Loading...

Loading...
کتب
۳۰۳ احادیث
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی کو سلام پھیرنے سے پہلے «حدث» لاحق ہو جائے اور وہ اپنی نماز کے بالکل آخر میں یعنی قعدہ اخیرہ میں بیٹھ چکا ہو تو اس کی نماز درست ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند کوئی خاص قوی نہیں، اس کی سند میں اضطراب ہے، ۲- عبدالرحمٰن بن زیاد بن انعم، جو افریقی ہیں کو بعض محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ ان میں یحییٰ بن سعید قطان اور احمد بن حنبل بھی شامل ہیں، ۳- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب کوئی تشہد کی مقدار کے برابر بیٹھ چکا ہو اور سلام پھیرنے سے پہلے اسے «حدث» لاحق ہو جائے تو پھر اس کی نماز پوری ہو گئی، ۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب «حدث» تشہد پڑھنے سے یا سلام پھیرنے سے پہلے لاحق ہو جائے تو نماز دہرائے۔ شافعی کا یہی قول ہے، ۵- اور احمد کہتے ہیں: جب وہ تشہد نہ پڑھے اور سلام پھیر دے تو اس کی نماز اسے کافی ہو جائے گی، اس لیے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے: «وتحليلها التسليم» یعنی نماز میں جو چیزیں حرام ہوئی تھیں سلام پھیرنے ہی سے حلال ہوتی ہیں، بغیر سلام کے نماز سے نہیں نکلا جا سکتا اور تشہد اتنا اہم نہیں جتنا سلام ہے کہ اس کے ترک سے نماز درست نہ ہو گی، ایک بار نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم دو رکعت کے بعد کھڑے ہو گئے اپنی نماز جاری رکھی اور تشہد نہیں کیا، ۶- اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں: جب تشہد کر لے اور سلام نہ پھیرا ہو تو نماز ہو گئی، انہوں نے ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث سے استدلال کیا ہے کہ جس وقت نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے انہیں تشہد سکھایا تو فرمایا: جب تم اس سے فارغ ہو گئے تو تم نے اپنا فریضہ پورا کر لیا۔
حدثنا احمد بن محمد بن موسى الملقب، مردويه قال اخبرنا ابن المبارك، اخبرنا عبد الرحمن بن زياد بن انعم، ان عبد الرحمن بن رافع، وبكر بن سوادة، اخبراه عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا احدث - يعني الرجل - وقد جلس في اخر صلاته قبل ان يسلم فقد جازت صلاته " . قال ابو عيسى هذا حديث اسناده ليس بذاك القوي وقد اضطربوا في اسناده . وقد ذهب بعض اهل العلم الى هذا . قالوا اذا جلس مقدار التشهد واحدث قبل ان يسلم فقد تمت صلاته . وقال بعض اهل العلم اذا احدث قبل ان يتشهد وقبل ان يسلم اعاد الصلاة . وهو قول الشافعي . وقال احمد اذا لم يتشهد وسلم اجزاه لقول النبي صلى الله عليه وسلم " وتحليلها التسليم " والتشهد اهون قام النبي صلى الله عليه وسلم في اثنتين فمضى في صلاته ولم يتشهد . وقال اسحاق بن ابراهيم اذا تشهد ولم يسلم اجزاه . واحتج بحديث ابن مسعود حين علمه النبي صلى الله عليه وسلم التشهد فقال " اذا فرغت من هذا فقد قضيت ما عليك " . قال ابو عيسى وعبد الرحمن بن زياد بن انعم هو الافريقي وقد ضعفه بعض اهل الحديث منهم يحيى بن سعيد القطان واحمد بن حنبل
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ بارش ہونے لگی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چاہے اپنے ڈیرے میں ہی نماز پڑھ لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، سمرہ، ابولملیح عامر ( جنہوں نے اپنے باپ اسامہ بن عمر ہذل سے روایت کی ہے ) اور عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم نے بارش اور کیچڑ میں جماعت میں حاضر نہ ہونے کی رخصت دی ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں۔
