Loading...

Loading...
کتب
۳۰۳ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی یہ قصد کرتا ہے کہ وہ اپنی نماز میں اونٹ کے بیٹھنے کی طرح بیٹھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث غریب ہے ہم اسے ابوالزناد کی حدیث سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- یہ حدیث عبداللہ بن سعید مقبری سے بھی روایت کی گئی ہے، انہوں نے اپنے والد سے اور ان کے والد نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ عبداللہ بن سعید مقبری کو یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد الله بن نافع، عن محمد بن عبد الله بن حسن، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " يعمد احدكم فيبرك في صلاته برك الجمل " . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث غريب لا نعرفه من حديث ابي الزناد الا من هذا الوجه . وقد روي هذا الحديث عن عبد الله بن سعيد المقبري عن ابيه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم . وعبد الله بن سعيد المقبري ضعفه يحيى بن سعيد القطان وغيره
ابو حمید ساعدی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنی ناک اور پیشانی خوب اچھی طرح زمین پر جماتے، اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں پہلوؤں سے دور رکھتے، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دونوں شانوں کے بالمقابل رکھتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوحمید کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس، وائل بن حجر اور ابوسعید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آدمی اپنی پیشانی اور ناک دونوں پر سجدہ کرے، اور اگر صرف پیشانی پر سجدہ کرے ناک پر نہ کرے تو اہل علم میں سے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ اسے کافی ہو گا، اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کافی نہیں ہو گا جب تک کہ وہ پیشانی اور ناک دونوں پر سجدہ نہ کرے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، بندار حدثنا ابو عامر العقدي، حدثنا فليح بن سليمان، حدثني عباس بن سهل، عن ابي حميد الساعدي، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا سجد امكن انفه وجبهته من الارض ونحى يديه عن جنبيه ووضع كفيه حذو منكبيه . قال وفي الباب عن ابن عباس ووايل بن حجر وابي سعيد . قال ابو عيسى حديث ابي حميد حديث حسن صحيح . والعمل عليه عند اهل العلم ان يسجد الرجل على جبهته وانفه فان سجد على جبهته دون انفه فقد قال قوم من اهل العلم يجزيه . وقال غيرهم لا يجزيه حتى يسجد على الجبهة والانف
ابواسحاق سبیعی سے روایت ہے کہ میں نے براء بن عازب رضی الله عنہما سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنا چہرہ کہاں رکھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- براء رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں وائل بن حجر اور ابوحمید رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور اسی کو بعض اہل علم نے اختیار کیا ہے کہ اس کے دونوں ہاتھ اس کے دونوں کانوں کے قریب ہوں ۱؎۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حفص بن غياث، عن الحجاج، عن ابي اسحاق، قال قلت للبراء بن عازب اين كان النبي صلى الله عليه وسلم يضع وجهه اذا سجد فقال بين كفيه . قال وفي الباب عن وايل بن حجر وابي حميد . قال ابو عيسى حديث البراء حديث حسن صحيح غريب . وهو الذي اختاره بعض اهل العلم ان تكون يداه قريبا من اذنيه
عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات جوڑ بھی سجدہ کرتے ہیں: اس کا چہرہ ۱؎ اس کی دونوں ہتھیلیاں، اس کے دونوں گھٹنے اور اس کے دونوں قدم“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عباس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس، ابوہریرہ، جابر اور ابوسعید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا بكر بن مضر، عن ابن الهاد، عن محمد بن ابراهيم، عن عامر بن سعد بن ابي وقاص، عن العباس بن عبد المطلب، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا سجد العبد سجد معه سبعة اراب وجهه وكفاه وركبتاه وقدماه " . قال وفي الباب عن ابن عباس وابي هريرة وجابر وابي سعيد . قال ابو عيسى حديث العباس حديث حسن صحيح وعليه العمل عند اهل العلم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ آپ سات اعضاء پر سجدہ کریں اور اپنے بال اور کپڑے نہ سمیٹیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن عمرو بن دينار، عن طاوس، عن ابن عباس، قال امر النبي صلى الله عليه وسلم ان يسجد على سبعة اعظم ولا يكف شعره ولا ثيابه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن اقرم خزاعی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں مقام نمرہ کے «قاع» ”مسطح زمین“ میں اپنے والد کے ساتھ تھا، تو ( وہاں سے ) ایک قافلہ گزرا، کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں بغلوں کی سفیدی دیکھ رہا تھا جب آپ سجدہ کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن اقرم رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، اسے ہم صرف داود بن قیس کی سند سے جانتے ہیں۔ عبداللہ بن اقرم خزاعی کی اس کے علاوہ کوئی اور حدیث جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہو ہم نہیں جانتے، ۲- صحابہ کرام میں سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ اور عبداللہ بن ارقم زہری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں اور وہ ابوبکر صدیق کے منشی تھے، ۳- اس باب میں ابن عباس، ابن بحینہ، جابر، احمر بن جزئ، میمونہ، ابوحمید، ابومسعود، ابواسید، سہل بن سعد، محمد بن مسلمہ، براء بن عازب، عدی بن عمیرہ اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- احمر بن جزء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک آدمی ہیں اور ان کی صرف ایک حدیث ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن داود بن قيس، عن عبيد الله بن عبد الله بن الاقرم الخزاعي، عن ابيه، قال كنت مع ابي بالقاع من نمرة فمرت ركبة فاذا رسول الله صلى الله عليه وسلم قايم يصلي . قال فكنت انظر الى عفرتى ابطيه اذا سجد اى بياضه . قال وفي الباب عن ابن عباس وابن بحينة وجابر واحمر بن جزء وميمونة وابي حميد وابي مسعود وابي اسيد وسهل بن سعد ومحمد بن مسلمة والبراء بن عازب وعدي بن عميرة وعايشة . قال ابو عيسى واحمر بن جزء هذا رجل من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم له حديث واحد . قال ابو عيسى حديث عبد الله بن اقرم حديث حسن لا نعرفه الا من حديث داود بن قيس ولا نعرف لعبد الله بن اقرم الخزاعي عن النبي صلى الله عليه وسلم غير هذا الحديث . والعمل عليه عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم . قال وعبد الله بن اقرم الخزاعي انما له هذا الحديث عن النبي صلى الله عليه وسلم . وعبد الله بن ارقم الزهري صاحب النبي صلى الله عليه وسلم . وهو كاتب ابي بكر الصديق
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اعتدال کرے ۱؎ اور اپنے ہاتھ کو کتے کی طرح نہ بچھائے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبدالرحمٰن بن شبل، انس، براء، ابوحمید اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا عمل اسی پر ہے، وہ سجدے میں اعتدال کو پسند کرتے ہیں اور ہاتھ کو درندے کی طرح بچھانے کو مکروہ سمجھتے ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا سجد احدكم فليعتدل ولا يفترش ذراعيه افتراش الكلب " . قال وفي الباب عن عبد الرحمن بن شبل وانس والبراء وابي حميد وعايشة . قال ابو عيسى حديث جابر حديث حسن صحيح . والعمل عليه عند اهل العلم يختارون الاعتدال في السجود ويكرهون الافتراش كافتراش السبع
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سجدے میں اپنی ہیئت درمیانی رکھو، تم میں سے کوئی نماز میں اپنے دونوں ہاتھ کتے کی طرح نہ بچھائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، اخبرنا شعبة، عن قتادة، قال سمعت انسا، يقول ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اعتدلوا في السجود ولا يبسطن احدكم ذراعيه في الصلاة بسط الكلب " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا معلى بن اسد، حدثنا وهيب، عن محمد بن عجلان، عن محمد بن ابراهيم، عن عامر بن سعد بن ابي وقاص، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم امر بوضع اليدين ونصب القدمين
قال عبد الله وقال معلى بن اسد حدثنا حماد بن مسعدة، عن محمد بن عجلان، عن محمد بن ابراهيم، عن عامر بن سعد، ان النبي صلى الله عليه وسلم امر بوضع اليدين فذكر نحوه ولم يذكر فيه عن ابيه . قال ابو عيسى وروى يحيى بن سعيد القطان وغير واحد عن محمد بن عجلان عن محمد بن ابراهيم عن عامر بن سعد ان النبي صلى الله عليه وسلم امر بوضع اليدين ونصب القدمين . مرسل وهذا اصح من حديث وهيب . وهو الذي اجمع عليه اهل العلم واختاروه
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے، جب رکوع سے سر اٹھاتے، جب سجدہ کرتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو آپ کی نماز تقریباً برابر برابر ہوتی تھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی حدیث ہے۔
حدثنا احمد بن محمد بن موسى المروزي، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا شعبة، عن الحكم، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن البراء بن عازب، قال كانت صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا ركع واذا رفع راسه من الركوع واذا سجد واذا رفع راسه من السجود قريبا من السواء . قال وفي الباب عن انس
اس سند سے بھی حکم سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- براء رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن الحكم، نحوه . قال ابو عيسى حديث البراء حديث حسن صحيح . والعمل عليه عند اهل العلم
براء بن عازب رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے اور جب آپ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو ہم میں سے کوئی بھی شخص اپنی پیٹھ ( سجدے کے لیے ) اس وقت تک نہیں جھکاتا تھا جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں نہ چلے جاتے، آپ سجدے میں چلے جاتے تو ہم سجدہ کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- براء رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس، معاویہ، ابن مسعدہ صاحب جیوش، اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور یہی اہل علم کہتے ہیں یعنی: جو امام کے پیچھے ہو وہ ان تمام امور میں جنہیں امام کر رہا ہو امام کی پیروی کرے، یعنی اسے امام کے بعد کرے، امام کے رکوع میں جانے کے بعد ہی رکوع میں جائے اور اس کے سر اٹھانے کے بعد ہی اپنا سر اٹھائے، ہمیں اس مسئلہ میں ان کے درمیان کسی اختلاف کا علم نہیں ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن عبد الله بن يزيد، حدثنا البراء، وهو غير كذوب قال كنا اذا صلينا خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فرفع راسه من الركوع لم يحن رجل منا ظهره حتى يسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم فنسجد . قال وفي الباب عن انس ومعاوية وابن مسعدة صاحب الجيوش وابي هريرة . قال ابو عيسى حديث البراء حديث حسن صحيح . وبه يقول اهل العلم ان من خلف الامام انما يتبعون الامام فيما يصنع لا يركعون الا بعد ركوعه ولا يرفعون الا بعد رفعه . لا نعلم بينهم في ذلك اختلافا
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے علی! میں تمہارے لیے وہی چیز پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے کرتا ہوں، اور وہی چیز ناپسند کرتا ہوں جو اپنے لیے ناپسند کرتا ہوں۔ تم دونوں سجدوں کے درمیان اقعاء ۱؎ نہ کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم اسے علی کی حدیث سے صرف ابواسحاق سبیعی ہی کی روایت سے جانتے ہیں، انہوں نے حارث سے اور حارث نے علی سے روایت کی ہے، ۲- بعض اہل علم نے حارث الاعور کو ضعیف قرار دیا ہے ۲؎، ۳- اس باب میں عائشہ، انس اور ابوہریرہ سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- اکثر اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے کہ وہ اقعاء کو مکروہ قرار دیتے ہیں۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا عبيد الله بن موسى، حدثنا اسراييل، عن ابي اسحاق، عن الحارث، عن علي، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا علي احب لك ما احب لنفسي واكره لك ما اكره لنفسي لا تقع بين السجدتين " . قال ابو عيسى هذا حديث لا نعرفه من حديث علي الا من حديث ابي اسحاق عن الحارث عن علي . وقد ضعف بعض اهل العلم الحارث الاعور . والعمل على هذا الحديث عند اكثر اهل العلم يكرهون الاقعاء . قال وفي الباب عن عايشة وانس وابي هريرة
طاؤس کہتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس رضی الله عنہما سے دونوں قدموں پر اقعاء کرنے کے سلسلے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: یہ سنت ہے، تو ہم نے کہا کہ ہم تو اسے آدمی کا پھوہڑپن سمجھتے ہیں، انہوں نے کہا: نہیں یہ پھوہڑپن نہیں ہے بلکہ یہ تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام میں بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، وہ اقعاء میں کوئی حرج نہیں جانتے، مکہ کے بعض اہل علم کا یہی قول ہے، لیکن اکثر اہل علم دونوں سجدوں کے درمیان اقعاء کو ناپسند کرتے ہیں ۱؎۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا ابن جريج، اخبرني ابو الزبير، انه سمع طاوسا، يقول قلنا لابن عباس في الاقعاء على القدمين قال هي السنة . فقلنا انا لنراه جفاء بالرجل قال بل هي سنة نبيكم صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد ذهب بعض اهل العلم الى هذا الحديث من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم لا يرون بالاقعاء باسا وهو قول بعض اهل مكة من اهل الفقه والعلم . قال واكثر اهل العلم يكرهون الاقعاء بين السجدتين
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں سجدوں کے درمیان «اللهم اغفر لي وارحمني واجبرني واهدني وارزقني» ”اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، میرے نقصان کی تلافی فرما، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما“ کہتے تھے ۱؎۔
حدثنا سلمة بن شبيب، حدثنا زيد بن حباب، عن كامل ابي العلاء، عن حبيب بن ابي ثابت، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول بين السجدتين " اللهم اغفر لي وارحمني واجبرني واهدني وارزقني
اس سند سے بھی کامل ابو العلاء سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اسی طرح علی رضی الله عنہ سے بھی مروی ہے۔ اور بعض لوگوں نے کامل ابو العلاء سے یہ حدیث مرسلاً روایت کی ہے، ۳- شافعی، احمد، اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، ان کی رائے ہے کہ یہ فرض اور نفل دونوں میں جائز ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال الحلواني، حدثنا يزيد بن هارون، عن زيد بن حباب، عن كامل ابي العلاء، نحوه . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وهكذا روي عن علي، . وبه يقول الشافعي واحمد واسحاق يرون هذا جايزا في المكتوبة والتطوع . وروى بعضهم هذا الحديث عن كامل ابي العلاء مرسلا
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ بعض صحابہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سجدے میں دونوں ہاتھوں کو دونوں پہلوؤں سے اور پیٹ کو ران سے جدا رکھنے کی صورت میں ( تکلیف کی ) شکایت کی، تو آپ نے فرمایا: گھٹنوں سے ( ان پر ٹیک لگا کر ) مدد لے لیا کرو ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم سے ابوصالح کی حدیث جسے انہوں نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے صرف اسی طریق سے ( یعنی لیث عن ابن عجلان کے طریق سے ) جانتے ہیں اور سفیان بن عیینہ اور دیگر کئی لوگوں نے یہ حدیث بطریق: «سمى عن النعمان بن أبي عياش عن النبي صلى الله عليه وسلم» ( اسی طرح ) روایت کی ہے، ان لوگوں کی روایت لیث کی روایت کے مقابلے میں شاید زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن عجلان، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال اشتكى بعض اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم الى النبي صلى الله عليه وسلم مشقة السجود عليهم اذا تفرجوا فقال " استعينوا بالركب " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه من حديث ابي صالح عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم الا من هذا الوجه من حديث الليث عن ابن عجلان . وقد روى هذا الحديث سفيان بن عيينة وغير واحد عن سمى عن النعمان بن ابي عياش عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا . وكان رواية هولاء اصح من رواية الليث
ابواسحاق مالک بن حویرث لیثی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا، آپ کی نماز اس طرح سے تھی کہ جب آپ طاق رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک نہیں اٹھتے جب تک کہ آپ اچھی طرح بیٹھ نہ جاتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- مالک بن حویرث کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اور یہی اسحاق بن راہویہ اور ہمارے بعض اصحاب بھی کہتے ہیں۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا هشيم، عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن مالك بن الحويرث الليثي، انه راى النبي صلى الله عليه وسلم يصلي فكان اذا كان في وتر من صلاته لم ينهض حتى يستوي جالسا . قال ابو عيسى حديث مالك بن الحويرث حديث حسن صحيح . والعمل عليه عند بعض اهل العلم . وبه يقول اسحاق وبعض اصحابنا . ومالك يكنى ابا سليمان
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اپنے دونوں قدموں کے سروں یعنی دونوں پیروں کی انگلیوں پر زور دے کر اٹھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اہل علم کے نزدیک ابوہریرہ رضی الله عنہ ہی کی حدیث پر عمل ہے۔ خالد بن الیاس محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں۔ انہیں خالد بن ایاس بھی کہا جاتا ہے، لوگ اسی کو پسند کرتے ہیں کہ آدمی نماز میں اپنے دونوں قدموں کے سروں پر زور دے کر ( بغیر بیٹھے ) کھڑا ہو۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا ابو معاوية، حدثنا خالد بن الياس، عن صالح، مولى التوامة عن ابي هريرة، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم ينهض في الصلاة على صدور قدميه . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة عليه العمل عند اهل العلم يختارون ان ينهض الرجل في الصلاة على صدور قدميه . وخالد بن الياس هو ضعيف عند اهل الحديث . قال ويقال خالد بن اياس ايضا . وصالح مولى التوامة هو صالح بن ابي صالح . وابو صالح اسمه نبهان وهو مدني