Loading...

Loading...
کتب
۳۰۳ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات قرآن کی صرف ایک ہی آیت کھڑے پڑھتے رہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حدثنا ابو بكر، محمد بن نافع البصري حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، عن اسماعيل بن مسلم العبدي، عن ابي المتوكل الناجي، عن عايشة، قالت قام النبي صلى الله عليه وسلم باية من القران ليلة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا: رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کیسی ہوتی تھی کیا آپ قرآن دھیرے سے پڑھتے تھے یا زور سے؟ کہا: آپ ہر طرح سے پڑھتے تھے، کبھی سری پڑھتے تھے اور کبھی جہری، تو میں نے کہا: اللہ کا شکر ہے جس نے دین کے معاملے میں کشادگی رکھی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن معاوية بن صالح، عن عبد الله بن ابي قيس، قال سالت عايشة كيف كان قراءة النبي صلى الله عليه وسلم بالليل اكان يسر بالقراءة ام يجهر فقالت كل ذلك قد كان يفعل ربما اسر بالقراءة وربما جهر . فقلت الحمد لله الذي جعل في الامر سعة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری نماز میں سب سے افضل نماز وہ ہے جسے تم اپنے گھر میں پڑھتے ہو، سوائے فرض کے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- زید بن ثابت رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عمر بن خطاب، جابر بن عبداللہ، ابوسعید، ابوہریرہ، ابن عمر، عائشہ، عبداللہ بن سعد، اور زید بن خالد جہنی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم میں اس حدیث کی روایت میں اختلاف ہے، موسیٰ بن عقبہ اور ابراہیم بن ابی نضر دونوں نے اسے ابونضر سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ نیز اسے مالک بن انس نے بھی ابونضر سے روایت کیا، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، اور بعض اہل علم نے اسے موقوف قرار دیا ہے جب کہ حدیث مرفوع زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا عبد الله بن سعيد بن ابي هند، عن سالم ابي النضر، عن بسر بن سعيد، عن زيد بن ثابت، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " افضل صلاتكم في بيوتكم الا المكتوبة " . قال وفي الباب عن عمر بن الخطاب وجابر بن عبد الله وابي سعيد وابي هريرة وابن عمر وعايشة وعبد الله بن سعد وزيد بن خالد الجهني . قال ابو عيسى حديث زيد بن ثابت حديث حسن . وقد اختلف الناس في رواية هذا الحديث فرواه موسى بن عقبة وابراهيم بن ابي النضر عن ابي النضر مرفوعا ورواه مالك بن انس عن ابي النضر ولم يرفعه واوقفه بعضهم والحديث المرفوع اصح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے گھروں میں نماز پڑھو ۱؎ اور انہیں قبرستان نہ بناؤ“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا عبد الله بن نمير، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " صلوا في بيوتكم ولا تتخذوها قبورا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح