Loading...

Loading...
کتب
۳۰۳ احادیث
عبدالحمید بن محمود کہتے ہیں کہ ہم نے امراء میں سے ایک امیر کے پیچھے نماز پڑھی، لوگوں نے ہمیں دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھنے پر مجبور کر دیا ۱؎ جب ہم نماز پڑھ چکے تو انس بن مالک رضی الله عنہ نے کہا: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس سے بچتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں قرۃ بن ایاس مزنی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- علماء میں سے کچھ لوگوں نے ستونوں کے درمیان صف لگانے کو مکروہ جانا ہے۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، اور علماء کچھ نے اس کی اجازت دی ہے ۲؎۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن يحيى بن هاني بن عروة المرادي، عن عبد الحميد بن محمود، قال صلينا خلف امير من الامراء فاضطرنا الناس فصلينا بين الساريتين فلما صلينا قال انس بن مالك كنا نتقي هذا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم . وفي الباب عن قرة بن اياس المزني . قال ابو عيسى حديث انس حديث حسن . وقد كره قوم من اهل العلم ان يصف بين السواري . وبه يقول احمد واسحاق . وقد رخص قوم من اهل العلم في ذلك
ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ زیاد بن ابی الجعد نے میرا ہاتھ پکڑا، ( ہم لوگ رقہ میں تھے ) پھر انہوں نے مجھے لے جا کر بنی اسد کے وابصہ بن معبد نامی ایک شیخ کے پاس کھڑا کیا اور کہا: مجھ سے اس شیخ نے بیان کیا اور شیخ ان کی بات سن رہے تھے کہ ایک شخص نے صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صلاۃ دہرانے کا حکم دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- وابصہ بن معبد رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں علی بن شیبان اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے مکروہ سمجھا ہے کہ آدمی صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھے اور کہا ہے کہ اگر اس نے صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھی ہے تو وہ نماز دہرائے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں، ۴- اہل علم میں سے بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اسے کافی ہو گا جب وہ صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھے، سفیان ثوری، ابن مبارک اور شافعی کا بھی یہی قول ہے، ۵- اہل کوفہ میں سے کچھ لوگ وابصہ بن معبد کی حدیث کی طرف گئے ہیں، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جو صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھے، وہ اسے دہرائے۔ انہیں میں سے حماد بن ابی سلیمان، ابن ابی لیلیٰ اور وکیع ہیں، ۶- مولف نے اس حدیث کے طرق کے ذکر کے بعد فرمایا کہ عمرو بن مرہ کی حدیث جسے انہوں نے بطریق «هلال بن يساف، عن عمرو بن راشد، عن وابصة» روایت کی ہے، زیادہ صحیح ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ حصین کی حدیث جسے انہوں نے بطریق «هلال بن يساف، عن زياد بن أبي الجعد عن وابصة» روایت کی ہے زیادہ صحیح ہے۔ اور میرے نزدیک یہ عمرو بن مرہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، اس لیے کہ یہ ہلال بن یساف کے علاوہ طریق سے بھی زیاد بن ابی الجعد کے واسطے سے وابصہ سے مروی ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو الاحوص، عن حصين، عن هلال بن يساف، قال اخذ زياد بن ابي الجعد بيدي ونحن بالرقة فقام بي على شيخ يقال له وابصة بن معبد من بني اسد فقال زياد حدثني هذا الشيخ ان رجلا صلى خلف الصف وحده والشيخ يسمع فامره رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يعيد الصلاة . قال ابو عيسى وفي الباب عن علي بن شيبان وابن عباس . قال ابو عيسى وحديث وابصة حديث حسن . وقد كره قوم من اهل العلم ان يصلي الرجل خلف الصف وحده وقالوا يعيد اذا صلى خلف الصف وحده . وبه يقول احمد واسحاق . وقد قال قوم من اهل العلم يجزيه اذا صلى خلف الصف وحده . وهو قول سفيان الثوري وابن المبارك والشافعي . وقد ذهب قوم من اهل الكوفة الى حديث وابصة بن معبد ايضا قالوا من صلى خلف الصف وحده يعيد . منهم حماد بن ابي سليمان وابن ابي ليلى ووكيع . وروى حديث حصين عن هلال بن يساف غير واحد مثل رواية ابي الاحوص عن زياد بن ابي الجعد عن وابصة بن معبد . وفي حديث حصين ما يدل على ان هلالا قد ادرك وابصة واختلف اهل الحديث في هذا فقال بعضهم حديث عمرو بن مرة عن هلال بن يساف عن عمرو بن راشد عن وابصة بن معبد اصح . وقال بعضهم حديث حصين عن هلال بن يساف عن زياد بن ابي الجعد عن وابصة بن معبد اصح . قال ابو عيسى وهذا عندي اصح من حديث عمرو بن مرة لانه قد روي من غير حديث هلال بن يساف عن زياد بن ابي الجعد عن وابصة
