Loading...

Loading...
کتب
۳۰۳ احادیث
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا کہ جب ہم دو رکعتوں کے بعد بیٹھیں تو یہ دعا پڑھیں: «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”تمام قولی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں، سلام ہو آپ پر اے نبی اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں، سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث ان سے کئی سندوں سے مروی ہے، اور یہ سب سے زیادہ صحیح حدیث ہے جو تشہد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں، ۲- اس باب میں ابن عمر، جابر، ابوموسیٰ اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام ان کے بعد تابعین میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۴- ہم سے احمد بن محمد بن موسیٰ نے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، اور وہ معمر سے اور وہ خصیف سے روایت کرتے ہیں، خصیف کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں تشہد کے سلسلے میں اختلاف ہو گیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ”تم پر ابن مسعود کا تشہد لازم ہے“۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم الدورقي، حدثنا عبيد الله الاشجعي، عن سفيان الثوري، عن ابي اسحاق، عن الاسود بن يزيد، عن عبد الله بن مسعود، قال علمنا رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا قعدنا في الركعتين ان نقول التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك ايها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله . قال وفي الباب عن ابن عمر وجابر وابي موسى وعايشة . قال ابو عيسى حديث ابن مسعود قد روي عنه من غير وجه . وهو اصح حديث روي عن النبي صلى الله عليه وسلم في التشهد . والعمل عليه عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ومن بعدهم من التابعين . وهو قول سفيان الثوري وابن المبارك واحمد واسحاق . حدثنا احمد بن محمد بن موسى اخبرنا عبد الله بن المبارك عن معمر عن خصيف قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم في المنام فقلت يا رسول الله ان الناس قد اختلفوا في التشهد فقال " عليك بتشهد ابن مسعود
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد سکھاتے جیسے آپ ہمیں قرآن سکھاتے تھے اور فرماتے: «التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله سلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته سلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا رسول الله» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- اور عبدالرحمٰن بن حمید رواسی نے بھی یہ حدیث ابوالزبیر سے لیث بن سعد کی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ۳- اور ایمن بن نابل مکی نے یہ حدیث ابو الزبیر سے جابر رضی الله عنہ کی حدیث سے روایت کی ہے اور یہ غیر محفوظ ہے، ۴- امام شافعی تشہد کے سلسلے میں ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث کی طرف گئے ہیں ۱؎۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابي الزبير، عن سعيد بن جبير، وطاوس، عن ابن عباس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا التشهد كما يعلمنا القران فكان يقول " التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله سلام عليك ايها النبي ورحمة الله وبركاته سلام علينا وعلى عباد الله الصالحين اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا رسول الله " . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن غريب صحيح . وقد روى عبد الرحمن بن حميد الرواسي هذا الحديث عن ابي الزبير نحو حديث الليث بن سعد . وروى ايمن بن نابل المكي هذا الحديث عن ابي الزبير عن جابر وهو غير محفوظ . وذهب الشافعي الى حديث ابن عباس في التشهد
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں سنت سے یہ ہے ۱؎ کہ تشہد آہستہ پڑھا جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اور اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، حدثنا يونس بن بكير، عن محمد بن اسحاق، عن عبد الرحمن بن الاسود، عن ابيه، عن عبد الله بن مسعود، قال من السنة ان يخفي، التشهد . قال ابو عيسى حديث ابن مسعود حديث حسن غريب . والعمل عليه عند اهل العلم
