Loading...

Loading...
کتب
۳۰۳ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ کے پاس میری دو بار امامت کی، پہلی بار انہوں نے ظہر اس وقت پڑھی ( جب سورج ڈھل گیا اور ) سایہ جوتے کے تسمہ کے برابر ہو گیا، پھر عصر اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے ایک مثل ہو گیا ۱؎، پھر مغرب اس وقت پڑھی جب سورج ڈوب گیا اور روزے دار نے افطار کر لیا، پھر عشاء اس وقت پڑھی جب شفق ۲؎ غائب ہو گئی، پھر نماز فجر اس وقت پڑھی جب فجر روشن ہو گئی اور روزہ دار پر کھانا پینا حرام ہو گیا، دوسری بار ظہر کل کی عصر کے وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہو گیا، پھر عصر اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے دو مثل ہو گیا، پھر مغرب اس کے اول وقت ہی میں پڑھی ( جیسے پہلی بار میں پڑھی تھی ) پھر عشاء اس وقت پڑھی جب ایک تہائی رات گزر گئی، پھر فجر اس وقت پڑھی جب اجالا ہو گیا، پھر جبرائیل نے میری طرف متوجہ ہو کر کہا: اے محمد! یہی آپ سے پہلے کے انبیاء کے اوقات نماز تھے، آپ کی نمازوں کے اوقات بھی انہی دونوں وقتوں کے درمیان ہیں ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابوہریرہ، بریدہ، ابوموسیٰ، ابومسعود انصاری، ابوسعید، جابر، عمرو بن حرم، براء اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا عبد الرحمن بن ابي الزناد، عن عبد الرحمن بن الحارث بن عياش بن ابي ربيعة، عن حكيم بن حكيم، وهو ابن عباد بن حنيف اخبرني نافع بن جبير بن مطعم، قال اخبرني ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " امني جبريل عليه السلام عند البيت مرتين فصلى الظهر في الاولى منهما حين كان الفىء مثل الشراك ثم صلى العصر حين كان كل شيء مثل ظله ثم صلى المغرب حين وجبت الشمس وافطر الصايم ثم صلى العشاء حين غاب الشفق ثم صلى الفجر حين برق الفجر وحرم الطعام على الصايم . وصلى المرة الثانية الظهر حين كان ظل كل شيء مثله لوقت العصر بالامس ثم صلى العصر حين كان ظل كل شيء مثليه ثم صلى المغرب لوقته الاول ثم صلى العشاء الاخرة حين ذهب ثلث الليل ثم صلى الصبح حين اسفرت الارض ثم التفت الى جبريل فقال يا محمد هذا وقت الانبياء من قبلك . والوقت فيما بين هذين الوقتين " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي هريرة وبريدة وابي موسى وابي مسعود الانصاري وابي سعيد وجابر وعمرو بن حزم والبراء وانس
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل نے میری امامت کی“، پھر انہوں نے ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث کی طرح اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ البتہ انہوں نے اس میں «لوقت العصر بالأمس» کا ٹکڑا ذکر نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۱؎، اور ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: اوقات نماز کے سلسلے میں سب سے صحیح جابر رضی الله عنہ والی حدیث ہے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔
اخبرني احمد بن محمد بن موسى، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا حسين بن علي بن حسين، اخبرني وهب بن كيسان، عن جابر بن عبد الله، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " امني جبريل " . فذكر نحو حديث ابن عباس بمعناه . ولم يذكر فيه " لوقت العصر بالامس " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب . وحديث ابن عباس حديث حسن صحيح . وقال محمد اصح شيء في المواقيت حديث جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال وحديث جابر في المواقيت قد رواه عطاء بن ابي رباح وعمرو بن دينار وابو الزبير عن جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو حديث وهب بن كيسان عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کا ایک اول وقت ہے اور ایک آخری وقت، ظہر کا اول وقت وہ ہے جب سورج ڈھل جائے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب عصر کا وقت شروع ہو جائے، اور عصر کا اول وقت وہ ہے جب عصر کا وقت ( ایک مثل سے ) شروع ہو جائے اور آخری وقت وہ ہے جب سورج پیلا ہو جائے، اور مغرب کا اول وقت وہ ہے جب سورج ڈوب جائے اور آخری وقت وہ ہے جب شفق ۱؎ غائب ہو جائے، اور عشاء کا اول وقت وہ ہے جب شفق غائب ہو جائے اور اس کا آخر وقت وہ ہے جب آدھی رات ہو جائے ۲؎، اور فجر کا اول وقت وہ ہے جب فجر ( صادق ) طلوع ہو جائے اور آخری وقت وہ ہے جب سورج نکل جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت آئی ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ اوقات کے سلسلہ میں اعمش کی مجاہد سے روایت محمد بن فضیل کی اعمش سے روایت سے زیادہ صحیح ہے، محمد بن فضیل کی حدیث غلط ہے اس میں محمد بن فضیل سے چوک ہوئی ہے ۳؎، اس روایت کو ابواسحاق فزاری نے اعمش سے اور اعمش نے مجاہد سے روایت کیا ہے، مجاہد کہتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ نماز کا ایک اول وقت ہے اور ایک آخر وقت ہے، پھر محمد بن فضیل والی سابقہ حدیث کی طرح اسی کے ہم معنی کی حدیث بیان کی۔
حدثنا هناد، حدثنا محمد بن فضيل، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان للصلاة اولا واخرا وان اول وقت صلاة الظهر حين تزول الشمس واخر وقتها حين يدخل وقت العصر وان اول وقت صلاة العصر حين يدخل وقتها وان اخر وقتها حين تصفر الشمس وان اول وقت المغرب حين تغرب الشمس وان اخر وقتها حين يغيب الافق وان اول وقت العشاء الاخرة حين يغيب الافق وان اخر وقتها حين ينتصف الليل وان اول وقت الفجر حين يطلع الفجر وان اخر وقتها حين تطلع الشمس " . قال وفي الباب عن عبد الله بن عمرو . قال ابو عيسى وسمعت محمدا يقول حديث الاعمش عن مجاهد في المواقيت اصح من حديث محمد بن فضيل عن الاعمش وحديث محمد بن فضيل خطا اخطا فيه محمد بن فضيل . حدثنا هناد حدثنا ابو اسامة عن ابي اسحاق الفزاري عن الاعمش عن مجاهد قال كان يقال ان للصلاة اولا واخرا فذكر نحو حديث محمد بن فضيل عن الاعمش نحوه بمعناه
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، اس نے آپ سے اوقات نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: تم ہمارے ساتھ قیام کرو ( تمہیں نماز کے اوقات معلوم ہو جائیں گے ) ان شاءاللہ، پھر آپ نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی جب فجر ( صادق ) طلوع ہو گئی پھر آپ نے حکم دیا تو انہوں نے سورج ڈھلنے کے بعد اقامت کہی تو آپ نے ظہر پڑھی، پھر آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی آپ نے عصر پڑھی اس وقت سورج روشن اور بلند تھا، پھر جب سورج ڈوب گیا تو آپ نے انہیں مغرب کا حکم دیا، پھر جب شفق غائب ہو گئی تو آپ نے انہیں عشاء کا حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی، پھر دوسرے دن انہیں حکم دیا تو انہوں نے فجر کو خوب اجالا کر کے پڑھا، پھر آپ نے انہیں ظہر کا حکم دیا تو انہوں نے ٹھنڈا کیا، اور خوب ٹھنڈا کیا، پھر آپ نے انہیں عصر کا حکم دیا اور انہوں نے اقامت کہی تو اس وقت سورج اس کے آخر وقت میں اس سے زیادہ تھا جتنا پہلے دن تھا ( یعنی دوسرے دن عصر میں تاخیر ہوئی ) ، پھر آپ نے انہیں مغرب میں دیر کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے مغرب کو شفق کے ڈوبنے سے کچھ پہلے تک مؤخر کیا، پھر آپ نے انہیں عشاء کا حکم دیا تو انہوں نے جب تہائی رات ختم ہو گئی تو اقامت کہی، پھر آپ نے فرمایا: ”نماز کے اوقات کے بارے میں پوچھنے والا کہاں ہے؟“ تو اس آدمی نے عرض کیا: میں ہوں، آپ نے فرمایا: ”نماز کے اوقات انہیں دونوں کے بیچ میں ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن، غریب صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، والحسن بن الصباح البزار، واحمد بن محمد بن موسى المعنى، واحد، قالوا حدثنا اسحاق بن يوسف الازرق، عن سفيان الثوري، عن علقمة بن مرثد، عن سليمان بن بريدة، عن ابيه، قال اتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل فساله عن مواقيت الصلاة فقال " اقم معنا ان شاء الله " . فامر بلالا فاقام حين طلع الفجر ثم امره فاقام حين زالت الشمس فصلى الظهر ثم امره فاقام فصلى العصر والشمس بيضاء مرتفعة ثم امره بالمغرب حين وقع حاجب الشمس ثم امره بالعشاء فاقام حين غاب الشفق ثم امره من الغد فنور بالفجر ثم امره بالظهر فابرد وانعم ان يبرد ثم امره بالعصر فاقام والشمس اخر وقتها فوق ما كانت ثم امره فاخر المغرب الى قبيل ان يغيب الشفق ثم امره بالعشاء فاقام حين ذهب ثلث الليل ثم قال " اين السايل عن مواقيت الصلاة " . فقال الرجل انا . فقال " مواقيت الصلاة كما بين هذين " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح . قال وقد رواه شعبة عن علقمة بن مرثد ايضا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم جب فجر پڑھا لیتے تو پھر عورتیں چادروں میں لپٹی ہوئی لوٹتیں وہ اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، انس، اور قیلہ بنت مخرمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور اسی کو صحابہ کرام جن میں ابوبکر و عمر رضی الله عنہما بھی شامل ہیں اور ان کے بعد کے تابعین میں سے بہت سے اہل علم نے پسند کیا ہے، اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ فجر «غلس» ( اندھیرے ) میں پڑھنا مستحب ہے۔
حدثنا قتيبة، عن مالك بن انس، قال وحدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن يحيى بن سعيد، عن عمرة، عن عايشة، قالت ان كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليصلي الصبح فينصرف النساء قال الانصاري فيمر النساء متلففات بمروطهن ما يعرفن من الغلس . وقال قتيبة متلفعات . قال وفي الباب عن ابن عمر وانس وقيلة بنت مخرمة . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح . وقد رواه الزهري عن عروة عن عايشة نحوه . وهو الذي اختاره غير واحد من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم ابو بكر وعمر ومن بعدهم من التابعين وبه يقول الشافعي واحمد واسحاق يستحبون التغليس بصلاة الفجر
رافع بن خدیج رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”فجر خوب اجالا کر کے پڑھو، کیونکہ اس میں زیادہ ثواب ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- رافع بن خدیج کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوبرزہ اسلمی، جابر اور بلال رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام اور تابعین میں سے کئی اہل علم کی رائے نماز فجر اجالا ہونے پر پڑھنے کی ہے۔ یہی سفیان ثوری بھی کہتے ہیں۔ اور شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ «اسفار» ”اجالا ہونے“ کا مطلب یہ ہے کہ فجر واضح ہو جائے اور اس کے طلوع میں کوئی شک نہ رہے، «اسفار» کا یہ مطلب نہیں کہ نماز تاخیر ( دیر ) سے ادا کی جائے ۱؎۔
حدثنا هناد، حدثنا عبدة، - هو ابن سليمان - عن محمد بن اسحاق، عن عاصم بن عمر بن قتادة، عن محمود بن لبيد، عن رافع بن خديج، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اسفروا بالفجر فانه اعظم للاجر " . قال وقد روى شعبة والثوري هذا الحديث عن محمد بن اسحاق . قال ورواه محمد بن عجلان ايضا عن عاصم بن عمر بن قتادة . قال وفي الباب عن ابي برزة الاسلمي وجابر وبلال . قال ابو عيسى حديث رافع بن خديج حديث حسن صحيح . وقد راى غير واحد من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين الاسفار بصلاة الفجر . وبه يقول سفيان الثوري . وقال الشافعي واحمد واسحاق معنى الاسفار ان يضح الفجر فلا يشك فيه ولم يروا ان معنى الاسفار تاخير الصلاة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ظہر کو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے بڑھ کر جلدی کرنے والا میں نے کسی کو نہیں دیکھا، اور نہ ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما سے بڑھ کر جلدی کرنے والا کسی کو دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں جابر بن عبداللہ، خباب، ابوبرزہ، ابن مسعود، زید بن ثابت، انس اور جابر بن سمرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں اور عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن ہے، ۲- اور اسی کو صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں اہل علم نے اختیار کیا ہے۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن حكيم بن جبير، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت ما رايت احدا كان اشد تعجيلا للظهر من رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا من ابي بكر ولا من عمر . قال وفي الباب عن جابر بن عبد الله وخباب وابي برزة وابن مسعود وزيد بن ثابت وانس وجابر بن سمرة . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن . وهو الذي اختاره اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ومن بعدهم . قال علي بن المديني قال يحيى بن سعيد وقد تكلم شعبة في حكيم بن جبير من اجل حديثه الذي روى عن ابن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم " من سال الناس وله ما يغنيه " . قال يحيى وروى له سفيان وزايدة ولم ير يحيى بحديثه باسا . قال محمد وقد روي عن حكيم بن جبير عن سعيد بن جبير عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم في تعجيل الظهر
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے نماز ظہر اس وقت پڑھی جس وقت سورج ڈھل گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے اور یہ اس باب میں سب سے اچھی حدیث ہے، ۲- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی حدیث آئی ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الحلواني، اخبرنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، قال اخبرني انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى الظهر حين زالت الشمس . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح . وهو احسن حديث في هذا الباب . وفي الباب عن جابر
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب گرمی سخت ہو تو نماز ٹھنڈا ہونے پر پڑھو ۱؎ کیونکہ گرمی کی تیزی جہنم کی بھاپ سے ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوسعید، ابوذر، ابن عمر، مغیرہ، اور قاسم بن صفوان کے باپ ابوموسیٰ، ابن عباس اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اس سلسلے میں عمر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے، لیکن یہ صحیح نہیں، ۴- اہل علم میں کچھ لوگوں نے سخت گرمی میں ظہر تاخیر سے پڑھنے کو پسند کیا ہے۔ یہی ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ شافعی کہتے ہیں: ظہر ٹھنڈا کر کے پڑھنے کی بات اس وقت کی ہے جب مسجد والے دور سے آتے ہوں، رہا اکیلے نماز پڑھنے والا اور وہ شخص جو اپنے ہی لوگوں کی مسجد میں نماز پڑھتا ہو تو میں اس کے لیے یہی پسند کرتا ہوں کہ وہ سخت گرمی میں بھی نماز کو دیر سے نہ پڑھے، ۵- جو لوگ گرمی کی شدت میں ظہر کو دیر سے پڑھنے کی طرف گئے ہیں ان کا مذہب زیادہ بہتر اور اتباع کے زیادہ لائق ہے، رہی وہ بات جس کی طرف شافعی کا رجحان ہے کہ یہ رخصت اس کے لیے ہے جو دور سے آتا ہوتا کہ لوگوں کو پریشانی نہ ہو تو ابوذر رضی الله عنہ کی حدیث میں کچھ ایسی باتیں ہیں جو اس چیز پر دلالت کرتی ہیں جو امام شافعی کے قول کے خلاف ہیں۔ ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہم لوگ ایک سفر میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھے، بلال رضی اللہ عنہ نے نماز ظہر کے لیے اذان دی، تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال! ٹھنڈا ہو جانے دو، ٹھنڈا ہو جانے دو“ ( یہ حدیث آگے آ رہی ہے ) ، اب اگر بات ایسی ہوتی جس کی طرف شافعی گئے ہیں، تو اس وقت ٹھنڈا کرنے کا کوئی مطلب نہ ہوتا، اس لیے کہ سفر میں سب لوگ اکٹھا تھے، انہیں دور سے آنے کی ضرورت نہ تھی۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، وابي، سلمة عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اشتد الحر فابردوا عن الصلاة فان شدة الحر من فيح جهنم " . قال وفي الباب عن ابي سعيد وابي ذر وابن عمر والمغيرة والقاسم بن صفوان عن ابيه وابي موسى وابن عباس وانس . قال وروي عن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم في هذا ولا يصح . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . وقد اختار قوم من اهل العلم تاخير صلاة الظهر في شدة الحر وهو قول ابن المبارك واحمد واسحاق . قال الشافعي انما الابراد بصلاة الظهر اذا كان مسجدا ينتاب اهله من البعد فاما المصلي وحده والذي يصلي في مسجد قومه فالذي احب له ان لا يوخر الصلاة في شدة الحر . قال ابو عيسى ومعنى من ذهب الى تاخير الظهر في شدة الحر هو اولى واشبه بالاتباع واما ما ذهب اليه الشافعي ان الرخصة لمن ينتاب من البعد والمشقة على الناس فان في حديث ابي ذر ما يدل على خلاف ما قال الشافعي . قال ابو ذر كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر فاذن بلال بصلاة الظهر فقال النبي صلى الله عليه وسلم " يا بلال ابرد ثم ابرد " . فلو كان الامر على ما ذهب اليه الشافعي لم يكن للابراد في ذلك الوقت معنى لاجتماعهم في السفر وكانوا لا يحتاجون ان ينتابوا من البعد
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ایک سفر میں تھے، ساتھ میں بلال رضی الله عنہ بھی تھے۔ بلال رضی الله عنہ نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا: ”ٹھنڈا ہو جانے دو“۔ انہوں نے پھر اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھ“۔ وہ کہتے ہیں ( ظہر تاخیر سے پڑھی گئی ) یہاں تک کہ ہم نے ٹیلوں کا سایہ دیکھ لیا تب انہوں نے اقامت کہی پھر آپ نے نماز پڑھی، پھر فرمایا: ”گرمی کی تیزی جہنم کی بھاپ سے ہے۔ لہٰذا نماز ٹھنڈے میں پڑھا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود الطيالسي، قال انبانا شعبة، عن مهاجر ابي الحسن، عن زيد بن وهب، عن ابي ذر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان في سفر ومعه بلال فاراد بلال ان يقيم فقال " ابرد " . ثم اراد ان يقيم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ابرد في الظهر " . قال حتى راينا فىء التلول ثم اقام فصلى فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان شدة الحر من فيح جهنم فابردوا عن الصلاة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے عصر پڑھی اس حال میں کہ دھوپ ان کے کمرے میں تھی، ان کے کمرے کے اندر کا سایہ پورب والی دیوار پر نہیں چڑھا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس، ابوارویٰ، جابر اور رافع بن خدیج رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ( اور رافع رضی الله عنہ سے عصر کو مؤخر کرنے کی بھی روایت کی جاتی ہے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ لیکن یہ صحیح نہیں ہے، ۳- صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم نے جن میں عمر، عبداللہ بن مسعود، عائشہ اور انس رضی الله عنہم بھی شامل ہیں اور تابعین میں سے کئی لوگوں نے اسی کو اختیار کیا ہے کہ عصر جلدی پڑھی جائے اور اس میں تاخیر کرنے کو ان لوگوں نے مکروہ سمجھا ہے اسی کے قائل عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی ہیں۔)
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، انها قالت صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم العصر والشمس في حجرتها لم يظهر الفىء من حجرتها . قال وفي الباب عن انس وابي اروى وجابر ورافع بن خديج . قال ويروى عن رافع ايضا عن النبي صلى الله عليه وسلم في تاخير العصر ولا يصح . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح . وهو الذي اختاره بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم عمر وعبد الله بن مسعود وعايشة وانس وغير واحد من التابعين تعجيل صلاة العصر وكرهوا تاخيرها . وبه يقول عبد الله بن المبارك والشافعي واحمد واسحاق
