احادیث
#157
سنن ترمذی - Salat (Prayer)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب گرمی سخت ہو تو نماز ٹھنڈا ہونے پر پڑھو ۱؎ کیونکہ گرمی کی تیزی جہنم کی بھاپ سے ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوسعید، ابوذر، ابن عمر، مغیرہ، اور قاسم بن صفوان کے باپ ابوموسیٰ، ابن عباس اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اس سلسلے میں عمر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے، لیکن یہ صحیح نہیں، ۴- اہل علم میں کچھ لوگوں نے سخت گرمی میں ظہر تاخیر سے پڑھنے کو پسند کیا ہے۔ یہی ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ شافعی کہتے ہیں: ظہر ٹھنڈا کر کے پڑھنے کی بات اس وقت کی ہے جب مسجد والے دور سے آتے ہوں، رہا اکیلے نماز پڑھنے والا اور وہ شخص جو اپنے ہی لوگوں کی مسجد میں نماز پڑھتا ہو تو میں اس کے لیے یہی پسند کرتا ہوں کہ وہ سخت گرمی میں بھی نماز کو دیر سے نہ پڑھے، ۵- جو لوگ گرمی کی شدت میں ظہر کو دیر سے پڑھنے کی طرف گئے ہیں ان کا مذہب زیادہ بہتر اور اتباع کے زیادہ لائق ہے، رہی وہ بات جس کی طرف شافعی کا رجحان ہے کہ یہ رخصت اس کے لیے ہے جو دور سے آتا ہوتا کہ لوگوں کو پریشانی نہ ہو تو ابوذر رضی الله عنہ کی حدیث میں کچھ ایسی باتیں ہیں جو اس چیز پر دلالت کرتی ہیں جو امام شافعی کے قول کے خلاف ہیں۔ ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہم لوگ ایک سفر میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھے، بلال رضی اللہ عنہ نے نماز ظہر کے لیے اذان دی، تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال! ٹھنڈا ہو جانے دو، ٹھنڈا ہو جانے دو“ ( یہ حدیث آگے آ رہی ہے ) ، اب اگر بات ایسی ہوتی جس کی طرف شافعی گئے ہیں، تو اس وقت ٹھنڈا کرنے کا کوئی مطلب نہ ہوتا، اس لیے کہ سفر میں سب لوگ اکٹھا تھے، انہیں دور سے آنے کی ضرورت نہ تھی۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، وابي، سلمة عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اشتد الحر فابردوا عن الصلاة فان شدة الحر من فيح جهنم " . قال وفي الباب عن ابي سعيد وابي ذر وابن عمر والمغيرة والقاسم بن صفوان عن ابيه وابي موسى وابن عباس وانس . قال وروي عن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم في هذا ولا يصح . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . وقد اختار قوم من اهل العلم تاخير صلاة الظهر في شدة الحر وهو قول ابن المبارك واحمد واسحاق . قال الشافعي انما الابراد بصلاة الظهر اذا كان مسجدا ينتاب اهله من البعد فاما المصلي وحده والذي يصلي في مسجد قومه فالذي احب له ان لا يوخر الصلاة في شدة الحر . قال ابو عيسى ومعنى من ذهب الى تاخير الظهر في شدة الحر هو اولى واشبه بالاتباع واما ما ذهب اليه الشافعي ان الرخصة لمن ينتاب من البعد والمشقة على الناس فان في حديث ابي ذر ما يدل على خلاف ما قال الشافعي . قال ابو ذر كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر فاذن بلال بصلاة الظهر فقال النبي صلى الله عليه وسلم " يا بلال ابرد ثم ابرد " . فلو كان الامر على ما ذهب اليه الشافعي لم يكن للابراد في ذلك الوقت معنى لاجتماعهم في السفر وكانوا لا يحتاجون ان ينتابوا من البعد
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Salat (Prayer)
- Hadith Index
- #157
- Book Index
- 9
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
