Loading...

Loading...
کتب
۵۴ احادیث
قتادہ بن نعمان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے دنیا سے اسی طرح بچاتا ہے، جس طرح تم میں سے کوئی آدمی اپنے بیمار کو پانی سے بچاتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث محمود بن لبید کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل طریقہ سے آئی ہے، ۳- اس باب میں صہیب اور ام منذر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن يحيى، قال حدثنا اسحاق بن محمد الفروي، قال حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن عمارة بن غزية، عن عاصم بن عمر بن قتادة، عن محمود بن لبيد، عن قتادة بن النعمان، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا احب الله عبدا حماه الدنيا كما يظل احدكم يحمي سقيمه الماء " . قال ابو عيسى وفي الباب عن صهيب وام المنذر . وهذا حديث حسن غريب . وقد روي هذا الحديث عن محمود بن لبيد عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا . حدثنا علي بن حجر، قال اخبرنا اسماعيل بن جعفر، عن عمرو بن ابي عمرو، عن عاصم بن عمر بن قتادة، عن محمود بن لبيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه ولم يذكر فيه عن قتادة بن النعمان . قال ابو عيسى وقتادة بن النعمان الظفري هو اخو ابي سعيد الخدري لامه ومحمود بن لبيد قد ادرك النبي صلى الله عليه وسلم وراه وهو غلام صغير
ام منذر رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی رضی الله عنہ کے ساتھ میرے گھر تشریف لائے، ہمارے گھر کھجور کے خوشے لٹکے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کھانے لگے اور آپ کے ساتھ علی رضی الله عنہ بھی کھانے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی الله عنہ سے فرمایا: علی! ٹھہر جاؤ، ٹھہر جاؤ، اس لیے کہ ابھی ابھی بیماری سے اٹھے ہو، ابھی کمزوری باقی ہے، ام منذر کہتی ہیں: علی رضی الله عنہ بیٹھ گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھاتے رہے، پھر میں نے ان کے لیے چقندر اور جو تیار کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: علی! اس میں سے لو ( کھاؤ ) ، یہ تمہارے مزاج کے موافق ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف فلیح کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- یہ حدیث فلیح سے بھی مروی ہے جسے وہ ایوب بن عبدالرحمٰن سے روایت کرتے ہیں۔
حدثنا عباس بن محمد الدوري، قال حدثنا يونس بن محمد، قال حدثنا فليح بن سليمان، عن عثمان بن عبد الرحمن التيمي، عن يعقوب بن ابي يعقوب، عن ام المنذر، قالت دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه علي ولنا دوال معلقة قالت فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم ياكل وعلي معه ياكل . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي " مه مه يا علي فانك ناقه " . قال فجلس علي والنبي صلى الله عليه وسلم ياكل . قالت فجعلت لهم سلقا وشعيرا فقال النبي صلى الله عليه وسلم " يا علي من هذا فاصب فانه اوفق لك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث فليح . ويروى عن فليح عن ايوب بن عبد الرحمن . حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا ابو عامر، وابو داود قالا حدثنا فليح بن سليمان، عن ايوب بن عبد الرحمن، عن يعقوب، عن ام المنذر الانصارية، في حديثه قالت دخل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر نحو حديث يونس بن محمد الا انه قال " انفع لك " . وقال محمد بن بشار وحدثنيه ايوب بن عبد الرحمن . هذا حديث جيد غريب
اسامہ بن شریک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اعرابیوں ( بدوؤں ) نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا ہم ( بیماریوں کا ) علاج کریں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اللہ کے بندو! علاج کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بیماری پیدا کی ہے اس کی دوا بھی ضرور پیدا کی ہے، سوائے ایک بیماری کے“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کون سی بیماری ہے؟ آپ نے فرمایا: ”بڑھاپا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، ابوہریرہ، «ابو خزامہ عن أبیہ»، اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا بشر بن معاذ العقدي، قال حدثنا ابو عوانة، عن زياد بن علاقة، عن اسامة بن شريك، قال قالت الاعراب يا رسول الله الا نتداوى قال " نعم يا عباد الله تداووا فان الله لم يضع داء الا وضع له شفاء او قال دواء الا داء واحدا " . قالوا يا رسول الله وما هو قال " الهرم " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابن مسعود وابي هريرة وابي خزامة عن ابيه وابن عباس . وهذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کو تپ دق آتا تو آپ «حساء» ۱؎ تیار کرنے کا حکم دیتے، «حساء» تیار کیا جاتا، پھر آپ ان کو تھوڑا تھوڑا پینے کا حکم دیتے، تو وہ اس میں سے پیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ” «حساء» غمگین کے دل کو تقویت دیتا ہے، اور مریض کے دل سے اسی طرح تکلیف دور کرتا ہے، جس طرح تم میں سے کوئی پانی کے ذریعہ اپنے چہرے سے میل دور کرتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، قال اخبرنا اسماعيل بن ابراهيم،قال حدثنا محمد بن السايب بن بركة، عن امه، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اخذ اهله الوعك امر بالحساء فصنع ثم امرهم فحسوا منه وكان يقول " انه ليرتو فواد الحزين ويسرو عن فواد السقيم كما تسرو احداكن الوسخ بالماء عن وجهها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد رواه ابن المبارك عن يونس، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم . حدثنا بذلك الحسين بن محمد، حدثنا ابو اسحاق الطالقاني، عن ابن المبارك، عن يونس، عن الزهري بمعناه
عقبہ بن عامر جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے بیماروں کو کھانے پر مجبور نہ کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں کھلاتا پلاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا ابو كريب، قال حدثنا بكر بن يونس بن بكير، عن موسى بن علي، عن ابيه، عن عقبة بن عامر الجهني، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تكرهوا مرضاكم على الطعام فان الله تبارك و تعالى يطعمهم ويسقيهم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اس کالے دانہ ( کلونجی ) کو لازمی استعمال کرو اس لیے کہ اس میں «سام» کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء موجود ہے، «سام» موت کو کہتے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں بریدہ، ابن عمر اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- «الحبة السوداء»، «شونيز» ( کلونجی ) کو کہتے ہیں۔
حدثنا ابن ابي عمر، وسعيد بن عبد الرحمن المخزومي، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " عليكم بهذه الحبة السوداء فان فيها شفاء من كل داء الا السام " . والسام الموت . قال ابو عيسى وفي الباب عن بريدة وابن عمر وعايشة . وهذا حديث حسن صحيح . والحبة السوداء هي الشونيز
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مدینہ آئے، انہیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہیں آئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقہ کے اونٹوں کے ساتھ ( چراگاہ کی طرف ) روانہ کیا اور فرمایا: ”تم لوگ اونٹنیوں کے دودھ اور پیشاب پیو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے۔
حدثنا الحسن بن محمد الزعفراني، قال حدثنا عفان، قال حدثنا حماد بن سلمة، قال اخبرنا حميد، وثابت، وقتادة، عن انس، ان ناسا، من عرينة قدموا المدينة فاجتووها فبعثهم رسول الله صلى الله عليه وسلم في ابل الصدقة وقال " اشربوا من البانها وابوالها " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابن عباس . وهذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے لوہے کے ہتھیار سے اپنی جان لی، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے ہاتھ میں وہ ہتھیار ہو گا اور وہ اسے جہنم کی آگ میں ہمیشہ اپنے پیٹ میں گھونپکتا رہے گا، اور جس نے زہر کھا کر خودکشی کی، تو اس کے ہاتھ میں وہ زہر ہو گا، اور وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ اسے پیتا رہے گا“ ۱؎۔
حدثنا احمد بن منيع، قال حدثنا عبيدة بن حميد، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، اراه رفعه قال " من قتل نفسه بحديدة جاء يوم القيامة وحديدته في يده يتوجا بها في بطنه في نار جهنم خالدا مخلدا ابدا ومن قتل نفسه بسم فسمه في يده يتحساه في نار جهنم خالدا مخلدا ابدا
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے لوہے سے اپنی جان لی، اس کے ہاتھ میں وہ ہتھیار ہو گا اور وہ اسے جہنم کی آگ میں ہمیشہ اپنے پیٹ میں گھونپکتا رہے گا، اور جس نے زہر کھا کر خودکشی کی، تو اس کے ہاتھ میں زہر ہو گا اور وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ اسے پیتا رہے گا، اور جس نے پہاڑ سے گر کر خودکشی کی، وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ گرتا رہے گا“۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو داود، عن شعبة، عن الاعمش، قال سمعت ابا صالح، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قتل نفسه بحديدة فحديدته في يده يتوجا بها في بطنه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها ابدا ومن قتل نفسه بسم فسمه في يده يتحساه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها ابدا ومن تردى من جبل فقتل نفسه فهو يتردى في نار جهنم خالدا مخلدا فيها ابدا " . حدثنا محمد بن العلاء، قال حدثنا وكيع، وابو معاوية عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو حديث شعبة عن الاعمش . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح وهو اصح من الحديث الاول . هكذا روى غير واحد هذا الحديث عن الاعمش عن ابي صالح عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم . وروى محمد بن عجلان عن سعيد المقبري عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من قتل نفسه بسم عذب في نار جهنم " . ولم يذكر فيه خالدا مخلدا فيها ابدا . وهكذا رواه ابو الزناد عن الاعرج عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم وهذا اصح لان الروايات انما تجيء بان اهل التوحيد يعذبون في النار ثم يخرجون منها ولم يذكر انهم يخلدون فيها
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبیث دوا استعمال کرنے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: خبیث دوا سے وہ دوا مراد ہے جس میں زہر ہو ۱؎۔
حدثنا سويد بن نصر، قال اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن يونس بن ابي اسحاق، عن مجاهد، عن ابي هريرة، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الدواء الخبيث . قال ابو عيسى يعني السم
وائل بن حجر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھے جب سوید بن طارق یا طارق بن سوید نے آپ سے شراب کے بارے میں پوچھا تو آپ نے انہیں شراب سے منع فرمایا، سوید نے کہا: ہم لوگ تو اس سے علاج کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دوا نہیں بلکہ وہ تو خود بیماری ہے“۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو داود، عن شعبة، عن سماك، انه سمع علقمة بن وايل، عن ابيه، انه شهد النبي صلى الله عليه وسلم وساله سويد بن طارق او طارق بن سويد عن الخمر فنهاه عنه فقال اننا نتداوى بها . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انها ليست بدواء ولكنها داء " . حدثنا محمود، قال حدثنا النضر بن شميل، وشبابة، عن شعبة، بمثله . قال محمود قال النضر طارق بن سويد وقال شبابة سويد بن طارق . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز سے علاج کرتے ہو اس میں سب سے بہتر «سعوط» ( ناک میں ڈالنے والی دوا ) ، «لدود» ( منہ کے ایک کنارہ سے ڈالی جانے والی دوا ) ، «حجامة» ( پچھنا لگانا حجامہ ) اور دست آور دوا ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو صحابہ نے آپ کے منہ کے ایک کنارہ میں دوا ڈالی، جب وہ دوا ڈال چکے تو آپ نے فرمایا: ”موجود لوگوں کے بھی منہ میں دوا ڈالو“، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: عباس رضی الله عنہ کے علاوہ تمام لوگوں کے منہ میں دوا ڈالی گئی۔
حدثنا محمد بن مدويه، قال حدثنا عبد الرحمن بن حماد الشعيثي، قال حدثنا عباد بن منصور، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان خير ما تداويتم به السعوط واللدود والحجامة والمشي " . فلما اشتكى رسول الله صلى الله عليه وسلم لده اصحابه فلما فرغوا قال " لدوهم " . قال فلدوا كلهم غير العباس
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز سے تم علاج کرتے ہو ان میں سب سے بہتر منہ کے ایک کنارہ سے ڈالی جانے والی دوا، ناک میں ڈالنے کی دوا، پچھنا اور دست آور دوا ہے اور تمہارا اپنی آنکھوں میں لگانے کا سب سے بہتر سرمہ اثمد ہے، اس لیے کہ وہ بینائی ( نظر ) کو بڑھاتا ہے اور بال اگاتا ہے“۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس سے سوتے وقت ہر آنکھ میں تین سلائی لگاتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عباد بن منصور کی یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى، قال حدثنا يزيد بن هارون، قال حدثنا عباد بن منصور، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان خير ما تداويتم به اللدود والسعوط والحجامة والمشي وخير ما اكتحلتم به الاثمد فانه يجلو البصر وينبت الشعر " . قال وكان لرسول الله صلى الله عليه وسلم مكحلة يكتحل بها عند النوم ثلاثا في كل عين . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب وهو حديث عباد بن منصور
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدن داغنے سے منع فرمایا ۱؎، پھر بھی ہم بیماری میں مبتلا ہوئے تو ہم نے بدن داغ لیا، لیکن ہم کامیاب و کامران نہیں ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، عن قتادة، عن الحسن، عن عمران بن حصين، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الكى . قال فابتلينا فاكتوينا فما افلحنا ولا انجحنا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . حدثنا عبد القدوس بن محمد, قال حدثنا عمرو بن عاصم، قال حدثنا همام، عن قتادة، عن الحسن، عن عمران بن حصين، قال نهينا عن الكى، . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابن مسعود، وعقبة بن عامر، وابن، عباس . وهذا حديث حسن صحيح
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسعد بن زرارہ کے بدن کو سرخ پھنسی کی بیماری میں داغا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابی اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا حميد بن مسعدة، قال حدثنا يزيد بن زريع، قال اخبرنا معمر، عن الزهري، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كوى اسعد بن زرارة من الشوكة . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابى وجابر . وهذا حديث حسن غريب
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گردن کی دونوں جانب موجود دو پوشیدہ رگوں اور کندھے پر پچھنا لگواتے تھے، اور آپ مہینہ کی سترہویں، انیسویں اور اکیسویں تاریخ کو پچھنا لگواتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس اور معقل بن یسار رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا عبد القدوس بن محمد، قال حدثنا عمرو بن عاصم، قال حدثنا همام، وجرير بن حازم، قالا حدثنا قتادة، عن انس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحتجم في الاخدعين والكاهل وكان يحتجم لسبع عشرة وتسع عشرة واحدى وعشرين . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابن عباس ومعقل بن يسار . وهذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات کا حال بیان کیا کہ آپ فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرے انہوں نے آپ کو یہ حکم ضرور دیا کہ اپنی امت کو پچھنا لگوانے کا حکم دیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابن مسعود کی روایت سے حسن غریب ہے۔
حدثنا احمد بن بديل بن قريش اليامي الكوفي، حدثنا محمد بن فضيل، حدثنا عبد الرحمن بن اسحاق، عن القاسم بن عبد الرحمن، هو ابن عبد الله بن مسعود عن ابيه، عن ابن مسعود، قال حدث رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ليلة، اسري به انه لم يمر على ملا من الملايكة الا امروه ان مر امتك بالحجامة . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن غريب من حديث ابن مسعود
عکرمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی الله عنہما کے پاس پچھنا لگانے والے تین غلام تھے، ان میں سے دو ابن عباس اور ان کے اہل و عیال کے لیے غلہ حاصل کرتے تھے اور ایک غلام ان کو اور ان کے اہل و عیال کو پچھنا لگاتا تھا، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچھنا لگانے والا غلام کیا ہی اچھا ہے، وہ ( فاسد ) خون کو دور کرتا ہے، پیٹھ کو ہلکا کرتا ہے، اور آنکھ کو صاف کرتا ہے“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم معراج میں فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرے انہوں نے یہ ضرور کہا کہ تم پچھنا ضرور لگواؤ، آپ نے فرمایا: ”تمہارے پچھنا لگوانے کا سب سے بہتر دن مہینہ کی سترہویں، انیسویں اور اکیسویں تاریخ ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: ”سب سے بہتر علاج جسے تم اپناؤ وہ ناک میں ڈالنے کی دوا، منہ کے ایک طرف سے ڈالی جانے والی دوا، پچھنا اور دست آور دوا ہے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں عباس اور صحابہ کرام نے دوا ڈالی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”میرے منہ میں کس نے دوا ڈالی ہے؟“ تمام لوگ خاموش رہے تو آپ نے فرمایا: ”گھر میں جو بھی ہو اس کے منہ میں دوا ڈالی جائے، سوائے آپ کے چچا عباس کے“۔ راوی عبد کہتے ہیں: نضر نے کہا: «لدود» سے مراد «وجور» ہے ( حلق میں ڈالنے کی ایک دوا ) ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عباد منصور ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔ ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، قال اخبرنا النضر بن شميل، قال حدثنا عباد بن منصور، قال سمعت عكرمة، يقول كان لابن عباس غلمة ثلاثة حجامون فكان اثنان منهم يغلان عليه وعلى اهله وواحد يحجمه ويحجم اهله . قال وقال ابن عباس قال نبي الله صلى الله عليه وسلم " نعم العبد الحجام يذهب الدم ويخف الصلب ويجلو عن البصر " . وقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم حين عرج به ما مر على ملا من الملايكة الا قالوا عليك بالحجامة . وقال " ان خير ما تحتجمون فيه يوم سبع عشرة ويوم تسع عشرة ويوم احدى وعشرين " . وقال " ان خير ما تداويتم به السعوط واللدود والحجامة والمشي " . وان رسول الله صلى الله عليه وسلم لده العباس واصحابه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من لدني فكلهم امسكوا فقال " لا يبقى احد ممن في البيت الا لد " . غير عمه العباس قال عبد قال النضر اللدود الوجور . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث عباد بن منصور . وفي الباب عن عايشة
سلمی رضی الله عنہا سے (جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتی تھیں) کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلوار اور چاقو یا پتھر اور کانٹے سے جو زخم بھی لگتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس پر مہندی رکھنے کا ضرور حکم دیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے فائد ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- بعض لوگوں نے اس حدیث کی فائد سے روایت کرتے ہوئے سند میں «عن علي بن عبيد الله، عن جدته سلمى» کی بجائے «عن عبيد الله ابن علي عن جدته سلمى» بیان کیا ہے، «عبيد الله بن علي» ہی زیادہ صحیح ہے، «سلمیٰ» کو «سُلمیٰ» بھی کہا گیا ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، قال حدثنا حماد بن خالد الخياط، قال حدثنا فايد، مولى لال ابي رافع عن علي بن عبيد الله، عن جدته، سلمى وكانت تخدم النبي صلى الله عليه وسلم قالت ما كان يكون برسول الله صلى الله عليه وسلم قرحة ولا نكبة الا امرني رسول الله صلى الله عليه وسلم ان اضع عليها الحناء . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب انما نعرفه من حديث فايد . وروى بعضهم هذا الحديث عن فايد فقال عن عبيد الله بن علي عن جدته سلمى وعبيد الله بن علي اصح ويقال سلمى . حدثنا محمد بن العلاء، قال حدثنا زيد بن حباب، عن فايد، مولى عبيد الله بن علي عن مولاه، عبيد الله بن علي عن جدته، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه بمعناه
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بدن داغا یا جھاڑ پھونک کرائی وہ توکل کرنے والوں میں سے نہ رہا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، ابن عباس اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، قال حدثنا سفيان، عن منصور، عن مجاهد، عن عقار بن المغيرة بن شعبة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اكتوى او استرقى فقد بري من التوكل " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابن مسعود وابن عباس وعمران بن حصين . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح