Loading...

Loading...
کتب
۳۰۳ احادیث
عثمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سب سے آخری وصیت رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے مجھے یہ کی کہ ”مؤذن ایسا رکھنا جو اذان کی اجرت نہ لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عثمان رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اہل علم کے نزدیک عمل اسی پر ہے، انہوں نے مکروہ جانا ہے کہ مؤذن اذان پر اجرت لے اور مستحب قرار دیا ہے کہ مؤذن اذان اجر و ثواب کی نیت سے دے ۱؎۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو زبيد، - وهو عبثر بن القاسم عن اشعث، عن الحسن، عن عثمان بن ابي العاص، قال ان من اخر ما عهد الى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان اتخذ موذنا لا ياخذ على اذانه اجرا . قال ابو عيسى حديث عثمان حديث حسن . والعمل على هذا عند اهل العلم كرهوا ان ياخذ الموذن على الاذان اجرا واستحبوا للموذن ان يحتسب في اذانه
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مؤذن کی اذان سن کر کہا: «وأنا أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله رضيت بالله ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا» ”اور میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی الله علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور میں اللہ کے رب ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی الله علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہوں“ تو اس کے ( صغیرہ ) گناہ بخش دیے جائیں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اسے ہم صرف لیث بن سعد کی سند سے جانتے ہیں جسے وہ حکیم بن عبداللہ بن قیس سے روایت کرتے ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن الحكيم بن عبد الله بن قيس، عن عامر بن سعد، عن سعد بن ابي وقاص، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قال حين يسمع الموذن وانا اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له وان محمدا عبده ورسوله رضيت بالله ربا وبمحمد رسولا وبالاسلام دينا غفر له ذنبه " . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن صحيح غريب لا نعرفه الا من حديث الليث بن سعد عن حكيم بن عبد الله بن قيس
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اذان سن کر «اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته إلا حلت له الشفاعة يوم القيامة» ”اے اللہ! اس کامل دعوت ۱؎ اور قائم ہونے والی صلاۃ کے رب! ( ہمارے نبی ) محمد ( صلی الله علیہ وسلم ) کو وسیلہ ۲؎ اور فضیلت ۳؎ عطا کر، اور انہیں مقام محمود ۴؎ میں پہنچا جس کا تو نے وعدہ فرمایا ہے“ کہا تو اس کے لیے قیامت کے روز شفاعت حلال ہو جائے گی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: جابر رضی الله عنہ کی حدیث محمد بن منکدر کے طریق سے حسن غریب ہے، ہم نہیں جانتے کہ شعیب بن ابی حمزہ کے علاوہ کسی اور نے بھی محمد بن منکدر سے روایت کی ہے۔
حدثنا محمد بن سهل بن عسكر البغدادي، وابراهيم بن يعقوب، قالا حدثنا علي بن عياش الحمصي، حدثنا شعيب بن ابي حمزة، حدثنا محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قال حين يسمع النداء اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القايمة ات محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته الا حلت له الشفاعة يوم القيامة " . قال ابو عيسى حديث جابر حديث صحيح حسن غريب من حديث محمد بن المنكدر لا نعلم احدا رواه غير شعيب بن ابي حمزة عن محمد بن المنكدر . وابو حمزة اسمه دينار
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اذان اور اقامت کے درمیان کی دعا رد نہیں کی جاتی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: انس کی حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، وعبد الرزاق، وابو احمد وابو نعيم قالوا حدثنا سفيان، عن زيد العمي، عن ابي اياس، معاوية بن قرة عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الدعاء لا يرد بين الاذان والاقامة " . قال ابو عيسى حديث انس حديث حسن . وقد رواه ابو اسحاق الهمداني عن بريد بن ابي مريم عن انس عن النبي صلى الله عليه وسلم مثل هذا
