Loading...

Loading...
کتب
۵۴ احادیث
جدامہ بنت وہب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میں نے ارادہ کیا کہ ایام رضاعت میں صحبت کرنے سے لوگوں کو منع کر دوں، پھر میں نے دیکھا کہ فارس اور روم کے لوگ ایسا کرتے ہیں، اور ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- مالک نے یہ حدیث «عن أبي الأسود عن عروة عن عائشة عن جدامة بنت وهب عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ۳- اس باب میں اسماء بنت یزید سے بھی روایت ہے، ۴- مالک کہتے ہیں: «غيلہ» یہ ہے کہ کوئی شخص ایام رضاعت میں اپنی بیوی سے جماع کرے۔
حدثنا احمد بن منيع، قال حدثنا يحيى بن اسحاق، قال حدثنا يحيى بن ايوب، عن محمد بن عبد الرحمن بن نوفل، عن عروة، عن عايشة، عن ابنة وهب، وهي جدامة - قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اردت ان انهى عن الغيال فاذا فارس والروم يفعلون ولا يقتلون اولادهم " . قال ابو عيسى وفي الباب عن اسماء بنت يزيد . وهذا حديث حسن صحيح . وقد رواه مالك عن ابي الاسود عن عروة عن عايشة عن جدامة بنت وهب عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال مالك والغيال ان يطا الرجل امراته وهي ترضع
جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میں نے ارادہ کیا تھا کہ ایام رضاعت میں جماع کرنے سے لوگوں کو منع کروں، پھر مجھے یاد آیا کہ روم اور فارس کے لوگ ایسا کرتے ہیں اور اس سے ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ہے“۔ مالک کہتے ہیں: «غيلہ» یہ ہے کہ کوئی شخص ایام رضاعت میں اپنی بیوی سے جماع کرے۔ عیسیٰ بن احمد کہتے ہیں: ہم سے اسحاق بن عیسیٰ نے بیان کیا وہ کہتے ہیں: مجھ سے مالک نے ابوالاسود کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث بیان کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
حدثنا عيسى بن احمد، قال حدثنا ابن وهب، حدثني مالك، عن ابي الاسود، محمد بن عبد الرحمن بن نوفل عن عروة، عن عايشة، عن جدامة بنت وهب الاسدية، انها سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لقد هممت ان انهى عن الغيلة حتى ذكرت ان الروم وفارس يصنعون ذلك فلا يضر اولادهم " . قال مالك والغيلة ان يمس الرجل امراته وهي ترضع . قال عيسى بن احمد وحدثنا اسحاق بن عيسى حدثني مالك عن ابي الاسود نحوه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ذات الجنب ۱؎ کی بیماری میں زیتون کا تیل اور ورس ۲؎ تشخیص کرتے تھے، قتادہ کہتے ہیں: اس کو منہ میں ڈالا جائے گا، اور منہ کی اس جانب سے ڈالا جائے گا جس جانب مرض ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوعبداللہ کا نام میمون ہے، وہ ایک بصریٰ شیخ ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني ابي، عن قتادة، عن ابي عبد الله، عن زيد بن ارقم، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان ينعت الزيت والورس من ذات الجنب . قال قتادة ويلده من الجانب الذي يشتكيه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو عبد الله اسمه ميمون هو شيخ بصري
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ذات الجنب کا علاج قسط بحری ( عود ہندی ) اور زیتون کے تیل سے کریں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- ہم اسے صرف میمون کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ زید بن ارقم سے روایت کرتے ہیں، ۳- میمون سے کئی لوگوں نے یہ حدیث روایت کی ہے۔
حدثنا رجاء بن محمد العذري البصري، قال حدثنا عمرو بن محمد بن ابي رزين، قال حدثنا شعبة، عن خالد الحذاء، حدثنا ميمون ابو عبد الله، قال سمعت زيد بن ارقم، قال امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نتداوى من ذات الجنب بالقسط البحري والزيت . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح لا نعرفه الا من حديث ميمون عن زيد بن ارقم . وقد روى عن ميمون غير واحد من اهل العلم هذا الحديث . وذات الجنب السل
عثمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کے لیے میرے پاس تشریف لائے، اس وقت مجھے ایسا درد تھا کہ لگتا تھا وہ مار ڈالے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے داہنے ہاتھ سے سات مرتبہ درد کی جگہ چھوؤ اور یہ دعا پڑھو «أعوذ بعزة الله وقدرته وسلطانه من شر ما أجد» ”میں اللہ کی عزت اور اس کی قدرت اور طاقت کے وسیلے سے اس تکلیف کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جو مجھے لاحق ہے“۔ میں نے ویسا ہی کیا اور اللہ تعالیٰ نے میری تکلیف دور کر دی، چنانچہ میں ہمیشہ اپنے گھر والوں کو اور دوسروں کو یہ دعا پڑھنے کا مشورہ دیتا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، قال حدثنا معن، قال حدثنا مالك، عن يزيد بن خصيفة، عن عمرو بن عبد الله بن كعب السلمي، ان نافع بن جبير بن مطعم، اخبره عن عثمان بن ابي العاصي، انه قال اتاني رسول الله صلى الله عليه وسلم وبي وجع قد كان يهلكني فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امسح بيمينك سبع مرات وقل اعوذ بعزة الله وقوته من شر ما اجد " . قال ففعلت فاذهب الله ما كان بي فلم ازل امر به اهلي وغيرهم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
اسماء بنت عمیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ ”اسہال کے لیے تم کیا لیتی ہو؟“ میں نے کہا: «شبرم» ۱؎، آپ نے فرمایا: ”وہ گرم اور بہانے والا ہے“۔ اسماء کہتی ہیں: پھر میں نے «سنا» ۲؎ کا مسہل لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کسی چیز میں موت سے شفاء ہوتی تو «سنا» میں ہوتی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس سے ( یعنی «سنا» سے ) مراد دست آور دواء ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد بن بكر، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، حدثني عتبة بن عبد الله، عن اسماء بنت عميس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سالها " بم تستمشين " . قالت بالشبرم . قال " حار جار " . قالت ثم استمشيت بالسنا . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لو ان شييا كان فيه شفاء من الموت لكان في السنا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . يعني دواء المشى
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی نے آ کر عرض کیا: میرے بھائی کو دست آ رہا ہے، آپ نے فرمایا: ”اسے شہد پلاؤ“، چنانچہ اس نے اسے پلایا، پھر آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسے شہد پلایا لیکن اس سے دست میں اور اضافہ ہو گیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے شہد پلاؤ“، اس نے اسے شہد پلایا، پھر آپ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسے شہد پلایا لیکن اس سے دست میں اور اضافہ ہو گیا ہے، ابو سعید خدری کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ( اپنے قول میں ) سچا ہے، اور تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، اس کو شہد پلاؤ“، چنانچہ اس نے شہد پلایا تو ( اس بار ) اچھا ہو گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار،قال حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، عن قتادة، عن ابي المتوكل، عن ابي سعيد، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال ان اخي استطلق بطنه . فقال " اسقه عسلا " . فسقاه ثم جاء فقال يا رسول الله قد سقيته عسلا فلم يزده الا استطلاقا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اسقه عسلا " . فسقاه ثم جاءه فقال يا رسول الله قد سقيته عسلا فلم يزده الا استطلاقا . قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صدق الله وكذب بطن اخيك, اسقه عسلا " . فسقاه عسلا فبرا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان بندہ کسی ایسے مریض کی عیادت کرے جس کی موت کا ابھی وقت نہ ہوا ہو اور سات بار یہ دعا پڑھے «أسأل الله العظيم رب العرش العظيم أن يشفيك» ”میں عظمت والے اللہ اور عظیم عرش کے مالک سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمہیں اچھا کر دے“ تو ضرور اس کی شفاء ہو جاتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف منہال بن عمرو کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا محمد بن المثنى، قال حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، عن يزيد ابي خالد، قال سمعت المنهال بن عمرو، يحدث عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " ما من عبد مسلم يعود مريضا لم يحضر اجله فيقول سبع مرات اسال الله العظيم رب العرش العظيم ان يشفيك الا عوفي " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث المنهال بن عمرو
ثوبان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو بخار آئے اور بخار آگ کا ایک ٹکڑا ہے تو وہ اسے پانی سے بجھا دے، ایک بہتی نہر میں اترے اور پانی کے بہاؤ کی طرف اپنا رخ کرے پھر یہ دعا پڑھے: «بسم الله اللهم اشف عبدك وصدق رسولك» ”اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، اے اللہ! اپنے بندے کو شفاء دے اور اپنے رسول کی اس بات کو سچا بنا“ وہ اس عمل کو فجر کے بعد اور سورج نکلنے سے پہلے کرے، وہ اس نہر میں تین دن تک تین غوطے لگائے، اگر تین دن میں اچھا نہ ہو تو پانچ دن تک، اگر پانچ دن میں اچھا نہ ہو تو سات دن تک اور اگر سات دن میں اچھا نہ ہو تو نو دن تک، اللہ کے حکم سے اس کا مرض نو دن سے آگے نہیں بڑھے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حدثنا احمد بن سعيد الاشقر الرباطي، قال حدثنا روح بن عبادة، قال حدثنا مرزوق ابو عبد الله الشامي، قال حدثنا سعيد، رجل من اهل الشام اخبرنا ثوبان، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا اصاب احدكم الحمى فان الحمى قطعة من النار فليطفيها عنه بالماء فليستنقع نهرا جاريا ليستقبل جرية الماء فيقول بسم الله اللهم اشف عبدك وصدق رسولك بعد صلاة الصبح قبل طلوع الشمس فليغتمس فيه ثلاث غمسات ثلاثة ايام فان لم يبرا في ثلاث فخمس وان لم يبرا في خمس فسبع فان لم يبرا في سبع فتسع فانها لا تكاد تجاوز تسعا باذن الله " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب
ابوحازم کہتے ہیں کہ سہل بن سعد رضی الله عنہ سے پوچھا گیا اور میں سن رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم کا کس چیز سے علاج کیا گیا؟ انہوں نے کہا: اس چیز کو مجھ سے زیادہ جاننے والا اب کوئی باقی نہیں ہے، علی رضی الله عنہ اپنی ڈھال میں پانی لا رہے تھے، جب کہ فاطمہ رضی الله عنہا آپ کے زخم سے خون دھو رہی تھیں اور میں آپ کے لیے ٹاٹ جلا رہا تھا، پھر اسی کی راکھ سے آپ کا زخم بھرا گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، قال حدثنا سفيان، عن ابي حازم، قال سيل سهل بن سعد وانا اسمع، باى شيء دووي جرح رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ما بقي احد اعلم به مني كان علي ياتي بالماء في ترسه وفاطمة تغسل عنه الدم واحرق له حصير فحشي به جرحه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مریض صحت یاب اور تندرست ہو جائے تو شفافیت اور رنگ میں اس کی مثال اس اولے کی طرح ہے جو آسمان سے گرتا ہے“۔
حدثنا علي بن حجر، قال اخبرنا الوليد بن محمد الموقري، عن الزهري، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما مثل المريض اذا برا وصح كالبردة تقع من السماء في صفايها ولونها
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مریض کے پاس جاؤ تو موت کے سلسلے میں اس کا غم دور کرو ۱؎ یہ تقدیر تو نہیں بدلتا ہے لیکن مریض کا دل خوش کر دیتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حدثنا عبد الله بن سعيد الاشج، قال حدثنا عقبة بن خالد السكوني، عن موسى بن محمد بن ابراهيم التيمي، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا دخلتم على المريض فنفسوا له في اجله فان ذلك لا يرد شييا ويطيب نفسه " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب
حدثنا هناد، ومحمود بن غيلان، قالا حدثنا ابو اسامة، عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، عن اسماعيل بن عبيد الله، عن ابي صالح الاشعري، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم عاد رجلا من وعك كان به فقال " ابشر فان الله يقول هي ناري اسلطها على عبدي المذنب لتكون حظه من النار " . حدثنا اسحاق بن منصور قال اخبرنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان الثوري عن هشام بن حسان عن الحسن قال كانوا يرتجون الحمى ليلة كفارة لما نقص من الذنوب . تم كتاب الطب ويليه كتاب الفرايض