علاء بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ وہ بصرہ میں جس وقت ظہر پڑھ کر لوٹے تو وہ انس بن مالک رضی الله عنہ کے پاس ان کے گھر آئے، ان کا گھر مسجد کے بغل ہی میں تھا۔ انس بن مالک نے کہا: اٹھو چلو عصر پڑھو، تو ہم نے اٹھ کر نماز پڑھی، جب پڑھ چکے تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”یہ منافق کی نماز ہے کہ بیٹھا سورج کو دیکھتا رہے، یہاں تک کہ جب وہ شیطان کی دونوں سینگوں کے درمیان آ جائے تو اٹھے اور چار ٹھونگیں مار لے، اور ان میں اللہ کو تھوڑا ہی یاد کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن العلاء بن عبد الرحمن، انه دخل على انس بن مالك في داره بالبصرة حين انصرف من الظهر وداره بجنب المسجد فقال قوموا فصلوا العصر . قال فقمنا فصلينا فلما انصرفنا قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " تلك صلاة المنافق يجلس يرقب الشمس حتى اذا كانت بين قرنى الشيطان قام فنقر اربعا لا يذكر الله فيها الا قليلا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ظہر میں تم لوگوں سے زیادہ جلدی کرتے تھے اور تم لوگ عصر میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے زیادہ جلدی کرتے ہو ۱؎۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن ايوب، عن ابن ابي مليكة، عن ام سلمة، انها قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اشد تعجيلا للظهر منكم وانتم اشد تعجيلا للعصر منه
امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث اسماعیل بن علیہ سے بطریق «ابن جريج عن ابن أبي مليكة عن أم سلمة» اسی طرح روایت کی گئی ہے۔ اور مجھے اپنی کتاب میں اس کی سند یوں ملی کہ مجھے علی بن حجر نے خبر دی انہوں نے اسماعیل بن ابراہیم سے اور اسماعیل نے ابن جریج سے روایت کی ہے۔
قال ابو عيسى وقد روي هذا الحديث، عن اسماعيل ابن علية، عن ابن جريج، عن ابن ابي مليكة، عن ام سلمة، نحوه . ووجدت في كتابي اخبرني علي بن حجر، عن اسماعيل بن ابراهيم، عن ابن جريج،
اسماعیل بن علیہ کی ابن جریج سے روایت زیادہ صحیح ہے ۱؎۔
وحدثنا بشر بن معاذ البصري، قال حدثنا اسماعيل ابن علية، عن ابن جريج، بهذا الاسناد نحوه . وهذا اصح
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم مغرب اس وقت پڑھتے جب سورج ڈوب جاتا اور پردے میں چھپ جاتا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سلمہ بن الاکوع والی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، صنابحی، زید بن خالد، انس، رافع بن خدیج، ابوایوب، ام حبیبہ، عباس بن عبدالمطلب اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- عباس رضی الله عنہ کی حدیث ان سے موقوفاً روایت کی گئی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے، ۴- اور صنابحی نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے نہیں سنا ہے، وہ تو ابوبکر رضی الله عنہ کے دور کے ہیں، ۵- اور یہی قول صحابہ کرام اور ان کے بعد تابعین میں سے اکثر اہل علم کا ہے، ان لوگوں نے نماز مغرب جلدی پڑھنے کو پسند کیا ہے اور اسے مؤخر کرنے کو مکروہ سمجھا ہے، یہاں تک کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مغرب کا ایک ہی وقت ہے ۲؎، یہ تمام حضرات نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی اس حدیث کی طرف گئے ہیں جس میں ہے کہ جبرائیل نے آپ کو نماز پڑھائی اور یہی ابن مبارک اور شافعی کا قول ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن يزيد بن ابي عبيد، عن سلمة بن الاكوع، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي المغرب اذا غربت الشمس وتوارت بالحجاب " . قال وفي الباب عن جابر والصنابحي وزيد بن خالد وانس ورافع بن خديج وابي ايوب وام حبيبة وعباس بن عبد المطلب وابن عباس . وحديث العباس قد روي موقوفا عنه وهو اصح . والصنابحي لم يسمع من النبي صلى الله عليه وسلم وهو صاحب ابي بكر رضى الله عنه . قال ابو عيسى حديث سلمة بن الاكوع حديث حسن صحيح . وهو قول اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ومن بعدهم من التابعين اختاروا تعجيل صلاة المغرب وكرهوا تاخيرها حتى قال بعض اهل العلم ليس لصلاة المغرب الا وقت واحد وذهبوا الى حديث النبي صلى الله عليه وسلم حيث صلى به جبريل . وهو قول ابن المبارك والشافعي