حدثنا ابو حفص، عمرو بن علي البصري حدثنا ابو داود الطيالسي، حدثنا زهير بن معاوية، عن ابي الزبير، عن جابر، قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر فاصابنا مطر فقال النبي صلى الله عليه وسلم " من شاء فليصل في رحله " . قال وفي الباب عن ابن عمر وسمرة وابي المليح عن ابيه وعبد الرحمن بن سمرة . قال ابو عيسى حديث جابر حديث حسن صحيح . وقد رخص اهل العلم في القعود عن الجماعة والجمعة في المطر والطين وبه يقول احمد واسحاق . قال ابو عيسى سمعت ابا زرعة يقول روى عفان بن مسلم عن عمرو بن علي حديثا . وقال ابو زرعة لم نر بالبصرة احفظ من هولاء الثلاثة علي بن المديني وابن الشاذكوني وعمرو بن علي . وابو المليح اسمه عامر ويقال زيد بن اسامة بن عمير الهذلي
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پاس کچھ فقیر و محتاج لوگ آئے اور کہا: اللہ کے رسول! مالدار نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں وہ روزہ رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں۔ ان کے پاس مال بھی ہے، اس سے وہ غلام آزاد کرتے اور صدقہ دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”جب تم نماز پڑھ چکو تو تینتیس مرتبہ ”سبحان اللہ“، تینتیس مرتبہ ”الحمد لله“ اور تینتیس مرتبہ ”الله أكبر“ اور دس مرتبہ ”لا إله إلا الله“ کہہ لیا کرو، تو تم ان لوگوں کو پا لو گے جو تم پر سبقت لے گئے ہیں، اور جو تم سے پیچھے ہیں وہ تم پر سبقت نہ لے جا سکیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں کعب بن عجرہ، انس، عبداللہ بن عمرو، زید بن ثابت، ابو الدرداء، ابن عمر اور ابوذر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، نیز اس باب میں ابوہریرہ اور مغیرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”دو عادتیں ہیں جنہیں جو بھی مسلمان آدمی بجا لائے گا جنت میں داخل ہو گا۔ ایک یہ کہ وہ ہر نماز کے بعد دس بار ”سبحان الله“، دس بار ”الحمد لله“، دس بار ”الله أكبر“ کہے، دوسرے یہ کہ وہ اپنے سوتے وقت تینتیس مرتبہ ”سبحان الله“، تینتیس مرتبہ ”الحمد لله“ اور چونتیس مرتبہ ”الله أكبر“ کہے۔
حدثنا اسحاق بن ابراهيم بن حبيب بن الشهيد البصري، وعلي بن حجر، قالا حدثنا عتاب بن بشير، عن خصيف، عن مجاهد، وعكرمة، عن ابن عباس، قال جاء الفقراء الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا يا رسول الله ان الاغنياء يصلون كما نصلي ويصومون كما نصوم ولهم اموال يعتقون ويتصدقون قال " فاذا صليتم فقولوا سبحان الله ثلاثا وثلاثين مرة والحمد لله ثلاثا وثلاثين مرة والله اكبر اربعا وثلاثين مرة ولا اله الا الله عشر مرات فانكم تدركون به من سبقكم ولا يسبقكم من بعدكم " . قال وفي الباب عن كعب بن عجرة وانس وعبد الله بن عمرو وزيد بن ثابت وابي الدرداء وابن عمر وابي ذر . قال ابو عيسى وحديث ابن عباس حديث حسن غريب . وفي الباب ايضا عن ابي هريرة والمغيرة . وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " خصلتان لا يحصيهما رجل مسلم الا دخل الجنة يسبح الله في دبر كل صلاة عشرا ويحمده عشرا ويكبره عشرا ويسبح الله عند منامه ثلاثا وثلاثين ويحمده ثلاثا وثلاثين ويكبره اربعا وثلاثين
یعلیٰ بن مرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ ایک سفر میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھے، وہ ایک تنگ جگہ پہنچے تھے کہ نماز کا وقت آ گیا، اوپر سے بارش ہونے لگی، اور نیچے کیچڑ ہو گئی، رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اپنی سواری ہی پر اذان دی اور اقامت کہی اور سواری ہی پر آگے بڑھے اور انہیں نماز پڑھائی، آپ اشارہ سے نماز پڑھتے تھے، سجدہ میں رکوع سے قدرے زیادہ جھکتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، عمر بن رماح بلخی اس کے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔ یہ صرف انہیں کی سند سے جانی جاتی ہے۔ اور ان سے یہ حدیث اہل علم میں سے کئی لوگوں نے روایت کی ہے، ۲- انس بن مالک سے بھی اسی طرح مروی ہے کہ انہوں نے پانی اور کیچڑ میں اپنی سواری پر نماز پڑھی، ۳- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں ۱؎۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا شبابة بن سوار، حدثنا عمر بن الرماح البلخي، عن كثير بن زياد، عن عمرو بن عثمان بن يعلى بن مرة، عن ابيه، عن جده، انهم كانوا مع النبي صلى الله عليه وسلم في مسير فانتهوا الى مضيق وحضرت الصلاة فمطروا السماء من فوقهم والبلة من اسفل منهم فاذن رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على راحلته واقام - او اقام - فتقدم على راحلته فصلى بهم يومي ايماء يجعل السجود اخفض من الركوع . قال ابو عيسى هذا حديث غريب تفرد به عمر بن الرماح البلخي لا يعرف الا من حديثه . وقد روى عنه غير واحد من اهل العلم . وكذلك روي عن انس بن مالك انه صلى في ماء وطين على دابته . والعمل على هذا عند اهل العلم وبه يقول احمد واسحاق
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے نماز پڑھی یہاں تک کہ آپ کے پیر سوج گئے تو آپ سے عرض کیا گیا: کیا آپ ایسی زحمت کرتے ہیں حالانکہ آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ بخش دئیے گئے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ”کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور عائشہ رضی الله عنہما سے احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، وبشر بن معاذ العقدي، قالا حدثنا ابو عوانة، عن زياد بن علاقة، عن المغيرة بن شعبة، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى انتفخت قدماه فقيل له اتتكلف هذا وقد غفر لك ما تقدم من ذنبك وما تاخر قال " افلا اكون عبدا شكورا " . قال وفي الباب عن ابي هريرة وعايشة . قال ابو عيسى حديث المغيرة بن شعبة حديث حسن صحيح
حریث بن قبیصہ کہتے ہیں کہ میں مدینے آیا: میں نے کہا: اے اللہ مجھے نیک اور صالح ساتھی نصیب فرما، چنانچہ ابوہریرہ رضی الله عنہ کے پاس بیٹھنا میسر ہو گیا، میں نے ان سے کہا: میں نے اللہ سے دعا مانگی تھی کہ مجھے نیک ساتھی عطا فرما، تو آپ مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے، جسے آپ نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے سنی ہو، شاید اللہ مجھے اس سے فائدہ پہنچائے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”قیامت کے روز بندے سے سب سے پہلے اس کی نماز کا محاسبہ ہو گا، اگر وہ ٹھیک رہی تو کامیاب ہو گیا، اور اگر وہ خراب نکلی تو وہ ناکام اور نامراد رہا، اور اگر اس کی فرض نمازوں میں کوئی کمی ۱؎ ہو گی تو رب تعالیٰ ( فرشتوں سے ) فرمائے گا: دیکھو، میرے اس بندے کے پاس کوئی نفل نماز ہے؟ چنانچہ فرض نماز کی کمی کی تلافی اس نفل سے کر دی جائے گی، پھر اسی انداز سے سارے اعمال کا محاسبہ ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث دیگر اور سندوں سے بھی ابوہریرہ سے روایت کی گئی ہے، ۳- حسن کے بعض تلامذہ نے حسن سے اور انہوں نے قبیصہ بن حریث سے اس حدیث کے علاوہ دوسری اور حدیثیں بھی روایت کی ہیں اور مشہور قبیصہ بن حریث ہی ہے ۲؎، یہ حدیث بطریق: «أنس بن حكيم عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» بھی روایت کی گئی ہے، ۴- اس باب میں تمیم داری رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا علي بن نصر بن علي الجهضمي، حدثنا سهل بن حماد، حدثنا همام، قال حدثني قتادة، عن الحسن، عن حريث بن قبيصة، قال قدمت المدينة فقلت اللهم يسر لي جليسا صالحا . قال فجلست الى ابي هريرة فقلت اني سالت الله ان يرزقني جليسا صالحا فحدثني بحديث سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم لعل الله ان ينفعني به فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان اول ما يحاسب به العبد يوم القيامة من عمله صلاته فان صلحت فقد افلح وانجح وان فسدت فقد خاب وخسر فان انتقص من فريضته شيء قال الرب عز وجل انظروا هل لعبدي من تطوع فيكمل بها ما انتقص من الفريضة ثم يكون ساير عمله على ذلك " . قال وفي الباب عن تميم الداري . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن غريب من هذا الوجه . وقد روي هذا الحديث من غير هذا الوجه عن ابي هريرة وقد روى بعض اصحاب الحسن عن الحسن عن قبيصة بن حريث غير هذا الحديث والمشهور هو قبيصة بن حريث . وروي عن انس بن حكيم عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بارہ رکعت سنت ۱؎ پر مداومت کرے گا اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا: چار رکعتیں ظہر سے پہلے ۲؎، دو رکعتیں اس کے بعد، دو رکعتیں مغرب کے بعد، دو رکعتیں عشاء کے بعد اور دو رکعتیں فجر سے پہلے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- سند میں مغیرہ بن زیاد پر بعض اہل علم نے ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے، ۳- اس باب میں ام حبیبہ، ابوہریرہ، ابوموسیٰ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن رافع النيسابوري، حدثنا اسحاق بن سليمان الرازي، حدثنا المغيرة بن زياد، عن عطاء، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ثابر على ثنتى عشرة ركعة من السنة بنى الله له بيتا في الجنة اربع ركعات قبل الظهر وركعتين بعدها وركعتين بعد المغرب وركعتين بعد العشاء وركعتين قبل الفجر " . قال وفي الباب عن ام حبيبة وابي هريرة وابي موسى وابن عمر . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث غريب من هذا الوجه . ومغيرة بن زياد قد تكلم فيه بعض اهل العلم من قبل حفظه
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رات اور دن میں بارہ رکعت سنت پڑھے گا، اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا: چار رکعتیں ظہر سے پہلے، دو رکعتیں اس کے بعد، دو مغرب کے بعد، دو عشاء کے بعد اور دو فجر سے پہلے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عنبسہ کی حدیث جو ام حبیبہ رضی الله عنہا سے مروی ہے اس باب میں حسن صحیح ہے۔ اور وہ عنبسہ سے دیگر اور سندوں سے بھی مروی ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا مومل، - هو ابن اسماعيل حدثنا سفيان الثوري، عن ابي اسحاق، عن المسيب بن رافع، عن عنبسة بن ابي سفيان، عن ام حبيبة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صلى في يوم وليلة ثنتى عشرة ركعة بني له بيت في الجنة اربعا قبل الظهر وركعتين بعدها وركعتين بعد المغرب وركعتين بعد العشاء وركعتين قبل صلاة الفجر " . قال ابو عيسى وحديث عنبسة عن ام حبيبة في هذا الباب حديث حسن صحيح وقد روي عن عنبسة من غير وجه
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”فجر کی دونوں رکعتیں دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے ان سب سے بہتر ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، ابن عمر، اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ جنہیں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ان میں پڑھتے تھے۔
حدثنا صالح بن عبد الله الترمذي، حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن زرارة بن اوفى، عن سعد بن هشام، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ركعتا الفجر خير من الدنيا وما فيها " . قال وفي الباب عن علي وابن عمر وابن عباس . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح . وقد روى احمد بن حنبل عن صالح بن عبد الله الترمذي حديث عايشة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو ایک مہینے تک دیکھتا رہا، فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں میں آپ «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے، ۲- اور ہم ثوری کی روایت کو جسے انہوں نے ابواسحاق سے روایت کی ہے صرف ابواحمد زبیری ہی کے طریق سے جانتے ہیں، ( جب کہ ) لوگوں ( محدثین ) کے نزدیک معروف «عن إسرائيل عن أبي إسحاق» ہے بجائے «سفیان ابی اسحاق» کے، ۳- اور ابواحمد زبیری کے واسطہ سے بھی اسرائیل سے روایت کی گئی ہے، ۴- ابواحمد زبیری ثقہ اور حافظ ہیں، میں نے بندار کو کہتے سنا ہے کہ میں نے ابواحمد زبیری سے زیادہ اچھے حافظے والا نہیں دیکھا، ابواحمد کا نام محمد بن عبداللہ بن زبیر کوفی اسدی ہے، ۵- اس باب میں ابن مسعود، انس، ابوہریرہ، ابن عباس، حفصہ اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، وابو عمار قالا حدثنا ابو احمد الزبيري، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن مجاهد، عن ابن عمر، قال رمقت النبي صلى الله عليه وسلم شهرا فكان يقرا في الركعتين قبل الفجر ب : (يا ايها الكافرون ) و (قل هو الله احد) قال وفي الباب عن ابن مسعود وانس وابي هريرة وابن عباس وحفصة وعايشة . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن ولا نعرفه من حديث الثوري عن ابي اسحاق الا من حديث ابي احمد والمعروف عند الناس حديث اسراييل عن ابي اسحاق . وقد روي عن ابي احمد عن اسراييل هذا الحديث ايضا . وابو احمد الزبيري ثقة حافظ . قال سمعت بندارا يقول ما رايت احدا احسن حفظا من ابي احمد الزبيري . وابو احمد اسمه محمد بن عبد الله بن الزبير الكوفي الاسدي
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب فجر کی دو رکعتیں پڑھ چکتے اور اگر آپ کو مجھ سے کوئی کام ہوتا تو ( اس بارے میں ) مجھ سے گفتگو فرما لیتے، ورنہ نماز کے لیے نکل جاتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے فجر کے طلوع ہونے بعد سے لے کر فجر پڑھنے تک گفتگو کرنا مکروہ قرار دیا ہے، سوائے اس کے کہ وہ گفتگو ذکر الٰہی سے متعلق ہو یا بہت ضروری ہو، اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ۱؎۔
حدثنا يوسف بن عيسى المروزي، حدثنا عبد الله بن ادريس، قال سمعت مالك بن انس، عن ابي النضر، عن ابي سلمة، عن عايشة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا صلى ركعتى الفجر فان كانت له الى حاجة كلمني والا خرج الى الصلاة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد كره بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم الكلام بعد طلوع الفجر حتى يصلي صلاة الفجر الا ما كان من ذكر الله او مما لا بد منه وهو قول احمد واسحاق
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”طلوع فجر کے بعد سوائے دو رکعت ( سنت فجر ) کے کوئی نماز نہیں“۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ طلوع فجر کے بعد ( فرض سے پہلے ) سوائے دو رکعت سنت کے اور کوئی نماز نہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر کی حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف قدامہ بن موسیٰ ہی کے طریق سے جانتے ہیں اور ان سے کئی لوگوں نے روایت کی ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو اور حفصہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں، ۳- اور یہی قول ہے جس پر اہل علم کا اجماع ہے: انہوں نے طلوع فجر کے بعد ( فرض سے پہلے ) سوائے فجر کی دونوں سنتوں کے کوئی اور نماز پڑھنے کو مکروہ قرار دیا ہے ۱؎۔
حدثنا احمد بن عبدة الضبي، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن قدامة بن موسى، عن محمد بن الحصين، عن ابي علقمة، عن يسار، مولى ابن عمر عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا صلاة بعد الفجر الا سجدتين " . ومعنى هذا الحديث انما يقول لا صلاة بعد طلوع الفجر الا ركعتى الفجر . قال وفي الباب عن عبد الله بن عمرو وحفصة . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث غريب لا نعرفه الا من حديث قدامة بن موسى وروى عنه غير واحد . وهو ما اجتمع عليه اهل العلم كرهوا ان يصلي الرجل بعد طلوع الفجر الا ركعتى الفجر
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی فجر کی دو رکعت ( سنت ) پڑھے تو دائیں کروٹ پر لیٹے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے، ۳- عائشہ رضی الله عنہا سے بھی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب فجر کی دونوں رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تو اپنی دائیں کروٹ لیٹتے، ۴- بعض اہل علم کی رائے ہے کہ ایسا استحباباً کیا جائے۔
حدثنا بشر بن معاذ العقدي، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا صلى احدكم ركعتى الفجر فليضطجع على يمينه " . قال وفي الباب عن عايشة . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه . وقد روي عن عايشة ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا صلى ركعتى الفجر في بيته اضطجع على يمينه . وقد راى بعض اهل العلم ان يفعل هذا استحبابا
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب جماعت کھڑی ہو جائے ۱؎ تو فرض نماز ۲؎ کے سوا کوئی نماز ( جائز ) نہیں“ ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اسی طرح ایک دوسری سند سے بھی ابوہریرہ رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں ابن بحینہ، عبداللہ بن عمرو، عبداللہ بن سرجس، ابن عباس اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- اور حماد بن زید اور سفیان بن عیینہ نے بھی عمرو بن دینار سے روایت کی ہے لیکن ان دونوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے اور مرفوع حدیث ہی ہمارے نزدیک زیادہ صحیح ہے، ۵- سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں، ۶- اس کے علاوہ اور ( ایک تیسری ) سند سے بھی یہ حدیث بواسطہ ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے – ( جیسے ) عیاش بن عباس قتبانی مصری ابوسلمہ سے، اور ابوسلمہ نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا روح بن عبادة، حدثنا زكريا بن اسحاق، حدثنا عمرو بن دينار، قال سمعت عطاء بن يسار، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اقيمت الصلاة فلا صلاة الا المكتوبة " . قال وفي الباب عن ابن بحينة وعبد الله بن عمرو وعبد الله بن سرجس وابن عباس وانس . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن . وهكذا روى ايوب وورقاء بن عمر وزياد بن سعد واسماعيل بن مسلم ومحمد بن جحادة عن عمرو بن دينار عن عطاء بن يسار عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم . وروى حماد بن زيد وسفيان بن عيينة عن عمرو بن دينار فلم يرفعاه . والحديث المرفوع اصح عندنا . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم اذا اقيمت الصلاة ان لا يصلي الرجل الا المكتوبة . وبه يقول سفيان الثوري وابن المبارك والشافعي واحمد واسحاق . وقد روي هذا الحديث عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم من غير هذا الوجه رواه عياش بن عباس القتباني المصري عن ابي سلمة عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا
قیس (قیس بن عمرو بن سہل) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور جماعت کے لیے اقامت کہہ دی گئی، تو میں نے آپ کے ساتھ فجر پڑھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پلٹے تو مجھے دیکھا کہ میں نماز پڑھنے جا رہا ہوں، تو آپ نے فرمایا: ”قیس ذرا ٹھہرو، کیا دو نمازیں ایک ساتھ ۱؎ ( پڑھنے جا رہے ہو؟ ) “ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے فجر کی دونوں سنتیں نہیں پڑھی تھیں۔ آپ نے فرمایا: ”تب کوئی حرج نہیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم محمد بن ابراہیم کی حدیث کو اس کے مثل صرف سعد بن سعید ہی کے طریق سے جانتے ہیں، ۲- سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ عطاء بن ابی رباح نے بھی یہ حدیث سعد بن سعید سے سنی ہے، ۳- یہ حدیث مرسلاً بھی روایت کی جاتی ہے، ۴- اہل مکہ میں سے کچھ لوگوں نے اسی حدیث کے مطابق کہا ہے کہ آدمی کے فجر کی فرض نماز پڑھنے کے بعد سورج نکلنے سے پہلے دونوں سنتیں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، ۵- سعد بن سعید یحییٰ بن سعید انصاری کے بھائی ہیں، اور قیس یحییٰ بن سعید انصاری کے دادا ہیں۔ انہیں قیس بن عمرو بھی کہا جاتا ہے اور قیس بن قہد بھی، ۶- اس حدیث کی سند متصل نہیں ہے۔ محمد بن ابراہیم تیمی نے قیس سے نہیں سنا ہے، بعض لوگوں نے یہ حدیث سعد بن سعید سے اور سعد نے محمد بن ابراہیم سے روایت کی ہے کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو قیس کو دیکھا“، اور یہ عبدالعزیز کی حدیث سے جسے انہوں نے سعد بن سعید سے روایت کی ہے زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن عمرو السواق البلخي، قال حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن سعد بن سعيد، عن محمد بن ابراهيم، عن جده، قيس قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فاقيمت الصلاة فصليت معه الصبح ثم انصرف النبي صلى الله عليه وسلم فوجدني اصلي فقال " مهلا يا قيس اصلاتان معا " . قلت يا رسول الله اني لم اكن ركعت ركعتى الفجر . قال " فلا اذا " . قال ابو عيسى حديث محمد بن ابراهيم لا نعرفه مثل هذا الا من حديث سعد بن سعيد . وقال سفيان بن عيينة سمع عطاء بن ابي رباح من سعد بن سعيد هذا الحديث . وانما يروى هذا الحديث مرسلا . وقد قال قوم من اهل مكة بهذا الحديث لم يروا باسا ان يصلي الرجل الركعتين بعد المكتوبة قبل ان تطلع الشمس . قال ابو عيسى وسعد بن سعيد هو اخو يحيى بن سعيد الانصاري . قال وقيس هو جد يحيى بن سعيد الانصاري ويقال هو قيس بن عمرو ويقال هو قيس بن قهد . واسناد هذا الحديث ليس بمتصل محمد بن ابراهيم التيمي لم يسمع من قيس . وروى بعضهم هذا الحديث عن سعد بن سعيد عن محمد بن ابراهيم ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج فراى قيسا . وهذا اصح من حديث عبد العزيز عن سعد بن سعيد
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو فجر کی دونوں سنتیں نہ پڑھ سکے تو انہیں سورج نکلنے کے بعد پڑھ لے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- ابن عمر سے یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے ایسا کیا ہے، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں، ۴- ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے ھمام سے یہ حدیث اس سند سے اس طرح روایت کی ہو سوائے عمرو بن عاصم کلابی کے۔ اور بطریق: «قتادة عن النضر بن أنس عن بشير بن نهيك عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مشہور یہ ہے کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے فجر کی ایک رکعت بھی سورج طلوع ہونے سے پہلے پالی تو اس نے فجر پالی۔“
حدثنا عقبة بن مكرم العمي البصري، حدثنا عمرو بن عاصم، حدثنا همام، عن قتادة، عن النضر بن انس، عن بشير بن نهيك، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من لم يصل ركعتى الفجر فليصلهما بعد ما تطلع الشمس " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه . وقد روي عن ابن عمر انه فعله . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم وبه يقول سفيان الثوري وابن المبارك والشافعي واحمد واسحاق . قال ولا نعلم احدا روى هذا الحديث عن همام بهذا الاسناد نحو هذا الا عمرو بن عاصم الكلابي . والمعروف من حديث قتادة عن النضر بن انس عن بشير بن نهيك عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من ادرك ركعة من صلاة الصبح قبل ان تطلع الشمس فقد ادرك الصبح
