Loading...

Loading...
کتب
۳۰۳ احادیث
اس سند سے بھی وائل حجر رضی الله عنہ سے سفیان کی ( پچھلی ) روایت جیسی روایت ہے۔
قال ابو عيسى حدثنا ابو بكر، محمد بن ابان حدثنا عبد الله بن نمير، حدثنا العلاء بن صالح الاسدي، عن سلمة بن كهيل، عن حجر بن عنبس، عن وايل بن حجر، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو حديث سفيان عن سلمة بن كهيل
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام آمین کہے تو تم لوگ بھی آمین کہو۔ اس لیے کہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل گئی تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابو كريب، محمد بن العلاء حدثنا زيد بن حباب، حدثني مالك بن انس، حدثنا الزهري، عن سعيد بن المسيب، وابي، سلمة عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا امن الامام فامنوا فانه من وافق تامينه تامين الملايكة غفر له ما تقدم من ذنبه " . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ( نماز میں ) دو سکتے ہیں جنہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد کیا ہے، اس پر عمران بن حصین رضی الله عنہ نے اس کا انکار کیا اور کہا: ہمیں تو ایک ہی سکتہ یاد ہے۔ چنانچہ ( سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں ) ہم نے مدینے میں ابی بن کعب رضی الله عنہ کو لکھا، تو انہوں نے لکھا کہ سمرہ نے ( ٹھیک ) یاد رکھا ہے۔ سعید بن ابی عروبہ کہتے ہیں: تو ہم نے قتادہ سے پوچھا: یہ دو سکتے کون کون سے ہیں؟ انہوں نے کہا: جب نماز میں داخل ہوتے ( پہلا اس وقت ) اور جب آپ قرأت سے فارغ ہوتے، پھر اس کے بعد کہا اور جب «ولا الضالين» کہتے ۱؎ اور آپ کو یہ بات اچھی لگتی تھی کہ جب آپ قرأت سے فارغ ہوں تو تھوڑی دیر چپ رہیں یہاں تک کہ سانس ٹھہر جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سمرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی حدیث آئی ہے، ۳- اہل علم میں سے بہت سے لوگوں کا یہی قول ہے کہ وہ امام کے لیے نماز شروع کرنے کے بعد اور قرأت سے فارغ ہونے کے بعد ( تھوڑی دیر ) چپ رہنے کو مستحب جانتے ہیں۔ اور یہی احمد، اسحاق بن راہویہ اور ہمارے اصحاب بھی کہتے ہیں۔
حدثنا ابو موسى، محمد بن المثنى حدثنا عبد الاعلى، عن سعيد، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة، قال سكتتان حفظتهما عن رسول الله صلى الله عليه وسلم . فانكر ذلك عمران بن حصين وقال حفظنا سكتة . فكتبنا الى ابى بن كعب بالمدينة فكتب ابى ان حفظ سمرة . قال سعيد فقلنا لقتادة ما هاتان السكتتان قال اذا دخل في صلاته واذا فرغ من القراءة . ثم قال بعد ذلك واذا قرا : (ولا الضالين ) . قال وكان يعجبه اذا فرغ من القراءة ان يسكت حتى يتراد اليه نفسه . قال وفي الباب عن ابي هريرة . قال ابو عيسى حديث سمرة حديث حسن . وهو قول غير واحد من اهل العلم يستحبون للامام ان يسكت بعد ما يفتتح الصلاة وبعد الفراغ من القراءة . وبه يقول احمد واسحاق واصحابنا
ہلب طائی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امامت کرتے تو بائیں ہاتھ کو اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہلب رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں وائل بن حجر، غطیف بن حارث، ابن عباس، ابن مسعود اور سہیل بن سعد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ آدمی نماز میں داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھے ۱؎، اور بعض کی رائے ہے کہ انہیں ناف کے اوپر رکھے اور بعض کی رائے ہے کہ ناف کے نیچے رکھے، ان کے نزدیک ان سب کی گنجائش ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن سماك بن حرب، عن قبيصة بن هلب، عن ابيه، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يومنا فياخذ شماله بيمينه . قال وفي الباب عن وايل بن حجر وغطيف بن الحارث وابن عباس وابن مسعود وسهل بن سعد . قال ابو عيسى حديث هلب حديث حسن . والعمل على هذا عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين ومن بعدهم يرون ان يضع الرجل يمينه على شماله في الصلاة . وراى بعضهم ان يضعهما فوق السرة . وراى بعضهم ان يضعهما تحت السرة . وكل ذلك واسع عندهم . واسم هلب يزيد بن قنافة الطايي
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جھکنے، اٹھنے، کھڑے ہونے اور بیٹھنے کے وقت اللہ اکبر کہتے ۱؎ اور ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما بھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، انس، ابن عمر، ابو مالک اشعری، ابوموسیٰ، عمران بن حصین، وائل بن حجر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام کا جن میں ابوبکر، عمر، عثمان علی رضی الله عنہم وغیرہ شامل ہیں اور ان کے بعد کے تابعین کا عمل اسی پر ہے اور اسی پر اکثر فقہاء و علماء کا عمل بھی ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن عبد الرحمن بن الاسود، عن علقمة، والاسود، عن عبد الله بن مسعود، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكبر في كل خفض ورفع وقيام وقعود وابو بكر وعمر . قال وفي الباب عن ابي هريرة وانس وابن عمر وابي مالك الاشعري وابي موسى وعمران بن حصين ووايل بن حجر وابن عباس . قال ابو عيسى حديث عبد الله بن مسعود حديث حسن صحيح . والعمل عليه عند اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم ابو بكر وعمر وعثمان وعلي وغيرهم ومن بعدهم من التابعين وعليه عامة الفقهاء والعلماء
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جھکتے وقت «الله أكبر» کہتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے تابعین میں سے اہل علم کا قول یہی ہے کہ رکوع اور سجدہ کے لیے جھکتے ہوئے آدمی «الله أكبر» کہے۔
حدثنا عبد الله بن منير المروزي، قال سمعت علي بن الحسن، قال اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن ابن جريج، عن الزهري، عن ابي بكر بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يكبر وهو يهوي . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وهو قول اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ومن بعدهم من التابعين قالوا يكبر الرجل وهو يهوي للركوع والسجود
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل کرتے، اور جب رکوع کرتے اور رکوع سے اپنا سر اٹھاتے ( تو بھی اسی طرح دونوں ہاتھ اٹھاتے ) ۱؎۔ ابن ابی عمر ( ترمذی کے دوسرے استاذ ) نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے، دونوں سجدوں کے درمیان نہیں اٹھاتے تھے۔
حدثنا قتيبة، وابن ابي عمر، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا افتتح الصلاة يرفع يديه حتى يحاذي منكبيه واذا ركع واذا رفع راسه من الركوع . وزاد ابن ابي عمر في حديثه وكان لا يرفع بين السجدتين
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، علی، وائل بن حجر، مالک بن حویرث، انس، ابوہریرہ، ابوحمید، ابواسید، سہل بن سعد، محمد بن مسلمہ، ابوقتادۃ، ابوموسیٰ اشعری، جابر اور عمیر لیثی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- یہی صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم جن میں ابن عمر، جابر بن عبداللہ، ابوہریرہ، انس، ابن عباس، عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہم وغیرہ شامل ہیں اور تابعین میں سے حسن بصری، عطاء، طاؤس، مجاہد، نافع، سالم بن عبداللہ، سعید بن جبیر وغیرہ کہتے ہیں، اور یہی مالک، معمر، اوزاعی، ابن عیینہ، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ۴- عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: جو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہیں ان کی حدیث ( دلیل ) صحیح ہے، پھر انہوں نے بطریق زہری روایت کی ہے، ۵- اور ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف پہلی مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے“ والی ثابت نہیں ہے، ۶- مالک بن انس نماز میں رفع یدین کو صحیح سمجھتے تھے، ۷- عبدالرزاق کا بیان ہے کہ معمر بھی نماز میں رفع یدین کو صحیح سمجھتے تھے، ۸- اور میں نے جارود بن معاذ کو کہتے سنا کہ ”سفیان بن عیینہ، عمر بن ہارون اور نضر بن شمیل اپنے ہاتھ اٹھاتے جب نماز شروع کرتے اور جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے“۔
قال ابو عيسى حدثنا الفضل بن الصباح البغدادي، حدثنا سفيان بن عيينة، حدثنا الزهري، بهذا الاسناد نحو حديث ابن ابي عمر . قال وفي الباب عن عمر، وعلي، ووايل بن حجر، ومالك بن الحويرث، وانس، وابي، هريرة وابي حميد وابي اسيد وسهل بن سعد ومحمد بن مسلمة وابي قتادة وابي موسى الاشعري وجابر وعمير الليثي . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح . وبهذا يقول بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم ابن عمر وجابر بن عبد الله وابو هريرة وانس وابن عباس وعبد الله بن الزبير وغيرهم ومن التابعين الحسن البصري وعطاء وطاوس ومجاهد ونافع وسالم بن عبد الله وسعيد بن جبير وغيرهم . وبه يقول مالك ومعمر والاوزاعي وابن عيينة وعبد الله بن المبارك والشافعي واحمد واسحاق . وقال عبد الله بن المبارك قد ثبت حديث من يرفع يديه وذكر حديث الزهري عن سالم عن ابيه ولم يثبت حديث ابن مسعود ان النبي صلى الله عليه وسلم لم يرفع يديه الا في اول مرة . حدثنا بذلك احمد بن عبدة الاملي حدثنا وهب بن زمعة عن سفيان بن عبد الملك عن عبد الله بن المبارك . قال وحدثنا يحيى بن موسى قال حدثنا اسماعيل بن ابي اويس قال كان مالك بن انس يرى رفع اليدين في الصلاة . وقال يحيى وحدثنا عبد الرزاق قال كان معمر يرى رفع اليدين في الصلاة . وسمعت الجارود بن معاذ يقول كان سفيان بن عيينة وعمر بن هارون والنضر بن شميل يرفعون ايديهم اذا افتتحوا الصلاة واذا ركعوا واذا رفعوا رءوسهم
علقمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے کہا: ”کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز نہ پڑھاؤں؟ تو انہوں نے نماز پڑھائی اور صرف پہلی مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں براء بن عازب رضی الله عنہما سے بھی حدیث آئی ہے، ۳- صحابہ کرام اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم یہی کہتے ہیں اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عاصم بن كليب، عن عبد الرحمن بن الاسود، عن علقمة، قال قال عبد الله بن مسعود الا اصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى فلم يرفع يديه الا في اول مرة . قال وفي الباب عن البراء بن عازب . قال ابو عيسى حديث ابن مسعود حديث حسن . وبه يقول غير واحد من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين . وهو قول سفيان الثوري واهل الكوفة
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ ہم سے عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا: گھٹنوں کو پکڑنا تمہارے لیے مسنون کیا گیا ہے، لہٰذا تم ( رکوع میں ) گھٹنے پکڑے رکھو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سعد، انس، ابواسید، سہل بن سعد، محمد بن مسلمہ اور ابومسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اس سلسلے میں ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ سوائے اس کے جو ابن مسعود اور ان کے بعض شاگردوں سے مروی ہے کہ وہ لوگ تطبیق ۱؎ کرتے تھے، اور تطبیق اہل علم کے نزدیک منسوخ ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا ابو بكر بن عياش، حدثنا ابو حصين، عن ابي عبد الرحمن السلمي، قال قال لنا عمر بن الخطاب رضى الله عنه ان الركب سنت لكم فخذوا بالركب . قال وفي الباب عن سعد وانس وابي حميد وابي اسيد وسهل بن سعد ومحمد بن مسلمة وابي مسعود . قال ابو عيسى حديث عمر حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين ومن بعدهم لا اختلاف بينهم في ذلك الا ما روي عن ابن مسعود وبعض اصحابه انهم كانوا يطبقون . والتطبيق منسوخ عند اهل العلم
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایسا کرتے تھے ( یعنی تطبیق کرتے تھے ) پھر ہمیں اس سے روک دیا گیا اور حکم دیا گیا کہ ہم ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھیں۔
قال سعد بن ابي وقاص كنا نفعل ذلك فنهينا عنه وامرنا ان نضع الاكف على الركب . قال حدثنا قتيبة حدثنا ابو عوانة عن ابي يعفور عن مصعب بن سعد عن ابيه سعد بهذا . وابو حميد الساعدي اسمه عبد الرحمن بن سعد بن المنذر . وابو اسيد الساعدي اسمه مالك بن ربيعة . وابو حصين اسمه عثمان بن عاصم الاسدي . وابو عبد الرحمن السلمي اسمه عبد الله بن حبيب . وابو يعفور عبد الرحمن بن عبيد بن نسطاس . وابو يعفور العبدي اسمه واقد ويقال وقدان وهو الذي روى عن عبد الله بن ابي اوفى . وكلاهما من اهل الكوفة
عباس بن سہل بن سعد کا بیان ہے کہ ابوحمید، ابواسید، سہل بن سعد، اور محمد بن مسلمہ ( رضی الله عنہم ) چاروں اکٹھا ہوئے تو ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ذکر کیا، ابوحمید رضی الله عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو تم میں سب سے زیادہ جانتا ہوں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھے گویا آپ انہیں پکڑے ہوئے ہیں، اور آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو کمان کی تانت کی طرح ( ٹائٹ ) بنایا اور انہیں اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوحمید کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- اسی کو اہل علم نے اختیار کیا ہے کہ آدمی رکوع اور سجدے میں اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھے۔
حدثنا محمد بن بشار، بندار حدثنا ابو عامر العقدي، حدثنا فليح بن سليمان، حدثنا عباس بن سهل بن سعد، قال اجتمع ابو حميد وابو اسيد وسهل بن سعد ومحمد بن مسلمة فذكروا صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال ابو حميد انا اعلمكم بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ركع فوضع يديه على ركبتيه كانه قابض عليهما ووتر يديه فنحاهما عن جنبيه . قال وفي الباب عن انس . قال ابو عيسى حديث ابي حميد حديث حسن صحيح . وهو الذي اختاره اهل العلم ان يجافي الرجل يديه عن جنبيه في الركوع والسجود
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو رکوع میں «سبحان ربي العظيم» تین مرتبہ کہے تو اس کا رکوع پورا ہو گیا اور یہ سب سے کم تعداد ہے۔ اور جب سجدہ کرے تو اپنے سجدے میں تین مرتبہ «سبحان ربي العظيم» کہے تو اس کا سجدہ پورا ہو گیا اور یہ سب سے کم تعداد ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود کی حدیث کی سند متصل نہیں ہے۔ عون بن عبداللہ بن عتبہ کی ملاقات ابن مسعود سے نہیں ہے ۱؎، ۲- اس باب میں حذیفہ اور عقبہ بن عامر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا عمل اسی پر ہے، وہ اس بات کو مستحب سمجھتے ہیں کہ آدمی رکوع اور سجدے میں تین تسبیحات سے کم نہ پڑھے، ۴- عبداللہ بن مبارک سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ میں امام کے لیے مستحب سمجھتا ہوں کہ وہ پانچ تسبیحات پڑھے تاکہ پیچھے والے لوگوں کو تین تسبیحات مل جائیں اور اسی طرح اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نے بھی کہا ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا عيسى بن يونس، عن ابن ابي ذيب، عن اسحاق بن يزيد الهذلي، عن عون بن عبد الله بن عتبة، عن ابن مسعود، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا ركع احدكم فقال في ركوعه سبحان ربي العظيم ثلاث مرات فقد تم ركوعه وذلك ادناه . واذا سجد فقال في سجوده سبحان ربي الاعلى ثلاث مرات فقد تم سجوده وذلك ادناه " . قال وفي الباب عن حذيفة وعقبة بن عامر . قال ابو عيسى حديث ابن مسعود ليس اسناده بمتصل . عون بن عبد الله بن عتبة لم يلق ابن مسعود . والعمل على هذا عند اهل العلم يستحبون ان لا ينقص الرجل في الركوع والسجود من ثلاث تسبيحات . وروي عن عبد الله بن المبارك انه قال استحب للامام ان يسبح خمس تسبيحات لكى يدرك من خلفه ثلاث تسبيحات . وهكذا قال اسحاق بن ابراهيم
حذیفہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ اپنے رکوع میں «سبحان ربي العظيم» اور سجدے میں «سبحان ربي الأعلى» پڑھ رہے تھے۔ اور جب بھی رحمت کی کسی آیت پر پہنچتے تو ٹھہرتے اور سوال کرتے اور جب عذاب کی کسی آیت پر آتے تو ٹھہرتے اور ( عذاب سے ) پناہ مانگتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، قال انبانا شعبة، عن الاعمش، قال سمعت سعد بن عبيدة، يحدث عن المستورد، عن صلة بن زفر، عن حذيفة، انه صلى مع النبي صلى الله عليه وسلم فكان يقول في ركوعه " سبحان ربي العظيم " . وفي سجوده " سبحان ربي الاعلى " . وما اتى على اية رحمة الا وقف وسال وما اتى على اية عذاب الا وقف وتعوذ . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن صحيح
اس سند سے بھی شعبہ سے اسی طرح مروی ہے۔ حذیفہ رضی الله عنہ سے یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی مروی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز تہجد پڑھی، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
قال وحدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن شعبة، نحوه . وقد روي عن حذيفة، هذا الحديث من غير هذا الوجه انه صلى بالليل مع النبي صلى الله عليه وسلم فذكر الحديث
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشمی اور کسم کے رنگے ہوئے کپڑے پہننے، سونے کی انگوٹھی پہننے اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- صحابہ کرام، تابعین عظام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا یہی قول ہے، ان لوگوں نے رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے کو مکروہ کہا ہے۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك بن انس، ح وحدثنا قتيبة، عن مالك، عن نافع، عن ابراهيم بن عبد الله بن حنين، عن ابيه، عن علي بن ابي طالب، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن لبس القسي والمعصفر وعن تختم الذهب وعن قراءة القران في الركوع . قال وفي الباب عن ابن عباس . قال ابو عيسى حديث علي حديث حسن صحيح . وهو قول اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين ومن بعدهم كرهوا القراءة في الركوع والسجود
ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری بدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی نماز کافی نہ ہو گی جو رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابومسعود انصاری کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی بن شیبان، انس، ابوہریرہ اور رفاعہ زرقی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آدمی رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی رکھے، ۴- شافعی، احمد، اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ جس نے رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہیں رکھی تو اس کی نماز فاسد ہے، اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے: ”اس شخص کی نماز کافی نہ ہو گی جو رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن عمارة بن عمير، عن ابي معمر، عن ابي مسعود الانصاري البدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تجزي صلاة لا يقيم فيها الرجل يعني صلبه في الركوع والسجود " . قال وفي الباب عن علي بن شيبان وانس وابي هريرة ورفاعة الزرقي . قال ابو عيسى حديث ابي مسعود الانصاري حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ومن بعدهم يرون ان يقيم الرجل صلبه في الركوع والسجود . وقال الشافعي واحمد واسحاق من لم يقم صلبه في الركوع والسجود فصلاته فاسدة لحديث النبي صلى الله عليه وسلم " لا تجزي صلاة لا يقيم الرجل فيها صلبه في الركوع والسجود " . وابو معمر اسمه عبد الله بن سخبرة . وابو مسعود الانصاري البدري اسمه عقبة بن عمرو
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما بينهما وملء ما شئت من شيء بعد» ”اللہ نے اس شخص کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! تعریف تیرے ہی لیے ہے آسمان بھر، زمین بھر، زمین و آسمان کی تمام چیزوں بھر، اور اس کے بعد ہر اس چیز بھر جو تو چاہے“ کہتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، ابن عباس، ابن ابی اوفی، ابوحجیفہ اور ابوسعید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور یہی شافعی بھی کہتے ہیں کہ فرض ہو یا نفل دونوں میں یہ کلمات کہے گا ۱؎ اور بعض اہل کوفہ کہتے ہیں: یہ صرف نفل نماز میں کہے گا۔ فرض نماز میں اسے نہیں کہے گا۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود الطيالسي، حدثنا عبد العزيز بن عبد الله بن ابي سلمة الماجشون، حدثني عمي، عن عبد الرحمن الاعرج، عن عبيد الله بن ابي رافع، عن علي بن ابي طالب، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا رفع راسه من الركوع قال " سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد ملء السموات وملء الارض وملء ما بينهما وملء ما شيت من شيء بعد " . قال وفي الباب عن ابن عمر وابن عباس وابن ابي اوفى وابي جحيفة وابي سعيد . قال ابو عيسى حديث علي حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم وبه يقول الشافعي قال يقول هذا في المكتوبة والتطوع . وقال بعض اهل الكوفة يقول هذا في صلاة التطوع ولا يقولها في صلاة المكتوبة . قال ابو عيسى وانما يقال الماجشوني لانه من ولد الماجشون
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام «سمع الله لمن حمده» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہے تو تم «ربنا ولك الحمد» ”ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“ کہو کیونکہ جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہو گیا تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے بعض اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ امام «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہے ۱؎ اور مقتدی «ربنا ولك الحمد» کہیں، یہی احمد کہتے ہیں، ۳- اور ابن سیرین وغیرہ کا کہنا ہے جو امام کے پیچھے ( یعنی مقتدی ) ہو وہ بھی «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» اسی طرح کہے گا ۲؎ جس طرح امام کہے گا اور یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا قال الامام سمع الله لمن حمده . فقولوا ربنا ولك الحمد فانه من وافق قوله قول الملايكة غفر له ما تقدم من ذنبه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل عليه عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ومن بعدهم ان يقول الامام سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد . ويقول من خلف الامام ربنا ولك الحمد . وبه يقول احمد . وقال ابن سيرين وغيره يقول من خلف الامام سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد . مثل ما يقول الامام . وبه يقول الشافعي واسحاق
وائل بن حجر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا: جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے دونوں گھٹنے اپنے دونوں ہاتھ سے پہلے رکھتے، اور جب اٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے شریک سے اس طرح روایت کیا ہو، ۲- اکثر ہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے، ان کی رائے ہے کہ آدمی اپنے دونوں گھٹنے اپنے دونوں ہاتھوں سے پہلے رکھے اور جب اٹھے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں سے پہلے اٹھائے، ۳- ہمام نے عاصم ۲؎ سے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔ اس میں انہوں نے وائل بن حجر کا ذکر نہیں کیا۔
حدثنا سلمة بن شبيب، واحمد بن ابراهيم الدورقي، والحسن بن علي الحلواني، وعبد الله بن منير، وغير، واحد، قالوا حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا شريك، عن عاصم بن كليب، عن ابيه، عن وايل بن حجر، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا سجد يضع ركبتيه قبل يديه واذا نهض رفع يديه قبل ركبتيه . قال زاد الحسن بن علي في حديثه قال يزيد بن هارون ولم يرو شريك عن عاصم بن كليب الا هذا الحديث . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرف احدا رواه مثل هذا عن شريك . والعمل عليه عند اكثر اهل العلم يرون ان يضع الرجل ركبتيه قبل يديه واذا نهض رفع يديه قبل ركبتيه . وروى همام عن عاصم هذا مرسلا ولم يذكر فيه وايل بن حجر