اس سند سے بھی وابصہ بن معبد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نماز دہرانے کا حکم دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: وکیع کہتے ہیں کہ جب آدمی صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھے تو وہ نماز کو دہرائے ( اس کی نماز نہیں ہوئی ) ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، عن هلال بن يساف، عن عمرو بن راشد، عن وابصة بن معبد، ان رجلا، صلى خلف الصف وحده فامره النبي صلى الله عليه وسلم ان يعيد الصلاة . قال ابو عيسى وسمعت الجارود يقول سمعت وكيعا يقول اذا صلى الرجل خلف الصف وحده فانه يعيد
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک رات میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، میں جا کر آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سے میرا سر پکڑا اور مجھے اپنے دائیں طرف کر لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی حدیث آئی ہے، ۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد والے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ جب ایک آدمی امام کے ساتھ ہو تو وہ امام کے دائیں جانب کھڑا ہو۔
حدثنا قتيبة، حدثنا داود بن عبد الرحمن العطار، عن عمرو بن دينار، عن كريب، مولى ابن عباس عن ابن عباس، قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم ذات ليلة فقمت عن يساره فاخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم براسي من ورايي فجعلني عن يمينه . قال ابو عيسى وفي الباب عن انس . قال ابو عيسى وحديث ابن عباس حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ومن بعدهم قالوا اذا كان الرجل مع الامام يقوم عن يمين الامام
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ جب ہم تین ہوں تو ہم میں سے ایک آگے بڑھ جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سمرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، جابر اور انس بن مالک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ جب تین آدمی ہوں تو دو آدمی امام کے پیچھے کھڑے ہوں، ابن مسعود رضی الله عنہ نے علقمہ اور اسود کو نماز پڑھائی تو ان دونوں میں سے ایک کو اپنے دائیں طرف اور دوسرے کو بائیں طرف کھڑا کیا اور ابن مسعود رضی الله عنہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، ۴- بعض لوگوں نے اسماعیل بن مسلم مکی پر ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے ۱؎۔
حدثنا بندار، محمد بن بشار حدثنا محمد بن ابي عدي، قال انبانا اسماعيل بن مسلم، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، قال امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا كنا ثلاثة ان يتقدمنا احدنا . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابن مسعود وجابر وانس بن مالك . قال ابو عيسى وحديث سمرة حديث حسن غريب . والعمل على هذا عند اهل العلم قالوا اذا كانوا ثلاثة قام رجلان خلف الامام . وروي عن ابن مسعود انه صلى بعلقمة والاسود فاقام احدهما عن يمينه والاخر عن يساره ورواه عن النبي صلى الله عليه وسلم . وقد تكلم بعض الناس في اسماعيل بن مسلم المكي من قبل حفظه
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کی دادی ملیکہ رضی الله عنہا نے کھانا پکایا اور اس کو کھانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدعو کیا، آپ نے اس میں سے کھایا پھر فرمایا: ”اٹھو چلو ہم تمہیں نماز پڑھائیں“، انس کہتے ہیں ـ: تو میں اٹھ کر اپنی ایک چٹائی کے پاس آیا جو زیادہ استعمال کی وجہ سے کالی ہو گئی تھی، میں نے اسے پانی سے دھویا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے، میں نے اور یتیم نے آپ کے پیچھے اس پر صف لگائی اور دادی ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں، تو آپ نے ہمیں دو رکعات پڑھائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف پلٹے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب امام کے ساتھ ایک مرد اور ایک عورت ہو تو مرد امام کے دائیں طرف کھڑا ہو اور عورت ان دونوں کے پیچھے۔ ۳- بعض لوگوں نے اس حدیث سے دلیل لی ہے کہ جب آدمی صف کے پیچھے تنہا ہو تو اس کی نماز جائز ہے، وہ کہتے ہیں کہ بچے پر نماز تو تھی ہی نہیں گویا عملاً انس رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تنہا ہی تھے، لیکن ان کی یہ دلیل صحیح نہیں ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انس کو اپنے پیچھے یتیم کے ساتھ کھڑا کیا تھا، اور اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یتیم کی نماز کو نماز نہ مانتے تو یتیم کو ان کے ساتھ کھڑا نہ کرتے بلکہ انس کو اپنے دائیں طرف کھڑا کرتے، انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ نے انہیں اپنی دائیں طرف کھڑا کیا، اس حدیث میں دلیل ہے کہ آپ نے نفل نماز پڑھی تھی اور انہیں برکت پہنچانے کا ارادہ کیا تھا۔
حدثنا اسحاق الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك بن انس، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك، ان جدته، مليكة دعت رسول الله صلى الله عليه وسلم لطعام صنعته فاكل منه ثم قال " قوموا فلنصل بكم " . قال انس فقمت الى حصير لنا قد اسود من طول ما لبس فنضحته بالماء فقام عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم وصففت عليه انا واليتيم وراءه والعجوز من وراينا فصلى بنا ركعتين ثم انصرف " . قال ابو عيسى حديث انس حديث حسن صحيح . والعمل عليه عند اكثر اهل العلم قالوا اذا كان مع الامام رجل وامراة قام الرجل عن يمين الامام والمراة خلفهما . وقد احتج بعض الناس بهذا الحديث في اجازة الصلاة اذا كان الرجل خلف الصف وحده وقالوا ان الصبي لم تكن له صلاة وكان انسا كان خلف النبي صلى الله عليه وسلم وحده في الصف . وليس الامر على ما ذهبوا اليه لان النبي صلى الله عليه وسلم اقامه مع اليتيم خلفه فلولا ان النبي صلى الله عليه وسلم جعل لليتيم صلاة لما اقام اليتيم معه ولاقامه عن يمينه . وقد روي عن موسى بن انس عن انس انه صلى مع النبي صلى الله عليه وسلم فاقامه عن يمينه . وفي هذا الحديث دلالة انه انما صلى تطوعا اراد ادخال البركة عليهم
ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کی امامت وہ کرے جو اللہ کی کتاب ( قرآن ) کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہو، اگر لوگ قرآن کے علم میں برابر ہوں تو جو سب سے زیادہ سنت کا جاننے والا ہو وہ امامت کرے، اور اگر وہ سنت کے علم میں بھی برابر ہوں تو جس نے سب سے پہلے ہجرت کی ہو وہ امامت کرے، اگر وہ ہجرت میں بھی برابر ہوں تو جو عمر میں سب سے بڑا ہو وہ امامت کرے، آدمی کے دائرہ اقتدار میں اس کی امامت نہ کی جائے اور نہ کسی آدمی کے گھر میں اس کی مخصوص جگہ پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھا جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابومسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوسعید، انس بن مالک، مالک بن حویرث اور عمرو بن سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان کا کہنا ہے کہ لوگوں میں امامت کا حقدار وہ ہے جو اللہ کی کتاب ( قرآن ) اور سنت کا سب سے زیادہ علم رکھتا ہو۔ نیز وہ کہتے ہیں کہ گھر کا مالک خود امامت کا زیادہ مستحق ہے، اور بعض نے کہا ہے: جب گھر کا مالک کسی دوسرے کو اجازت دیدے تو اس کے نماز پڑھانے میں کوئی حرج نہیں، لیکن بعض لوگوں نے اسے بھی مکروہ جانا ہے، وہ کہتے ہیں کہ سنت یہی ہے کہ گھر کا مالک خود پڑھائے ۱؎، ۴- احمد بن حنبل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: ”آدمی کے دائرہ اقتدار میں اس کی امامت نہ کی جائے اور نہ اس کے گھر میں اس کی مخصوص نشست پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھا جائے“ کے بارے میں کہتے ہیں کہ جب وہ اجازت دیدے تو میں امید رکھتا ہوں کہ یہ اجازت مسند پر بیٹھنے اور امامت کرنے دونوں سے متعلق ہو گی، انہوں نے اس کے نماز پڑھانے میں کوئی حرج نہیں جانا کہ جب وہ اجازت دیدے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، قال وحدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو معاوية، وعبد الله بن نمير، عن الاعمش، عن اسماعيل بن رجاء الزبيدي، عن اوس بن ضمعج، قال سمعت ابا مسعود الانصاري، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يوم القوم اقروهم لكتاب الله فان كانوا في القراءة سواء