Loading...

Loading...
کتب
۳۰۳ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز میں مردوں کے لیے ”سبحان اللہ“ کہہ کر امام کو اس کے سہو پر متنبہ کرنا اور عورتوں کے لیے دستک دینا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، سہل بن سعد، جابر، ابوسعید، ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت مانگتا اور آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تو آپ سبحان اللہ کہتے، ۴- اہل علم کا اسی پر عمل ہے احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " التسبيح للرجال والتصفيق للنساء " . قال وفي الباب عن علي وسهل بن سعد وجابر وابي سعيد وابن عمر . وقال علي كنت اذا استاذنت على النبي صلى الله عليه وسلم وهو يصلي سبح . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . والعمل عليه عند اهل العلم وبه يقول احمد واسحاق
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز میں جمائی آنا شیطان کی طرف سے ہے، جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو جہاں تک ہو سکے اسے روکے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری اور عدی بن ثابت کے دادا ( عبید بن عازب ) سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے نماز میں جمائی لینے کو مکروہ کہا ہے، ابراہیم کہتے ہیں کہ میں جمائی کو کھنکھار سے لوٹا دیتا ہوں۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا اسماعيل بن جعفر، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " التثاوب في الصلاة من الشيطان فاذا تثاءب احدكم فليكظم ما استطاع " . قال وفي الباب عن ابي سعيد الخدري وجد عدي بن ثابت . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . وقد كره قوم من اهل العلم التثاوب في الصلاة . قال ابراهيم اني لارد التثاوب بالتنحنح
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آدمی کی نماز کے بارے میں پوچھا جسے وہ بیٹھ کر پڑھ رہا ہو؟ تو آپ نے فرمایا: ”جو کھڑے ہو کر نماز پڑھے وہ بیٹھ کر پڑھنے والے کے بالمقابل افضل ہے، کیونکہ اسے کھڑے ہو کر پڑھنے والے سے آدھا ثواب ملے گا، اور جو لیٹ کر پڑھے اسے بیٹھ کر پڑھنے والے سے آدھا ملے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمران بن حصین کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو، انس، سائب اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا حسين المعلم، عن عبد الله بن بريدة، عن عمران بن حصين، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صلاة الرجل وهو قاعد فقال " من صلى قايما فهو افضل ومن صلى قاعدا فله نصف اجر القايم ومن صلى نايما فله نصف اجر القاعد " . قال وفي الباب عن عبد الله بن عمرو وانس والسايب وابن عمر . قال ابو عيسى حديث عمران بن حصين حديث حسن صحيح
یہ حدیث ابراہیم بن طہمان کے طریق سے بھی اسی سند سے مروی ہے، مگر اس میں یوں ہے: عمران بن حصین کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مریض کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ”کھڑے ہو کر پڑھو، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھو اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو لیٹ کر پہلو کے بل پڑھو“۔
وقد روي هذا الحديث، عن ابراهيم بن طهمان، بهذا الاسناد الا انه يقول عن عمران بن حصين، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صلاة المريض فقال " صل قايما فان لم تستطع فقاعدا فان لم تستطع فعلى جنب " . حدثنا بذلك هناد حدثنا وكيع عن ابراهيم بن طهمان عن حسين المعلم بهذا الحديث . قال ابو عيسى ولا نعلم احدا روى عن حسين المعلم نحو رواية ابراهيم بن طهمان . وقد روى ابو اسامة وغير واحد عن حسين المعلم نحو رواية عيسى بن يونس . ومعنى هذا الحديث عند بعض اهل العلم في صلاة التطوع . حدثنا محمد بن بشار حدثنا ابن ابي عدي عن اشعث بن عبد الملك عن الحسن قال ان شاء الرجل صلى صلاة التطوع قايما وجالسا ومضطجعا . واختلف اهل العلم في صلاة المريض اذا لم يستطع ان يصلي جالسا فقال بعض اهل العلم يصلي على جنبه الايمن . وقال بعضهم يصلي مستلقيا على قفاه ورجلاه الى القبلة . وقال سفيان الثوري في هذا الحديث " من صلى جالسا فله نصف اجر القايم " . قال هذا للصحيح ولمن ليس له عذر . يعني في النوافل فاما من كان له عذر من مرض او غيره فصلى جالسا فله مثل اجر القايم . وقد روي في بعض هذا الحديث مثل قول سفيان الثوري
