Loading...

Loading...
کتب
۵۴ احادیث
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچھو کے ڈنک، نظر بد اور پسلی میں نکلنے والے دانے کے سلسلے میں، جھاڑ پھونک کی اجازت دی ہے۔
حدثنا عبدة بن عبد الله الخزاعي، قال حدثنا معاوية بن هشام، عن سفيان، عن عاصم، عن عبد الله بن الحارث، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم رخص في الرقية من الحمة والعين والنملة . حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا يحيى بن ادم، وابو نعيم قالا حدثنا سفيان، عن عاصم الاحول، عن يوسف بن عبد الله بن الحارث، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم رخص في الرقية من الحمة والنملة . قال ابو عيسى وهذا عندي اصح من حديث معاوية بن هشام عن سفيان . قال ابو عيسى وفي الباب عن بريدة وعمران بن حصين وجابر وعايشة وطلق بن علي وعمرو بن حزم وابي خزامة عن ابيه
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جھاڑ پھونک صرف نظر بد اور پسلی میں نکلنے والے دانے کی وجہ سے ہی جائز ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: شعبہ نے یہ حدیث «عن حصين عن الشعبي عن بريدة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، قال حدثنا سفيان، عن حصين، عن الشعبي، عن عمران بن حصين، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا رقية الا من عين او حمة " . قال ابو عيسى وروى شعبة هذا الحديث عن حصين عن الشعبي عن بريدة عن النبي صلى الله عليه وسلم بمثله
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنوں اور انسان کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے، یہاں تک کہ معوذتین ( سورۃ الفلق اور سورۃ الناس ) نازل ہوئیں، جب یہ سورتیں اتر گئیں تو آپ نے ان دونوں کو لے لیا اور ان کے علاوہ کو چھوڑ دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔
حدثنا هشام بن يونس الكوفي، قال حدثنا القاسم بن مالك المزني، عن الجريري، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتعوذ من الجان وعين الانسان حتى نزلت المعوذتان فلما نزلتا اخذ بهما وترك ما سواهما . قال ابو عيسى وفي الباب عن انس . وهذا حديث حسن غريب
عبید بن رفاعہ زرقی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ اسماء بنت عمیس رضی الله عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جعفر طیار رضی الله عنہ کے لڑکوں کو بہت جلد نظر بد لگ جاتی ہے، کیا میں ان کے لیے جھاڑ پھونک کراؤں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اس لیے کہ اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت کر سکتی تو اس پر نظر بد ضرور سبقت کرتی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث «عن أيوب عن عمرو بن دينار عن عروة بن عامر عن عبيد بن رفاعة عن أسماء بنت عميس عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے بھی مروی ہے، ۳- اس باب میں عمران بن حصین اور بریدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن عروة، وهو ابو حاتم بن عامر عن عبيد بن رفاعة الزرقي، ان اسماء بنت عميس، قالت يا رسول الله ان ولد جعفر تسرع اليهم العين افاسترقي لهم فقال " نعم فانه لو كان شيء سابق القدر لسبقته العين " . قال ابو عيسى وفي الباب عن عمران بن حصين وبريدة . وهذا حديث حسن صحيح . وقد روي هذا، عن ايوب، عن عمرو بن دينار، عن عروة بن عامر، عن عبيد بن رفاعة، عن اسماء بنت عميس، عن النبي صلى الله عليه وسلم . حدثنا بذلك الحسن بن علي الخلال، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن ايوب، بهذا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول حسن اور حسین رضی الله عنہما پر یہ کلمات پڑھ کر جھاڑ پھونک کرتے تھے: «أعيذكما بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة ومن كل عين لامة» ”میں تمہارے لیے اللہ کے مکمل اور پورے کلمات کے وسیلے سے ہر شیطان اور ہلاک کرنے والے زہریلے کیڑے اور نظر بد سے پناہ مانگتا ہوں“، اور آپ فرماتے تھے: ”اسماعیل اور اسحاق کے لیے اسی طرح ابراہیم علیہم السلام پناہ مانگتے تھے“۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا عبد الرزاق، ويعلى، عن سفيان، عن منصور، عن المنهال بن عمرو، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعوذ الحسن والحسين يقول " اعيذكما بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة ومن كل عين لامة " . ويقول " هكذا كان ابراهيم يعوذ اسحاق واسماعيل عليهم السلام " . حدثنا الحسن بن علي الخلال حدثنا يزيد بن هارون وعبد الرزاق عن سفيان عن منصور نحوه بمعناه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
حابس تمیمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: الو ( کے سلسلے میں لوگوں کے اعتقاد ) کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور نظر بد کا اثر حقیقی چیز ہے ( یعنی سچ ہے ) ۔
حدثنا ابو حفص، عمرو بن علي, قال حدثنا يحيى بن كثير ابو غسان العنبري، قال حدثنا علي بن المبارك، عن يحيى بن ابي كثير، حدثني حية بن حابس التميمي، حدثني ابي انه، سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا شىء في الهام والعين حق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت ( پہل ) کر سکتی تو اس پر نظر بد ضرور سبقت ( پہل ) کرتی، اور جب لوگ تم سے غسل کرائیں تو تم غسل کر لو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- حیہ بن حابس کی روایت ( جو اوپر مذکور ہے ) غریب ہے، ۳- شیبان نے اسے «عن يحيى بن أبي كثير عن حية بن حابس عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کیا ہے جب کہ علی بن مبارک اور حرب بن شداد نے اس سند میں ابوہریرہ کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے، ۴- اس باب میں عبداللہ بن عمرو سے بھی روایت ہے۔
حدثنا احمد بن الحسن بن خراش البغدادي، قال حدثنا احمد بن اسحاق الحضرمي، قال حدثنا وهيب، عن ابن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو كان شيء سابق القدر لسبقته العين واذا استغسلتم فاغسلوا " . قال ابو عيسى وفي الباب عن عبد الله بن عمرو . وهذا حديث حسن صحيح غريب . وحديث حية بن حابس حديث غريب . وروى شيبان عن يحيى بن ابي كثير عن حية بن حابس عن ابيه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم . وعلي بن المبارك وحرب بن شداد لا يذكران فيه عن ابي هريرة
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا، ہم نے ایک قوم کے پاس پڑاؤ ڈالا اور ان سے ضیافت کی درخواست کی، لیکن ان لوگوں نے ہماری ضیافت نہیں کی، اسی دوران ان کے سردار کو بچھو نے ڈنک مار دیا، چنانچہ انہوں نے ہمارے پاس آ کر کہا: کیا آپ میں سے کوئی بچھو کے ڈنک سے جھاڑ پھونک کرتا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، میں کرتا ہوں، لیکن اس وقت تک نہیں کروں گا جب تک کہ تم مجھے کچھ بکریاں نہ دے دو، انہوں نے کہا: ہم تم کو تیس بکریاں دیں گے، چنانچہ ہم نے قبول کر لیا اور میں نے سات بار سورۃ فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کیا تو وہ صحت یاب ہو گیا اور ہم نے بکریاں لے لیں ۱؎، ہمارے دل میں بکریوں کے متعلق کچھ خیال آیا ۲؎، لہٰذا ہم نے کہا: جلدی نہ کرو، یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ جائیں، جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو میں نے جو کچھ کیا تھا آپ سے بیان کر دیا، آپ نے فرمایا: ”تم نے کیسے جانا کہ سورۃ فاتحہ رقیہ ( جھاڑ پھونک کی دعا ) ہے؟ تم لوگ بکریاں لے لو اور اپنے ساتھ اس میں میرا بھی حصہ لگاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- شعبہ، ابو عوانہ ہشام اور کئی لوگوں نے یہ حدیث «عن أبي المتوكل عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، ۳- تعلیم قرآن پر معلم کے لیے اجرت لینے کو امام شافعی نے جائز کہا ہے اور وہ معلم کے لیے اجرت کی شرط لگانے کو درست سمجھتے ہیں، انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے۔
حدثنا هناد، قال حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن جعفر بن اياس، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد الخدري، قال بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في سرية فنزلنا بقوم فسالناهم القرى فلم يقرونا فلدغ سيدهم فاتونا فقالوا هل فيكم من يرقي من العقرب قلت نعم انا ولكن لا ارقيه حتى تعطونا غنما . قالوا فانا نعطيكم ثلاثين شاة . فقبلنا فقرات عليه (الحمد لله ) سبع مرات فبرا وقبضنا الغنم . قال فعرض في انفسنا منها شيء فقلنا لا تعجلوا حتى تاتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال فلما قدمنا عليه ذكرت له الذي صنعت قال " وما علمت انها رقية اقبضوا الغنم واضربوا لي معكم بسهم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو نضرة اسمه المنذر بن مالك بن قطعة . ورخص الشافعي للمعلم ان ياخذ على تعليم القران اجرا ويرى له ان يشترط على ذلك . واحتج بهذا الحديث . وروى شعبة وابو عوانة وغير واحد عن ابي بشر هذا الحديث عن ابي المتوكل عن ابي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کچھ صحابہ ( جن میں شامل میں بھی تھا ) عرب کے ایک قبیلہ کے پاس سے گزرے، انہوں نے ان کی مہمان نوازی نہیں کی، اسی دوران ان کا سردار بیمار ہو گیا، چنانچہ ان لوگوں نے ہمارے پاس آ کر کہا: آپ لوگوں کے پاس کوئی علاج ہے؟ ہم نے کہا: ہاں، لیکن تم نے ہماری مہمان نوازی نہیں کی ہے اس لیے ہم اس وقت تک علاج نہیں کریں گے جب تک تم ہمارے لیے اجرت نہ متعین کر دو، انہوں نے اس کی اجرت میں بکری کا ایک گلہ مقرر کیا، ہم میں سے ایک آدمی ( یعنی میں خود ) اس کے اوپر سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کرنے لگا تو وہ صحت یاب ہو گیا، پھر جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس واقعہ کو بیان کیا تو آپ نے فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ سورۃ فاتحہ جھاڑ پھونک ( کی دعا ) ہے؟ ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے آپ سے اس پر کوئی نکیر ذکر نہیں کی، آپ نے فرمایا: ”کھاؤ اور اپنے ساتھ اس میں میرا بھی حصہ لگاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- یہ حدیث اعمش کی اس روایت سے جو جعفر بن ایاس کے واسطہ سے آئی ہے زیادہ صحیح ہے، ۳- کئی لوگوں نے یہ حدیث «عن أبي بشر جعفر بن أبي وحشية عن أبي المتوكل عن أبي سعيد» کی سند سے روایت کی ہے۔
حدثنا ابو موسى، محمد بن المثنى حدثني عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا شعبة، حدثنا ابو بشر، قال سمعت ابا المتوكل، يحدث عن ابي سعيد، ان ناسا، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم مروا بحى من العرب فلم يقروهم ولم يضيفوهم فاشتكى سيدهم فاتونا فقالوا هل عندكم دواء قلنا نعم ولكن لم تقرونا ولم تضيفونا فلا نفعل حتى تجعلوا لنا جعلا . فجعلوا على ذلك قطيعا من الغنم . قال فجعل رجل منا يقرا عليه بفاتحة الكتاب فبرا فلما اتينا النبي صلى الله عليه وسلم ذكرنا ذلك له قال " وما يدريك انها رقية " . ولم يذكر نهيا منه وقال " كلوا واضربوا لي معكم بسهم " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح وهذا اصح من حديث الاعمش عن جعفر بن اياس . وهكذا روى غير واحد هذا الحديث عن ابي بشر جعفر بن ابي وحشية عن ابي المتوكل عن ابي سعيد . وجعفر بن اياس هو جعفر بن ابي وحشية
ابوخزامہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! جس دم سے ہم جھاڑ پھونک کرتے ہیں، جس دوا سے علاج کرتے ہیں اور جن بچاؤ کی چیزوں سے ہم اپنا بچاؤ کرتے ہیں ( ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ ) کیا یہ اللہ کی تقدیر میں کچھ تبدیلی کرتی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”یہ سب بھی اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر ہی کا حصہ ہیں“ ۱؎۔
حدثنا ابن ابي عمر، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن ابي خزامة، عن ابيه، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله ارايت رقى نسترقيها ودواء نتداوى به وتقاة نتقيها هل ترد من قدر الله شييا قال " هي من قدر الله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . حدثنا سعيد بن عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن ابن ابي خزامة، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . وهذا حديث حسن صحيح . وقد روي عن ابن عيينة كلتا الروايتين وقال بعضهم عن ابي خزامة عن ابيه وقال بعضهم عن ابن ابي خزامة عن ابيه وقال بعضهم عن ابي خزامة وقد روى غير ابن عيينة هذا الحديث عن الزهري عن ابي خزامة عن ابيه وهذا اصح ولا نعرف لابي خزامة عن ابيه غير هذا الحديث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عجوہ ( کھجور ) جنت کا پھل ہے، اس میں زہر سے شفاء موجود ہے اور صحرائے عرب کا «فقعہ» ۱؎ ایک طرح کا «من» ( سلوی والا «من» ) ہے، اس کا عرق آنکھ کے لیے شفاء ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ محمد بن عمرو کی روایت سے ہے، ہم اسے صرف محمد بن عمر ہی سعید بن عامر کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ محمد بن عمرو سے روایت کرتے ہیں، ۳- اس باب میں سعید بن زید، ابوسعید اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو عبيدة، احمد بن عبد الله الهمداني وهو ابن ابي السفر ومحمود بن غيلان قالا حدثنا سعيد بن عامر، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " العجوة من الجنة وفيها شفاء من السم والكماة من المن وماوها شفاء للعين " . قال ابو عيسى وفي الباب عن سعيد بن زيد وابي سعيد وجابر . وهذا حديث حسن غريب من هذا الوجه ولا نعرفه الا من حديث سعيد بن عامر عن محمد بن عمرو
سعید بن زید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صحرائے عرب کا فقعہ ایک طرح کا «من» ( سلوی والا «من» ) ہے اور اس کا عرق آنکھ کے لیے شفاء ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابو كريب، قال حدثنا عمر بن عبيد الطنافسي، عن عبد الملك بن عمير، ح وحدثنا محمد بن المثنى، قال حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، عن عبد الملك بن عمير، عن عمرو بن حريث، عن سعيد بن زيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الكماة من المن وماوها شفاء للعين " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں سے کچھ لوگوں نے کہا: کھنبی زمین کی چیچک ہے، ( یہ سن کر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صحرائے عرب کا «فقعہ» ایک طرح کا «من» ہے، اس کا عرق آنکھ کے لیے شفاء ہے، اور عجوہ کھجور جنت کے پھلوں میں سے ایک پھل ہے، وہ زہر کے لیے شفاء ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا معاذ بن هشام، قال حدثنا ابي، عن قتادة، عن شهر بن حوشب، عن ابي هريرة، ان ناسا، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قالوا الكماة جدري الارض فقال النبي صلى الله عليه وسلم " الكماة من المن وماوها شفاء للعين والعجوة من الجنة وهي شفاء من السم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے تین، پانچ یا سات کھنبی لی، ان کو نچوڑا، پھر اس کا عرق ایک شیشی میں رکھا اور اسے ایک لڑکی کی آنکھ میں ڈالا تو وہ صحت یاب ہو گئی۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا معاذ، قال حدثنا ابي، عن قتادة، قال حدثت ان ابا هريرة قال اخذت ثلاثة اكمي او خمسا او سبعا فعصرتهن فجعلت ماءهن في قارورة فكحلت به جارية لي فبرات
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کلونجی موت کے علاوہ ہر بیماری کی دوا ہے۔ قتادہ ہر روز کلونجی کے اکیس دانے لیتے، ان کو ایک پوٹلی میں رکھ کر پانی میں بھگوتے پھر ہر روز داہنے نتھنے میں دو بوند اور بائیں میں ایک بوند ڈالتے، دوسرے دن بائیں میں دو بوندیں اور داہنی میں ایک بوند ڈالتے اور تیسرے روز داہنے میں دو بوند اور بائیں میں ایک بوند ڈالتے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا معاذ بن هشام، قال حدثنا ابي، عن قتادة، قال حدثت ان ابا هريرة قال الشونيز دواء من كل داء الا السام . قال قتادة ياخذ كل يوم احدى وعشرين حبة فيجعلهن في خرقة فلينقعه فيتسعط به كل يوم في منخره الايمن قطرتين وفي الايسر قطرة والثاني في الايسر قطرتين وفي الايمن قطرة والثالث في الايمن قطرتين وفي الايسر قطرة
ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ عورت کی کمائی اور کاہن کے نذرانے لینے سے منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن ابي بكر بن عبد الرحمن، عن ابي مسعود الانصاري، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ثمن الكلب ومهر البغي وحلوان الكاهن . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عیسیٰ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عکیم ابومعبد جہنی کے ہاں ان کی عیادت کرنے گیا، ان کو «حمرة» کا مرض تھا ۱؎ ہم نے کہا: کوئی تعویذ وغیرہ کیوں نہیں لٹکا لیتے ہیں؟ انہوں نے کہا: موت اس سے زیادہ قریب ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی چیز لٹکائی وہ اسی کے سپرد کر دیا گیا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عبداللہ بن عکیم کی حدیث کو ہم صرف محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی روایت سے جانتے ہیں، عبداللہ بن عکیم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نہیں سنی ہے لیکن وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھے، وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کے پاس لکھ کر بھیجا ہے۔
حدثنا محمد بن مدويه، قال حدثنا عبيد الله بن موسى، عن محمد بن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن عيسى، اخيه قال دخلت على عبد الله بن عكيم ابي معبد الجهني اعوده وبه حمرة فقلنا الا تعلق شييا قال الموت اقرب من ذلك قال النبي صلى الله عليه وسلم " من تعلق شييا وكل اليه " . قال ابو عيسى وحديث عبد الله بن عكيم انما نعرفه من حديث محمد بن عبد الرحمن بن ابي ليلى . وعبد الله بن عكيم لم يسمع من النبي صلى الله عليه وسلم وكان في زمن النبي صلى الله عليه وسلم يقول كتب الينا رسول الله صلى الله عليه وسلم . حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن ابن ابي ليلى، نحوه بمعناه . قال ابو عيسى وفي الباب عن عقبة بن عامر،
رافع بن خدیج رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار جہنم کی گرمی سے ہوتا ہے، لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں اسماء بنت ابوبکر، ابن عمر، زبیر کی بیوی، ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ( عائشہ رضی الله عنہا کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔
حدثنا هناد، قال حدثنا ابو الاحوص، عن سعيد بن مسروق، عن عباية بن رفاعة، عن جده، رافع بن خديج عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الحمى فور من النار فابردوها بالماء " . قال ابو عيسى وفي الباب عن اسماء بنت ابي بكر وابن عمر وامراة الزبير وعايشة وابن عباس
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار جہنم کی گرمی سے ہوتا ہے، لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو“۔
حدثنا هارون بن اسحاق الهمداني، قال حدثنا عبدة بن سليمان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الحمى من فيح جهنم فابردوها بالماء " . حدثنا هارون بن اسحاق، قال حدثنا عبدة، عن هشام بن عروة، عن فاطمة بنت المنذر، عن اسماء بنت ابي بكر، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . قال ابو عيسى وفي حديث اسماء كلام اكثر من هذا وكلا الحديثين صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو بخار اور ہر قسم کے درد میں یہ دعا پڑھنا سکھاتے تھے، «بسم الله الكبير أعوذ بالله العظيم من شر كل عرق نعار ومن شر حر النار» ”میں بڑے اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اور عظمت والے اللہ کے واسطے سے ہر بھڑکتی رگ اور آگ کی گرمی کے شر سے پناہ مانگتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف ابراہیم بن اسماعیل بن ابوحبیبہ کی روایت سے جانتے ہیں اور ابراہیم بن اسماعیل ضعیف الحدیث سمجھے جاتے ہیں، ۳- بعض احادیث میں «عرق نعار» کے بجائے «عرق يعار» بھی مروی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا ابو عامر العقدي، قال حدثنا ابراهيم بن اسماعيل بن ابي حبيبة، عن داود بن حصين، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يعلمهم من الحمى ومن الاوجاع كلها ان يقول " بسم الله الكبير اعوذ بالله العظيم من شر كل عرق نعار ومن شر حر النار " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث ابراهيم بن اسماعيل بن ابي حبيبة . وابراهيم يضعف في الحديث . ويروى " عرق يعار