Loading...

Loading...
کتب
۳۰۳ احادیث
عنبسہ بن ابی سفیان رضی الله عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی بہن ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ جس نے ظہر سے پہلے کی چار رکعتوں اور اس کے بعد کی چار رکعتوں پر محافظت کی تو اللہ اس کو جہنم کی آگ پر حرام کر دے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- قاسم دراصل عبدالرحمٰن کے بیٹے ہیں۔ ان کی کنیت ابوعبدالرحمٰن ہے، وہ عبدالرحمٰن بن خالد بن یزید بن معاویہ کے مولیٰ اور ثقہ ہیں، شام کے رہنے والے اور ابوامامہ کے شاگرد ہیں۔
حدثنا ابو بكر، محمد بن اسحاق البغدادي حدثنا عبد الله بن يوسف التنيسي الشامي، حدثنا الهيثم بن حميد، اخبرني العلاء، هو ابن الحارث عن القاسم ابي عبد الرحمن، عن عنبسة بن ابي سفيان، قال سمعت اختي ام حبيبة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم تقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من حافظ على اربع ركعات قبل الظهر واربع بعدها حرمه الله على النار " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح غريب من هذا الوجه . والقاسم هو ابن عبد الرحمن يكنى ابا عبد الرحمن وهو مولى عبد الرحمن بن خالد بن يزيد بن معاوية وهو ثقة شامي وهو صاحب ابي امامة
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے تھے، اور ان کے درمیان: مقرب فرشتوں اور ان مسلمانوں اور مومنوں پر کہ جنہوں نے ان کی تابعداری کی ان پر سلام کے ذریعہ فصل کرتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے۔ ۲- اس باب میں ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ اسحاق بن ابراہیم ( ابن راہویہ ) نے عصر سے پہلے کی چار رکعتوں میں فصل نہ کرنے کو ترجیح دی ہے، اور انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے۔ اسحاق کہتے ہیں: ان کے ( علی کے ) قول ”سلام کے ذریعے ان کے درمیان فصل کرنے“ کے معنی یہ ہیں کہ آپ دو رکعت کے بعد تشہد پڑھتے تھے، اور شافعی اور احمد کی رائے ہے کہ رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے اور وہ دونوں عصر سے پہلے کی چار رکعتوں میں سلام کے ذریعہ فصل کرنے کو پسند کرتے ہیں۔
حدثنا بندار، محمد بن بشار حدثنا ابو عامر، هو العقدي عبد الملك بن عمرو حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن عاصم بن ضمرة، عن علي، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي قبل العصر اربع ركعات يفصل بينهن بالتسليم على الملايكة المقربين ومن تبعهم من المسلمين والمومنين . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابن عمر وعبد الله بن عمرو . قال ابو عيسى حديث علي حديث حسن . واختار اسحاق بن ابراهيم ان لا يفصل في الاربع قبل العصر واحتج بهذا الحديث . وقال اسحاق ومعنى انه يفصل بينهن بالتسليم يعني التشهد . وراى الشافعي واحمد صلاة الليل والنهار مثنى مثنى يختاران الفصل في الاربع قبل العصر
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب حسن ہے۔
حدثنا يحيى بن موسى، ومحمود بن غيلان، واحمد بن ابراهيم الدورقي، وغير، واحد، قالوا حدثنا ابو داود الطيالسي، حدثنا محمد بن مسلم بن مهران، سمع جده، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " رحم الله امرا صلى قبل العصر اربعا " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب حسن
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں شمار نہیں کر سکتا کہ میں نے کتنی بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کے بعد کی دونوں رکعتوں میں اور فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھتے سنا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۲- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف «عبدالله بن معدان عن عاصم» ہی کے طریق سے جانتے ہیں۔
حدثنا ابو موسى، محمد بن المثنى حدثنا بدل بن المحبر، حدثنا عبد الملك بن معدان، عن عاصم بن بهدلة، عن ابي وايل، عن عبد الله بن مسعود، انه قال ما احصي ما سمعت من، رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا في الركعتين بعد المغرب وفي الركعتين قبل صلاة الفجر ب :(قل يا ايها الكافرون ) و (قل هو الله احد ) . قال وفي الباب عن ابن عمر . قال ابو عيسى حديث ابن مسعود حديث غريب من حديث ابن مسعود لا نعرفه الا من حديث عبد الملك بن معدان عن عاصم