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بیٹھ کر نفل نماز پڑھتے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ جب وفات میں ایک سال رہ گیا تو آپ بیٹھ کر نفلی نماز پڑھنے لگے۔ اور سورت پڑھتے تو اس طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے کہ وہ لمبی سے لمبی ہو جاتی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حفصہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام سلمہ اور انس بن مالک رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہے، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ رات کو بیٹھ کر نماز پڑھتے اور جب تیس یا چالیس آیتوں کے بقدر قرأت باقی رہ جاتی تو آپ کھڑے ہو جاتے اور قرأت کرتے پھر رکوع میں جاتے۔ پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے۔ اور آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے۔ اور جب کھڑے ہو کر قرأت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ قرأت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی بیٹھ ہی کر کرتے۔ ۴- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ دونوں حدیثیں صحیح اور معمول بہ ہیں ۱؎۔
حدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك بن انس، عن ابن شهاب، عن السايب بن يزيد، عن المطلب بن ابي وداعة السهمي، عن حفصة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها قالت ما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى في سبحته قاعدا حتى كان قبل وفاته صلى الله عليه وسلم بعام فانه كان يصلي في سبحته قاعدا ويقرا بالسورة ويرتلها حتى تكون اطول من اطول منها . وفي الباب عن ام سلمة وانس بن مالك . قال ابو عيسى حديث حفصة حديث حسن صحيح . وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يصلي من الليل جالسا فاذا بقي من قراءته قدر ثلاثين او اربعين اية قام فقرا ثم ركع ثم صنع في الركعة الثانية مثل ذلك . وروي عنه انه كان يصلي قاعدا فاذا قرا وهو قايم ركع وسجد وهو قايم واذا قرا وهو قاعد ركع وسجد وهو قاعد . قال احمد واسحاق والعمل على كلا الحديثين . كانهما رايا كلا الحديثين صحيحا معمولا بهما
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تو قرأت بھی بیٹھ ہی کر کرتے، پھر جب تیس یا چالیس آیتوں کے بقدر قرأت باقی رہ جاتی تو آپ کھڑے ہو جاتے اور انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے پھر رکوع اور سجدہ کرتے پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن ابي النضر، عن ابي سلمة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي جالسا فيقرا وهو جالس فاذا بقي من قراءته قدر ما يكون ثلاثين او اربعين اية قام فقرا وهو قايم ثم ركع وسجد ثم صنع في الركعة الثانية مثل ذلك . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ رات تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور دیر تک بیٹھ کر پڑھتے جب آپ کھڑے ہو کر قرأت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی کھڑے کھڑے کرتے اور جب بیٹھ کر قرأت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی بیٹھ کر ہی کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، اخبرنا خالد، وهو الحذاء عن عبد الله بن شقيق، عن عايشة، قال سالتها عن صلاة، رسول الله صلى الله عليه وسلم عن تطوعه قالت كان يصلي ليلا طويلا قايما وليلا طويلا قاعدا فاذا قرا وهو قايم ركع وسجد وهو قايم واذا قرا وهو جالس ركع وسجد وهو جالس . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اللہ کی! جب نماز میں ہوتا ہوں اور اس وقت بچے کا رونا سنتا ہوں تو اس ڈر سے نماز کو ہلکی کر دیتا ہوں کہ اس کی ماں کہیں فتنے میں نہ مبتلا ہو جائے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوقتادہ ابوسعید اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا مروان بن معاوية الفزاري، عن حميد، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " والله اني لاسمع بكاء الصبي وانا في الصلاة فاخفف مخافة ان تفتتن امه " . قال وفي الباب عن ابي قتادة وابي سعيد وابي هريرة . قال ابو عيسى حديث انس حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بالغ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے قبول نہیں کی جاتی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ جب عورت بالغ ہو جائے اور نماز پڑھے اور اس کے بال کا کچھ حصہ کھلا ہو تو اس کی نماز جائز نہیں، یہی شافعی کا بھی قول ہے، وہ کہتے ہیں کہ عورت اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کے جسم کا کچھ حصہ کھلا ہو جائز نہیں، نیز شافعی یہ بھی کہتے ہیں کہ کہا گیا ہے: اگر اس کے دونوں پاؤں کی پشت کھلی ہو تو نماز درست ہے ۲؎۔
حدثنا هناد، حدثنا قبيصة، عن حماد بن سلمة، عن قتادة، عن ابن سيرين، عن صفية ابنة الحارث، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقبل صلاة الحايض الا بخمار " . قال وفي الباب عن عبد الله بن عمرو . وقوله " الحايض " . يعني المراة البالغ يعني اذا حاضت . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن . والعمل عليه عند اهل العلم ان المراة اذا ادركت فصلت وشيء من شعرها مكشوف لا تجوز صلاتها . وهو قول الشافعي قال لا تجوز صلاة المراة وشيء من جسدها مكشوف . قال الشافعي وقد قيل ان كان ظهر قدميها مكشوفا فصلاتها جايزة
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سدل کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث کو عطا کی روایت سے جسے انہوں نے ابوہریرہ سے مرفوعاً روایت کی ہے عسل بن سفیان ہی کے طریق سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں ابوجحیفہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ ۳- سدل کے سلسلے میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے: بعض لوگ کہتے ہیں کہ نماز میں سدل کرنا مکروہ ہے، ان کا کہنا ہے کہ اس طرح یہود کرتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ نماز میں سدل اس وقت مکروہ ہو گا جب جسم پر ایک ہی کپڑا ہو، رہی یہ بات کہ جب کوئی کرتے کے اوپر سدل کرے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۲؎ یہی احمد کا قول ہے لیکن ابن مبارک نے نماز میں سدل کو ( مطلقاً ) مکروہ قرار دیا ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا قبيصة، عن حماد بن سلمة، عن عسل بن سفيان، عن عطاء بن ابي رباح، عن ابي هريرة، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن السدل في الصلاة . قال وفي الباب عن ابي جحيفة . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة لا نعرفه من حديث عطاء عن ابي هريرة مرفوعا الا من حديث عسل بن سفيان . وقد اختلف اهل العلم في السدل في الصلاة فكره بعضهم السدل في الصلاة وقالوا هكذا تصنع اليهود . وقال بعضهم انما كره السدل في الصلاة اذا لم يكن عليه الا ثوب واحد فاما اذا سدل على القميص فلا باس . وهو قول احمد وكره ابن المبارك السدل في الصلاة
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو تو اپنے سامنے سے کنکریاں نہ ہٹائے ۱؎ کیونکہ اللہ کی رحمت اس کا سامنا کر رہی ہوتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوذر کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں معیقیب، علی بن ابی طالب، حذیفہ، جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے نماز میں کنکری ہٹانے کو ناپسند کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر ہٹانا ضروری ہو تو ایک بار ہٹا دے، گویا آپ سے ایک بار کی رخصت مروی ہے، ۴- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے۔
حدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن ابي الاحوص، عن ابي ذر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا قام احدكم الى الصلاة فلا يمسح الحصى فان الرحمة تواجهه " . قال وفي الباب عن معيقيب وعلي بن ابي طالب وحذيفة وجابر بن عبد الله . قال ابو عيسى حديث ابي ذر حديث حسن . وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كره المسح في الصلاة وقال " ان كنت لا بد فاعلا فمرة واحدة " . كانه روي عنه رخصة في المرة الواحدة . والعمل على هذا عند اهل العلم
معیقیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نماز میں کنکری ہٹانے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”اگر ہٹانا ضروری ہی ہو تو ایک بار ہٹا لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا الحسين بن حريث، حدثنا الوليد بن مسلم، عن الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، قال حدثني ابو سلمة بن عبد الرحمن، عن معيقيب، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن مسح الحصى في الصلاة فقال " ان كنت لا بد فاعلا فمرة واحدة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ( گھر کے ) ایک لڑکے کو دیکھا جسے افلح کہا جاتا تھا کہ جب وہ سجدہ کرتا تو پھونک مارتا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”افلح! اپنے چہرے کو گرد آلودہ کر“ ۱؎۔ احمد بن منیع کہتے ہیں کہ عباد بن العوام نے نماز میں پھونک مارنے کو مکروہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر کسی نے پھونک مار ہی دی تو اس کی نماز باطل نہ ہو گی۔ احمد بن منیع کہتے ہیں کہ اسی کو ہم بھی اختیار کرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کو بعض دیگر لوگوں نے ابوحمزہ کے واسطہ سے روایت کی ہے۔ اور «غلاما لنا يقال له أفلح» کے بجائے «مولى لنا يقال له رباح» ( ہمارے مولیٰ کو جسے رباح کہا جاتا تھا ) کہا ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا عباد بن العوام، اخبرنا ميمون ابو حمزة، عن ابي صالح، مولى طلحة عن ام سلمة، قالت راى النبي صلى الله عليه وسلم غلاما لنا يقال له افلح اذا سجد نفخ فقال " يا افلح ترب وجهك " . قال احمد بن منيع وكره عباد بن العوام النفخ في الصلاة وقال ان نفخ لم يقطع صلاته . قال احمد بن منيع وبه ناخذ . قال ابو عيسى وروى بعضهم عن ابي حمزة هذا الحديث وقال مولى لنا يقال له رباح
اس سند سے حماد بن زید نے میمون ابی حمزہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے اور اس میں «غلام لنا يقال له رباح» ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ام سلمہ رضی الله عنہا کی حدیث کی سند کچھ زیادہ قوی نہیں، میمون ابوحمزہ کو بعض اہل علم نے ضعیف قرار دیا ہے، ۲- اور نماز میں پھونک مارنے کے سلسلہ میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے، بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص نماز میں پھونک مارے تو وہ نماز دوبارہ پڑھے، یہی قول سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا ہے۔ اور بعض نے کہا ہے کہ نماز میں پھونک مارنا مکروہ ہے، اور اگر کسی نے اپنی نماز میں پھونک مار ہی دی تو اس کی نماز فاسد نہ ہو گی، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ وغیرہ کا قول ہے۔
حدثنا احمد بن عبدة الضبي، حدثنا حماد بن زيد، عن ميمون ابي حمزة، بهذا الاسناد نحوه وقال غلام لنا يقال له رباح . قال ابو عيسى وحديث ام سلمة اسناده ليس بذاك . وميمون ابو حمزة قد ضعفه بعض اهل العلم . واختلف اهل العلم في النفخ في الصلاة فقال بعضهم ان نفخ في الصلاة استقبل الصلاة . وهو قول سفيان الثوري واهل الكوفة . وقال بعضهم يكره النفخ في الصلاة وان نفخ في صلاته لم تفسد صلاته . وهو قول احمد واسحاق
