احادیث
#389
سنن ترمذی - Salat (Prayer)
معدان کہتے ہیں کہ پھر میری ملاقات ابو الدرداء رضی الله عنہ سے ہوئی تو میں نے ان سے بھی اسی چیز کا سوال کیا جو میں نے ثوبان رضی الله عنہ سے کیا تھا تو انہوں نے بھی کہا کہ تم سجدے کو لازم پکڑو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ”جو بندہ اللہ کے واسطے کوئی سجدہ کرے گا تو اللہ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا اور ایک گناہ مٹا دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- رکوع اور سجدے کثرت سے کرنے کے سلسلے کی ثوبان اور ابوالدرداء رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابوامامہ اور ابوفاطمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اس باب میں اہل علم کا اختلاف ہے بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نماز میں دیر تک قیام کرنا کثرت سے رکوع اور سجدہ کرنے سے افضل ہے۔ اور بعض کا کہنا ہے کہ کثرت سے رکوع اور سجدے کرنا دیر تک قیام کرنے سے افضل ہے۔ احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں دونوں طرح کی حدیثیں مروی ہیں، لیکن اس میں ( کون راجح ہے اس سلسلہ میں ) انہوں نے کوئی فیصلہ کن بات نہیں کہی ہے۔ اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ دن میں کثرت سے رکوع اور سجدے کرنا افضل ہے اور رات میں دیر تک قیام کرنا، الا یہ کہ کوئی شخص ایسا ہو جس کا رات کے حصہ میں قرآن پڑھنے کا کوئی حصہ متعین ہو تو اس کے حق میں رات میں بھی رکوع اور سجدے کثرت سے کرنا بہتر ہے۔ کیونکہ وہ قرآن کا اتنا حصہ تو پڑھے گا ہی جسے اس نے خاص کر رکھا ہے اور کثرت سے رکوع اور سجدے کا نفع اسے الگ سے حاصل ہو گا، ۴- اسحاق بن راہویہ نے یہ بات اس لیے کہی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام اللیل ( تہجد ) کا حال بیان کیا گیا ہے کہ آپ اس میں دیر تک قیام کیا کرتے تھے، رہی دن کی نماز تو اس کے سلسلہ میں یہ بیان نہیں کیا گیا ہے کہ آپ ان میں رات کی نمازوں کی طرح دیر تک قیام کرتے تھے۔
قال معدان بن طلحة فلقيت ابا الدرداء فسالته عما سالت عنه ثوبان فقال عليك بالسجود فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما من عبد يسجد لله سجدة الا رفعه الله بها درجة وحط عنه بها خطيية " . قال معدان بن طلحة اليعمري ويقال ابن ابي طلحة . قال وفي الباب عن ابي هريرة وابي امامة وابي فاطمة . قال ابو عيسى حديث ثوبان وابي الدرداء في كثرة الركوع والسجود حديث حسن صحيح . وقد اختلف اهل العلم في هذا الباب فقال بعضهم طول القيام في الصلاة افضل من كثرة الركوع والسجود . وقال بعضهم كثرة الركوع والسجود افضل من طول القيام . وقال احمد بن حنبل قد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم في هذا حديثان ولم يقض فيه بشيء . وقال اسحاق اما في النهار فكثرة الركوع والسجود واما بالليل فطول القيام الا ان يكون رجل له جزء بالليل ياتي عليه فكثرة الركوع والسجود في هذا احب الى لانه ياتي على جزيه وقد ربح كثرة الركوع والسجود . قال ابو عيسى وانما قال اسحاق هذا لانه كذا وصف صلاة النبي صلى الله عليه وسلم بالليل ووصف طول القيام واما بالنهار فلم يوصف من صلاته من طول القيام ما وصف بالليل
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Salat (Prayer)
- Hadith Index
- #389
- Book Index
- 241
Grades
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih
