسے یحییٰ بن ایوب نے بھی حمید سے، اور حمید نے ثابت سے اور ثابت نے انس رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے، ۳- نیز اسے اور بھی کئی لوگوں نے حمید سے اور حمید نے انس رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے، اور ان لوگوں نے اس میں ثابت کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، لیکن جس نے ثابت کے واسطے کا ذکر کیا ہے، وہ زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا عبد الله بن ابي زياد، حدثنا شبابة بن سوار، حدثنا محمد بن طلحة، عن حميد، عن ثابت، عن انس، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه خلف ابي بكر قاعدا في ثوب متوشحا به . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال وهكذا رواه يحيى بن ايوب عن حميد عن ثابت عن انس . وقد رواه غير واحد عن حميد عن انس ولم يذكروا فيه عن ثابت . ومن ذكر فيه عن ثابت فهو اصح
عامر بن شراخیل شعبی کہتے ہیں: ہمیں مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ نے نماز پڑھائی، دو رکعت کے بعد ( بیٹھنے کے بجائے ) وہ کھڑے ہو گئے، تو لوگوں نے انہیں «سبحان الله» کہہ کر یاد دلایا کہ وہ بیٹھ جائیں تو انہوں نے «سبحان الله» کہہ کر انہیں اشارہ کیا کہ وہ لوگ کھڑے ہو جائیں، پھر جب انہوں نے اپنی بقیہ نماز پڑھ لی تو سلام پھیرا پھر بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کئے۔ پھر لوگوں سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ ایسا ہی کیا تھا جیسے انہوں نے ( مغیرہ نے ) کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کی حدیث ان سے کئی اور بھی سندوں سے مروی ہے، ۲- بعض اہل علم نے ابن ابی لیلیٰ کے سلسلہ میں ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے۔ احمد کہتے ہیں: ابن ابی لیلیٰ کی حدیث لائق استدلال ہیں، ۳۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: ابن ابی لیلیٰ صدوق ( سچے ) ہیں لیکن میں ان سے روایت نہیں کرتا اس لیے کہ یہ نہیں معلوم کہ ان کی حدیثیں کون سی صحیح ہیں اور کون سی ضعیف ہیں، اور جو بھی ایسا ہو میں اس سے روایت نہیں کرتا، ۴- یہ حدیث مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ سے اور بھی سندوں سے مروی ہے، ۵- اسے سفیان نے بطریق: «جابر عن المغيرة بن شبيل عن قيس بن أبي حازم عن المغيرة بن شعبة» روایت کیا ہے۔ اور جابر جعفی کو بعض اہل علم نے ضعیف قرار دیا ہے، یحییٰ بن سعید اور عبدالرحمٰن بن مہدی وغیرہ نے ان سے حدیثیں نہیں لی ہیں، ۶- اس باب میں عقبہ بن عامر، سعد اور عبداللہ بن بحینہ رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں، ۷- اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ آدمی جب دو رکعتیں پڑھ کر کھڑا ہو جائے تو اپنی نماز جاری رکھے اور ( اخیر میں ) دو سجدے کر لے، ۸- ان میں سے بعض کا خیال ہے کہ سجدے سلام پھیرنے سے پہلے کرے اور بعض کا خیال ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد کرے۔ ۹- جس کا خیال ہے کہ سلام پھیر نے سے پہلے کرے اس کی حدیث زیادہ صحیح ہے اس لیے کہ اسے زہری اور یحییٰ بن سعید انصاری نے عبدالرحمٰن بن اعرج سے اور عبدالرحمٰن نے عبداللہ ابن بحینہ رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، اخبرنا ابن ابي ليلى، عن الشعبي، قال صلى بنا المغيرة بن شعبة فنهض في الركعتين فسبح به القوم وسبح بهم فلما صلى بقية صلاته سلم ثم سجد سجدتى السهو وهو جالس ثم حدثهم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم فعل بهم مثل الذي فعل . قال وفي الباب عن عقبة بن عامر وسعد وعبد الله ابن بحينة . قال ابو عيسى حديث المغيرة بن شعبة قد روي من غير وجه عن المغيرة بن شعبة . قال ابو عيسى وقد تكلم بعض اهل العلم في ابن ابي ليلى من قبل حفظه . قال احمد لا يحتج بحديث ابن ابي ليلى . وقال محمد بن اسماعيل ابن ابي ليلى هو صدوق ولا اروي عنه لانه لا يدري صحيح حديثه من سقيمه وكل من كان مثل هذا فلا اروي عنه شييا . وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن المغيرة بن شعبة رواه سفيان عن جابر عن المغيرة بن شبيل عن قيس بن ابي حازم عن المغيرة بن شعبة . وجابر الجعفي قد ضعفه بعض اهل العلم تركه يحيى بن سعيد وعبد الرحمن بن مهدي وغيرهما . والعمل على هذا عند اهل العلم ان الرجل اذا قام في الركعتين مضى في صلاته وسجد سجدتين منهم من راى قبل التسليم ومنهم من راى بعد التسليم . ومن راى قبل التسليم فحديثه اصح لما روى الزهري ويحيى بن سعيد الانصاري عن عبد الرحمن الاعرج عن عبد الله ابن بحينة
زیاد بن علاقہ کہتے ہیں کہ ہمیں مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ نے نماز پڑھائی، جب دو رکعتیں پڑھ چکے تو ( تشہد میں ) بغیر بیٹھے کھڑے ہو گئے۔ تو جو لوگ ان کے پیچھے تھے انہوں نے سبحان اللہ کہا، تو انہوں نے انہیں اشارہ کیا کہ تم بھی کھڑے ہو جاؤ پھر جب وہ اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے سلام پھیرا اور سہو کے دو سجدے کئے اور سلام پھیرا، اور کہا: ایسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کے واسطے سے اور بھی سندوں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا يزيد بن هارون، عن المسعودي، عن زياد بن علاقة، قال صلى بنا المغيرة بن شعبة فلما صلى ركعتين قام ولم يجلس فسبح به من خلفه فاشار اليهم ان قوموا فلما فرغ من صلاته سلم وسجد سجدتى السهو وسلم وقال هكذا صنع رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن المغيرة بن شعبة عن النبي صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پہلی دونوں رکعتوں میں بیٹھتے تو ایسا لگتا گویا آپ گرم پتھر پر بیٹھے ہیں ۱؎، شعبہ ( راوی ) کہتے ہیں: پھر سعد نے اپنے دونوں ہونٹوں کو کسی چیز کے ساتھ حرکت دی ۲؎ تو میں نے کہا: یہاں تک کہ آپ کھڑے ہو جاتے؟ تو انہوں نے کہا: یہاں تک کہ آپ کھڑے ہو جاتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، مگر ابوعبیدہ کا اپنے باپ سے سماع نہیں ہے، ۲- اہل علم کا عمل اسی پر ہے، وہ اسی کو پسند کرتے ہیں کہ آدمی پہلی دونوں رکعتوں میں قعدہ کو لمبا نہ کرے اور تشہد سے زیادہ کچھ نہ پڑھے، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر اس نے تشہد سے زیادہ کوئی چیز پڑھی تو اس پر سہو کے دو سجدے لازم ہو جائیں گے، شعبی وغیرہ سے اسی طرح مروی ہے ۳؎۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، - هو الطيالسي حدثنا شعبة، اخبرنا سعد بن ابراهيم، قال سمعت ابا عبيدة بن عبد الله بن مسعود، يحدث عن ابيه، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا جلس في الركعتين الاوليين كانه على الرضف . قال شعبة ثم حرك سعد شفتيه بشيء فاقول حتى يقوم فيقول حتى يقوم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن الا ان ابا عبيدة لم يسمع من ابيه . والعمل على هذا عند اهل العلم يختارون ان لا يطيل الرجل القعود في الركعتين الاوليين ولا يزيد على التشهد شييا . وقالوا ان زاد على التشهد فعليه سجدتا السهو . هكذا روي عن الشعبي وغيره
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ صہیب رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے سلام کیا تو آپ نے مجھے اشارے سے جواب دیا، راوی ( ابن عمر ) کہتے ہیں کہ میرا یہی خیال ہے کہ صہیب نے کہا: آپ نے اپنی انگلی کے اشارے سے جواب دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- صہیب کی حدیث حسن ہے ۲؎، ۲- اس باب میں بلال، ابوہریرہ، انس، ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث بن سعد، عن بكير بن عبد الله بن الاشج، عن نابل، صاحب العباء عن ابن عمر، عن صهيب، قال مررت برسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يصلي فسلمت عليه فرد الى اشارة . وقال لا اعلم الا انه قال اشارة باصبعه . قال وفي الباب عن بلال وابي هريرة وانس وعايشة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے بلال رضی الله عنہ سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو جب وہ سلام کرتے اور آپ نماز میں ہوتے تو کیسے جواب دیتے تھے؟ تو بلال نے کہا: آپ اپنے ہاتھ کے اشارہ سے جواب دیتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور صہیب کی حدیث حسن ہے، ہم اسے صرف لیث ہی کی روایت سے جانتے ہیں انہوں نے بکیر سے روایت کی ہے اور یہ زید ابن اسلم سے بھی مروی ہے وہ ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے بلال سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح جواب دیتے تھے جب لوگ مسجد بنی عمرو بن عوف میں آپ کو سلام کرتے تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ اشارے سے جواب دیتے تھے۔ میرے نزدیک دونوں حدیثیں صحیح ہیں، اس لیے کہ صہیب رضی الله عنہ کا قصہ بلال رضی الله عنہ کے قصے کے علاوہ ہے، اگرچہ ابن عمر رضی الله عنہما نے ان دونوں سے روایت کی ہے، تو اس بات کا احتمال ہے کہ انہوں نے دونوں سے سنا ہو۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، حدثنا هشام بن سعد، عن نافع، عن ابن عمر، قال قلت لبلال كيف كان النبي صلى الله عليه وسلم يرد عليهم حين كانوا يسلمون عليه وهو في الصلاة قال كان يشير بيده . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وحديث صهيب حسن لا نعرفه الا من حديث الليث عن بكير . وقد روي عن زيد بن اسلم عن ابن عمر قال قلت لبلال كيف كان النبي صلى الله عليه وسلم يصنع حيث كانوا يسلمون عليه في مسجد بني عمرو بن عوف قال كان يرد اشارة . وكلا الحديثين عندي صحيح لان قصة حديث صهيب غير قصة حديث بلال . وان كان ابن عمر روى عنهما فاحتمل ان يكون سمع منهما جميعا