Loading...

Loading...
کتب
۳۰۳ احادیث
معدان کہتے ہیں کہ پھر میری ملاقات ابو الدرداء رضی الله عنہ سے ہوئی تو میں نے ان سے بھی اسی چیز کا سوال کیا جو میں نے ثوبان رضی الله عنہ سے کیا تھا تو انہوں نے بھی کہا کہ تم سجدے کو لازم پکڑو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ”جو بندہ اللہ کے واسطے کوئی سجدہ کرے گا تو اللہ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا اور ایک گناہ مٹا دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- رکوع اور سجدے کثرت سے کرنے کے سلسلے کی ثوبان اور ابوالدرداء رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابوامامہ اور ابوفاطمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اس باب میں اہل علم کا اختلاف ہے بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نماز میں دیر تک قیام کرنا کثرت سے رکوع اور سجدہ کرنے سے افضل ہے۔ اور بعض کا کہنا ہے کہ کثرت سے رکوع اور سجدے کرنا دیر تک قیام کرنے سے افضل ہے۔ احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں دونوں طرح کی حدیثیں مروی ہیں، لیکن اس میں ( کون راجح ہے اس سلسلہ میں ) انہوں نے کوئی فیصلہ کن بات نہیں کہی ہے۔ اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ دن میں کثرت سے رکوع اور سجدے کرنا افضل ہے اور رات میں دیر تک قیام کرنا، الا یہ کہ کوئی شخص ایسا ہو جس کا رات کے حصہ میں قرآن پڑھنے کا کوئی حصہ متعین ہو تو اس کے حق میں رات میں بھی رکوع اور سجدے کثرت سے کرنا بہتر ہے۔ کیونکہ وہ قرآن کا اتنا حصہ تو پڑھے گا ہی جسے اس نے خاص کر رکھا ہے اور کثرت سے رکوع اور سجدے کا نفع اسے الگ سے حاصل ہو گا، ۴- اسحاق بن راہویہ نے یہ بات اس لیے کہی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام اللیل ( تہجد ) کا حال بیان کیا گیا ہے کہ آپ اس میں دیر تک قیام کیا کرتے تھے، رہی دن کی نماز تو اس کے سلسلہ میں یہ بیان نہیں کیا گیا ہے کہ آپ ان میں رات کی نمازوں کی طرح دیر تک قیام کرتے تھے۔
قال معدان بن طلحة فلقيت ابا الدرداء فسالته عما سالت عنه ثوبان فقال عليك بالسجود فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما من عبد يسجد لله سجدة الا رفعه الله بها درجة وحط عنه بها خطيية " . قال معدان بن طلحة اليعمري ويقال ابن ابي طلحة . قال وفي الباب عن ابي هريرة وابي امامة وابي فاطمة . قال ابو عيسى حديث ثوبان وابي الدرداء في كثرة الركوع والسجود حديث حسن صحيح . وقد اختلف اهل العلم في هذا الباب فقال بعضهم طول القيام في الصلاة افضل من كثرة الركوع والسجود . وقال بعضهم كثرة الركوع والسجود افضل من طول القيام . وقال احمد بن حنبل قد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم في هذا حديثان ولم يقض فيه بشيء . وقال اسحاق اما في النهار فكثرة الركوع والسجود واما بالليل فطول القيام الا ان يكون رجل له جزء بالليل ياتي عليه فكثرة الركوع والسجود في هذا احب الى لانه ياتي على جزيه وقد ربح كثرة الركوع والسجود . قال ابو عيسى وانما قال اسحاق هذا لانه كذا وصف صلاة النبي صلى الله عليه وسلم بالليل ووصف طول القيام واما بالنهار فلم يوصف من صلاته من طول القيام ما وصف بالليل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کالوں کو یعنی سانپ اور بچھو کو نماز میں مارنے کا حکم دیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس اور ابورافع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا عمل اسی پر ہے، اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ۴- اور بعض اہل علم نے نماز میں سانپ اور بچھو کے مارنے کو مکروہ کہا ہے، ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ نماز خود ایک شغل ہے ( اور یہ چیز اس میں مخل ہو گی ) پہلا قول ( ہی ) راجح ہے۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا اسماعيل ابن علية، هو ابن ابراهيم عن علي بن المبارك، عن يحيى بن ابي كثير، عن ضمضم بن جوس، عن ابي هريرة، قال امر رسول الله صلى الله عليه وسلم بقتل الاسودين في الصلاة الحية والعقرب . قال وفي الباب عن ابن عباس وابي رافع . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم وبه يقول احمد واسحاق . وكره بعض اهل العلم قتل الحية والعقرب في الصلاة . وقال ابراهيم ان في الصلاة لشغلا . والقول الاول اصح
عبداللہ ابن بحینہ اسدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر میں کھڑے ہو گئے جب کہ آپ کو بیٹھنا تھا، چنانچہ جب نماز پوری کر چکے تو سلام پھیرنے سے پہلے آپ نے اسی جگہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کئے، آپ نے ہر سجدے میں اللہ اکبر کہا، اور آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی سجدہ سہو کیے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن بحینہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ سے بھی حدیث آئی ہے، ۳- محمد بن ابراہیم سے روایت کی ہے کہ ابوہریرہ اور عبداللہ بن سائب قاری رضی الله عنہما دونوں سہو کے دونوں سجدے سلام سے پہلے کرتے تھے، ۴- اور اسی پر بعض اہل علم کا عمل ہے اور شافعی کا بھی یہی قول ہے، ان کی رائے ہے کہ سجدہ سہو ہر صورت میں سلام سے پہلے ہے، اور یہ حدیث دوسری حدیثوں کی ناسخ ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل آخر میں اسی پر رہا ہے، ۵- اور احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ جب آدمی دو رکعت کے بعد کھڑا ہو جائے تو وہ ابن بحینہ رضی الله عنہ کی حدیث پر عمل کرتے ہوئے سجدہ سہو سلام سے پہلے کرے، ۶- علی بن مدینی کہتے ہیں کہ عبداللہ ابن بحینہ ہی عبداللہ بن مالک ہیں، ابن بحینہ کے باپ مالک ہیں اور بحینہ ان کی ماں ہیں، ۷- سجدہ سہو کے بارے میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے کہ اسے آدمی سلام سے پہلے کرے یا سلام کے بعد۔ بعض لوگوں کی رائے ہے کہ اسے سلام کے بعد کرے، یہ قول سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا ہے، ۸- اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اسے سلام سے پہلے کرے یہی قول اکثر فقہاء مدینہ کا ہے، مثلاً یحییٰ بن سعید، ربیعہ وغیرہ کا اور یہی قول شافعی کا بھی ہے، ۹- اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب نماز میں زیادتی ہوئی ہو تو سلام کے بعد کرے اور جب کمی رہ گئی ہو تو سلام سے پہلے کرے، یہی قول مالک بن انس کا ہے، ۱۰- اور احمد کہتے ہیں کہ جس صورت میں جس طرح پر سجدہ سہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے اس صورت میں اسی طرح سجدہ سہو کرنا چاہیئے، وہ کہتے ہیں کہ جب دو رکعت کے بعد کھڑا ہو جائے تو ابن بحینہ رضی الله عنہ کی حدیث کے مطابق سلام سے پہلے سجدہ کرے اور جب ظہر پانچ رکعت پڑھ لے تو وہ سجدہ سہو سلام کے بعد کرے، اور اگر ظہر اور عصر میں دو ہی رکعت میں سلام پھیر دے تو ایسی صورت میں سلام کے بعد سجدہ سہو کرے، اسی طرح جس جس صورت میں جیسے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل موجود ہے، اس پر اسی طرح عمل کرے، اور سہو کی جس صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی فعل مروی نہ ہو تو اس میں سجدہ سہو سلام سے پہلے کرے۔ ۱۱- اسحاق بن راہویہ بھی احمد کے موافق کہتے ہیں۔ مگر فرق اتنا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ سہو کی جس صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی فعل موجود نہ ہو تو اس میں اگر نماز میں زیادتی ہوئی ہو تو سلام کے بعد سجدہ سہو کرے اور اگر کمی ہوئی ہو تو سلام سے پہلے کرے۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پانچ رکعت پڑھی تو آپ سے پوچھا گیا: کیا نماز بڑھا دی گئی ہے؟ ( یعنی چار کے بجائے پانچ رکعت کر دی گئی ہے ) تو آپ نے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا شعبة، عن الحكم، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله بن مسعود، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى الظهر خمسا فقيل له ازيد في الصلاة فسجد سجدتين بعد ما سلم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے دونوں سجدے بات کرنے کے بعد کئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ۱؎، ۲- اس باب میں معاویہ، عبداللہ بن جعفر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، ومحمود بن غيلان، قالا حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم سجد سجدتى السهو بعد الكلام . قال وفي الباب عن معاوية وعبد الله بن جعفر وابي هريرة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے دونوں سجدے سلام کے بعد کئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ( ابوہریرہ رضی الله عنہ کی ) یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے ایوب اور دیگر کئی لوگوں نے بھی ابن سیرین سے روایت کیا ہے، ۳- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۴- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی ظہر بھول کر پانچ رکعت پڑھ لے تو اس کی نماز درست ہے وہ سہو کے دو سجدے کر لے اگرچہ وہ چوتھی ( رکعت ) میں نہ بیٹھا ہو، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۵- اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب ظہر پانچ رکعت پڑھ لے اور چوتھی رکعت میں نہ بیٹھا ہو تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی۔ یہ قول سفیان ثوری اور بعض کوفیوں کا ہے ا؎۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، عن هشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم سجدهما بعد السلام . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد رواه ايوب وغير واحد عن ابن سيرين . وحديث ابن مسعود حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم قالوا اذا صلى الرجل الظهر خمسا فصلاته جايزة وسجد سجدتى السهو وان لم يجلس في الرابعة . وهو قول الشافعي واحمد واسحاق . وقال بعضهم اذا صلى الظهر خمسا ولم يقعد في الرابعة مقدار التشهد فسدت صلاته . وهو قول سفيان الثوري وبعض اهل الكوفة
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی آپ سے سہو ہو گیا، تو آپ نے دو سجدے کئے پھر تشہد پڑھا، پھر سلام پھیرا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- عبد الوھاب ثقفی، ھشیم اور ان کے علاوہ کئی اور لوگوں نے بطریق: «خالد الحذاء عن أبي قلابة» یہ حدیث ذرا لمبے سیاق کے ساتھ روایت کی ہے، اور وہ یہی عمران بن حصین رضی الله عنہ کی حدیث ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر میں صرف تین ہی رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا تو ایک آدمی اٹھا جسے «خرباق» کہا جاتا تھا ( اور اس نے پوچھا: کیا نماز میں کمی کر دی گئی ہے، یا آپ بھول گئے ہیں ) ۳- سجدہ سہو کے تشہد کے سلسلہ میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ سجدہ سہو کے بعد تشہد پڑھے گا اور سلام پھیرے گا۔ اور بعض کہتے کہ سجدہ سہو میں تشہد اور سلام نہیں ہے اور جب سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے تو تشہد نہ پڑھے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے کہ جب سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے تو تشہد نہ پڑھے ( اختلاف تو سلام کے بعد میں ہے ) ۔
حدثنا محمد بن يحيى النيسابوري، حدثنا محمد بن عبد الله الانصاري، قال اخبرني اشعث، عن ابن سيرين، عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن ابي المهلب، عن عمران بن حصين، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى بهم فسها فسجد سجدتين ثم تشهد ثم سلم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وروى محمد بن سيرين عن ابي المهلب وهو عم ابي قلابة غير هذا الحديث . وروى محمد هذا الحديث عن خالد الحذاء عن ابي قلابة عن ابي المهلب . وابو المهلب اسمه عبد الرحمن بن عمرو ويقال ايضا معاوية بن عمرو . وقد روى عبد الوهاب الثقفي وهشيم وغير واحد هذا الحديث عن خالد الحذاء عن ابي قلابة بطوله وهو حديث عمران بن حصين ان النبي صلى الله عليه وسلم سلم في ثلاث ركعات من العصر فقام رجل يقال له الخرباق . واختلف اهل العلم في التشهد في سجدتى السهو فقال بعضهم يتشهد فيهما ويسلم . وقال بعضهم ليس فيهما تشهد وتسليم واذا سجدهما قبل السلام لم يتشهد . وهو قول احمد واسحاق قالا اذا سجد سجدتى السهو قبل السلام لم يتشهد