وائل بن حجر رضی الله عنہ کہتے ہیں میں مدینے آیا تو میں نے ( اپنے جی میں ) کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ضرور دیکھوں گا۔ ( چنانچہ میں نے دیکھا ) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشہد کے لیے بیٹھے تو آپ نے اپنا بایاں پیر بچھایا اور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا اور اپنا دایاں پیر کھڑا رکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور یہی سفیان ثوری، اہل کوفہ اور ابن مبارک کا بھی قول ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبد الله بن ادريس، حدثنا عاصم بن كليب الجرمي، عن ابيه، عن وايل بن حجر، قال قدمت المدينة قلت لانظرن الى صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما جلس - يعني - للتشهد افترش رجله اليسرى ووضع يده اليسرى يعني على فخذه اليسرى ونصب رجله اليمنى . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل عليه عند اكثر اهل العلم وهو قول سفيان الثوري واهل الكوفة وابن المبارك
عباس بن سہل ساعدی کہتے ہیں کہ ابوحمید، ابواسید، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ رضی الله عنہم اکٹھے ہوئے، تو ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ذکر کیا۔ اس پر ابوحمید کہنے لگے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو تم میں سب سے زیادہ جانتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشہد کے لیے بیٹھتے تو آپ اپنا بایاں پیر بچھاتے ۱؎ اور اپنے دائیں پیر کی انگلیوں کے سروں کو قبلہ کی طرف متوجہ کرتے، اور اپنی داہنی ہتھیلی داہنے گھٹنے پر اور بائیں ہتھیلی بائیں گھٹنے پر رکھتے، اور اپنی انگلی ( انگشت شہادت ) سے اشارہ کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہی بعض اہل علم کہتے ہیں اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ اخیر تشہد میں اپنے سرین پر بیٹھے، ان لوگوں نے ابوحمید کی حدیث سے دلیل پکڑی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے تشہد میں بائیں پیر پر بیٹھے اور دایاں پیر کھڑا رکھے۔
حدثنا بندار، محمد بن بشار حدثنا ابو عامر العقدي، حدثنا فليح بن سليمان المدني، حدثني عباس بن سهل الساعدي، قال اجتمع ابو حميد وابو اسيد وسهل بن سعد ومحمد بن مسلمة فذكروا صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال ابو حميد انا اعلمكم بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم جلس - يعني - للتشهد فافترش رجله اليسرى واقبل بصدر اليمنى على قبلته ووضع كفه اليمنى على ركبته اليمنى وكفه اليسرى على ركبته اليسرى واشار باصبعه يعني السبابة . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن صحيح . وبه يقول بعض اهل العلم وهو قول الشافعي واحمد واسحاق قالوا يقعد في التشهد الاخر على وركه واحتجوا بحديث ابي حميد وقالوا يقعد في التشهد الاول على رجله اليسرى وينصب اليمنى
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے ( دائیں ) گھٹنے پر رکھتے اور اپنے داہنے ہاتھ کے انگوٹھے کے قریب والی انگلی اٹھاتے اور اس سے دعا کرتے یعنی اشارہ کرتے، اور اپنا بایاں ہاتھ اپنے ( بائیں ) گھٹنے پر پھیلائے رکھتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عبداللہ بن زبیر، نمیر خزاعی، ابوہریرہ، ابوحمید اور وائل بن حجر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابن عمر کی حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے عبیداللہ بن عمر کی حدیث سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- صحابہ کرام اور تابعین میں سے اہل علم کا اسی پر عمل تھا، یہ لوگ تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنے کو پسند کرتے اور یہی ہمارے اصحاب کا بھی قول ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، ويحيى بن موسى، وغير، واحد، قالوا حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا جلس في الصلاة وضع يده اليمنى على ركبته ورفع اصبعه التي تلي الابهام اليمنى يدعو بها ويده اليسرى على ركبته باسطها عليه . قال وفي الباب عن عبد الله بن الزبير ونمير الخزاعي وابي هريرة وابي حميد ووايل بن حجر . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن غريب لا نعرفه من حديث عبيد الله بن عمر الا من هذا الوجه . والعمل عليه عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين يختارون الاشارة في التشهد وهو قول اصحابنا