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہما اور ام حبیبہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- ہم سے ابوبکر عطار نے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ علی بن عبداللہ نے یحییٰ بن سعید سے اور یحییٰ نے سفیان سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے کہ ہم جانتے تھے کہ عاصم بن ضمرہ کی حدیث حارث ( اعور ) کی حدیث سے افضل ہے، ۴- صحابہ کرام اور بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل کا عمل اسی پر ہے۔ وہ پسند کرتے ہیں کہ آدمی ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے۔ اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، اسحاق بن راہویہ اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔ اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ دن اور رات ( دونوں ) کی نمازیں دو دو رکعتیں ہیں، وہ ہر دو رکعت کے بعد فصل کرنے کے قائل ہیں شافعی اور احمد بھی یہی کہتے ہیں ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عامر العقدي، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن عاصم بن ضمرة، عن علي، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي قبل الظهر اربعا وبعدها ركعتين . قال وفي الباب عن عايشة وام حبيبة . قال ابو عيسى حديث علي حديث حسن . قال ابو بكر العطار قال علي بن عبد الله عن يحيى بن سعيد عن سفيان قال كنا نعرف فضل حديث عاصم بن ضمرة على حديث الحارث . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ومن بعدهم يختارون ان يصلي الرجل قبل الظهر اربع ركعات . وهو قول سفيان الثوري وابن المبارك واسحاق واهل الكوفة . وقال بعض اهل العلم صلاة الليل والنهار مثنى مثنى يرون الفصل بين كل ركعتين . وبه يقول الشافعي واحمد
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر سے پہلے دو رکعتیں ۱؎ اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی رضی الله عنہ اور عائشہ رضی الله عنہا سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم ركعتين قبل الظهر وركعتين بعدها . قال وفي الباب عن علي وعايشة . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ظہر سے پہلے چار رکعتیں نہ پڑھ پاتے تو انہیں آپ اس کے بعد پڑھتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے ابن مبارک کی حدیث سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ اور اسے قیس بن ربیع نے شعبہ سے اور شعبہ نے خالد الحذاء سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ اور ہم قیس بن ربیع کے علاوہ کسی اور کو نہیں جانتے جس نے شعبہ سے روایت کی ہو، ۳- بطریق: «عبدالرحمٰن بن أبي ليلى عن النبي صلى الله عليه وسلم» بھی اسی طرح ( مرسلاً ) مروی ہے۔
حدثنا عبد الوارث بن عبيد الله العتكي المروزي، اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن خالد الحذاء، عن عبد الله بن شقيق، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا لم يصل اربعا قبل الظهر صلاهن بعده . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب انما نعرفه من حديث ابن المبارك من هذا الوجه . وقد رواه قيس بن الربيع عن شعبة عن خالد الحذاء نحو هذا . ولا نعلم احدا رواه عن شعبة غير قيس بن الربيع وقد روي عن عبد الرحمن بن ابي ليلى عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا
ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور ظہر کے بعد چار رکعتیں پڑھیں اللہ اسے جہنم کی آگ پر حرام کر دے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اور یہ اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی مروی ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا يزيد بن هارون، عن محمد بن عبد الله الشعيثي، عن ابيه، عن عنبسة بن ابي سفيان، عن ام حبيبة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صلى قبل الظهر اربعا وبعدها اربعا حرمه الله على النار " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب وقد روي من غير هذا الوجه