Loading...

Loading...
کتب
۳۰۳ احادیث
عبداللہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم نے ( مدینہ منورہ میں ایک رات ) صبح کی تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور میں نے آپ کو اپنا خواب بتایا ۱؎ تو آپ نے فرمایا: ”یہ ایک سچا خواب ہے، تم اٹھو بلال کے ساتھ جاؤ وہ تم سے اونچی اور لمبی آواز والے ہیں۔ اور جو تمہیں بتایا گیا ہے، وہ ان پر پیش کرو، وہ اسے زور سے پکار کر کہیں“، جب عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے بلال رضی الله عنہ کی اذان سنی تو اپنا تہ بند کھینچتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے، میں نے ( بھی ) اسی طرح دیکھا ہے جو انہوں نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا شکر ہے، یہ بات اور پکی ہو گئی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن زید رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- اور ابراہیم بن سعد نے یہ حدیث محمد بن اسحاق سے اس سے بھی زیادہ کامل اور زیادہ لمبی روایت کی ہے۔ اور اس میں انہوں نے اذان کے کلمات کو دو دو بار اور اقامت کے کلمات کو ایک ایک بار کہنے کا واقعہ ذکر کیا ہے، ۴- عبداللہ بن زید ہی ابن عبدربہ ہیں اور انہیں ابن عبدرب بھی کہا جاتا ہے، سوائے اذان کے سلسلے کی اس ایک حدیث کے ہمیں نہیں معلوم کہ ان کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی اور بھی حدیث صحیح ہے، البتہ عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی کی کئی حدیثیں ہیں جنہیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، اور یہ عباد بن تمیم کے چچا ہیں۔
حدثنا سعيد بن يحيى بن سعيد الاموي، حدثنا ابي، حدثنا محمد بن اسحاق، عن محمد بن ابراهيم بن الحارث التيمي، عن محمد بن عبد الله بن زيد، عن ابيه، قال لما اصبحنا اتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبرته بالرويا فقال " ان هذه لرويا حق فقم مع بلال فانه اندى وامد صوتا منك فالق عليه ما قيل لك وليناد بذلك " . قال فلما سمع عمر بن الخطاب نداء بلال بالصلاة خرج الى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يجر ازاره وهو يقول يا رسول الله والذي بعثك بالحق لقد رايت مثل الذي قال . قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فلله الحمد فذلك اثبت " . قال وفي الباب عن ابن عمر . قال ابو عيسى حديث عبد الله بن زيد حديث حسن صحيح . وقد روى هذا الحديث ابراهيم بن سعد عن محمد بن اسحاق اتم من هذا الحديث واطول وذكر فيه قصة الاذان مثنى مثنى والاقامة مرة مرة . وعبد الله بن زيد هو ابن عبد ربه ويقال ابن عبد رب ولا نعرف له عن النبي صلى الله عليه وسلم شييا يصح الا هذا الحديث الواحد في الاذان . وعبد الله بن زيد بن عاصم المازني له احاديث عن النبي صلى الله عليه وسلم وهو عم عباد بن تميم
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جس وقت مسلمان مدینہ آئے تو وہ اکٹھے ہو کر اوقات نماز کا اندازہ لگاتے تھے، کوئی نماز کے لیے پکار نہ لگاتا تھا، ایک دن ان لوگوں نے اس سلسلے میں گفتگو کی ۱؎ چنانچہ ان میں سے بعض لوگوں نے کہا: نصاریٰ کے ناقوس کی طرح کوئی ناقوس بنا لو، بعض نے کہا کہ تم یہودیوں کے قرن کی طرح کوئی قرن ( یعنی کسی جانور کا سینگ ) بنا لو۔ ابن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں: اس پر عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا: کیا تم کوئی آدمی نہیں بھیج سکتے جو نماز کے لیے پکارے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال اٹھو جاؤ نماز کے لیے پکارو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابن عمر رضی الله عنہما کی ( اس ) روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔ ( جسے بخاری و مسلم اور دیگر محدثین نے روایت کیا ہے ) ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن النضر بن ابي النضر، حدثنا حجاج بن محمد، قال قال ابن جريج اخبرنا نافع، عن ابن عمر، قال كان المسلمون حين قدموا المدينة يجتمعون فيتحينون الصلوات وليس ينادي بها احد فتكلموا يوما في ذلك فقال بعضهم اتخذوا ناقوسا مثل ناقوس النصارى . وقال بعضهم اتخذوا قرنا مثل قرن اليهود . قال فقال عمر بن الخطاب اولا تبعثون رجلا ينادي بالصلاة قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا بلال قم فناد بالصلاة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من حديث ابن عمر
ابو محذورہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بٹھا کر اذان کا ایک ایک لفظ سکھایا۔ ابراہیم بن عبدالعزیز بن عبدالملک بن ابی محذورہ کہتے ہیں: اس طرح جیسے ہماری اذان ہے۔ بشر کہتے ہیں تو میں نے ان سے یعنی ابراہیم سے کہا: اسے مجھ پر دہرائیے تو انہوں نے ترجیع ۱؎ کے ساتھ اذان کا ذکر کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اذان کے سلسلے میں ابو محذورہ والی حدیث صحیح ہے، کئی سندوں سے مروی ہے، ۲- اور اسی پر مکہ میں عمل ہے اور یہی شافعی کا قول ہے ۲؎۔
حدثنا بشر بن معاذ البصري، حدثنا ابراهيم بن عبد العزيز بن عبد الملك بن ابي محذورة، قال اخبرني ابي وجدي، جميعا عن ابي محذورة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اقعده والقى عليه الاذان حرفا حرفا . قال ابراهيم مثل اذاننا . قال بشر فقلت له اعد على . فوصف الاذان بالترجيع . قال ابو عيسى حديث ابي محذورة في الاذان حديث صحيح . وقد روي عنه من غير وجه . وعليه العمل بمكة وهو قول الشافعي
ابو محذورہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اذان کے انیس کلمات ۱؎ اور اقامت کے سترہ کلمات سکھائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض اہل علم اذان کے سلسلے میں اسی طرف گئے ہیں، ۳- ابو محذورہ سے یہ بھی روایت ہے کہ وہ اقامت اکہری کہتے تھے۔
حدثنا ابو موسى، محمد بن المثنى حدثنا عفان، حدثنا همام، عن عامر بن عبد الواحد الاحول، عن مكحول، عن عبد الله بن محيريز، عن ابي محذورة، ان النبي صلى الله عليه وسلم علمه الاذان تسع عشرة كلمة والاقامة سبع عشرة كلمة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو محذورة اسمه سمرة بن معير . وقد ذهب بعض اهل العلم الى هذا في الاذان . وقد روي عن ابي محذورة انه كان يفرد الاقامة
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی الله عنہ کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اذان دہری اور اقامت اکہری کہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی حدیث آئی ہے، ۳- صحابہ کرام اور تابعین میں سے بعض اہل علم کا یہی قول ہے، اور مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، ويزيد بن زريع، عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن انس بن مالك، قال امر بلال ان يشفع، الاذان ويوتر الاقامة " . وفي الباب عن ابن عمر . قال ابو عيسى وحديث انس حديث حسن صحيح . وهو قول بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين وبه يقول مالك والشافعي واحمد واسحاق
عبداللہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اذان اور اقامت دونوں دہری ہوتی تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن زید کی حدیث کو وکیع نے بطریق «الأعمش عن عمرو بن مرة عن عبدالرحمٰن بن أبي ليلى» روایت کیا ہے کہ عبداللہ بن زید نے خواب میں اذان ( کا واقعہ ) دیکھا، اور شعبہ نے بطریق «عمرو بن مرة عن عبدالرحمٰن بن أبي ليلى» یہ روایت کی ہے کہ محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے ہم سے بیان کیا ہے کہ عبداللہ بن زید نے خواب میں اذان ( کا واقعہ ) دیکھا، ۲- یہ ابن ابی لیلیٰ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۱؎، عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے عبداللہ بن زید سے نہیں سنا ہے، ۳- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اذان اور اقامت دونوں دہری ہیں یہی سفیان ثوری، ابن مبارک اور اہل کوفہ کا قول ہے، ۴- ابن ابی لیلیٰ سے مراد محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ ہیں۔ وہ کوفہ کے قاضی تھے، انہوں نے اپنے والد سے نہیں سنا ہے البتہ وہ ایک شخص سے روایت کرتے ہیں اور وہ ان کے والد سے۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، حدثنا عقبة بن خالد، عن ابن ابي ليلى، عن عمرو بن مرة، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن عبد الله بن زيد، قال كان اذان رسول الله صلى الله عليه وسلم شفعا شفعا في الاذان والاقامة " . قال ابو عيسى حديث عبد الله بن زيد رواه وكيع عن الاعمش عن عمرو بن مرة عن عبد الرحمن بن ابي ليلى قال حدثنا اصحاب محمد صلى الله عليه وسلم ان عبد الله بن زيد راى الاذان في المنام . وقال شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد الرحمن بن ابي ليلى ان عبد الله بن زيد راى الاذان في المنام . وهذا اصح من حديث ابن ابي ليلى . وعبد الرحمن بن ابي ليلى لم يسمع من عبد الله بن زيد . وقال بعض اهل العلم الاذان مثنى مثنى والاقامة مثنى مثنى . وبه يقول سفيان الثوري وابن المبارك واهل الكوفة . قال ابو عيسى ابن ابي ليلى هو محمد بن عبد الرحمن بن ابي ليلى كان قاضي الكوفة ولم يسمع من ابيه شييا الا انه يروي عن رجل عن ابيه
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی الله عنہ سے فرمایا: ”بلال! جب تم اذان دو تو ٹھہر ٹھہر کر دو اور جب اقامت کہو تو جلدی جلدی کہو، اور اپنی اذان و اقامت کے درمیان اس قدر وقفہ رکھو کہ کھانے پینے والا اپنے کھانے پینے سے اور پاخانہ پیشاب کی حاجت محسوس کرنے والا اپنی حاجت سے فارغ ہو جائے اور اس وقت تک ( اقامت کہنے کے لیے ) کھڑے نہ ہو جب تک کہ مجھے نہ دیکھ لو۔
حدثنا احمد بن الحسن، حدثنا المعلى بن اسد، حدثنا عبد المنعم، هو صاحب السقاء قال حدثنا يحيى بن مسلم، عن الحسن، وعطاء، عن جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لبلال " يا بلال اذا اذنت فترسل في اذانك واذا اقمت فاحدر واجعل بين اذانك واقامتك قدر ما يفرغ الاكل من اكله والشارب من شربه والمعتصر اذا دخل لقضاء حاجته ولا تقوموا حتى تروني
اس سند سے بھی عبدالمنعم سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: جابر رضی الله عنہ کی حدیث کو ہم صرف اسی سند سے یعنی عبدالمنعم ہی کی روایت سے جانتے ہیں، اور یہ مجہول سند ہے، عبدالمنعم بصرہ کے شیخ ہیں ( یعنی ضعیف راوی ہیں ) ۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا يونس بن محمد، عن عبد المنعم، نحوه . قال ابو عيسى حديث جابر هذا حديث لا نعرفه الا من هذا الوجه من حديث عبد المنعم وهو اسناد مجهول وعبد المنعم شيخ بصري
ابوجحیفہ (وہب بن عبداللہ) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے بلال کو اذان دیتے دیکھا، وہ گھوم رہے تھے ۱؎ اپنا چہرہ ادھر اور ادھر پھیر رہے تھے اور ان کی انگلیاں ان کے دونوں کانوں میں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سرخ خیمے میں تھے، وہ چمڑے کا تھا، بلال آپ کے سامنے سے نیزہ لے کر نکلے اور اسے بطحاء ( میدان ) میں گاڑ دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھائی۔ اس نیزے کے آگے سے ۲؎ کتے اور گدھے گزر رہے تھے۔ آپ ایک سرخ چادر پہنے ہوئے تھے، میں گویا آپ کی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔ سفیان کہتے ہیں: ہمارا خیال ہے وہ چادر یمنی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوجحیفہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ اس چیز کو مستحب سمجھتے ہیں کہ مؤذن اذان میں اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں داخل کرے، ۳- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ وہ اقامت میں بھی اپنی دونوں انگلیاں دونوں کانوں میں داخل کرے گا، یہی اوزاعی کا قول ہے ۳؎۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا سفيان الثوري، عن عون بن ابي جحيفة، عن ابيه، قال رايت بلالا يوذن ويدور ويتبع فاه ها هنا وها هنا واصبعاه في اذنيه ورسول الله صلى الله عليه وسلم في قبة له حمراء اراه قال من ادم فخرج بلال بين يديه بالعنزة فركزها بالبطحاء فصلى اليها رسول الله صلى الله عليه وسلم يمر بين يديه الكلب والحمار وعليه حلة حمراء كاني انظر الى بريق ساقيه . قال سفيان نراه حبرة . قال ابو عيسى حديث ابي جحيفة حديث حسن صحيح . وعليه العمل عند اهل العلم يستحبون ان يدخل الموذن اصبعيه في اذنيه في الاذان . وقال بعض اهل العلم وفي الاقامة ايضا يدخل اصبعيه في اذنيه . وهو قول الاوزاعي . وابو جحيفة اسمه وهب بن عبد الله السوايي
بلال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فجر کے سوا کسی بھی نماز میں تثویب ۱؎ نہ کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابو محذورہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۲- بلال رضی الله عنہ کی حدیث کو ہم صرف ابواسرائیل ملائی کی سند سے جانتے ہیں۔ اور ابواسرائیل نے یہ حدیث حکم بن عتیبہ سے نہیں سنی۔ بلکہ انہوں نے اسے حسن بن عمارہ سے اور حسن نے حکم بن عتیبہ سے روایت کیا ہے، ۳- ابواسرائیل کا نام اسماعیل بن ابی اسحاق ہے، اور وہ اہل الحدیث کے نزدیک زیادہ قوی نہیں ہیں، ۴- اہل علم کا تثویب کی تفسیر کے سلسلے میں اختلاف ہے ؛ بعض کہتے ہیں: تثویب فجر کی اذان میں «الصلاة خير من النوم» ”نماز نیند سے بہتر ہے“ کہنے کا نام ہے ابن مبارک اور احمد کا یہی قول ہے، اسحاق کہتے ہیں: تثویب اس کے علاوہ ہے، تثویب مکروہ ہے، یہ ایسی چیز ہے جسے لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایجاد کی ہے، جب مؤذن اذان دیتا اور لوگ تاخیر کرتے تو وہ اذان اور اقامت کے درمیان: «قد قامت الصلاة، حي على الصلاة، حي على الفلاح» کہتا، ۵- اور جو اسحاق بن راہویہ نے کہا ہے دراصل یہی وہ تثویب ہے جسے اہل علم نے ناپسند کیا ہے اور اسی کو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایجاد کیا ہے، ابن مبارک اور احمد کی جو تفسیر ہے کہ تثویب یہ ہے کہ مؤذن فجر کی اذان میں: «الصلاة خير من النوم» کہے تو یہ کہنا صحیح ہے، اسے بھی تثویب کہا جاتا ہے اور یہ وہ تثویب ہے جسے اہل علم نے پسند کیا اور درست جانا ہے، عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ وہ فجر میں «الصلاة خير من النوم» کہتے تھے، اور مجاہد سے مروی ہے کہ میں عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے ساتھ ایک مسجد میں داخل ہوا جس میں اذان دی جا چکی تھی۔ ہم اس میں نماز پڑھنا چاہ رہے تھے۔ اتنے میں مؤذن نے تثویب کی، تو عبداللہ بن عمر مسجد سے باہر نکلے اور کہا: اس بدعتی کے پاس سے ہمارے ساتھ نکل چلو، اور اس مسجد میں انہوں نے نماز نہیں پڑھی، عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما نے اس تثویب کو جسے لوگوں نے بعد میں ایجاد کر لیا تھا ناپسند کیا۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا ابو احمد الزبيري، حدثنا ابو اسراييل، عن الحكم، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن بلال، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تثوبن في شيء من الصلوات الا في صلاة الفجر " . قال وفي الباب عن ابي محذورة . قال ابو عيسى حديث بلال لا نعرفه الا من حديث ابي اسراييل الملايي . وابو اسراييل لم يسمع هذا الحديث من الحكم بن عتيبة قال انما رواه عن الحسن بن عمارة عن الحكم بن عتيبة . وابو اسراييل اسمه اسماعيل بن ابي اسحاق وليس هو بذاك القوي عند اهل الحديث . وقد اختلف اهل العلم في تفسير التثويب فقال بعضهم التثويب ان يقول في اذان الفجر الصلاة خير من النوم وهو قول ابن المبارك واحمد . وقال اسحاق في التثويب غير هذا قال التثويب المكروه هو شيء احدثه الناس بعد النبي صلى الله عليه وسلم اذا اذن الموذن فاستبطا القوم قال بين الاذان والاقامة قد قامت الصلاة حى على الصلاة حى على الفلاح . قال وهذا الذي قال اسحاق هو التثويب الذي قد كرهه اهل العلم والذي احدثوه بعد النبي صلى الله عليه وسلم . والذي فسر ابن المبارك واحمد ان التثويب ان يقول الموذن في اذان الفجر الصلاة خير من النوم وهو قول صحيح ويقال له التثويب ايضا وهو الذي اختاره اهل العلم وراوه . وروي عن عبد الله بن عمر انه كان يقول في صلاة الفجر الصلاة خير من النوم . وروي عن مجاهد قال دخلت مع عبد الله بن عمر مسجدا وقد اذن فيه ونحن نريد ان نصلي فيه فثوب الموذن فخرج عبد الله بن عمر من المسجد وقال اخرج بنا من عند هذا المبتدع . ولم يصل فيه . قال وانما كره عبد الله التثويب الذي احدثه الناس بعد
زیاد بن حارث صدائی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فجر کی اذان دینے کا حکم دیا تو میں نے اذان دی، پھر بلال رضی الله عنہ نے اقامت کہنی چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبیلہ صداء کے ایک شخص نے اذان دی ہے اور جس نے اذان دی ہے وہی اقامت کہے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۲- زیاد رضی الله عنہ کی روایت کو ہم صرف افریقی کی سند سے جانتے ہیں اور افریقی محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں۔ یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ نے ان کی تضعیف کی ہے۔ احمد کہتے ہیں: میں افریقی کی حدیث نہیں لکھتا، لیکن میں نے محمد بن اسماعیل کو دیکھا وہ ان کے معاملے کو قوی قرار دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یہ مقارب الحدیث ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ جو اذان دے وہی اقامت کہے۔
حدثنا هناد، حدثنا عبدة، ويعلى بن عبيد، عن عبد الرحمن بن زياد بن انعم الافريقي، عن زياد بن نعيم الحضرمي، عن زياد بن الحارث الصدايي، قال امرني رسول الله صلى الله عليه وسلم ان اوذن في صلاة الفجر فاذنت فاراد بلال ان يقيم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان اخا صداء قد اذن ومن اذن فهو يقيم " . قال وفي الباب عن ابن عمر . قال ابو عيسى وحديث زياد انما نعرفه من حديث الافريقي والافريقي هو ضعيف عند اهل الحديث ضعفه يحيى بن سعيد القطان وغيره قال احمد لا اكتب حديث الافريقي . قال ورايت محمد بن اسماعيل يقوي امره ويقول هو مقارب الحديث . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم ان من اذن فهو يقيم
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اذان وہی دے جو باوضو ہو“ ۱؎۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا الوليد بن مسلم، عن معاوية بن يحيى الصدفي، عن الزهري، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يوذن الا متوضي
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا: نماز کے لیے وہی اذان دے جو باوضو ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث کو ابن وہب نے مرفوع روایت نہیں کیا، یہ ۱؎ ولید بن مسلم کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ۳- زہری نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے نہیں سنا ہے، ۴- بغیر وضو کے اذان دینے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض نے اسے مکروہ کہا ہے اور یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، اور بعض اہل علم نے اس سلسلہ میں رخصت دی ہے، اور اسی کے قائل سفیان ثوری، ابن مبارک اور احمد ہیں۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا عبد الله بن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، قال قال ابو هريرة لا ينادي بالصلاة الا متوضي . قال ابو عيسى وهذا اصح من الحديث الاول . قال ابو عيسى وحديث ابي هريرة لم يرفعه ابن وهب وهو اصح من حديث الوليد بن مسلم . والزهري لم يسمع من ابي هريرة . واختلف اهل العلم في الاذان على غير وضوء فكرهه بعض اهل العلم وبه يقول الشافعي واسحاق . ورخص في ذلك بعض اهل العلم وبه يقول سفيان الثوري وابن المبارك واحمد
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا مؤذن دیر کرتا اور اقامت نہیں کہتا تھا یہاں تک کہ جب وہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو دیکھ لیتا کہ آپ نکل چکے ہیں تب وہ اقامت کہتا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر بن سمرہ رضی الله عنہ والی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور ہم اسرائیل کی حدیث کو جسے انہوں نے سماک سے روایت کی ہے، صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- اسی طرح بعض اہل علم نے کہا ہے کہ مؤذن کو اذان کا زیادہ اختیار ہے ۱؎ اور امام کو اقامت کا زیادہ اختیار ہے ۲؎۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا اسراييل، اخبرني سماك بن حرب، سمع جابر بن سمرة، يقول كان موذن رسول الله صلى الله عليه وسلم يمهل فلا يقيم حتى اذا راى رسول الله صلى الله عليه وسلم قد خرج اقام الصلاة حين يراه . قال ابو عيسى حديث جابر بن سمرة هو حديث حسن صحيح . وحديث اسراييل عن سماك لا نعرفه الا من هذا الوجه . وهكذا قال بعض اهل العلم ان الموذن املك بالاذان والامام املك بالاقامة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں، لہٰذا تم کھاتے پیتے رہو، جب تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان نہ سن لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابن مسعود، عائشہ، انیسہ، انس، ابوذر اور سمرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۳- رات ہی میں اذان کہہ دینے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اگر رات باقی ہو تبھی مؤذن اذان کہہ دے تو کافی ہے، اسے دہرانے کی ضرورت نہیں، مالک، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب وہ رات میں اذان دیدے تو اسے دہرائے ۱؎، یہی سفیان ثوری کہتے ہیں، ۴- حماد بن سلمہ نے بطریق «ایوب عن نافع عن ابن عمر» روایت کی ہے کہ بلال رضی الله عنہ نے رات ہی میں اذان دے دی، تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ پکار کر کہہ دیں کہ بندہ سو گیا تھا۔ یہ حدیث غیر محفوظ ہے، صحیح وہ روایت ہے جسے عبیداللہ بن عمر وغیرہ نے بطریق نافع عن ابن عمر روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں، لہٰذا تم کھاتے پیتے رہو، جب تک کہ ابن ام مکتوم اذان نہ دے دیں، اور عبدالعزیز بن ابی رواد نے نافع سے روایت کی ہے کہ عمر رضی الله عنہ کے مؤذن نے رات ہی میں اذان دے دی تو عمر نے اسے حکم دیا کہ وہ اذان دہرائے، یہ بھی صحیح نہیں کیونکہ نافع اور عمر رضی الله عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور شاید حماد بن سلمہ، کی مراد یہی حدیث ۲؎ ہو، صحیح عبیداللہ بن عمر دوسرے رواۃ کی روایت ہے جسے ان لوگوں نے نافع سے، اور نافع نے ابن عمر سے اور زہری نے سالم سے اور سالم نے ابن عمر سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں، ۵- اگر حماد کی حدیث صحیح ہوتی تو اس حدیث کا کوئی معنی نہ ہوتا، جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال رات ہی میں اذان دیتے ہیں، آپ نے لوگوں کو آنے والے زمانے کے بارے میں حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں“ اور اگر آپ طلوع فجر سے پہلے اذان دے دینے پر انہیں اذان لوٹانے کا حکم دیتے تو آپ یہ نہ فرماتے کہ ”بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں“، علی بن مدینی کہتے ہیں: حماد بن سلمہ والی حدیث جسے انہوں نے ایوب سے، اور ایوب نے نافع سے، اور نافع نے ابن عمر سے اور عمر نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے غیر محفوظ ہے، حماد بن سلمہ سے اس میں چوک ہوئی ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن سالم، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان بلالا يوذن بليل فكلوا واشربوا حتى تسمعوا تاذين ابن ام مكتوم " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابن مسعود وعايشة وانيسة وانس وابي ذر وسمرة . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح . وقد اختلف اهل العلم في الاذان بالليل فقال بعض اهل العلم اذا اذن الموذن بالليل اجزاه ولا يعيد . وهو قول مالك وابن المبارك والشافعي واحمد واسحاق . وقال بعض اهل العلم اذا اذن بليل اعاد . وبه يقول سفيان الثوري . وروى حماد بن سلمة عن ايوب عن نافع عن ابن عمر ان بلالا اذن بليل فامره النبي صلى الله عليه وسلم ان ينادي " ان العبد نام " . قال ابو عيسى هذا حديث غير محفوظ . قال علي بن المديني حديث حماد بن سلمة عن ايوب عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم هو غير محفوظ واخطا فيه حماد بن سلمة
ابوالشعثاء سلیم بن اسود کہتے ہیں کہ ایک شخص عصر کی اذان ہو چکنے کے بعد مسجد سے نکلا تو ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا: رہا یہ تو اس نے ابوالقاسم صلی الله علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی روایت حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عثمان رضی الله عنہ سے بھی حدیث ہے، ۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ اذان ہو جانے کے بعد بغیر کسی عذر کے مثلاً بے وضو ہو یا کوئی ناگزیر ضرورت آ پڑی ہو جس کے بغیر چارہ نہ ہو کوئی مسجد سے نہ نکلے ۱؎، ۴- ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ جب تک مؤذن اقامت شروع نہیں کرتا وہ باہر نکل سکتا ہے، ۵- ہمارے نزدیک یہ اس شخص کے لیے ہے جس کے پاس نکلنے کے لیے کوئی عذر موجود ہو۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن ابراهيم بن المهاجر، عن ابي الشعثاء، قال خرج رجل من المسجد بعد ما اذن فيه بالعصر فقال ابو هريرة اما هذا فقد عصى ابا القاسم صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى وفي الباب عن عثمان . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . وعلى هذا العمل عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ومن بعدهم ان لا يخرج احد من المسجد بعد الاذان الا من عذر ان يكون على غير وضوء او امر لا بد منه . ويروى عن ابراهيم النخعي انه قال يخرج ما لم ياخذ الموذن في الاقامة . قال ابو عيسى وهذا عندنا لمن له عذر في الخروج منه . وابو الشعثاء اسمه سليم بن اسود وهو والد اشعث بن ابي الشعثاء . وقد روى اشعث بن ابي الشعثاء هذا الحديث عن ابيه
مالک بن حویرث رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے چچا زاد بھائی دونوں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ہم سے فرمایا: جب تم دونوں سفر میں ہو تو اذان دو اور اقامت کہو۔ اور امامت وہ کرے جو تم دونوں میں بڑا ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے، ان لوگوں نے سفر میں اذان کو پسند کیا ہے، اور بعض کہتے ہیں: اقامت کافی ہے، اذان تو اس کے لیے ہے جس کا ارادہ لوگوں کو اکٹھا کرنا ہو۔ لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن مالك بن الحويرث، قال قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم انا وابن عم لي فقال لنا " اذا سافرتما فاذنا واقيما وليومكما اكبركما " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل عليه عند اكثر اهل العلم اختاروا الاذان في السفر . وقال بعضهم تجزي الاقامة انما الاذان على من يريد ان يجمع الناس . والقول الاول اصح . وبه يقول احمد واسحاق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سات سال تک ثواب کی نیت سے اذان دی اس کے لیے جہنم کی آگ سے نجات لکھ دی جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث غریب ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ثوبان، معاویہ، انس، ابوہریرہ اور ابوسعید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳ – اور جابر بن یزید جعفی کی لوگوں نے تضعیف کی ہے، یحییٰ بن سعید اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے انہیں متروک قرار دیا ہے، ۴- اگر جابر جعفی نہ ہوتے ۱؎ تو اہل کوفہ بغیر حدیث کے ہوتے، اور اگر حماد نہ ہوتے تو اہل کوفہ بغیر فقہ کے ہوتے۔
حدثنا محمد بن حميد الرازي، حدثنا ابو تميلة، حدثنا ابو حمزة، عن جابر، عن مجاهد، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اذن سبع سنين محتسبا كتبت له براءة من النار " . قال ابو عيسى وفي الباب عن عبد الله بن مسعود وثوبان ومعاوية وانس وابي هريرة وابي سعيد . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث غريب . وابو تميلة اسمه يحيى بن واضح . وابو حمزة السكري اسمه محمد بن ميمون . وجابر بن يزيد الجعفي ضعفوه تركه يحيى بن سعيد وعبد الرحمن بن مهدي . قال ابو عيسى سمعت الجارود يقول سمعت وكيعا يقول لولا جابر الجعفي لكان اهل الكوفة بغير حديث ولولا حماد لكان اهل الكوفة بغير فقه
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام ضامن ہے ۱؎ اور مؤذن امین ۲؎ ہے، اے اللہ! تو اماموں کو راہ راست پر رکھ ۳؎ اور مؤذنوں کی مغفرت فرما“ ۴؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عائشہ، سہل بن سعد اور عقبہ بن عامر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ۲- مولف نے حدیث کے طرق اور پہلی سند کی متابعت ذکر کرنے اور ابوصالح کی عائشہ سے روایت کے بعد فرمایا: میں نے ابوزرعہ کو کہتے سنا کہ ابوصالح کی ابوہریرہ سے مروی حدیث ابوصالح کی عائشہ سے مروی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ نیز میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ ابوصالح کی عائشہ سے مروی حدیث زیادہ صحیح ہے اور بخاری، علی بن مدینی کہتے ہیں کہ ابوصالح کی حدیث ابوہریرہ سے مروی حدیث ثابت نہیں ہے اور نہ ہی ابوصالح کی عائشہ سے مروی حدیث صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو الاحوص، وابو معاوية عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الامام ضامن والموذن موتمن اللهم ارشد الايمة واغفر للموذنين " . قال ابو عيسى وفي الباب عن عايشة وسهل بن سعد وعقبة بن عامر . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة رواه سفيان الثوري وحفص بن غياث وغير واحد عن الاعمش عن ابي صالح عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم . وروى اسباط بن محمد عن الاعمش قال حدثت عن ابي صالح عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اذان سنو تو ویسے ہی کہو جیسے مؤذن کہتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوسعید رضی الله عنہ والی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابورافع، ابوہریرہ، ام حبیبہ، عبداللہ بن عمرو، عبداللہ بن ربیعہ، عائشہ، معاذ بن انس اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- معمر اور کئی رواۃ نے زہری سے مالک کی حدیث کے مثل روایت کی ہے، عبدالرحمٰن بن اسحاق نے اس حدیث کو بطریق: «الزهري عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، مالک والی روایت سب سے صحیح ہے۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، . قال وحدثنا قتيبة، عن مالك، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد الليثي، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا سمعتم النداء فقولوا مثل ما يقول الموذن " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي رافع وابي هريرة وام حبيبة وعبد الله بن عمرو وعبد الله بن ربيعة وعايشة ومعاذ بن انس ومعاوية . قال ابو عيسى حديث ابي سعيد حديث حسن صحيح . وهكذا روى معمر وغير واحد عن الزهري مثل حديث مالك . وروى عبد الرحمن بن اسحاق عن الزهري هذا الحديث عن سعيد بن المسيب عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم . ورواية مالك اصح