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں اور بائیں «السلام عليكم ورحمة الله السلام عليكم ورحمة الله» کہہ کر سلام پھیرتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سعد بن ابی وقاص، ابن عمر، جابر بن سمرہ، براء، ابوسعید، عمار، وائل بن حجر، عدی بن عمیرہ اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن ابي الاحوص، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يسلم عن يمينه وعن يساره " السلام عليكم ورحمة الله السلام عليكم ورحمة الله " . قال وفي الباب عن سعد بن ابي وقاص وابن عمر وجابر بن سمرة والبراء وابي سعيد وعمار ووايل بن حجر وعدي بن عميرة وجابر بن عبد الله . قال ابو عيسى حديث ابن مسعود حديث حسن صحيح . والعمل عليه عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ومن بعدهم وهو قول سفيان الثوري وابن المبارك واحمد واسحاق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اپنے چہرے کے سامنے داہنی طرف تھوڑا سا مائل ہو کر ایک سلام پھیرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث ہم صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: زہیر بن محمد سے اہل شام منکر حدیثیں روایت کرتے ہیں۔ البتہ ان سے مروی اہل عراق کی روایتیں زیادہ قرین صواب اور زیادہ صحیح ہیں، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ احمد بن حنبل کا کہنا ہے کہ شاید زہیر بن محمد جو اہل شام کے یہاں گئے تھے، وہ نہیں جن سے عراق میں روایت کی جاتی ہے، کوئی دوسرے آدمی ہیں جن کا نام ان لوگوں نے بدل دیا ہے، ۴- اس باب میں سہل بن سعد رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۵- نماز میں سلام پھیرنے کے سلسلے میں بعض اہل علم نے یہی کہا ہے، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی سب سے صحیح روایت دو سلاموں والی ہے ۱؎، صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم اسی کے قائل ہیں۔ البتہ صحابہ کرام اور ان کے علاوہ میں سے کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ فرض نماز میں صرف ایک سلام ہے، شافعی کہتے ہیں: چاہے تو صرف ایک سلام پھیرے اور چاہے تو دو سلام پھیرے۔
حدثنا محمد بن يحيى النيسابوري، حدثنا عمرو بن ابي سلمة ابو حفص التنيسي، عن زهير بن محمد، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يسلم في الصلاة تسليمة واحدة تلقاء وجهه يميل الى الشق الايمن شييا . قال وفي الباب عن سهل بن سعد . قال ابو عيسى وحديث عايشة لا نعرفه مرفوعا الا من هذا الوجه . قال محمد بن اسماعيل زهير بن محمد اهل الشام يروون عنه مناكير ورواية اهل العراق عنه اشبه واصح . قال محمد وقال احمد بن حنبل كان زهير بن محمد الذي كان وقع عندهم ليس هو هذا الذي يروى عنه بالعراق كانه رجل اخر قلبوا اسمه . قال ابو عيسى وقد قال به بعض اهل العلم في التسليم في الصلاة واصح الروايات عن النبي صلى الله عليه وسلم تسليمتان وعليه اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين ومن بعدهم . وراى قوم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم تسليمة واحدة في المكتوبة . قال الشافعي ان شاء سلم تسليمة واحدة وان شاء سلم تسليمتين
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: «حذف سلام» سنت ہے۔ علی بن حجر بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: «حذف سلام» کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسے یعنی سلام کو زیادہ نہ کھینچے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہی ہے جسے اہل علم مستحب جانتے ہیں، ۳- ابراہیم نخعی سے مروی ہے وہ کہتے ہیں تکبیر جزم ہے اور سلام جزم ہے ( یعنی ان دونوں میں مد نہ کھینچے بلکہ وقف کرے ) ۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، وهقل بن زياد، عن الاوزاعي، عن قرة بن عبد الرحمن، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال حذف السلام سنة . قال علي بن حجر قال عبد الله بن المبارك يعني ان لا تمده مدا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وهو الذي يستحبه اهل العلم وروي عن ابراهيم النخعي انه قال التكبير جزم والسلام جزم . وهقل يقال كان كاتب الاوزاعي
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت ذا الجلال والإكرام» ”اے اللہ تو سلام ہے، تجھ سے سلامتی ہے، بزرگی اور عزت والے! تو بڑی برکت والا ہے“ کہنے کے بقدر ہی بیٹھتے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا ابو معاوية، عن عاصم الاحول، عن عبد الله بن الحارث، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا سلم لا يقعد الا مقدار ما يقول " اللهم انت السلام ومنك السلام تباركت ذا الجلال والاكرام
اس سند سے بھی عاصم الاحول سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے اور اس میں «تباركت يا ذا الجلال والإكرام» ( «یا» کے ساتھ ) ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، خالد الحذاء نے یہ حدیث بروایت عائشہ عبداللہ بن حارث سے عاصم کی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ سلام پھیرنے کے بعد «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء قدير اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کے لیے ہے اور تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں، وہی زندگی اور موت دیتا ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے تو نہ دے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور تیرے آگے کسی نصیب والے کا کوئی نصیب کام نہیں آتا“ کہتے تھے، یہ بھی مروی ہے کہ آپ «سبحان ربك رب العزة عما يصفون وسلام على المرسلين والحمد لله رب العالمين» ”پاک ہے تیرا رب جو عزت والا ہے ہر اس برائی سے جو یہ بیان کرتے ہیں اور سلامتی ہو رسولوں پر اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سارے جہاں کا رب ہے“ بھی کہتے تھے ۱؎، ۳- اس باب میں ثوبان، ابن عمر، ابن عباس، ابوسعید، ابوہریرہ اور مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا مروان بن معاوية الفزاري، وابو معاوية عن عاصم الاحول، بهذا الاسناد نحوه وقال " تباركت يا ذا الجلال والاكرام " . قال وفي الباب عن ثوبان وابن عمر وابن عباس وابي سعيد وابي هريرة . والمغيرة بن شعبة . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح . وقد روى خالد الحذاء هذا الحديث من حديث عايشة عن عبد الله بن الحارث نحو حديث عاصم . وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يقول بعد التسليم " لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء قدير اللهم لا مانع لما اعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد " . وروي عنه انه كان يقول " سبحان ربك رب العزة عما يصفون وسلام على المرسلين والحمد لله رب العالمين
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے ( مقتدیوں کی طرف ) پلٹنے کا ارادہ کرتے تو تین بار «استغفر الله» ”میں اللہ کی مغفرت چاہتا ہوں“ کہتے، پھر «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» کہتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن محمد بن موسى، حدثنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا الاوزاعي، حدثني شداد ابو عمار، حدثني ابو اسماء الرحبي، قال حدثني ثوبان، مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اراد ان ينصرف من صلاته استغفر الله ثلاث مرات ثم قال " اللهم انت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والاكرام " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو عمار اسمه شداد بن عبد الله
ہلب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ہماری امامت فرماتے ( تو سلام پھیرنے کے بعد ) اپنے دونوں طرف پلٹتے تھے ( کبھی ) دائیں اور ( کبھی ) بائیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہلب رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، انس، عبداللہ بن عمرو، اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ امام اپنے جس جانب چاہے پلٹ کر بیٹھے چاہے تو دائیں طرف اور چاہے تو بائیں طرف، نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے دونوں ہی باتیں ثابت ہیں ۱؎ اور علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں اگر آپ کی ضرورت دائیں طرف ہوتی تو دائیں طرف پلٹتے اور بائیں طرف ہوتی تو بائیں طرف پلٹتے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن سماك بن حرب، عن قبيصة بن هلب، عن ابيه، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يومنا فينصرف على جانبيه جميعا على يمينه وعلى شماله . وفي الباب عن عبد الله بن مسعود وانس وعبد الله بن عمرو وابي هريرة . قال ابو عيسى حديث هلب حديث حسن . وعليه العمل عند اهل العلم انه ينصرف على اى جانبيه شاء ان شاء عن يمينه وان شاء عن يساره . وقد صح الامران عن النبي صلى الله عليه وسلم . ويروى عن علي بن ابي طالب انه قال ان كانت حاجته عن يمينه اخذ عن يمينه وان كانت حاجته عن يساره اخذ عن يساره
رفاعہ بن رافع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ایک دن مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، ہم بھی آپ کے ساتھ تھے، اسی دوران ایک شخص آپ کے پاس آیا جو بدوی لگ رہا تھا، اس نے آ کر نماز پڑھی اور بہت جلدی جلدی پڑھی، پھر پلٹ کر آیا اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو سلام کیا تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تم پر بھی سلام ہو، واپس جاؤ پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“، تو اس شخص نے واپس جا کر پھر سے نماز پڑھی، پھر واپس آیا اور آ کر اس نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے پھر فرمایا: ”اور تمہیں بھی سلام ہو، واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“، اس طرح اس نے دو بار یا تین بار کیا ہر بار وہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو سلام کرتا اور آپ فرماتے: ”تم پر بھی سلام ہو، واپس جاؤ پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“، تو لوگ ڈرے اور ان پر یہ بات گراں گزری کہ جس نے ہلکی نماز پڑھی اس کی نماز ہی نہیں ہوئی، آخر اس آدمی نے عرض کیا، آپ ہمیں ( پڑھ کر ) دکھا دیجئیے اور مجھے سکھا دیجئیے، میں انسان ہی تو ہوں، میں صحیح بھی کرتا ہوں اور مجھ سے غلطی بھی ہو جاتی ہے، تو آپ نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہونے کا ارادہ کرو تو پہلے وضو کرو جیسے اللہ نے تمہیں وضو کرنے کا حکم دیا ہے، پھر اذان دو اور تکبیر کہو اور اگر تمہیں کچھ قرآن یاد ہو تو اسے پڑھو ورنہ «الحمد لله»، «الله أكبر» اور «لا إله إلا الله» کہو، پھر رکوع میں جاؤ اور خوب اطمینان سے رکوع کرو، اس کے بعد بالکل سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو، اور خوب اعتدال سے سجدہ کرو، پھر بیٹھو اور خوب اطمینان سے بیٹھو، پھر اٹھو، جب تم نے ایسا کر لیا تو تمہاری نماز پوری ہو گئی اور اگر تم نے اس میں کچھ کمی کی تو تم نے اتنی ہی اپنی نماز میں سے کمی کی“، راوی ( رفاعہ ) کہتے ہیں: تو یہ بات انہیں پہلے سے آسان لگی کہ جس نے اس میں سے کچھ کمی کی تو اس نے اتنی ہی اپنی نماز سے کمی کی، پوری نماز نہیں گئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- رفاعہ بن رافع کی حدیث حسن ہے، رفاعہ سے یہ حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور عمار بن یاسر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا اسماعيل بن جعفر، عن يحيى بن علي بن يحيى بن خلاد بن رافع الزرقي، عن جده، عن رفاعة بن رافع، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بينما هو جالس في المسجد يوما قال رفاعة ونحن معه اذ جاءه رجل كالبدوي فصلى فاخف صلاته ثم انصرف فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " وعليك فارجع فصل فانك لم تصل " . فرجع فصلى ثم جاء فسلم عليه فقال " وعليك فارجع فصل فانك لم تصل " . ففعل ذلك مرتين او ثلاثا كل ذلك ياتي النبي صلى الله عليه وسلم فيسلم على النبي صلى الله عليه وسلم فيقول النبي صلى الله عليه وسلم " وعليك فارجع فصل فانك لم تصل " . فخاف الناس وكبر عليهم ان يكون من اخف صلاته لم يصل فقال الرجل في اخر ذلك فارني وعلمني فانما انا بشر اصيب واخطي . فقال " اجل اذا قمت الى الصلاة فتوضا كما امرك الله ثم تشهد واقم فان كان معك قران فاقرا والا فاحمد الله وكبره وهلله ثم اركع فاطمين راكعا ثم اعتدل قايما ثم اسجد فاعتدل ساجدا ثم اجلس فاطمين جالسا ثم قم فاذا فعلت ذلك فقد تمت صلاتك وان انتقصت منه شييا انتقصت من صلاتك " . قال وكان هذا اهون عليهم من الاول انه من انتقص من ذلك شييا انتقص من صلاته ولم تذهب ��لها . قال وفي الباب عن ابي هريرة وعمار بن ياسر . قال ابو عيسى حديث رفاعة بن رافع حديث حسن . وقد روي عن رفاعة هذا الحديث من غير وجه
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اتنے میں ایک اور شخص بھی داخل ہوا، اس نے نماز پڑھی پھر آ کر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”تم واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“، چنانچہ آدمی نے واپس جا کر نماز پڑھی، جیسے پہلے پڑھی تھی، پھر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“، یہاں تک اس نے تین بار ایسا کیا، پھر اس آدمی نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا میں اس سے بہتر نہیں پڑھ سکتا۔ لہٰذا آپ مجھے نماز پڑھنا سکھا دیجئیے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جب نماز کا ارادہ کرو تو «اللہ اکبر» کہو پھر جو تمہیں قرآن میں سے یاد ہو پڑھو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ رکوع کی حالت میں تمہیں خوب اطمینان ہو جائے، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اچھی طرح کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ خوب اطمینان سے سجدہ کر لو، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ اور اسی طرح سے اپنی پوری نماز میں کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابن نمیر نے عبیداللہ بن عمر سے اسی سند سے روایت کی ہے لیکن «عن أبیہ» نہیں ذکر کیا ہے، ۳- یحییٰ القطان کی روایت میں «عبداللہ بن عمر عن سعید بن أبی المقبری عن أبیہ عن أبی ہریرہ» ہے، اور یہ زیادہ صحیح۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد القطان، حدثنا عبيد الله بن عمر، اخبرني سعيد بن ابي سعيد، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل المسجد فدخل رجل فصلى ثم جاء فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم فرد عليه السلام فقال " ارجع فصل فانك لم تصل " . فرجع الرجل فصلى كما كان صلى ثم جاء الى النبي صلى الله عليه وسلم فسلم عليه فرد عليه السلام فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " ارجع فصل فانك لم تصل " . حتى فعل ذلك ثلاث مرار فقال له الرجل والذي بعثك بالحق ما احسن غير هذا فعلمني . فقال " اذا قمت الى الصلاة فكبر ثم اقرا بما تيسر معك من القران ثم اركع حتى تطمين راكعا ثم ارفع حتى تعتدل قايما ثم اسجد حتى تطمين ساجدا ثم ارفع حتى تطمين جالسا وافعل ذلك في صلاتك كلها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال وقد روى ابن نمير هذا الحديث عن عبيد الله بن عمر عن سعيد المقبري عن ابي هريرة ولم يذكر فيه عن ابيه عن ابي هريرة . ورواية يحيى بن سعيد عن عبيد الله بن عمر اصح . وسعيد المقبري قد سمع من ابي هريرة وروى عن ابيه عن ابي هريرة وابو سعيد المقبري اسمه كيسان وسعيد المقبري يكنى ابا سعد وكيسان عبد كان مكاتبا لبعضهم
محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ انہوں نے ابو حمید ساعدی رضی الله عنہ کو کہتے ہیں سنا ( جب ) صحابہ کرام میں سے دس لوگوں کے ساتھ تھے، ان میں سے ایک ابوقتادہ بن ربعی تھے، ابوحمید رضی الله عنہ کہہ رہے تھے کہ میں تم میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی نماز کا سب سے زیادہ جانکار ہوں، تو لوگوں نے کہا کہ تمہیں نہ تو ہم سے پہلے صحبت رسول میسر ہوئی اور نہ ہی تم ہم سے زیادہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آتے جاتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں یہ ٹھیک ہے ( لیکن مجھے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا طریقہ نماز زیادہ یاد ہے ) اس پر لوگوں نے کہا ( اگر تم زیادہ جانتے ہو ) تو پیش کرو، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو بالکل سیدھے کھڑے ہو جاتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں مونڈھوں کے مقابل میں لے جاتے، پھر جب رکوع کا ارادہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں مونڈھوں کے مقابل میں لے جاتے، پھر «الله أكبر» کہتے اور رکوع کرتے اور بالکل سیدھے ہو جاتے، نہ اپنا سر بالکل نیچے جھکاتے اور نہ اوپر ہی اٹھائے رکھتے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے، پھر «سمع الله لمن حمده» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) اور سیدھے کھڑے ہو جاتے یہاں تک کہ جسم کی ہر ایک ہڈی سیدھی ہو کر اپنی جگہ پر لوٹ آتی پھر سجدہ کرنے کے لیے زمین کی طرف جھکتے، پھر «الله أكبر» کہتے اور اپنے بازوؤں کو اپنی دونوں بغل سے جدا رکھتے، اور اپنے پیروں کی انگلیاں کھلی رکھتے، پھر اپنا بایاں پیر موڑتے اور اس پر بیٹھتے اور سیدھے ہو جاتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر لوٹ آتی، اور آپ اٹھتے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے یہاں تک کہ دوسری رکعت سے جب ( تیسری رکعت کے لیے ) اٹھتے تو «الله أكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں مونڈھوں کے مقابل میں کرتے جیسے اس وقت کیا تھا جب آپ نے نماز شروع کی تھی، پھر اسی طرح کرتے یہاں تک کہ جب وہ رکعت ہوتی جس میں نماز ختم ہو رہی ہو تو اپنا بایاں پیر مؤخر کرتے یعنی اسے داہنی طرف دائیں پیر کے نیچے سے نکال لیتے اور سرین پر بیٹھتے، پھر سلام پھیرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور ان کے قول «رفع يديه إذا قام من السجدتين» ”دونوں سجدوں سے کھڑے ہوتے وقت اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے“ کا مطلب ہے کہ جب دو رکعتوں کے بعد ( تیسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہوتے۔