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوکھ پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی حدیث آئی ہے، ۳- بعض اہل علم نے نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے کو مکروہ قرار دیا ہے، اور بعض نے آدمی کے کوکھ پر ہاتھ رکھ کر چلنے کو مکروہ کہا ہے، اور اختصار یہ ہے کہ آدمی نماز میں اپنا ہاتھ اپنی کوکھ پر رکھے، یا اپنے دونوں ہاتھ اپنی کوکھوں پر رکھے۔ اور روایت کی جاتی ہے کہ شیطان جب چلتا ہے تو کوکھ پر ہاتھ رکھ کر چلتا ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو اسامة، عن هشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى ان يصلي الرجل مختصرا . قال وفي الباب عن ابن عمر . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . وقد كره بعض اهل العلم الاختصار في الصلاة . وكره بعضهم ان يمشي الرجل مختصرا . والاختصار ان يضع الرجل يده على خاصرته في الصلاة او يضع يديه جميعا على خاصرتيه . ويروى ان ابليس اذا مشى مشى مختصرا
ابورافع رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ حسن بن علی رضی الله عنہما کے پاس سے گزرے، وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اپنی گدی پر جوڑا باندھ رکھا تھا، ابورافع رضی الله عنہ نے اسے کھول دیا، حسن رضی الله عنہ نے ان کی طرف غصہ سے دیکھا تو انہوں نے کہا: اپنی نماز پر توجہ دو اور غصہ نہ کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ”یہ شیطان کا حصہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابورافع رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ام سلمہ اور عبداللہ بن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اسی پر اہل علم کا عمل ہے۔ ان لوگوں نے اس بات کو مکروہ کہا کہ نماز پڑھے اور وہ اپنے بالوں کا جوڑا باندھے ہو ۱؎۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا ابن جريج، عن عمران بن موسى، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابيه، عن ابي رافع، انه مر بالحسن بن علي وهو يصلي وقد عقص ضفرته في قفاه فحلها فالتفت اليه الحسن مغضبا فقال اقبل على صلاتك ولا تغضب فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ذلك كفل الشيطان " . قال وفي الباب عن ام سلمة وعبد الله بن عباس . قال ابو عيسى حديث ابي رافع حديث حسن . والعمل على هذا عند اهل العلم كرهوا ان يصلي الرجل وهو معقوص شعره . قال ابو عيسى وعمران بن موسى هو القرشي المكي وهو اخو ايوب بن موسى
فضل بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز دو دو رکعت ہے اور ہر دو رکعت کے بعد تشہد ہے، نماز خشوع و خضوع، مسکنت اور گریہ وزاری کا اظہار ہے، اور تم اپنے دونوں ہاتھ اٹھاؤ۔ یعنی تم اپنے دونوں ہاتھ اپنے رب کے سامنے اٹھاؤ اس حال میں کہ ہتھیلیاں تمہارے منہ کی طرف ہوں اور کہہ: اے رب! اے رب! اور جس نے ایسا نہیں کیا وہ ایسا ایسا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مبارک کے علاوہ اور لوگوں نے اس حدیث میں «من لم يفعل ذلك فهي خداج» ”جس نے ایسا نہیں کیا اس کی نماز ناقص ہے“ کہا ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ شعبہ نے یہ حدیث عبدربہ بن سعید سے روایت کی ہے اور ان سے کئی مقامات پر غلطیاں ہوئی ہیں: ایک تو یہ کہ انہوں نے انس بن ابی انس سے روایت کی حالانکہ وہ عمران بن ابی انس ہیں، دوسرے یہ کہ انہوں نے «عن عبدالله بن حارث» کہا ہے حالانکہ وہ «عبدالله بن نافع بن العمياء عن ربيعة بن الحارث» ہے، تیسرے یہ کہ شعبہ نے «عن عبدالله بن الحارث عن المطلب عن النبي صلى الله عليه وسلم» کہا ہے حالانکہ صحیح «عن ربيعة بن الحارث بن عبدالمطلب عن الفضل بن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم» ہے۔ محمد بن اسماعیل ( بخاری ) کہتے ہیں: لیث بن سعد کی حدیث صحیح ہے یعنی شعبہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ( ورنہ اصلاً تو ضعیف ہی ہے ) ۔
حدثنا سويد بن نصر، حدثنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا الليث بن سعد، اخبرنا عبد ربه بن سعيد، عن عمران بن ابي انس، عن عبد الله بن نافع ابن العمياء، عن ربيعة بن الحارث، عن الفضل بن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الصلاة مثنى مثنى تشهد في كل ركعتين وتخشع وتضرع وتمسكن وتذرع وتقنع يديك يقول ترفعهما الى ربك مستقبلا ببطونهما وجهك وتقول يا رب يا رب ومن لم يفعل ذلك فهو كذا وكذا " . قال ابو عيسى وقال غير ابن المبارك في هذا الحديث " من لم يفعل ذلك فهي خداج " . قال ابو عيسى سمعت محمد بن اسماعيل يقول روى شعبة هذا الحديث عن عبد ربه بن سعيد فاخطا في مواضع فقال عن انس بن ابي انس وهو عمران بن ابي انس وقال عن عبد الله بن الحارث وانما هو عبد الله بن نافع ابن العمياء عن ربيعة بن الحارث . وقال شعبة عن عبد الله بن الحارث عن المطلب عن النبي صلى الله عليه وسلم وانما هو عن ربيعة بن الحارث بن عبد المطلب عن الفضل بن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال محمد وحديث الليث بن سعد يعني اصح من حديث شعبة
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اچھی طرح سے وضو کرے اور پھر مسجد کے ارادے سے نکلے تو وہ «تشبیک» نہ کرے ( یعنی ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں پیوست نہ کرے ) کیونکہ وہ نماز میں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- کعب بن عجرہ کی حدیث کو ابن عجلان سے کئی لوگوں نے لیث والی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ۲- اور شریک نے بطریق: «محمد بن عجلان عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی حدیث کی طرح روایت کی ہے اور شریک کی روایت غیر محفوظ ہے ۱؎۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن عجلان، عن سعيد المقبري، عن رجل، عن كعب بن عجرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا توضا احدكم فاحسن وضوءه ثم خرج عامدا الى المسجد فلا يشبكن بين اصابعه فانه في صلاة " . قال ابو عيسى حديث كعب بن عجرة رواه غير واحد عن ابن عجلان مثل حديث الليث . وروى شريك عن محمد بن عجلان عن ابيه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا الحديث وحديث شريك غير محفوظ
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ”جس میں قیام لمبا ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے اور یہ دیگر سندوں سے بھی جابر بن عبداللہ سے مروی ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن حبشی اور انس بن مالک رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابي الزبير، عن جابر، قال قيل للنبي صلى الله عليه وسلم اى الصلاة افضل قال " طول القنوت " . قال وفي الباب عن عبد الله بن حبشي وانس بن مالك عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى حديث جابر بن عبد الله حديث حسن صحيح وقد روي من غير وجه عن جابر بن عبد الله
معدان بن طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی الله عنہ سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جس سے اللہ تعالیٰ مجھے نفع پہنچائے اور مجھے جنت میں داخل کرے، تو وہ کافی دیر تک خاموش رہے پھر وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے کہا کہ تم کثرت سے سجدے کیا کرو ۱؎ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جو بھی بندہ اللہ کے واسطے کوئی سجدہ کرے گا اللہ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند کر دے گا اور اس کا ایک گناہ مٹا دے گا“۔
حدثنا ابو عمار، حدثنا الوليد، قال وحدثنا ابو محمد، رجاء قال حدثنا الوليد بن مسلم، عن الاوزاعي، قال حدثني الوليد بن هشام المعيطي، قال حدثني معدان بن طلحة اليعمري، قال لقيت ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت له دلني على عمل ينفعني الله به ويدخلني الجنة فسكت عني مليا ثم التفت الى فقال عليك بالسجود فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما من عبد يسجد لله سجدة الا رفعه الله بها درجة وحط عنه بها خطيية