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے مغرب کے بعد دونوں رکعتیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے گھر میں پڑھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں رافع بن خدیج اور کعب بن عجرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم ركعتين بعد المغرب في بيته . قال وفي الباب عن رافع بن خديج وكعب بن عجرة . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دس رکعتیں یاد ہیں جنہیں آپ رات اور دن میں پڑھا کرتے تھے: دو رکعتیں ظہر سے پہلے ۱؎، دو اس کے بعد، دو رکعتیں مغرب کے بعد، اور دو رکعتیں عشاء کے بعد، اور مجھ سے حفصہ رضی الله عنہا نے بیان کیا ہے کہ آپ فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الحلواني الخلال، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال حفظت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم عشر ركعات كان يصليها بالليل والنهار ركعتين قبل الظهر وركعتين بعدها وركعتين بعد المغرب وركعتين بعد العشاء الاخرة . قال وحدثتني حفصة انه كان يصلي قبل الفجر ركعتين . هذا حديث حسن صحيح
اس سند سے بھی ابن عمر رضی الله عنہما سے اسی کے مثل روایت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھیں اور ان کے درمیان کوئی بری بات نہ کی، تو ان کا ثواب بارہ سال کی عبادت کے برابر ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے مغرب کے بعد بیس رکعتیں پڑھیں اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا“، ۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف «زيد بن حباب عن عمر بن أبي خثعم» کی سند سے جانتے ہیں، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ عمر بن عبداللہ بن ابی خثعم منکرالحدیث ہیں۔ اور انہوں نے انہیں سخت ضعیف کہا ہے۔
حدثنا ابو كريب، - يعني محمد بن العلاء الهمداني حدثنا زيد بن الحباب، حدثنا عمر بن ابي خثعم، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صلى بعد المغرب ست ركعات لم يتكلم فيما بينهن بسوء عدلن له بعبادة ثنتى عشرة سنة " . قال ابو عيسى وقد روي عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من صلى بعد المغرب عشرين ركعة بنى الله له بيتا في الجنة " . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث غريب لا نعرفه الا من حديث زيد بن الحباب عن عمر بن ابي خثعم . قال وسمعت محمد بن اسماعيل يقول عمر بن عبد الله بن ابي خثعم منكر الحديث . وضعفه جدا
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ آپ ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے، اور اس کے بعد دو رکعتیں، مغرب کے بعد دو رکعتیں، عشاء کے بعد دو رکعتیں اور فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- عبداللہ بن شقیق کی حدیث جسے وہ عائشہ رضی الله عنہا سے روایت کرتے ہیں، حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابو سلمة، يحيى بن خلف حدثنا بشر بن المفضل، عن خالد الحذاء، عن عبد الله بن شقيق، قال سالت عايشة عن صلاة، رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت كان يصلي قبل الظهر ركعتين وبعدها ركعتين وبعد المغرب ثنتين وبعد العشاء ركعتين وقبل الفجر ثنتين . قال وفي الباب عن علي وابن عمر . قال ابو عيسى حديث عبد الله بن شقيق عن عايشة حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نفلی نماز دو دو رکعت ہے، جب تمہیں نماز فجر کا وقت ہو جانے کا ڈر ہو تو ایک رکعت پڑھ کر اسے وتر بنا لو، اور اپنی آخری نماز وتر رکھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمرو بن عبسہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے ۱؎۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " صلاة الليل مثنى مثنى فاذا خفت الصبح فاوتر بواحدة واجعل اخر صلاتك وترا " . قال ابو عيسى وفي الباب عن عمرو بن عبسة . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم ان صلاة الليل مثنى مثنى . وهو قول سفيان الثوري وابن المبارك والشافعي . واحمد واسحاق
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ( تہجد ) ہے“۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن ابي بشر، عن حميد بن عبد الرحمن الحميري، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " افضل الصيام بعد شهر رمضان شهر الله المحرم وافضل الصلاة بعد الفريضة صلاة الليل " . قال وفي الباب عن جابر وبلال وابي امامة . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . قال ابو عيسى وابو بشر اسمه جعفر بن ابي وحشية واسم ابي وحشية اياس
ابوسلمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا: رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تہجد کیسی ہوتی تھی؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد رمضان میں اور غیر رمضان گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ۱؎، آپ ( دو دو کر کے ) چار رکعتیں اس حسن خوبی سے ادا فرماتے کہ ان کے حسن اور طوالت کو نہ پوچھو، پھر مزید چار رکعتیں ( دو، دو کر کے ) پڑھتے، ان کے حسن اور طوالت کو بھی نہ پوچھو ۲؎، پھر تین رکعتیں پڑھتے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ فرمایا: ”عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں، دل نہیں سوتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے ۳؎۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابي سلمة، انه اخبره انه، سال عايشة كيف كانت صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم بالليل في رمضان فقالت ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يزيد في رمضان ولا في غيره على احدى عشرة ركعة يصلي اربعا فلا تسال عن حسنهن وطولهن ثم يصلي اربعا فلا تسال عن حسنهن وطولهن ثم يصلي ثلاثا . فقالت عايشة فقلت يا رسول الله اتنام قبل ان توتر فقال " يا عايشة ان عينى تنامان ولا ينام قلبي " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ان میں سے ایک رکعت وتر ہوتی۔ تو جب آپ اس سے فارغ ہو جاتے تو اپنے دائیں کروٹ لیٹتے ۱؎۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا معن بن عيسى، حدثنا مالك، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي من الليل احدى عشرة ركعة يوتر منها بواحدة فاذا فرغ منها اضطجع على شقه الايمن
اس سند سے بھی ابن شہاب سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، عن مالك، عن ابن شهاب، نحوه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوحمزہ ضبعی کا نام نصر بن عمران ضبعی ہے۔
حدثنا ابو كريب، قال حدثنا وكيع، عن شعبة، عن ابي جمرة الضبعي، عن ابن عباس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل ثلاث عشرة ركعة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو جمرة الضبعي اسمه نصر بن عمران الضبعي
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نو رکعتیں پڑھتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، زید بن خالد اور فضل بن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو الاحوص، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود بن يزيد، عن عايشة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل تسع ركعات . قال وفي الباب عن ابي هريرة وزيد بن خالد والفضل بن عباس . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن غريب من هذا الوجه
سفیان ثوری نے بھی یہ حدیث اسی طرح اعمش سے روایت کی ہے، ہم سے اسے محمود بن غیلان نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا اور انہوں نے سفیان سے اور سفیان نے اعمش سے روایت کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: رات کی نماز کے سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سے زیادہ وتر کے ساتھ تیرہ رکعتیں مروی ہیں، اور کم سے کم نو رکعتیں۔
ورواه سفيان الثوري عن الاعمش، نحو هذا حدثنا بذلك، محمود بن غيلان حدثنا يحيى بن ادم، عن سفيان، عن الاعمش، . قال ابو عيسى واكثر ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم في صلاة الليل ثلاث عشرة ركعة مع الوتر واقل ما وصف من صلاته بالليل تسع ركعات
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد نہیں پڑھ پاتے تھے اور نیند اس میں رکاوٹ بن جاتی یا آپ پر نیند کا غلبہ ہو جاتا تو دن میں ( اس کے بدلہ میں ) بارہ رکعتیں پڑھتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- سعد بن ہشام ہی ابن عامر انصاری ہیں اور ہشام بن عامر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں۔ بہز بن حکیم سے روایت ہے کہ زرارہ بن اوفی بصرہ کے قاضی تھے۔ وہ بنی قشیر کی امامت کرتے تھے، انہوں نے ایک دن فجر میں آیت کریمہ «فإذا نقر في الناقور * فذلك يومئذ يوم عسير» ”جب صور پھونکا جائے گا تو وہ دن سخت دن ہو گا“ پڑھی تو وہ بیہوش ہو کر گر پڑے اور مر گئے۔ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جو انہیں اٹھا کر ان کے گھر لے گئے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن زرارة بن اوفى، عن سعد بن هشام، عن عايشة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا لم يصل من الليل - منعه من ذلك النوم او غلبته عيناه صلى من النهار ثنتى عشرة ركعة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال ابو عيسى وسعد بن هشام هو ابن عامر الانصاري وهشام بن عامر هو من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم . حدثنا عباس هو ابن عبد العظيم العنبري حدثنا عتاب بن المثنى عن بهز بن حكيم قال كان زرارة بن اوفى قاضي البصرة وكان يوم في بني قشير فقرا يوما في صلاة الصبح: (فاذا نقر في الناقور * فذلك يوميذ يوم عسير ) فخر ميتا فكنت فيمن احتمله الى داره
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہر رات کو جب رات کا پہلا تہائی حصہ گزر جاتا ہے ۱؎ آسمان دنیا پر اترتا ہے ۲؎ اور کہتا ہے: میں بادشاہ ہوں، کون ہے جو مجھے پکارے تاکہ میں اس کی پکار سنوں، کون ہے جو مجھ سے مانگے تاکہ میں اسے دوں، کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے تاکہ میں اسے معاف کر دوں۔ وہ برابر اسی طرح فرماتا رہتا ہے یہاں تک کہ فجر روشن ہو جاتی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی بن ابی طالب، ابوسعید، رفاعہ جہنی، جبیر بن مطعم، ابن مسعود، ابو درداء اور عثمان بن ابی العاص رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۳- ابوہریرہ رضی الله عنہ سے یہ حدیث کئی سندوں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، ۴- نیز آپ سے یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جب وقت رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے اترتا ہے“، اور یہ سب سے زیادہ صحیح روایت ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن الاسكندراني، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ينزل الله الى السماء الدنيا كل ليلة حين يمضي ثلث الليل الاول فيقول انا الملك من ذا الذي يدعوني فاستجيب له من ذا الذي يسالني فاعطيه من ذا الذي يستغفرني فاغفر له فلا يزال كذلك حتى يضيء الفجر " . قال وفي الباب عن علي بن ابي طالب وابي سعيد ورفاعة الجهني وجبير بن مطعم وابن مسعود وابي الدرداء وعثمان بن ابي العاص . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . وقد روي هذا الحديث من اوجه كثيرة عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم . وروي عنه انه قال " ينزل الله عز وجل حين يبقى ثلث الليل الاخر " . وهو اصح الروايات
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی الله عنہ سے فرمایا: ”میں ( تہجد کے وقت ) تمہارے پاس سے گزرا، تم قرآن پڑھ رہے تھے، تمہاری آواز کچھ دھیمی تھی؟“ کہا: میں تو صرف اسے سنا رہا تھا جس سے میں مناجات کر رہا تھا۔ ( یعنی اللہ کو ) آپ نے فرمایا: ”اپنی آواز کچھ بلند کر لیا کرو“، اور عمر رضی الله عنہ سے فرمایا: ”میں تمہارے پاس سے گزرا، تم قرآن پڑھ رہے تھے، تمہاری آواز بہت اونچی تھی؟“، کہا: میں سوتوں کو جگاتا اور شیطان کو بھگا رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”تم اپنی آواز تھوڑی دھیمی کر لیا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، ام ہانی، انس، ام سلمہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اسے یحییٰ بن اسحاق نے حماد بن سلمہ سے مسند کیا ہے اور زیادہ تر لوگوں نے یہ حدیث ثابت سے اور ثابت نے عبداللہ بن رباح سے مرسلاً روایت کی ہے۔ ( یعنی: ابوقتادہ رضی الله عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے)
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا يحيى بن اسحاق، هو السالحيني حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت البناني، عن عبد الله بن رباح الانصاري، عن ابي قتادة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لابي بكر " مررت بك وانت تقرا وانت تخفض من صوتك " . فقال اني اسمعت من ناجيت . قال " ارفع قليلا " . وقال لعمر " مررت بك وانت تقرا وانت ترفع صوتك " . قال اني اوقظ الوسنان واطرد الشيطان قال " اخفض قليلا " . قال وفي الباب عن عايشة وام هاني وانس وام سلمة وابن عباس . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وانما اسنده يحيى بن اسحاق عن حماد بن سلمة واكثر الناس انما رووا هذا الحديث عن ثابت عن عبد الله بن رباح مرسلا