حدثنا محمد بن بشار، ومحمد بن المثنى، قالا حدثنا يحيى بن سعيد القطان، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، حدثنا محمد بن عمرو بن عطاء، عن ابي حميد الساعدي، قال سمعته وهو، في عشرة من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم احدهم ابو قتادة بن ربعي يقول انا اعلمكم بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم . قالوا ما كنت اقدمنا له صحبة ولا اكثرنا له اتيانا قال بلى . قالوا فاعرض . فقال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا قام الى الصلاة اعتدل قايما ورفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه فاذا اراد ان يركع رفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه ثم قال " الله اكبر " . وركع ثم اعتدل فلم يصوب راسه ولم يقنع ووضع يديه على ركبتيه ثم قال " سمع الله لمن حمده " . ورفع يديه واعتدل حتى يرجع كل عظم في موضعه معتدلا ثم اهوى الى الارض ساجدا ثم قال " الله اكبر " . ثم جافى عضديه عن ابطيه وفتخ اصابع رجليه ثم ثنى رجله اليسرى وقعد عليها ثم اعتدل حتى يرجع كل عظم في موضعه معتدلا ثم اهوى ساجدا ثم قال " الله اكبر " . ثم ثنى رجله وقعد واعتدل حتى يرجع كل عظم في موضعه ثم نهض ثم صنع في الركعة الثانية مثل ذلك حتى اذا قام من السجدتين كبر ورفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه كما صنع حين افتتح الصلاة ثم صنع كذلك حتى كانت الركعة التي تنقضي فيها صلاته اخر رجله اليسرى وقعد على شقه متوركا ثم سلم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال ومعنى قوله ورفع يديه اذا قام من السجدتين يعني قام من الركعتين
محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ میں نے ابو حمید ساعدی رضی الله عنہ کو دس صحابہ کرام کی موجودگی میں جن میں ابوقتادہ بن ربعی بھی تھے، کہتے سنا، پھر انہوں نے یحییٰ بن سعید کی حدیث کی طرح اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث میں ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے عبدالحمید بن جعفر کے واسطے سے اس لفظ کا اضافہ کیا ہے کہ ( نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی نماز والی اس صفت و کیفیت کو سننے والے ) صحابہ کرام رضی الله عنہم اجمعین نے کہا کہ آپ نے صحیح کہا، نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اسی طرح نماز پڑھتے تھے۔
حدثنا محمد بن بشار، والحسن بن علي الخلال الحلواني، وسلمة بن شبيب، وغير، واحد، قالوا حدثنا ابو عاصم النبيل، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، حدثنا محمد بن عمرو بن عطاء، قال سمعت ابا حميد الساعدي، في عشرة من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم ابو قتادة بن ربعي فذكر نحو حديث يحيى بن سعيد بمعناه وزاد فيه ابو عاصم عن عبد الحميد بن جعفر هذا الحرف قالوا صدقت هكذا صلى النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى زاد ابو عاصم الضحاك بن مخلد في هذا الحديث عن عبد الحميد بن جعفر هذا الحرف قالوا صدقت هكذا صلى النبي صلى الله عليه وسلم
قطبہ بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو فجر میں پہلی رکعت میں «والنخل باسقات» پڑھتے سنا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- قطبہ بن مالک کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمرو بن حریث، جابر بن سمرہ، عبداللہ بن سائب، ابوبرزہ اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فجر میں سورۃ الواقعہ پڑھی، ۴- یہ بھی مروی ہے کہ آپ فجر میں ساٹھ سے لے کر سو آیتیں پڑھا کرتے تھے، ۵- اور یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے «إذا الشمس كورت» پڑھی، ۶- اور عمر رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ابوموسیٰ اشعری کو لکھا کہ فجر میں طوال مفصل پڑھا کرو ۱؎، ۷- اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک اور شافعی کا قول ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن مسعر، وسفيان، عن زياد بن علاقة، عن عمه، قطبة بن مالك قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا في الفجر : (والنخل باسقات ) في الركعة الاولى . قال وفي الباب عن عمرو بن حريث وجابر بن سمرة وعبد الله بن السايب وابي برزة وام سلمة . قال ابو عيسى حديث قطبة بن مالك حديث حسن صحيح . وروي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قرا في الصبح بالواقعة . وروي عنه انه كان يقرا في الفجر من ستين اية الى ماية . وروي عنه انه قرا : (اذا الشمس كورت ) . وروي عن عمر انه كتب الى ابي موسى ان اقرا في الصبح بطوال المفصل . قال ابو عيسى وعلى هذا العمل عند اهل العلم وبه قال سفيان الثوري وابن المبارك والشافعي