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر معراج کی رات پچاس نمازیں فرض کی گئیں، پھر کم کی گئیں یہاں تک کہ ( کم کرتے کرتے ) پانچ کر دی گئیں۔ پھر پکار کر کہا گیا: اے محمد! میری بات اٹل ہے، تمہیں ان پانچ نمازوں کا ثواب پچاس کے برابر ملے گا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ ۲- اس باب میں عبادہ بن صامت، طلحہ بن عبیداللہ، ابوذر، ابوقتادہ، مالک بن صعصہ اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن يحيى النيسابوري، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن انس بن مالك، قال فرضت على النبي صلى الله عليه وسلم ليلة اسري به الصلوات خمسين ثم نقصت حتى جعلت خمسا ثم نودي يا محمد انه لا يبدل القول لدى وان لك بهذه الخمس خمسين . قال وفي الباب عن عبادة بن الصامت وطلحة بن عبيد الله وابي ذر وابي قتادة ومالك بن صعصعة وابي سعيد الخدري . قال ابو عيسى حديث انس حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزانہ پانچ وقت کی نماز اور ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ بیچ کے گناہوں کا کفارہ ہیں، جب تک کہ کبیرہ گناہ سرزد نہ ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، انس اور حنظلہ اسیدی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا اسماعيل بن جعفر، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الصلوات الخمس والجمعة الى الجمعة كفارات لما بينهن ما لم تغش الكباير " . قال وفي الباب عن جابر وانس وحنظلة الاسيدي . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”باجماعت نماز تنہا نماز پر ستائیس درجے فضیلت رکھتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ابی بن کعب، معاذ بن جبل، ابوسعید، ابوہریرہ اور انس بن مالک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نافع نے ابن عمر سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”صلاۃ باجماعت آدمی کی تنہا نماز پر ستائیس درجے فضیلت رکھتی ہے۔ ۴- عام رواۃ نے ( صحابہ ) نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے ”پچیس درجے“ نقل کیا ہے، صرف ابن عمر نے ”ستائیس درجے“ کی روایت کی ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا عبدة، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صلاة الجماعة تفضل على صلاة الرجل وحده بسبع وعشرين درجة " . قال وفي الباب عن عبد الله بن مسعود وابى بن كعب ومعاذ بن جبل وابي سعيد وابي هريرة وانس بن مالك . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح . وهكذا روى نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " تفضل صلاة الجميع على صلاة الرجل وحده بسبع وعشرين درجة " . قال ابو عيسى وعامة من روى عن النبي صلى الله عليه وسلم انما قالوا " خمس وعشرين " . الا ابن عمر فانه قال " بسبع وعشرين
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کی باجماعت نماز اس کی تنہا نماز سے پچیس گنا بڑھ کر ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان صلاة الرجل في الجماعة تزيد على صلاته وحده بخمسة وعشرين جزءا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا کہ اپنے کچھ نوجوانوں کو میں لکڑی کے گٹھر اکٹھا کرنے کا حکم دوں، پھر نماز کا حکم دوں تو کھڑی کی جائے، پھر میں ان لوگوں ( کے گھروں ) کو آگ لگا دوں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ابو الدرداء، ابن عباس، معاذ بن انس اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ میں سے کئی لوگوں سے مروی ہے کہ جو اذان سنے اور نماز میں نہ آئے تو اس کی نماز نہیں ہوتی، ۴- بعض اہل علم نے کہا ہے کہ یہ برسبیل تغلیظ ہے ( لیکن ) ، کسی کو بغیر عذر کے جماعت چھوڑنے کی اجازت نہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن جعفر بن برقان، عن يزيد بن الاصم، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لقد هممت ان امر فتيتي ان يجمعوا حزم الحطب ثم امر بالصلاة فتقام ثم احرق على اقوام لا يشهدون الصلاة " . قال ابو عيسى وفي الباب عن عبد الله بن مسعود وابي الدرداء وابن عباس ومعاذ بن انس وجابر . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . وقد روي عن غير واحد من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم انهم قالوا من سمع النداء فلم يجب فلا صلاة له . وقال بعض اهل العلم هذا على التغليظ والتشديد ولا رخصة لاحد في ترك الجماعة الا من عذر
مجاہد کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی الله عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو دن کو روزہ رکھتا ہو اور رات کو قیام کرتا ہو۔ اور جمعہ میں حاضر نہ ہوتا ہو، تو انہوں نے کہا: وہ جہنم میں ہو گا۔ مجاہد کہتے ہیں: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ وہ جماعت اور جمعہ میں ان سے بے رغبتی کرتے ہوئے، انہیں حقیر جانتے ہوئے اور ان میں سستی کرتے ہوئے حاضر نہ ہوتا ہو۔
قال مجاهد وسيل ابن عباس عن رجل، يصوم النهار ويقوم الليل لا يشهد جمعة ولا جماعة قال هو في النار . قال حدثنا بذلك هناد حدثنا المحاربي عن ليث عن مجاهد . قال ومعنى الحديث ان لا يشهد الجماعة والجمعة رغبة عنها واستخفافا بحقها وتهاونا بها
یزید بن اسود عامری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں شریک رہا۔ میں نے آپ کے ساتھ مسجد خیف میں فجر پڑھی، جب آپ نے نماز پوری کر لی اور ہماری طرف مڑے تو کیا دیکھتے ہیں کہ لوگوں کے آخر میں ( سب سے پیچھے ) دو آدمی ہیں جنہوں نے آپ کے ساتھ نماز نہیں پڑھی۔ آپ نے فرمایا: ”انہیں میرے پاس لاؤ“، وہ لائے گئے، ان کے مونڈھے ڈر سے پھڑک رہے تھے۔ آپ نے پوچھا: ”تم دونوں نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لی تھی۔ آپ نے فرمایا: ”ایسا نہ کیا کرو، جب تم اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو پھر مسجد آؤ جس میں جماعت ہو رہی ہو تو لوگوں کے ساتھ بھی پڑھ لو ۱؎ یہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یزید بن اسود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں محجن دیلی اور یزید بن عامر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم میں سے کئی لوگوں کا یہی قول ہے۔ اور یہی سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ جب آدمی تنہا نماز پڑھ چکا ہو پھر اسے جماعت مل جائے تو وہ جماعت کے ساتھ دوبارہ نماز پڑھ لے۔ اور جب آدمی تنہا مغرب پڑھ چکا ہو پھر جماعت پائے تو وہ ان کے ساتھ نماز پڑھے اور ایک رکعت اور پڑھ کر اسے جفت بنا دے، اور جو نماز اس نے تنہا پڑھی ہے وہی ان کے نزدیک فرض ہو گی۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، اخبرنا يعلى بن عطاء، حدثنا جابر بن يزيد بن الاسود العامري، عن ابيه، قال شهدت مع النبي صلى الله عليه وسلم حجته فصليت معه صلاة الصبح في مسجد الخيف . قال فلما قضى صلاته وانحرف اذا هو برجلين في اخرى القوم لم يصليا معه فقال " على بهما " . فجيء بهما ترعد فرايصهما فقال " ما منعكما ان تصليا معنا " . فقالا يا رسول الله انا كنا قد صلينا في رحالنا . قال فلا تفعلا اذا صليتما في رحالكما ثم اتيتما مسجد جماعة فصليا معهم فانها لكما نافلة " . قال وفي الباب عن محجن الديلي ويزيد بن عامر . قال ابو عيسى حديث يزيد بن الاسود حديث حسن صحيح . وهو قول غير واحد من اهل العلم وبه يقول سفيان الثوري والشافعي واحمد واسحاق قالوا اذا صلى الرجل وحده ثم ادرك الجماعة فانه يعيد الصلوات كلها في الجماعة واذا صلى الرجل المغرب وحده ثم ادرك الجماعة قالوا فانه يصليها معهم ويشفع بركعة . والتي صلى وحده هي المكتوبة عندهم
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص ( مسجد ) آیا رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تھے تو آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کون اس کے ساتھ تجارت کرے گا؟ ۱؎ ایک شخص کھڑا ہو اور اس نے اس کے ساتھ نماز پڑھی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابوامامہ، ابوموسیٰ اور حکم بن عمیر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ اور تابعین میں سے کئی اہل علم کا یہی قول ہے کہ جس مسجد میں لوگ جماعت سے نماز پڑھ چکے ہوں اس میں ( دوسری ) جماعت سے نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ۴- اور بعض دوسرے اہل علم کہتے ہیں کہ وہ تنہا تنہا نماز پڑھیں، یہی سفیان، ابن مبارک، مالک، شافعی کا قول ہے، یہ لوگ تنہا تنہا نماز پڑھنے کو پسند کرتے ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا عبدة، عن سعيد بن ابي عروبة، عن سليمان الناجي البصري، عن ابي المتوكل، عن ابي سعيد، قال جاء رجل وقد صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ايكم يتجر على هذا " . فقام رجل فصلى معه . قال وفي الباب عن ابي امامة وابي موسى والحكم بن عمير . قال ابو عيسى وحديث ابي سعيد حديث حسن . وهو قول غير واحد من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم من التابعين قالوا لا باس ان يصلي القوم جماعة في مسجد قد صلي فيه جماعة . وبه يقول احمد واسحاق . وقال اخرون من اهل العلم يصلون فرادى . وبه يقول سفيان وابن المبارك ومالك والشافعي يختارون الصلاة فرادى . وسليمان الناجي بصري ويقال سليمان بن الاسود . وابو المتوكل اسمه علي بن داود
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جو عشاء کی جماعت میں حاضر رہے گا تو اسے آدھی رات کے قیام کا ثواب ملے گا اور جو عشاء اور فجر دونوں نمازیں جماعت سے ادا کرے گا، اسے پوری رات کے قیام کا ثواب ملے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عثمان کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، ابوہریرہ، انس، عمارہ بن رویبہ، جندب بن عبداللہ بن سفیان بجلی، ابی ابن کعب، ابوموسیٰ اور بریدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- یہ حدیث عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ کے طریق سے عثمان رضی الله عنہ سے موقوفاً روایت کی گئی ہے، اور کئی دوسری سندوں سے بھی یہ عثمان رضی الله عنہ سے مرفوعاً مروی ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا بشر بن السري، حدثنا سفيان، عن عثمان بن حكيم، عن عبد الرحمن بن ابي عمرة، عن عثمان بن عفان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من شهد العشاء في جماعة كان له قيام نصف ليلة ومن صلى العشاء والفجر في جماعة كان له كقيام ليلة " . قال وفي الباب عن ابن عمر وابي هريرة وانس وعمارة بن رويبة وجندب بن عبد الله بن سفيان البجلي وابى بن كعب وابي موسى وبريدة . قال ابو عيسى حديث عثمان حديث حسن . وقد روي هذا الحديث عن عبد الرحمن بن ابي عمرة عن عثمان موقوفا وروي من غير وجه عن عثمان مرفوعا
جندب بن سفیان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے فجر پڑھی وہ اللہ کی پناہ میں ہے تو تم اللہ کی پناہ ہاتھ سے جانے نہ دو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا داود بن ابي هند، عن الحسن، عن جندب بن سفيان، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من صلى الصبح فهو في ذمة الله فلا تخفروا الله في ذمته " . قال ابو عيسى حديث حسن صحيح
بریدہ اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اندھیرے میں چل کر مسجد آنے والوں کو قیامت کے دن کامل نور ( بھرپور اجالے ) کی بشارت دے دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
حدثنا عباس العنبري، حدثنا يحيى بن كثير ابو غسان العنبري، عن اسماعيل الكحال، عن عبد الله بن اوس الخزاعي، عن بريدة الاسلمي، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " بشر المشايين في الظلم الى المساجد بالنور التام يوم القيامة " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من هذا الوجه مرفوع هو صحيح مسند وموقوف الى اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ولم يسند الى النبي صلى الله عليه وسلم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں کی سب سے بہتر صف پہلی صف ہے ۱؎ اور سب سے بری آخری صف اور عورتوں کی سب سے بہتر صف آخری صف ۲؎ ہے اور سب سے بری پہلی صف“ ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، ابن عباس، ابوسعید، ابی بن کعب، عائشہ، عرباض بن ساریہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ پہلی صف والوں کے لیے تین بار استغفار کرتے تھے اور دوسری کے لیے ایک بار۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خير صفوف الرجال اولها وشرها اخرها وخير صفوف النساء اخرها وشرها اولها " . قال وفي الباب عن جابر وابن عباس وابن عمر وابي سعيد وابى وعايشة والعرباض بن سارية وانس . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يستغفر للصف الاول ثلاثا وللثاني مرة
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اذان اور پہلی صف میں کیا ثواب ہے، اور وہ اسے قرعہ اندازی کے بغیر نہ پا سکتے تو اس کے لیے قرعہ اندازی کرتے“۔
وقال النبي صلى الله عليه وسلم " لو ان الناس يعلمون ما في النداء والصف الاول ثم لم يجدوا الا ان يستهموا عليه لاستهموا عليه " . قال حدثنا بذلك اسحاق بن موسى الانصاري حدثنا معن حدثنا مالك عن سمى عن ابي صالح عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله
نیز قتیبہ نے مالک سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے۔
وحدثنا قتيبة، عن مالك، نحوه
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفیں سیدھی کرتے تھے۔ چنانچہ ایک دن آپ نکلے تو دیکھا کہ ایک شخص کا سینہ لوگوں سے آگے نکلا ہوا ہے، آپ نے فرمایا: ”تم اپنی صفیں سیدھی رکھو ۱؎ اور نہ اللہ تمہارے درمیان اختلاف پیدا فرما دے گا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر بن سمرہ، براء، جابر بن عبداللہ، انس، ابوہریرہ اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: صفیں سیدھی کرنا نماز کی تکمیل ہے، ۴- عمر رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ وہ صفیں سیدھی کرنے کا کام کچھ لوگوں کے سپرد کر دیتے تھے تو مؤذن اس وقت تک اقامت نہیں کہتا جب تک اسے یہ نہ بتا دیا جاتا کہ صفیں سیدھی ہو چکی ہیں، ۵- علی اور عثمان رضی الله عنہما سے بھی مروی ہے کہ یہ دونوں بھی اس کی پابندی کرتے تھے اور کہتے تھے: «استووا» ”صف میں سیدھے ہو جاؤ“ اور علی رضی الله عنہ کہتے تھے: فلاں! آگے بڑھو، فلاں! پیچھے ہٹو۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن سماك بن حرب، عن النعمان بن بشير، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسوي صفوفنا فخرج يوما فراى رجلا خارجا صدره عن القوم فقال " لتسون صفوفكم او ليخالفن الله بين وجوهكم " . قال وفي الباب عن جابر بن سمرة والبراء وجابر بن عبد الله وانس وابي هريرة وعايشة . قال ابو عيسى حديث النعمان بن بشير حديث حسن صحيح . وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " من تمام الصلاة اقامة الصف " . وروي عن عمر انه كان يوكل رجالا باقامة الصفوف فلا يكبر حتى يخبر ان الصفوف قد استوت . وروي عن علي وعثمان انهما كانا يتعاهدان ذلك ويقولان استووا . وكان علي يقول تقدم يا فلان تاخر يا فلان
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو صاحب فہم و ذکا اور سمجھدار ہوں ان کو مجھ سے قریب رہنا چاہیئے، پھر وہ جو ( عقل و دانش میں ) ان کے قریب ہوں، پھر وہ جو ان کے قریب ہوں، تم آگے پیچھے نہ ہونا کہ تمہارے دلوں میں پھوٹ پڑ جائے گی، اور اپنے آپ کو بازار کے شور و غوغا سے بچائے رکھنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابی بن کعب، ابومسعود، ابوسعید، براء، اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ اس بات سے خوش ہوتے کہ مہاجرین اور انصار آپس میں قریب قریب رہیں تاکہ وہ آپ سے ( سیکھے ہوئے مسائل ) محفوظ رکھ سکیں۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا خالد الحذاء، عن ابي معشر، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليليني منكم اولو الاحلام والنهى ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ولا تختلفوا فتختلف قلوبكم واياكم وهيشات الاسواق " . قال وفي الباب عن ابى بن كعب وابي مسعود وابي سعيد والبراء وانس . قال ابو عيسى حديث ابن مسعود حديث حسن غريب . وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يعجبه ان يليه المهاجرون والانصار ليحفظوا عنه . قال وخالد الحذاء هو خالد بن مهران يكنى ابا المنازل . قال وسمعت محمد بن اسماعيل يقول يقال ان خالدا الحذاء ما حذا نعلا قط انما كان يجلس الى حذاء فنسب اليه . قال وابو معشر اسمه زياد بن كليب