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ اس نماز عشاء کے وقت کو لوگوں میں سب سے زیادہ میں جانتا ہوں، رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم اسے تیسری تاریخ کا چاند ڈوبنے کے وقت پڑھتے تھے ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا ابو عوانة، عن ابي بشر، عن بشير بن ثابت، عن حبيب بن سالم، عن النعمان بن بشير، قال انا اعلم الناس، بوقت هذه الصلاة كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصليها لسقوط القمر لثالثة
اس طریق سے بھی ابو عوانہ سے اسی سند سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی نے پہلے ابو عوانہ کا طریق ذکر کیا پھر ہشیم کے طریق کا اور فرمایا: ابو عوانہ والی حدیث ہمارے نزدیک زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا ابو بكر، محمد بن ابان حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن ابي عوانة، بهذا الاسناد نحوه . قال ابو عيسى روى هذا الحديث، هشيم عن ابي بشر، عن حبيب بن سالم، عن النعمان بن بشير، . ولم يذكر فيه هشيم عن بشير بن ثابت، . وحديث ابي عوانة اصح عندنا لان يزيد بن هارون روى عن شعبة، عن ابي بشر، نحو رواية ابي عوانة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اپنی امت پر دشوار نہ سمجھتا تو میں عشاء کو تہائی رات یا آدھی رات تک دیر کر کے پڑھنے کا حکم دیتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر بن سمرہ، جابر بن عبداللہ، ابوبرزہ، ابن عباس، ابو سعید خدری، زید بن خالد اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور اسی کو صحابہ کرام اور تابعین وغیرہم میں سے اکثر اہل علم نے پسند کیا ہے، ان کی رائے ہے کہ عشاء تاخیر سے پڑھی جائے، اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا عبدة، عن عبيد الله بن عمر، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لولا ان اشق على امتي لامرتهم ان يوخروا العشاء الى ثلث الليل او نصفه " . قال وفي الباب عن جابر بن سمرة وجابر بن عبد الله وابي برزة وابن عباس وابي سعيد الخدري وزيد بن خالد وابن عمر . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . وهو الذي اختاره اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين وغيرهم راوا تاخير صلاة العشاء الاخرة وبه يقول احمد واسحاق
ابوبرزہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند فرماتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوبرزہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، عبداللہ بن مسعود اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور اکثر اہل علم نے نماز عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات کرنے کو مکروہ کہا ہے، اور بعض نے اس کی اجازت دی ہے، عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: اکثر حدیثیں کراہت پر دلالت کرنے والی ہیں، اور بعض لوگوں نے رمضان میں عشاء سے پہلے سونے کی اجازت دی ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، اخبرنا عوف، قال احمد وحدثنا عباد بن عباد، هو المهلبي واسماعيل ابن علية جميعا عن عوف، عن سيار بن سلامة، هو ابو المنهال الرياحي عن ابي برزة، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يكره النوم قبل العشاء والحديث بعدها . قال وفي الباب عن عايشة وعبد الله بن مسعود وانس . قال ابو عيسى حديث ابي برزة حديث حسن صحيح . وقد كره اكثر اهل العلم النوم قبل صلاة العشاء والحديث بعدها ورخص في ذلك بعضهم . وقال عبد الله بن المبارك اكثر الاحاديث على الكراهية . ورخص بعضهم في النوم قبل صلاة العشاء في رمضان . وسيار بن سلامة هو ابو المنهال الرياحي