عیاض یعنی ابن ہلال کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے کہا: ہم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہے اور یہ نہیں جانتا کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی ہیں ( یا وہ کیا کرے؟ ) تو ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے اور یہ نہ جان سکے کہ کتنی پڑھی ہے؟ تو وہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کر لے“۔ ( یقینی بات پر بنا کرنے کے بعد ) امام ترمذی کہتے ہیں: ا- ابوسعید رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عثمان، ابن مسعود، عائشہ، ابوہریرہ وغیرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- یہ حدیث ابوسعید سے دیگر کئی سندوں سے بھی مروی ہے، ۴- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”جب تم سے کسی کو ایک اور دو میں شک ہو جائے تو اسے ایک ہی مانے اور جب دو اور تین میں شک ہو تو اسے دو مانے اور سلام پھیرنے سے پہلے سہو کے دو سجدے کرے“۔ اسی پر ہمارے اصحاب ( محدثین ) کا عمل ہے ۱؎ اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب کسی کو اپنی نماز میں شبہ ہو جائے اور وہ نہ جان سکے کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی ہیں؟ تو وہ پھر سے لوٹائے ۲؎۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، حدثنا هشام الدستوايي، عن يحيى بن ابي كثير، عن عياض يعني ابن هلال، قال قلت لابي سعيد احدنا يصلي فلا يدري كيف صلى فقال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا صلى احدكم فلم يدر كيف صلى فليسجد سجدتين وهو جالس " . قال وفي الباب عن عثمان وابن مسعود وعايشة وابي هريرة . قال ابو عيسى حديث ابي سعيد حديث حسن . وقد روي هذا الحديث عن ابي سعيد من غير هذا الوجه . وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " اذا شك احدكم في الواحدة والثنتين فليجعلهما واحدة واذا شك في الثنتين والثلاث فليجعلهما ثنتين ويسجد في ذلك سجدتين قبل ان يسلم " . والعمل على هذا عند اصحابنا . وقال بعض اهل العلم اذا شك في صلاته فلم يدر كم صلى فليعد
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کے پاس شیطان اس کی نماز میں آتا ہے اور اسے شبہ میں ڈال دیتا ہے، یہاں تک آدمی نہیں جان پاتا کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی ہیں؟ چنانچہ تم میں سے کسی کو اگر اس قسم کا شبہ محسوس ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کر لے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الشيطان ياتي احدكم في صلاته فيلبس عليه حتى لا يدري كم صلى فاذا وجد ذلك احدكم فليسجد سجدتين وهو جالس " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جب کوئی شخص نماز بھول جائے اور یہ نہ جان سکے کہ اس نے ایک رکعت پڑھی ہے یا دو؟ تو ایسی صورت میں اسے ایک مانے، اور اگر وہ یہ نہ جا سکے کہ اس نے دو پڑھی ہے یا تین تو ایسی صورت میں دو پر بنا کرے، اور اگر وہ یہ نہ جان سکے کہ اس نے تین پڑھی ہے یا چار تو تین پر بنا کرے، اور سلام پھیرنے سے پہلے سہو کے دو سجدے کر لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ سے اور بھی سندوں سے مروی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن خالد ابن عثمة البصري، حدثنا ابراهيم بن سعد، قال حدثني محمد بن اسحاق، عن مكحول، عن كريب، عن ابن عباس، عن عبد الرحمن بن عوف، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " اذا سها احدكم في صلاته فلم يدر واحدة صلى او ثنتين فليبن على واحدة فان لم يدر ثنتين صلى او ثلاثا فليبن على ثنتين فان لم يدر ثلاثا صلى او اربعا فليبن على ثلاث وليسجد سجدتين قبل ان يسلم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روي هذا الحديث عن عبد الرحمن بن عوف من غير هذا الوجه رواه الزهري عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن ابن عباس عن عبد الرحمن بن عوف عن النبي صلى الله عليه وسلم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( ظہر یا عصر کی ) دو رکعت پڑھ کر ( مقتدیوں کی طرف ) پلٹے تو ذوالیدین نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟“ لوگوں نے عرض کیا: ہاں ( آپ نے دو ہی رکعت پڑھی ہیں ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آخری دونوں رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیرا، پھر اللہ اکبر کہا، پھر اپنے پہلے سجدہ کی طرح یا اس سے کچھ لمبا سجدہ کیا، پھر اللہ اکبر کہا اور سر اٹھایا، پھر اپنے اسی سجدہ کی طرح یا اس سے کچھ لمبا سجدہ کیا۔ ( یعنی سجدہ سہو کیا ) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمران بن حصین، ابن عمر، ذوالیدین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اس حدیث کے بارے میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے۔ بعض اہل کوفہ کہتے ہیں کہ جب کوئی نماز میں بھول کر یا لاعلمی میں یا کسی بھی وجہ سے بات کر بیٹھے تو اسے نئے سرے سے نماز دہرانی ہو گی۔ وہ اس حدیث میں مذکور واقعہ کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ یہ واقعہ نماز میں بات چیت کرنے کی حرمت سے پہلے کا ہے ۱؎، ۴- رہے امام شافعی تو انہوں نے اس حدیث کو صحیح جانا ہے اور اسی کے مطابق انہوں نے فتویٰ دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ حدیث اُس حدیث سے زیادہ صحیح ہے جو روزہ دار کے سلسلے میں مروی ہے کہ جب وہ بھول کر کھا لے تو اس پر روزہ کی قضاء نہیں، کیونکہ وہ اللہ کا دیا ہوا رزق ہے۔ شافعی کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے روزہ دار کے قصداً اور بھول کر کھانے میں جو تفریق کی ہے وہ ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث کی وجہ سے ہے، ۵- امام احمد ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر امام یہ سمجھ کر کہ اس کی نماز پوری ہو چکی ہے کوئی بات کر لے پھر اسے معلوم ہو کہ اس کی نماز پوری نہیں ہوئی ہے تو وہ اپنی نماز پوری کر لے، اور جو امام کے پیچھے مقتدی ہو اور بات کر لے اور یہ جانتا ہو کہ ابھی کچھ نماز اس کے ذمہ باقی ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے دوبارہ پڑھے، انہوں نے اس بات سے دلیل پکڑی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں فرائض کم یا زیادہ کئے جا سکتے تھے۔ اور ذوالیدین رضی الله عنہ نے جو بات کی تھی تو وہ محض اس وجہ سے کہ انہیں یقین تھا کہ نماز کامل ہو چکی ہے اور اب کسی کے لیے اس طرح بات کرنا جائز نہیں جو ذوالیدین کے لیے جائز ہو گیا تھا، کیونکہ اب فرائض میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی ۱؎، ۶- احمد کا قول بھی کچھ اسی سے ملتا جلتا ہے، اسحاق بن راہویہ نے بھی اس باب میں احمد جیسی بات کہی ہے۔
حدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن ايوب بن ابي تميمة، وهو ايوب السختياني عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم انصرف من اثنتين فقال له ذو اليدين اقصرت الصلاة ام نسيت يا رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اصدق ذو اليدين " . فقال الناس نعم . فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى اثنتين اخريين ثم سلم ثم كبر فسجد مثل سجوده او اطول ثم كبر فرفع ثم سجد مثل سجوده او اطول . قال ابو عيسى وفي الباب عن عمران بن حصين وابن عمر وذي اليدين . قال ابو عيسى وحديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . واختلف اهل العلم في هذا الحديث فقال بعض اهل الكوفة اذا تكلم في الصلاة ناسيا او جاهلا او ما كان فانه يعيد الصلاة واعتلوا بان هذا الحديث كان قبل تحريم الكلام في الصلاة . قال واما الشافعي فراى هذا حديثا صحيحا فقال به وقال هذا اصح من الحديث الذي روي عن النبي صلى الله عليه وسلم في الصايم اذا اكل ناسيا فانه لا يقضي وانما هو رزق رزقه الله . قال الشافعي وفرقوا هولاء بين العمد والنسيان في اكل الصايم بحديث ابي هريرة . وقال احمد في حديث ابي هريرة ان تكلم الامام في شيء من صلاته وهو يرى انه قد اكملها ثم علم انه لم يكملها يتم صلاته ومن تكلم خلف الامام وهو يعلم ان عليه بقية من الصلاة فعليه ان يستقبلها . واحتج بان الفرايض كانت تزاد وتنقص على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فانما تكلم ذو اليدين وهو على يقين من صلاته انها تمت وليس هكذا اليوم ليس لاحد ان يتكلم على معنى ما تكلم ذو اليدين لان الفرايض اليوم لا يزاد فيها ولا ينقص . قال احمد نحوا من هذا الكلام . وقال اسحاق نحو قول احمد في الباب
سعید بن یزید (ابو مسلمہ) کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی الله عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن ابی حبیبۃ، عبداللہ بن عمرو، عمرو بن حریث، شداد بن اوسثقفی، ابوہریرہ رضی الله عنہم اور عطاء سے بھی جو بنی شیبہ کے ایک فرد تھے احادیث آئی ہیں، ۳- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، عن سعيد بن يزيد ابي مسلمة، قال قلت لانس بن مالك اكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي في نعليه قال نعم . قال وفي الباب عن عبد الله بن مسعود وعبد الله بن ابي حبيبة وعبد الله بن عمرو وعمرو بن حريث وشداد بن اوس واوس الثقفي وابي هريرة وعطاء رجل من بني شيبة . قال ابو عيسى حديث انس حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم فجر اور مغرب میں قنوت پڑھتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- براء کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، انس، ابوہریرہ، ابن عباس، اور خفاف بن ایماء بن رحضہ غفاری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- فجر میں قنوت پڑھنے کے سلسلے میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے۔ صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کی رائے فجر میں قنوت پڑھنے کی ہے، یہی مالک اور شافعی کا قول ہے، ۴- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ فجر میں قنوت نہ پڑھے، الا یہ کہ مسلمانوں پر کوئی مصیبت نازل ہوئی ہو تو ایسی صورت میں امام کو چاہیئے کہ مسلمانوں کے لشکر کے لیے دعا کرے۔
حدثنا قتيبة، ومحمد بن المثنى، قالا حدثنا غندر، محمد بن جعفر عن شعبة، عن عمرو بن مرة، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن البراء بن عازب، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقنت في صلاة الصبح والمغرب . قال وفي الباب عن علي وانس وابي هريرة وابن عباس وخفاف بن ايماء بن رحضة الغفاري . قال ابو عيسى حديث البراء حديث حسن صحيح . واختلف اهل العلم في القنوت في صلاة الفجر فراى بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم القنوت في صلاة الفجر وهو قول مالك والشافعي . وقال احمد واسحاق لا يقنت في الفجر الا عند نازلة تنزل بالمسلمين فاذا نزلت نازلة فللامام ان يدعو لجيوش المسلمين
ابو مالک سعد بن طارق اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ ( طارق بن اشیم رضی الله عنہ ) سے عرض کیا: ابا جان! آپ نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی الله عنہم کے پیچھے نماز پڑھی ہے اور علی رضی الله عنہ کے پیچھے بھی یہاں کوفہ میں تقریباً پانچ برس تک پڑھی ہے، کیا یہ لوگ ( برابر ) قنوت ( قنوت نازلہ ) پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: میرے بیٹے! یہ بدعت ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اور سفیان ثوری کہتے ہیں کہ اگر فجر میں قنوت پڑھے تو بھی اچھا ہے اور اگر نہ پڑھے تو بھی اچھا ہے، ویسے انہوں نے پسند اسی بات کو کیا ہے کہ نہ پڑھے اور ابن مبارک فجر میں قنوت پڑھنے کو درست نہیں سمجھتے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يزيد بن هارون، عن ابي مالك الاشجعي، قال قلت لابي يا ابة انك قد صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم وابي بكر وعمر وعثمان وعلي بن ابي طالب ها هنا بالكوفة نحوا من خمس سنين اكانوا يقنتون قال اى بنى محدث . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل عليه عند اكثر اهل العلم . وقال سفيان الثوري ان قنت في الفجر فحسن وان لم يقنت فحسن . واختار ان لا يقنت . ولم ير ابن المبارك القنوت في الفجر . قال ابو عيسى وابو مالك الاشجعي اسمه سعد بن طارق بن اشيم
ابوعوانہ نے ابو مالک اشجعی سے اسی سند سے اسی مفہوم کی اسی طرح کی حدیث روایت کی۔
حدثنا صالح بن عبد الله، حدثنا ابو عوانة، عن ابي مالك الاشجعي، بهذا الاسناد نحوه بمعناه
رفاعہ بن رافع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، مجھے چھینک آئی تو میں نے «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى» کہا جب رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نماز پڑھ کر پلٹے تو آپ نے پوچھا: ”نماز میں کون بول رہا تھا؟“ تو کسی نے جواب نہیں دیا، پھر آپ نے یہی بات دوبارہ پوچھی کہ ”نماز میں کون بول رہا تھا؟“ اس بار بھی کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، پھر آپ نے یہی بات تیسری بار پوچھی کہ ”نماز میں کون بول رہا تھا؟“ رفاعہ بن رافع رضی الله عنہ نے عرض کیا: میں تھا اللہ کے رسول! آپ نے پوچھا: ”تم نے کیا کہا تھا؟“ انہوں نے کہا: یوں کہا تھا «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى» تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تیس سے زائد فرشتے اس پر جھپٹے کہ اسے کون لے کر آسمان پر چڑھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- رفاعہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں انس، وائل بن حجر اور عامر بن ربیعہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کے نزدیک یہ واقعہ نفل کا ہے ۱؎ اس لیے کہ تابعین میں سے کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ جب آدمی فرض نماز میں چھینکے تو الحمدللہ اپنے جی میں کہے اس سے زیادہ کی ان لوگوں نے اجازت نہیں دی۔
حدثنا قتيبة، حدثنا رفاعة بن يحيى بن عبد الله بن رفاعة بن رافع الزرقي، عن عم، ابيه معاذ بن رفاعة عن ابيه، قال صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فعطست فقلت الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى . فلما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم انصرف فقال " من المتكلم في الصلاة " . فلم يتكلم احد ثم قالها الثانية " من المتكلم في الصلاة " . فلم يتكلم احد ثم قالها الثالثة " من المتكلم في الصلاة " . فقال رفاعة بن رافع ابن عفراء انا يا رسول الله . قال " كيف قلت " . قال قلت الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى فقال النبي صلى الله عليه وسلم " والذي نفسي بيده لقد ابتدرها بضعة وثلاثون ملكا ايهم يصعد بها " . قال وفي الباب عن انس ووايل بن حجر وعامر بن ربيعة . قال ابو عيسى حديث رفاعة حديث حسن . وكان هذا الحديث عند بعض اهل العلم انه في التطوع لان غير واحد من التابعين قالوا اذا عطس الرجل في الصلاة المكتوبة انما يحمد الله في نفسه ولم يوسعوا في اكثر من ذلك
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے نماز میں بات چیت کر لیا کرتے تھے، آدمی اپنے ساتھ والے سے بات کر لیا کرتا تھا، یہاں تک کہ آیت کریمہ: «وقوموا لله قانتين» ”اللہ کے لیے با ادب کھڑے رہا کرو“ نازل ہوئی تو ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور بات کرنے سے روک دیا گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- زید بن ارقم رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود اور معاویہ بن حکم رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ آدمی نماز میں قصداً یا بھول کر گفتگو کر لے تو نماز دہرائے۔ سفیان ثوری، ابن مبارک اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔ اور بعض کا کہنا ہے کہ جب نماز میں قصداً گفتگو کرے تو نماز دہرائے اور اگر بھول سے یا لاعلمی میں گفتگو ہو جائے تو نماز کافی ہو گی، ۴- شافعی اسی کے قائل ہیں ۱؎۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، اخبرنا اسماعيل بن ابي خالد، عن الحارث بن شبيل، عن ابي عمرو الشيباني، عن زيد بن ارقم، قال كنا نتكلم خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم في الصلاة يكلم الرجل منا صاحبه الى جنبه حتى نزلت : (وقوموا لله قانتين ) فامرنا بالسكوت ونهينا عن الكلام . قال وفي الباب عن ابن مسعود ومعاوية بن الحكم . قال ابو عيسى حديث زيد بن ارقم حديث حسن صحيح . والعمل عليه عند اكثر اهل العلم . قالوا اذا تكلم الرجل عامدا في الصلاة او ناسيا اعاد الصلاة . وهو قول سفيان الثوري وابن المبارك واهل الكوفة . وقال بعضهم اذا تكلم عامدا في الصلاة اعاد الصلاة وان كان ناسيا او جاهلا اجزاه . وبه يقول الشافعي
اسماء بن حکم فزاری کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی الله عنہ کو کہتے سنا: میں جب رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتا تو اللہ اس سے مجھے نفع پہنچاتا، جتنا وہ پہنچانا چاہتا۔ اور جب آپ کے اصحاب میں سے کوئی آدمی مجھ سے بیان کرتا تو میں اس سے قسم لیتا۔ ( کیا واقعی تم نے یہ حدیث رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے خود سنی ہے؟ ) جب وہ میرے سامنے قسم کھا لیتا تو میں اس کی تصدیق کرتا، مجھ سے ابوبکر رضی الله عنہ نے بیان کیا اور ابوبکر رضی الله عنہ نے سچ بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو شخص گناہ کرتا ہے، پھر جا کر وضو کرتا ہے پھر نماز پڑھتا ہے، پھر اللہ سے استغفار کرتا ہے تو اللہ اسے معاف کر دیتا ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم ذكروا الله فاستغفروا لذنوبهم ومن يغفر الذنوب إلا الله ولم يصروا على ما فعلوا وهم يعلمون» ”اور جب ان سے کوئی ناشائستہ حرکت یا کوئی گناہ سرزد ہو جاتا ہے تو وہ اللہ کو یاد کر کے فوراً استغفار کرتے ہیں۔ اور اللہ کے سوا کون گناہ بخش سکتا ہے، اور وہ جان بوجھ کر کسی گناہ پر اڑے نہیں رہتے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ہم اسے صرف اسی طریق سے یعنی عثمان بن مغیرہ ہی کی سند سے جانتے ہیں، ۲- اور ان سے شعبہ اور دوسرے اور لوگوں نے بھی روایت کی ہے ان لوگوں نے اسے ابوعوانہ کی حدیث کی طرح مرفوعاً روایت کیا ہے، اور اسے سفیان ثوری اور مسعر نے بھی روایت کیا ہے لیکن ان دونوں کی روایت موقوف ہے مرفوع نہیں اور مسعر سے یہ حدیث مرفوعاً بھی مروی ہے اور سوائے اس حدیث کے اسماء بن حکم کی کسی اور مرفوع حدیث کا ہمیں علم نہیں، ۳- اس باب میں ابن مسعود، ابو الدردائ، انس، ابوامامہ، معاذ، واثلہ، اور ابوالیسر کعب بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن عثمان بن المغيرة، عن علي بن ربيعة، عن اسماء بن الحكم الفزاري، قال سمعت عليا، يقول اني كنت رجلا اذا سمعت من، رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثا نفعني الله منه بما شاء ان ينفعني به واذا حدثني رجل من اصحابه استحلفته فاذا حلف لي صدقته وانه حدثني ابو بكر وصدق ابو بكر قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما من رجل يذنب ذنبا ثم يقوم فيتطهر ثم يصلي ثم يستغفر الله الا غفر الله له " . ثم قرا هذه الاية : (والذين اذا فعلوا فاحشة او ظلموا انفسهم ذكروا الله فاستغفروا لذنوبهم ومن يغفر الذنوب الا الله ولم يصروا على ما فعلوا وهم يعلمون ) . قال وفي الباب عن ابن مسعود وابي الدرداء وانس وابي امامة ومعاذ وواثلة وابي اليسر واسمه كعب بن عمرو . قال ابو عيسى حديث علي حديث حسن لا نعرفه الا من هذا الوجه من حديث عثمان بن المغيرة . وروى عنه شعبة وغير واحد فرفعوه مثل حديث ابي عوانة . ورواه سفيان الثوري ومسعر فاوقفاه ولم يرفعاه الى النبي صلى الله عليه وسلم وقد روي عن مسعر هذا الحديث مرفوعا ايضا . ولا نعرف لاسماء بن الحكم حديثا مرفوعا الا هذا
سبرہ بن معبد جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات برس کے بچے کو نماز سکھاؤ، اور دس برس کے بچے کو نماز نہ پڑھنے پر مارو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سبرہ بن معبد جہنی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ”جو لڑکا دس برس کے ہو جانے کے بعد نماز چھوڑے وہ اس کی قضاء کرے
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا حرملة بن عبد العزيز بن الربيع بن سبرة الجهني، عن عمه عبد الملك بن الربيع بن سبرة، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " علموا الصبي الصلاة ابن سبع سنين واضربوه عليها ابن عشر " . قال وفي الباب عن عبد الله بن عمرو . قال ابو عيسى حديث سبرة بن معبد الجهني حديث حسن صحيح . وعليه العمل عند بعض اهل العلم وبه يقول احمد واسحاق . وقالا ما ترك الغلام بعد العشر من الصلاة فانه يعيد . قال ابو عيسى وسبرة هو ابن معبد الجهني ويقال هو ابن عوسجة