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ظہر اور عصر میں «وسماء ذات البروج»، «والسماء والطارق» اور ان جیسی سورتیں پڑھا کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں خباب، ابوسعید، ابوقتادہ، زید بن ثابت اور براء بن عازب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے ظہر میں «الم تنزیل» یعنی سورۃ السجدہ کے بقدر قرأت کی، ۴- یہ بھی مروی ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم ظہر کی پہلی رکعت میں تیس آیتوں کے بقدر اور دوسری رکعت میں پندرہ آیتوں کے بقدر قرأت کرتے تھے، عمر رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ابوموسیٰ رضی الله عنہ کو لکھا کہ تم ظہر میں «وساط مفصل» پڑھا کرو ۱؎، ۶- بعض اہل علم کی رائے ہے کہ عصر کی قرأت مغرب کی قرأت کی طرح ہو گی، ان میں ( امام ) «قصار مفصل» پڑھے گا ۲؎، ۷- اور ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ ظہر کی قرأت عصر کی قرأت سے چار گنا ہو گی۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا حماد بن سلمة، عن سماك بن حرب، عن جابر بن سمرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقرا في الظهر والعصر بالسماء ذات البروج والسماء والطارق وشبههما . قال وفي الباب عن خباب وابي سعيد وابي قتادة وزيد بن ثابت والبراء بن عازب . قال ابو عيسى حديث جابر بن سمرة حديث حسن . وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قرا في الظهر قدر تنزيل السجدة . وروي عنه انه كان يقرا في الركعة الاولى من الظهر قدر ثلاثين اية وفي الركعة الثانية قدر خمس عشرة اية . وروي عن عمر انه كتب الى ابي موسى ان اقرا في الظهر باوساط المفصل . وراى بعض اهل العلم ان القراءة في صلاة العصر كنحو القراءة في صلاة المغرب يقرا بقصار المفصل . وروي عن ابراهيم النخعي انه قال تعدل صلاة العصر بصلاة المغرب في القراءة . وقال ابراهيم تضاعف صلاة الظهر على صلاة العصر في القراءة اربع مرار
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے ان کی ماں ام الفضل رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ہماری طرف اس حال میں نکلے کہ آپ بیماری میں اپنے سر پر پٹی باندھے ہوئے تھے، مغرب پڑھائی تو سورۂ ”مرسلات“ پڑھی، پھر اس کے بعد آپ نے یہ سورت نہیں پڑھی یہاں تک کہ آپ اللہ سے جا ملے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ام الفضل کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جبیر بن مطعم، ابن عمر، ابوایوب اور زید بن ثابت رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے مغرب میں دونوں رکعتوں میں سورۃ الاعراف پڑھی، اور آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے مغرب میں سورۃ الطور پڑھی، ۵- عمر رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ابوموسیٰ رضی الله عنہ کو لکھا کہ تم مغرب میں «قصار مفصل» پڑھا کرو، ۶- اور ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ وہ مغرب میں «قصار مفصل» پڑھتے تھے، ۷- اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، ۸- امام شافعی کہتے ہیں کہ امام مالک کے سلسلہ میں ذکر کیا گیا ہے کہ انہوں نے مغرب میں طور اور مرسلات جیسی لمبی سورتیں پڑھنے کو مکروہ جانا ہے۔ شافعی کہتے ہیں: لیکن میں مکروہ نہیں سمجھتا، بلکہ مغرب میں ان سورتوں کے پڑھے جانے کو مستحب سمجھتا ہوں۔
حدثنا هناد، حدثنا عبدة بن سليمان، عن محمد بن اسحاق، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس، عن امه ام الفضل، قالت خرج الينا رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عاصب راسه في مرضه فصلى المغرب فقرا بالمرسلات قالت فما صلاها بعد حتى لقي الله . قال وفي الباب عن جبير بن مطعم وابن عمر وابي ايوب وزيد بن ثابت . قال ابو عيسى حديث ام الفضل حديث حسن صحيح . وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قرا في المغرب بالاعراف في الركعتين كلتيهما . وروي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قرا في المغرب بالطور . وروي عن عمر انه كتب الى ابي موسى ان اقرا في المغرب بقصار المفصل . وروي عن ابي بكر الصديق انه قرا في المغرب بقصار المفصل . قال وعلى هذا العمل عند اهل العلم وبه يقول ابن المبارك واحمد واسحاق . وقال الشافعي وذكر عن مالك انه كره ان يقرا في صلاة المغرب بالسور الطول نحو الطور والمرسلات قال الشافعي لا اكره ذلك بل استحب ان يقرا بهذه السور في صلاة المغرب