Loading...

Loading...
کتب
۳۰۳ احادیث
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم مسلمانوں کے بعض معاملات میں سے ابوبکر رضی الله عنہ کے ساتھ رات میں گفتگو کرتے اور میں ان دونوں کے ساتھ ہوتا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمر رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو، اوس بن حذیفہ اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام اور تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم نے عشاء کے بعد بات کرنے کے سلسلہ میں اختلاف کیا ہے۔ کچھ لوگوں نے عشاء کے بعد بات کرنے کو مکروہ جانا ہے اور کچھ لوگوں نے اس کی رخصت دی ہے، بشرطیکہ یہ کوئی علمی گفتگو ہو یا کوئی ایسی ضرورت ہو جس کے بغیر چارہ نہ ہو ۱؎ اور اکثر احادیث رخصت کے بیان میں ہیں، نیز نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”بات صرف وہ کر سکتا ہے جو نماز عشاء کا منتظر ہو یا مسافر ہو“۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عمر بن الخطاب، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسمر مع ابي بكر في الامر من امر المسلمين وانا معهما . وفي الباب عن عبد الله بن عمرو واوس بن حذيفة وعمران بن حصين . قال ابو عيسى حديث عمر حديث حسن . وقد روى هذا الحديث الحسن بن عبيد الله عن ابراهيم عن علقمة عن رجل من جعفي يقال له قيس او ابن قيس عن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم هذا الحديث في قصة طويلة . وقد اختلف اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين ومن بعدهم في السمر بعد صلاة العشاء الاخرة فكره قوم منهم السمر بعد صلاة العشاء ورخص بعضهم اذا كان في معنى العلم وما لا بد منه من الحوايج واكثر الحديث على الرخصة . وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا سمر الا لمصل او مسافر
قاسم بن غنام کی پھوپھی ام فروہ رضی الله عنہا (جنہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے بیعت کی تھی) کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ”اول وقت میں نماز پڑھنا“۔
حدثنا ابو عمار الحسين بن حريث، حدثنا الفضل بن موسى، عن عبد الله بن عمر العمري، عن القاسم بن غنام، عن عمته ام فروة، وكانت، ممن بايعت النبي صلى الله عليه وسلم قالت سيل النبي صلى الله عليه وسلم اى الاعمال افضل قال " الصلاة لاول وقتها
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”علی! تین چیزوں میں دیر نہ کرو: نماز کو جب اس کا وقت ہو جائے، جنازہ کو جب آ جائے، اور بیوہ عورت ( کے نکاح کو ) جب تمہیں اس کا کوئی کفو ( ہمسر ) مل جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا عبد الله بن وهب، عن سعيد بن عبد الله الجهني، عن محمد بن عمر بن علي بن ابي طالب، عن ابيه، عن علي بن ابي طالب، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال له " يا علي ثلاث لا توخرها الصلاة اذا انت والجنازة اذا حضرت والايم اذا وجدت لها كفوا " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب حسن
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز اول وقت میں اللہ کی رضا مندی کا موجب ہے اور آخری وقت میں اللہ کی معافی کا موجب ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ابن عباس رضی الله عنہ نے بھی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- اور اس باب میں علی، ابن عمر، عائشہ اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- ام فروہ کی ( اوپر والی ) حدیث ( نمبر: ۱۷۰ ) عبداللہ بن عمر عمری ہی سے روایت کی جاتی ہے اور یہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں، اس حدیث میں لوگ ان سے روایت کرنے میں اضطراب کا شکار ہیں اور وہ صدوق ہیں، یحییٰ بن سعید نے ان کے حفظ کے تعلق سے ان پر کلام کیا ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يعقوب بن الوليد المدني، عن عبد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الوقت الاول من الصلاة رضوان الله والوقت الاخر عفو الله " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وقد روى ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . قال وفي الباب عن علي وابن عمر وعايشة وابن مسعود . قال ابو عيسى حديث ام فروة لا يروى الا من حديث عبد الله بن عمر العمري وليس هو بالقوي عند اهل الحديث واضطربوا عنه في هذا الحديث وهو صدوق وقد تكلم فيه يحيى بن سعيد من قبل حفظه
ابوعمرو شیبانی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ابن مسعود رضی الله عنہ سے پوچھا: کون سا عمل سب سے اچھا ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ میں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا“۔ میں نے عرض کیا: اور کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا“، میں نے عرض کیا: ( اس کے بعد ) اور کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا مروان بن معاوية الفزاري، عن ابي يعفور، عن الوليد بن العيزار، عن ابي عمرو الشيباني، ان رجلا، قال لابن مسعود اى العمل افضل قال سالت عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " الصلاة على مواقيتها " . قلت وماذا يا رسول الله قال " وبر الوالدين " . قلت وماذا يا رسول الله قال " والجهاد في سبيل الله " . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن صحيح . وقد روى المسعودي وشعبة وسليمان هو ابو اسحاق الشيباني وغير واحد عن الوليد بن العيزار هذا الحديث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے کوئی نماز اس کے آخری وقت میں دو بار نہیں پڑھی یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو وفات دے دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند متصل نہیں ہے، ۲- شافعی کہتے ہیں: نماز کا اول وقت افضل ہے اور جو چیزیں اول وقت کی افضیلت پر دلالت کرتی ہیں من جملہ انہیں میں سے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم، ابوبکر، اور عمر رضی الله عنہما کا اسے پسند فرمانا ہے۔ یہ لوگ اسی چیز کو معمول بناتے تھے جو افضل ہو اور افضل چیز کو نہیں چھوڑتے تھے۔ اور یہ لوگ نماز کو اول وقت میں پڑھتے تھے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن خالد بن يزيد، عن سعيد بن ابي هلال، عن اسحاق بن عمر، عن عايشة، قالت ما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة لوقتها الاخر مرتين حتى قبضه الله . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب وليس اسناده بمتصل . قال الشافعي والوقت الاول من الصلاة افضل . ومما يدل على فضل اول الوقت على اخره اختيار النبي صلى الله عليه وسلم وابي بكر وعمر فلم يكونوا يختارون الا ما هو افضل ولم يكونوا يدعون الفضل وكانوا يصلون في اول الوقت . قال حدثنا بذلك ابو الوليد المكي عن الشافعي
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے عصر فوت ہو گئی گویا اس کا گھر اور مال لٹ گیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں بریدہ اور نوفل بن معاویہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث بن سعد، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الذي تفوته صلاة العصر فكانما وتر اهله وماله " . وفي الباب عن بريدة ونوفل بن معاوية . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح . وقد رواه الزهري ايضا عن سالم عن ابيه ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر! میرے بعد کچھ ایسے امراء ( حکام ) ہوں گے جو نماز کو مار ڈالیں گے ۱؎، تو تم نماز کو اس کے وقت پر پڑھ لینا ۲؎ نماز اپنے وقت پر پڑھ لی گئی تو امامت والی نماز تمہارے لیے نفل ہو گی، ورنہ تم نے اپنی نماز محفوظ کر ہی لی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عبداللہ بن مسعود اور عبادہ بن صامت رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابوذر رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۳- یہی اہل علم میں سے کئی لوگوں کا قول ہے، یہ لوگ مستحب سمجھتے ہیں کہ آدمی نماز اپنے وقت پر پڑھ لے جب امام اسے مؤخر کرے، پھر وہ امام کے ساتھ بھی پڑھے اور پہلی نماز ہی اکثر اہل علم کے نزدیک فرض ہو گی ۳؎۔
حدثنا محمد بن موسى البصري، حدثنا جعفر بن سليمان الضبعي، عن ابي عمران الجوني، عن عبد الله بن الصامت، عن ابي ذر، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " يا ابا ذر امراء يكونون بعدي يميتون الصلاة فصل الصلاة لوقتها فان صليت لوقتها كانت لك نافلة والا كنت قد احرزت صلاتك " . وفي الباب عن عبد الله بن مسعود وعبادة بن الصامت . قال ابو عيسى حديث ابي ذر حديث حسن . وهو قول غير واحد من اهل العلم يستحبون ان يصلي الرجل الصلاة لميقاتها اذا اخرها الامام ثم يصلي مع الامام والصلاة الاولى هي المكتوبة عند اكثر اهل العلم . وابو عمران الجوني اسمه عبد الملك بن حبيب
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے نماز سے اپنے سو جانے کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”سو جانے میں قصور اور کمی نہیں۔ قصور اور کمی تو جاگنے میں ہے، ( کہ جاگتا رہے اور نہ پڑھے ) لہٰذا تم میں سے کوئی جب نماز بھول جائے، یا نماز سے سو جائے، تو جب اسے یاد آئے پڑھ لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوقتادہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، ابومریم، عمران بن حصین، جبیر بن مطعم، ابوجحیفہ، ابوسعید، عمرو بن امیہ ضمری اور ذومخمر ( جنہیں ذومخبر بھی کہا جاتا ہے، اور یہ نجاشی کے بھتیجے ہیں ) رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کے درمیان اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے کہ جو نماز سے سو جائے یا اسے بھول جائے اور ایسے وقت میں جاگے یا اسے یاد آئے جو نماز کا وقت نہیں مثلاً سورج نکل رہا ہو یا ڈوب رہا ہو تو بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسے پڑھ لے جب جاگے یا یاد آئے گو سورج نکلنے کا یا ڈوبنے کا وقت ہو، یہی احمد، اسحاق بن راہویہ، شافعی اور مالک کا قول ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ جب تک سورج نکل نہ جائے یا ڈوب نہ جائے نہ پڑھے۔ پہلا قول ہی راجح ہے، کیونکہ یہ نماز سبب والی ( قضاء ) ہے اور سبب والی میں وقت کی پابندی نہیں ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن ثابت البناني، عن عبد الله بن رباح الانصاري، عن ابي قتادة، قال ذكروا للنبي صلى الله عليه وسلم نومهم عن الصلاة فقال " انه ليس في النوم تفريط انما التفريط في اليقظة فاذا نسي احدكم صلاة او نام عنها فليصلها اذا ذكرها " . وفي الباب عن ابن مسعود وابي مريم وعمران بن حصين وجبير بن مطعم وابي جحيفة وابي سعيد وعمرو بن امية الضمري وذي مخبر ويقال ذي مخمر وهو ابن اخي النجاشي . قال ابو عيسى وحديث ابي قتادة حديث حسن صحيح . وقد اختلف اهل العلم في الرجل ينام عن الصلاة او ينساها فيستيقظ او يذكر وهو في غير وقت صلاة عند طلوع الشمس او عند غروبها . فقال بعضهم يصليها اذا استيقظ او ذكر وان كان عند طلوع الشمس او عند غروبها . وهو قول احمد واسحاق والشافعي ومالك . وقال بعضهم لا يصلي حتى تطلع الشمس او تغرب
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نماز بھول جائے تو چاہیئے کہ جب یاد آئے پڑھ لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سمرہ اور ابوقتادہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت کی جاتی ہے کہ انہوں نے اس شخص کے بارے میں جو نماز بھول جائے کہا کہ وہ پڑھ لے جب بھی اسے یاد آئے خواہ وقت ہو یا نہ ہو۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، اور ابوبکرہ رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ وہ عصر میں سو گئے اور سورج ڈوبنے کے وقت اٹھے، تو انہوں نے نماز نہیں پڑھی جب تک کہ سورج ڈوب نہیں گیا۔ اہل کوفہ کے کچھ لوگ اسی طرف گئے ہیں۔ رہے ہمارے اصحاب یعنی محدثین تو وہ علی بن ابی طالب رضی الله عنہ ہی کے قول کی طرف گئے ہیں۔
حدثنا قتيبة، وبشر بن معاذ، قالا حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من نسي صلاة فليصلها اذا ذكرها " . وفي الباب عن سمرة وابي قتادة . قال ابو عيسى حديث انس حديث حسن صحيح . ويروى عن علي بن ابي طالب انه قال في الرجل ينسى الصلاة قال يصليها متى ما ذكرها في وقت او في غير وقت . وهو قول الشافعي واحمد بن حنبل واسحاق . ويروى عن ابي بكرة انه نام عن صلاة العصر فاستيقظ عند غروب الشمس فلم يصل حتى غربت الشمس . وقد ذهب قوم من اهل الكوفة الى هذا واما اصحابنا فذهبوا الى قول علي بن ابي طالب رضي الله عنه
ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے کہا: مشرکین نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو خندق کے دن چار نمازوں سے روک دیا۔ یہاں تک کہ رات جتنی اللہ نے چاہی گزر گئی، پھر آپ نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اذان کہی، پھر اقامت کہی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے ظہر پڑھی، پھر بلال رضی الله عنہ نے اقامت کہی تو آپ نے عصر پڑھی، پھر بلال رضی الله عنہ نے اقامت کہی تو آپ نے مغرب پڑھی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے عشاء پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوسعید اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث کی سند میں کوئی برائی نہیں ہے سوائے اس کے کہ ابوعبیدہ نے اپنے باپ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے نہیں سنا ہے، ۳- اور چھوٹی ہوئی نمازوں کے سلسلے میں بعض اہل علم نے اسی کو پسند کیا ہے کہ آدمی جب ان کی قضاء کرے تو ہر نماز کے لیے الگ الگ اقامت کہے ۱؎ اور اگر وہ الگ الگ اقامت نہ کہے تو بھی وہ اسے کافی ہو گا، اور یہی شافعی کا قول ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا هشيم، عن ابي الزبير، عن نافع بن جبير بن مطعم، عن ابي عبيدة بن عبد الله بن مسعود، قال قال عبد الله بن مسعود ان المشركين شغلوا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اربع صلوات يوم الخندق حتى ذهب من الليل ما شاء الله فامر بلالا فاذن ثم اقام فصلى الظهر ثم اقام فصلى العصر ثم اقام فصلى المغرب ثم اقام فصلى العشاء " . قال وفي الباب عن ابي سعيد وجابر . قال ابو عيسى حديث عبد الله ليس باسناده باس الا ان ابا عبيدة لم يسمع من عبد الله . وهو الذي اختاره بعض اهل العلم في الفوايت ان يقيم الرجل لكل صلاة اذا قضاها وان لم يقم اجزاه . وهو قول الشافعي
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے خندق کے روز کفار قریش کو برا بھلا کہتے ہوئے کہا کہ اللہ کے رسول! میں عصر نہیں پڑھ سکا یہاں تک کہ سورج ڈوبنے کے قریب ہو گیا، تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نے اسے ( اب بھی ) نہیں پڑھی ہے“، وہ کہتے ہیں: پھر ہم وادی بطحان میں اترے تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے وضو کیا اور ہم نے بھی وضو کیا، پھر رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے سورج ڈوب جانے کے بعد پہلے عصر پڑھی پھر اس کے بعد مغرب پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے ۱؎۔
وحدثنا محمد بن بشار، بندار حدثنا معاذ بن هشام، حدثني ابي، عن يحيى بن ابي كثير، حدثنا ابو سلمة بن عبد الرحمن، عن جابر بن عبد الله، ان عمر بن الخطاب، قال يوم الخندق وجعل يسب كفار قريش قال يا رسول الله ما كدت اصلي العصر حتى تغرب الشمس . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " والله ان صليتها " . قال فنزلنا بطحان فتوضا رسول الله صلى الله عليه وسلم وتوضانا فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم العصر بعد ما غربت الشمس ثم صلى بعدها المغرب . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” «صلاة وسطیٰ» عصر کی صلاۃ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود الطيالسي، وابو النضر، عن محمد بن طلحة بن مصرف، عن زبيد، عن مرة الهمداني، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صلاة الوسطى صلاة العصر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” «صلاة وسطیٰ» عصر کی صلاۃ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- «صلاة وسطیٰ» کے سلسلہ میں سمرہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں علی، عبداللہ بن مسعود، زید بن ثابت، عائشہ، حفصہ، ابوہریرہ اور ابوہاشم بن عقبہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ علی بن عبداللہ ( ابن المدینی ) کا کہنا ہے: حسن بصری کی حدیث جسے انہوں نے سمرہ بن جندب سے روایت کیا ہے، صحیح حدیث ہے، جسے انہوں نے سمرۃ سے سنا ہے، ۴- صحابہ کرام اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے، زید بن ثابت اور عائشہ رضی الله عنہا کا کہنا ہے کہ «صلاة وسطیٰ» ظہر کی صلاۃ ہے، ابن عباس اور ابن عمر رضی الله عنہم کہتے ہیں کہ «صلاة وسطیٰ» صبح کی صلاۃ ( یعنی فجر ) ہے ۲؎، ۵- وہ حبیب بن شہید کہتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن سیرین نے کہا کہ تم حسن بصری سے پوچھو کہ انہوں نے عقیقہ کی حدیث کس سے سنی ہے؟ تو میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے اسے سمرہ بن جندب سے سنا ہے، ۶- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ علی ابن المدینی نے کہا ہے کہ سمرہ رضی الله عنہ سے حسن کا سماع صحیح ہے اور انہوں نے اسی حدیث سے دلیل پکڑی ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا عبدة، عن سعيد، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " صلاة الوسطى صلاة العصر " . قال وفي الباب عن علي وعبد الله بن مسعود وزيد بن ثابت وعايشة وحفصة وابي هريرة وابي هاشم بن عتبة . قال ابو عيسى قال محمد قال علي بن عبد الله حديث الحسن عن سمرة بن جندب حديث صحيح وقد سمع منه . وقال ابو عيسى حديث سمرة في صلاة الوسطى حديث حسن صحيح . وهو قول اكثر العلماء من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم . وقال زيد بن ثابت وعايشة صلاة الوسطى صلاة الظهر . وقال ابن عباس وابن عمر صلاة الوسطى صلاة الصبح . حدثنا ابو موسى محمد بن المثنى حدثنا قريش بن انس عن حبيب بن الشهيد قال قال لي محمد بن سيرين سل الحسن ممن سمع حديث العقيقة فسالته فقال سمعته من سمرة بن جندب . قال ابو عيسى واخبرني محمد بن اسماعيل حدثنا علي بن عبد الله بن المديني عن قريش بن انس بهذا الحديث . قال محمد قال علي وسماع الحسن من سمرة صحيح . واحتج بهذا الحديث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے صحابہ کرام رضی الله عنہم میں سے کئی لوگوں سے ( جن میں عمر بن خطاب بھی ہیں اور وہ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں ) سنا کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فجر کے بعد جب تک کہ سورج نکل نہ آئے ۱؎ اور عصر کے بعد جب تک کہ ڈوب نہ جائے نماز ۲؎ پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث جسے انہوں نے عمر سے روایت کی ہے، حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، ابن مسعود، عقبہ بن عامر، ابوہریرہ، ابن عمر، سمرہ بن جندب، عبداللہ بن عمرو، معاذ بن عفراء، صنابحی ( نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے انہوں نے نہیں سنا ہے ) سلمہ بن اکوع، زید بن ثابت، عائشہ، کعب بن مرہ، ابوامامہ، عمرو بن عبسہ، یعلیٰ ابن امیہ اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر فقہاء کا یہی قول ہے کہ انہوں نے فجر کے بعد سورج نکلنے تک اور عصر کے بعد سورج ڈوبنے تک نماز پڑھنے کو مکروہ جانا ہے، رہیں فوت شدہ نمازیں تو انہیں عصر کے بعد یا فجر کے بعد قضاء کرنے میں کوئی حرج نہیں، ۴- شعبہ کہتے ہیں کہ قتادہ نے ابوالعالیہ سے صرف تین چیزیں سنی ہیں۔ ایک عمر رضی الله عنہ کی حدیث جس میں ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ سورج نہ ڈوب جائے، اور فجر کے بعد بھی جب تک کہ سورج نکل نہ آئے، اور ( دوسری ) ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث جسے انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ یہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں اور ( تیسری ) علی رضی الله عنہ کی حدیث کہ قاضی تین قسم کے ہوتے ہیں“۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، اخبرنا منصور، وهو ابن زاذان عن قتادة، قال اخبرنا ابو العالية، عن ابن عباس، قال سمعت غير، واحد، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم عمر بن الخطاب وكان من احبهم الى ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الصلاة بعد الفجر حتى تطلع الشمس وعن الصلاة بعد العصر حتى تغرب الشمس . قال وفي الباب عن علي وابن مسعود وابي سعيد وعقبة بن عامر وابي هريرة وابن عمر وسمرة بن جندب وعبد الله بن عمرو ومعاذ بن عفراء والصنابحي ولم يسمع من النبي صلى الله عليه وسلم وسلمة بن الاكوع وزيد بن ثابت وعايشة وكعب بن مرة وابي امامة وعمرو بن عبسة ويعلى بن امية ومعاوية . قال ابو عيسى حديث ابن عباس عن عمر حديث حسن صحيح . وهو قول اكثر الفقهاء من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ومن بعدهم انهم كرهوا الصلاة بعد صلاة الصبح حتى تطلع الشمس وبعد صلاة العصر حتى تغرب الشمس واما الصلوات الفوايت فلا باس ان تقضى بعد العصر وبعد الصبح . قال علي بن المديني قال يحيى بن سعيد قال شعبة لم يسمع قتادة من ابي العالية الا ثلاثة اشياء حديث عمر ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن الصلاة بعد العصر حتى تغرب الشمس وبعد الصبح حتى تطلع الشمس وحديث ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا ينبغي لاحد ان يقول انا خير من يونس بن متى " . وحديث علي " القضاة ثلاثة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھیں، اس لیے کہ آپ کے پاس کچھ مال آیا تھا، جس کی وجہ سے آپ کو ظہر کے بعد کی دونوں رکعتیں پڑھنے کا موقع نہیں مل سکا تھا تو آپ نے انہیں عصر کے بعد پڑھا پھر آپ نے انہیں دوبارہ نہیں پڑھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، ام سلمہ، میمونہ اور ابوموسیٰ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- دیگر کئی لوگوں نے بھی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے عصر بعد دو رکعتیں پڑھیں یہ اس چیز کے خلاف ہے جو آپ سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے عصر کے بعد جب تک سورج ڈوب نہ جائے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے، ۴- ابن عباس والی حدیث جس میں ہے کہ آپ نے دوبارہ ایسا نہیں کیا، سب سے زیادہ صحیح ہے، ۵- زید بن ثابت سے بھی ابن عباس ہی کی حدیث کی طرح مروی ہے، ۶- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی کئی حدیثیں مروی ہیں، نیز ان سے یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب بھی ان کے یہاں عصر کے بعد آتے دو رکعتیں پڑھتے، ۷- نیز انہوں نے ام سلمہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ عصر کے بعد جب تک سورج ڈوب نہ جائے اور فجر کے بعد جب تک نکل نہ آئے نماز پڑھنے سے منع فرماتے تھے۔ ۸- اکثر اہل علم کا اتفاق بھی اسی پر ہے کہ عصر کے بعد جب تک سورج ڈوب نہ جائے اور فجر کے بعد جب تک نکل نہ آئے نماز پڑھنا مکروہ ہے سوائے ان نمازوں کے جو اس سے مستثنیٰ ہیں مثلاً مکہ میں عصر کے بعد طواف کی دونوں رکعتیں پڑھنا یہاں تک سورج ڈوب جائے اور فجر کے بعد یہاں تک کہ سورج نکل آئے، اس سلسلے میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے رخصت مروی ہے، صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے یہی کہا ہے۔ اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں، صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے بعض اہل علم نے عصر اور فجر کے بعد مکہ میں بھی نماز پڑھنے کو مکروہ جانا ہے، سفیان ثوری، مالک بن انس اور بعض اہل کوفہ اسی کے قائل ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا جرير، عن عطاء بن السايب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال انما صلى النبي صلى الله عليه وسلم الركعتين بعد العصر لانه اتاه مال فشغله عن الركعتين بعد الظهر فصلاهما بعد العصر ثم لم يعد لهما . وفي الباب عن عايشة وام سلمة وميمونة وابي موسى . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن . وقد روى غير واحد عن النبي صلى الله عليه وسلم انه صلى بعد العصر ركعتين . وهذا خلاف ما روي عنه انه نهى عن الصلاة بعد العصر حتى تغرب الشمس " . وحديث ابن عباس اصح حيث قال لم يعد لهما . وقد روي عن زيد بن ثابت نحو حديث ابن عباس . وقد روي عن عايشة في هذا الباب روايات روي عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم ما دخل عليها بعد العصر الا صلى ركعتين وروي عنها عن ام سلمة عن النبي صلى الله عليه وسلم انه نهى عن الصلاة بعد العصر حتى تغرب الشمس وبعد الصبح حتى تطلع الشمس . والذي اجتمع عليه اكثر اهل العلم على كراهية الصلاة بعد العصر حتى تغرب الشمس وبعد الصبح حتى تطلع الشمس الا ما استثني من ذلك مثل الصلاة بمكة بعد العصر حتى تغرب الشمس وبعد الصبح حتى تطلع الشمس بعد الطواف فقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم رخصة في ذلك . وقد قال به قوم من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ومن بعدهم . وبه يقول الشافعي واحمد واسحاق . وقد كره قوم من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ومن بعدهم الصلاة بمكة ايضا بعد العصر وبعد الصبح . وبه يقول سفيان الثوري ومالك بن انس وبعض اهل الكوفة
عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو نفلی نماز پڑھنا چاہے اس کے لیے ہر دو اذان ۱؎ کے درمیان نماز ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- صحابہ کرام کے درمیان مغرب سے پہلے کی نماز کے سلسلہ میں اختلاف پایا جاتا ہے، ان میں سے بعض کے نزدیک مغرب سے پہلے نماز نہیں، اور صحابہ میں سے کئی لوگوں سے مروی ہے کہ وہ لوگ مغرب سے پہلے اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے، ۴- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی انہیں پڑھے تو بہتر ہے، اور یہ ان دونوں کے نزدیک مستحب ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن كهمس بن الحسن، عن عبد الله بن بريدة، عن عبد الله بن مغفل، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " بين كل اذانين صلاة لمن شاء " . وفي الباب عن عبد الله بن الزبير . قال ابو عيسى حديث عبد الله بن مغفل حديث حسن صحيح . وقد اختلف اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم في الصلاة قبل المغرب فلم ير بعضهم الصلاة قبل المغرب . وقد روي عن غير واحد من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم انهم كانوا يصلون قبل صلاة المغرب ركعتين بين الاذان والاقامة . وقال احمد واسحاق ان صلاهما فحسن . وهذا عندهما على الاستحباب
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی تو اس نے فجر پالی، اور جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی تو اس نے عصر پالی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- ہمارے اصحاب، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، یہ حدیث ان کے نزدیک صاحب عذر کے لیے ہے مثلاً ایسے شخص کے لیے جو نماز سے سو گیا اور سورج نکلنے یا ڈوبنے کے وقت بیدار ہوا ہو یا اسے بھول گیا ہو اور وہ سورج نکلنے یا ڈوبنے کے وقت اسے نماز یاد آئی ہو۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك بن انس، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، وعن بسر بن سعيد، وعن الاعرج، يحدثونه عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من ادرك من الصبح ركعة قبل ان تطلع الشمس فقد ادرك الصبح ومن ادرك من العصر ركعة قبل ان تغرب الشمس فقد ادرك العصر " . وفي الباب عن عايشة . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . وبه يقول اصحابنا والشافعي واحمد واسحاق . ومعنى هذا الحديث عندهم لصاحب العذر مثل الرجل ينام عن الصلاة او ينساها فيستيقظ ويذكر عند طلوع الشمس وعند غروبها
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر خوف اور بارش ۱؎ کے مدینے میں ظہر اور عصر کو ایک ساتھ اور مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ جمع کیا ۲؎۔ ابن عباس رضی الله عنہما سے پوچھا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سے کیا منشأ تھی؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منشأ یہ تھی کہ آپ اپنی امت کو کسی پریشانی میں نہ ڈالیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۲- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث کئی سندوں سے مروی ہے، ابن عباس رضی الله عنہما سے اس کے خلاف بھی مرفوعاً مروی ہے ۳؎۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن حبيب بن ابي ثابت، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال جمع رسول الله صلى الله عليه وسلم بين الظهر والعصر وبين المغرب والعشاء بالمدينة من غير خوف ولا مطر . قال فقيل لابن عباس ما اراد بذلك قال اراد ان لا يحرج امته . وفي الباب عن ابي هريرة . قال ابو عيسى حديث ابن عباس قد روي عنه من غير وجه رواه جابر بن زيد وسعيد بن جبير وعبد الله بن شقيق العقيلي . وقد روي عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم غير هذا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بغیر عذر کے دو نمازیں ایک ساتھ پڑھیں وہ کبیرہ گناہوں کے دروازوں سے میں ایک دروازے میں داخل ہوا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حنش ہی ابوعلی رحبی ہیں اور وہی حسین بن قیس بھی ہے۔ یہ محدّثین کے نزدیک ضعیف ہے، احمد وغیرہ نے اس کی تضعیف کی ہے، ۲- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ سفر یا عرفہ کے سوا دو نمازیں ایک ساتھ نہ پڑھی جائیں، ۳- تابعین میں سے بعض اہل علم نے مریض کو دو نمازیں ایک ساتھ جمع کرنے کی رخصت دی ہے۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ بارش کے سبب بھی دو نمازیں جمع کی جا سکتی ہیں۔ شافعی، احمد، اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔ البتہ شافعی مریض کے لیے دو نمازیں ایک ساتھ جمع کرنے کو درست قرار نہیں دیتے۔
حدثنا ابو سلمة، يحيى بن خلف البصري حدثنا المعتمر بن سليمان، عن ابيه، عن حنش، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من جمع بين الصلاتين من غير عذر فقد اتى بابا من ابواب الكباير " . قال ابو عيسى وحنش هذا هو ابو علي الرحبي وهو حسين بن قيس وهو ضعيف عند اهل الحديث ضعفه احمد وغيره . والعمل على هذا عند اهل العلم ان لا يجمع بين الصلاتين الا في السفر او بعرفة . ورخص بعض اهل العلم من التابعين في الجمع بين الصلاتين للمريض وبه يقول احمد واسحاق . وقال بعض اهل العلم يجمع بين الصلاتين في المطر وبه يقول الشافعي واحمد واسحاق . ولم ير الشافعي للمريض ان يجمع بين الصلاتين