فاعلمهم بالسنة فان كانوا في السنة سواء فاقدمهم هجرة فان كانوا في الهجرة سواء فاكبرهم سنا ولا يوم الرجل في سلطانه ولا يجلس على تكرمته في بيته الا باذنه " . قال محمود بن غيلان قال ابن نمير في حديثه " اقدمهم سنا " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي سعيد وانس بن مالك ومالك بن الحويرث وعمرو بن سلمة . قال ابو عيسى وحديث ابي مسعود حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم . قالوا احق الناس بالامامة اقروهم لكتاب الله واعلمهم بالسنة . وقالوا صاحب المنزل احق بالامامة . وقال بعضهم اذا اذن صاحب المنزل لغيره فلا باس ان يصلي به . وكرهه بعضهم وقالوا السنة ان يصلي صاحب البيت . قال احمد بن حنبل وقول النبي صلى الله عليه وسلم " ولا يوم الرجل في سلطانه ولا يجلس على تكرمته في بيته الا باذنه " . فاذا اذن فارجو ان الاذن في الكل ولم ير به باسا اذا اذن له ان يصلي به
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی لوگوں کی امامت کرے تو چاہیئے کہ ہلکی نماز پڑھائے، کیونکہ ان میں چھوٹے، بڑے، کمزور اور بیمار سبھی ہوتے ہیں اور جب وہ تنہا نماز پڑھے تو جیسے چاہے پڑھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عدی بن حاتم، انس، جابر بن سمرہ، مالک بن عبداللہ، ابوواقد، عثمان، ابومسعود، جابر بن عبداللہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- یہی اکثر اہل علم کا قول ہے، ان لوگوں نے اسی کو پسند کیا کہ امام نماز لمبی نہ پڑھائے تاکہ کمزور، بوڑھے اور بیمار لوگوں کو پریشانی نہ ہو۔
حدثنا قتيبة، حدثنا المغيرة بن عبد الرحمن، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا ام احدكم الناس فليخفف فان فيهم الصغير والكبير والضعيف والمريض فاذا صلى وحده فليصل كيف شاء " . قال ابو عيسى وفي الباب عن عدي بن حاتم وانس وجابر بن سمرة ومالك بن عبد الله وابي واقد وعثمان بن ابي العاص وابي مسعود وجابر بن عبد الله وابن عباس . قال ابو عيسى وحديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . وهو قول اكثر اهل العلم اختاروا ان لا يطيل الامام الصلاة مخافة المشقة على الضعيف والكبير والمريض . قال ابو عيسى وابو الزناد اسمه عبد الله بن ذكوان . والاعرج هو عبد الرحمن بن هرمز المديني ويكنى ابا داود
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ ہلکی اور سب زیادہ مکمل نماز پڑھنے والے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم من اخف الناس صلاة في تمام . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن صحيح . واسم ابي عوانة وضاح . قال ابو عيسى سالت قتيبة قلت ابو عوانة ما اسمه قال وضاح . قلت ابن من قال لا ادري كان عبدا لامراة بالبصرة
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کی کنجی وضو ( طہارت ) ہے، اس کی تحریم تکبیر ہے اور اس کی تحلیل سلام پھیرنا ہے، اور اس آدمی کی نماز ہی نہیں جو «الحمدللہ» ( سورۃ فاتحہ ) اور اس کے ساتھ کوئی اور سورۃ نہ پڑھے خواہ فرض نماز ہو یا کوئی اور نماز ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں علی اور عائشہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ۳- علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کی حدیث سند کے اعتبار سے سب سے عمدہ اور ابو سعید خدری کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ہم اسے کتاب الوضو کے شروع میں ذکر کر چکے ہیں ( حدیث نمبر: ۳ ) ، ۴- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے اہل علم کا عمل اسی پر ہے، یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ نماز کی تحریم تکبیر ہے، آدمی نماز میں تکبیر کے ( یعنی اللہ اکبر کہے ) بغیر داخل نہیں ہو سکتا، ۵- عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں: اگر آدمی اللہ کے ناموں میں سے ستر نام لے کر نماز شروع کرے اور ”اللہ اکبر“ نہ کہے تو بھی یہ اسے کافی نہ ہو گا۔ اور اگر سلام پھیرنے سے پہلے اسے حدث لاحق ہو جائے تو میں اسے حکم دیتا ہوں کہ وضو کرے پھر اپنی ( نماز کی ) جگہ آ کر بیٹھے اور سلام پھیرے، اور حکم ( رسول ) اپنے حال ( ظاہر ) پر ( باقی ) رہے گا ۱؎۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا محمد بن الفضيل، عن ابي سفيان، طريف السعدي عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مفتاح الصلاة الطهور وتحريمها التكبير وتحليلها التسليم ولا صلاة لمن لم يقرا ب"الحمد" وسورة _ في فريضة او غيرها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وفي الباب عن علي وعايشة . قال وحديث علي بن ابي طالب في هذا اجود اسنادا واصح من حديث ابي سعيد وقد كتبناه في اول كتاب الوضوء . والعمل عليه عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ومن بعدهم . وبه يقول سفيان الثوري وابن المبارك والشافعي واحمد واسحاق ان تحريم الصلاة التكبير ولا يكون الرجل داخلا في الصلاة الا بالتكبير . قال ابو عيسى وسمعت ابا بكر محمد بن ابان مستملي وكيع يقول سمعت عبد الرحمن بن مهدي يقول لو افتتح الرجل الصلاة بسبعين اسما من اسماء الله ولم يكبر لم يجزه وان احدث قبل ان يسلم امرته ان يتوضا ثم يرجع الى مكانه فيسلم انما الامر على وجهه . قال وابو نضرة اسمه المنذر بن مالك بن قطعة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے اللہ اکبر کہتے تو اپنی انگلیاں کھلی رکھتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن ہے، ۲- دیگر کئی لوگوں نے یہ حدیث بطریق «ابن أبي ذئب عن سعيد بن سمعان عن أبي هريرة» روایت کی ہے ( ان کے الفاظ ہیں ) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں داخل ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح اٹھاتے تھے۔ یہ روایت یحییٰ بن یمان کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، یحییٰ بن یمان کی روایت غلط ہے ان سے اس حدیث میں غلطی ہوئی ہے، ( اس کی وضاحت آگے آ رہی ہے ) ۔
حدثنا قتيبة، وابو سعيد الاشج قالا حدثنا يحيى بن اليمان، عن ابن ابي ذيب، عن سعيد بن سمعان، عن ابي هريرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا كبر للصلاة نشر اصابعه . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حسن . وقد روى غير واحد هذا الحديث عن ابن ابي ذيب عن سعيد بن سمعان عن ابي هريرة ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا دخل في الصلاة رفع يديه مدا . وهذا اصح من رواية يحيى بن اليمان واخطا يحيى بن اليمان في هذا الحديث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح اٹھاتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عبداللہ بن عبدالرحمٰن ( دارمی ) کا کہنا ہے کہ یہ یحییٰ بن یمان کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، اور یحییٰ بن یمان کی حدیث غلط ہے ۱؎۔
قال وحدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا عبيد الله بن عبد المجيد الحنفي، حدثنا ابن ابي ذيب، عن سعيد بن سمعان، قال سمعت ابا هريرة، يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا قام الى الصلاة رفع يديه مدا . قال ابو عيسى قال عبد الله بن عبد الرحمن وهذا اصح من حديث يحيى بن اليمان وحديث يحيى بن اليمان خطا
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی رضا کے لیے چالیس دن تک تکبیر اولیٰ کے ساتھ باجماعت نماز پڑھی تو اس کے لیے دو قسم کی برات لکھی جائے گی: ایک آگ سے برات، دوسری نفاق سے برات“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: انس سے یہ حدیث موقوفاً بھی روایت کی گئی ہے، اور ہم نہیں جانتے کہ ابوقتیبہ سلمہ بن قتیبہ کے سوا کسی نے اسے مرفوع روایت کیا ہو یہ حدیث حبیب بن ابی حبیب بجلی سے بھی روایت کی جاتی ہے انہوں نے اسے انس بن مالک سے روایت کیا ہے اور اسے انس ہی کا قول قرار دیا ہے، اسے مرفوع نہیں کیا، نیز اسماعیل بن عیاش نے یہ حدیث بطریق «عمارة بن غزية عن أنس بن مالك عن عمر بن الخطاب عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے، اور یہ حدیث غیر محفوظ اور مرسل ۱؎ ہے، عمارہ بن غزیہ نے انس بن مالک کا زمانہ نہیں پایا۔
حدثنا عقبة بن مكرم، ونصر بن علي الجهضمي، قالا حدثنا ابو قتيبة، سلم بن قتيبة عن طعمة بن عمرو، عن حبيب بن ابي ثابت، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صلى لله اربعين يوما في جماعة يدرك التكبيرة الاولى كتبت له براءتان براءة من النار وبراءة من النفاق " . قال ابو عيسى وقد روي هذا الحديث عن انس موقوفا ولا اعلم احدا رفعه الا ما روى سلم بن قتيبة عن طعمة بن عمرو عن حبيب بن ابي ثابت عن انس . وانما يروى هذا الحديث عن حبيب بن ابي حبيب البجلي، عن انس بن مالك، قوله . حدثنا بذلك، هناد حدثنا وكيع، عن خالد بن طهمان، عن حبيب بن ابي حبيب البجلي، عن انس، نحوه ولم يرفعه . وروى اسماعيل بن عياش، هذا الحديث عن عمارة بن غزية، عن انس بن مالك، عن عمر بن الخطاب، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا . وهذا حديث غير محفوظ وهو حديث مرسل وعمارة بن غزية لم يدرك انس بن مالك . قال محمد بن اسماعيل حبيب بن ابي حبيب يكنى ابا الكشوثى ويقال ابو عميرة
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «اللہ اکبر» کہتے، پھر «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» ”اے اللہ! پاک ہے تو ہر عیب اور ہر نقص سے، سب تعریفیں تیرے لیے ہیں، بابرکت ہے تیرا نام اور بلند ہے تیری شان، اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں“ پڑھتے پھر «الله أكبر كبيرا» ”اللہ بہت بڑا ہے“ کہتے پھر «أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه» ”میں اللہ سمیع و علیم کی شیطان مردود سے، پناہ چاہتا ہوں، اس کے وسوسوں سے، اس کے کبر و نخوت سے اور اس کے اشعار اور جادو سے“ کہتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی، عائشہ، عبداللہ بن مسعود، جابر، جبیر بن مطعم اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- اس باب میں ابوسعید کی حدیث سب سے زیادہ مشہور ہے، ۳- اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے اسی حدیث کو اختیار کیا ہے، رہے اکثر اہل علم تو ان لوگوں نے وہی کہا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» کہتے تھے ۲؎ اور اسی طرح عمر بن خطاب اور عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہما سے مروی ہے۔ تابعین وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ ۴- ابوسعید رضی الله عنہ کی حدیث کی سند میں کلام کیا گیا ہے۔ یحییٰ بن سعید راوی حدیث علی بن علی رفاعی کے بارے میں کلام کرتے تھے۔ اور احمد کہتے تھے کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔
حدثنا محمد بن موسى البصري، حدثنا جعفر بن سليمان الضبعي، عن علي بن علي الرفاعي، عن ابي المتوكل، عن ابي سعيد الخدري، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا قام الى الصلاة بالليل كبر ثم يقول " سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا اله غيرك " . ثم يقول " الله اكبر كبيرا " . ثم يقول " اعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه " . قال ابو عيسى وفي الباب عن علي وعايشة وعبد الله بن مسعود وجابر وجبير بن مطعم وابن عمر . قال ابو عيسى وحديث ابي سعيد اشهر حديث في هذا الباب . وقد اخذ قوم من اهل العلم بهذا الحديث واما اكثر اهل العلم فقالوا بما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يقول " سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا اله غيرك " . وهكذا روي عن عمر بن الخطاب وعبد الله بن مسعود . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم من التابعين وغيرهم . وقد تكلم في اسناد حديث ابي سعيد كان يحيى بن سعيد يتكلم في علي بن علي الرفاعي وقال احمد لا يصح هذا الحديث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» کہتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- حارثہ کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا گیا ہے۔
حدثنا الحسن بن عرفة، ويحيى بن موسى، قالا حدثنا ابو معاوية، عن حارثة بن ابي الرجال، عن عمرة، عن عايشة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا افتتح الصلاة قال " سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا اله غيرك " . قال ابو عيسى هذا حديث لا نعرفه من حديث عايشة الا من هذا الوجه . وحارثة قد تكلم فيه من قبل حفظه . وابو الرجال اسمه محمد بن عبد الرحمن المديني
عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کے بیٹے کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے نماز میں «بسم اللہ الرحمن الرحیم» کہتے سنا تو انہوں نے مجھ سے کہا: بیٹے! یہ بدعت ہے، اور بدعت سے بچو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی کو نہیں دیکھا جو ان سے زیادہ اسلام میں بدعت کا مخالف ہو، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، ابوبکر کے ساتھ، عمر کے ساتھ اور عثمان رضی الله عنہم کے ساتھ نماز پڑھی ہے لیکن میں نے ان میں سے کسی کو اسے ( اونچی آواز سے ) کہتے نہیں سنا، تو تم بھی اسے نہ کہو ۱؎، جب تم نماز پڑھو تو قرأت «الحمد لله رب العالمين» سے شروع کرو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- صحابہ جن میں ابوبکر، عمر، عثمان، علی رضی اللہ عنہم وغیرہ شامل ہیں اور ان کے بعد کے تابعین میں سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے، اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، یہ لوگ «بسم اللہ الرحمن الرحیم» زور سے کہنے کو درست نہیں سمجھتے ( بلکہ ) ان کا کہنا ہے کہ آدمی اسے اپنے دل میں کہے ۲؎۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، حدثنا سعيد بن اياس الجريري، عن قيس بن عباية، عن ابن عبد الله بن مغفل، قال سمعني ابي، وانا في الصلاة، اقول: (بسم الله الرحمن الرحيم) فقال لي اى بنى محدث اياك والحدث . قال ولم ار احدا من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم كان ابغض اليه الحدث في الاسلام يعني منه . قال وقد صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم ومع ابي بكر ومع عمر ومع عثمان فلم اسمع احدا منهم يقولها فلا تقلها اذا انت صليت فقل: (الحمد لله رب العالمين) . قال ابو عيسى حديث عبد الله بن مغفل حديث حسن . والعمل عليه عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم ابو بكر وعمر وعثمان وعلي وغيرهم ومن بعدهم من التابعين وبه يقول سفيان الثوري وابن المبارك واحمد واسحاق لا يرون ان يجهر ب (بسم الله الرحمن الرحيم ) قالوا ويقولها في نفسه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز «بسم الله الرحمن الرحيم» سے شروع کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس کی سند قوی نہیں ہے، ۲- صحابہ کرام میں سے جن میں ابوہریرہ، ابن عمر، ابن عباس اور ابن زبیر رضی الله عنہم شامل ہیں اور ان کے بعد تابعین میں سے کئی اہل علم «بسم الله الرحمن الرحيم» زور سے کہنے کے قائل ہیں، اور یہی شافعی بھی کہتے ہیں۔
حدثنا احمد بن عبدة الضبي، حدثنا المعتمر بن سليمان، قال حدثني اسماعيل بن حماد، عن ابي خالد، عن ابن عباس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يفتتح صلاته ب (بسم الله الرحمن الرحيم ) . قال ابو عيسى هذا حديث ليس اسناده بذاك . وقد قال بهذا عدة من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم ابو هريرة وابن عمر وابن عباس وابن الزبير ومن بعدهم من التابعين راوا الجهر ب (بسم الله الرحمن الرحيم ) وبه يقول الشافعي . واسماعيل بن حماد هو ابن ابي سليمان . وابو خالد يقال هو ابو خالد الوالبي واسمه هرمز وهو كوفي
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی الله عنہم «الحمد لله رب العالمين» سے قرأت شروع کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ «الحمد لله رب العالمين» سے قرأت شروع کرتے تھے۔ شافعی کہتے ہیں کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی الله عنہم «الحمد لله رب العالمين» سے قرأت شروع کرتے تھے“ کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ سورت سے پہلے سورۃ فاتحہ پڑھتے تھے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ «بسم الله الرحمن الرحيم» نہیں پڑھتے تھے، شافعی کی رائے ہے کہ قرأت «بسم الله الرحمن الرحيم» سے شروع کی جائے اور اسے بلند آواز سے پڑھا جائے جب قرأت جہر سے کی جائے ۱؎۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن انس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم وابو بكر وعمر وعثمان يفتتحون القراءة ب (الحمد لله رب العالمين ) قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين ومن بعدهم كانوا يستفتحون القراءة ب (الحمد لله رب العالمين ) . قال الشافعي انما معنى هذا الحديث ان النبي صلى الله عليه وسلم وابا بكر وعمر وعثمان كانوا يفتتحون القراءة ب (الحمد لله رب العالمين ) معناه انهم كانوا يبدءون بقراءة فاتحة الكتاب قبل السورة وليس معناه انهم كانوا لا يقرءون ( بسم الله الرحمن الرحيم ) . وكان الشافعي يرى ان يبدا ب( بسم الله الرحمن الرحيم ) وان يجهر بها اذا جهر بالقراءة
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی نماز نہیں جس نے سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبادہ بن صامت کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، عائشہ، انس، ابوقتادہ اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام میں سے اکثر اہل علم جن میں عمر بن خطاب، علی بن ابی طالب، جابر بن عبداللہ اور عمران بن حصین وغیرہم رضی الله عنہم شامل ہیں کا اسی پر عمل ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ سورۃ فاتحہ پڑھے بغیر نماز کفایت نہیں کرتی، علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں: جس نماز میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی گئی وہ ناقص اور ناتمام ہے۔ یہی ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
حدثنا محمد بن يحيى بن ابي عمر المكي ابو عبد الله العدني، وعلي بن حجر، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن محمود بن الربيع، عن عبادة بن الصامت، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا صلاة لمن لم يقرا بفاتحة الكتاب " . قال وفي الباب عن ابي هريرة وعايشة وانس وابي قتادة وعبد الله بن عمرو . قال ابو عيسى حديث عبادة حديث حسن صحيح . والعمل عليه عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم عمر بن الخطاب وعلي بن ابي طالب وجابر بن عبد الله وعمران بن حصين وغيرهم قالوا لا تجزي صلاة الا بقراءة فاتحة الكتاب . وقال علي بن ابي طالب كل صلاة لم يقرا فيها بفاتحة الكتاب فهي خداج غير تمام . وبه يقول ابن المبارك والشافعي واحمد واسحاق . سمعت ابن ابي عمر يقول اختلفت الى ابن عيينة ثمانية عشر سنة وكان الحميدي اكبر مني بسنة . وسمعت ابن ابي عمر يقول حججت سبعين حجة ماشيا على قدمى
وائل بن حجر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» پڑھ کر، آمین کہتے سنا، اور اس کے ساتھ آپ نے اپنی آواز کھینچی ( یعنی بلند کی ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- وائل بن حجر رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں علی اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے کئی اہل علم کا یہی قول ہے کہ آدمی آمین کہنے میں اپنی آواز بلند کرے اسے پست نہ رکھے۔ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔ ( شاذ ) ۴- شعبہ نے یہ حدیث بطریق «سلمة بن كهيل، عن حُجر أبي العنبس، عن علقمة بن وائل، عن أبيه وائل» روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» پڑھا تو آپ نے آمین کہی اور اپنی آواز پست کی، ۵- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ سفیان کی حدیث شعبہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ شعبہ نے اس حدیث میں کئی مقامات پر غلطیاں کی ہیں ۱؎ انہوں نے حجر ابی عنبس کہا ہے، جب کہ وہ حجر بن عنبس ہیں اور ان کی کنیت ابوالسکن ہے اور اس میں انہوں نے «عن علقمة بن وائل» کا واسطہ بڑھا دیا ہے جب کہ اس میں علقمہ کا واسطہ نہیں ہے، حجر بن عنبس براہ راست حجر سے روایت کر رہے ہیں، اور «وخفض بها صوته» ( آواز پست کی ) کہا ہے، جب کہ یہ «ومدّ بها صوته» ( اپنی آواز کھینچی ) ہے، ۶- میں نے ابوزرعہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: سفیان کی حدیث شعبہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ اور علاء بن صالح اسدی نے بھی سلمہ بن کہیل سے سفیان ہی کی حدیث کی طرح روایت کی ہے ۲؎۔
حدثنا بندار، محمد بن بشار حدثنا يحيى بن سعيد، وعبد الرحمن بن مهدي، قالا حدثنا سفيان، عن سلمة بن كهيل، عن حجر بن عنبس، عن وايل بن حجر، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم قرا: (غير المغضوب عليهم ولا الضالين ) فقال " امين " . ومد بها صوته . قال وفي الباب عن علي وابي هريرة . قال ابو عيسى حديث وايل بن حجر حديث حسن . وبه يقول غير واحد من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين ومن بعدهم يرون ان الرجل يرفع صوته بالتامين ولا يخفيها . وبه يقول الشافعي واحمد واسحاق . وروى شعبة هذا الحديث عن سلمة بن كهيل عن حجر ابي العنبس عن علقمة بن وايل عن ابيه ان النبي صلى الله عليه وسلم قرا : ( غير المغضوب عليهم ولا الضالين ) فقال " امين " . وخفض بها صوته . قال ابو عيسى وسمعت محمدا يقول حديث سفيان اصح من حديث شعبة في هذا واخطا شعبة في مواضع من هذا الحديث فقال عن حجر ابي العنبس وانما هو حجر بن عنبس ويكنى ابا السكن . وزاد فيه عن علقمة بن وايل وليس فيه عن علقمة وانما هو عن حجر بن عنبس عن وايل بن حجر وقال وخفض بها صوته وانما هو ومد بها صوته . قال ابو عيسى وسالت ابا زرعة عن هذا الحديث فقال حديث سفيان في هذا اصح من حديث شعبة . قال وروى العلاء بن صالح الاسدي عن سلمة بن كهيل نحو رواية سفيان