Loading...

Loading...
کتب
۱۳۹ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بھائی سے مت جھگڑو، نہ اس سے ہنسی مذاق کرو، اور نہ اس سے کوئی ایسا وعدہ کرو جس کی تم خلاف ورزی کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا زياد بن ايوب البغدادي، حدثنا المحاربي، عن الليث، وهو ابن ابي سليم عن عبد الملك، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تمار اخاك ولا تمازحه ولا تعده موعدة فتخلفه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه . وعبد الملك عندي هو ابن ابي بشير
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت مانگی، اس وقت میں آپ کے پاس تھی، آپ نے فرمایا: ”یہ قوم کا برا بیٹا ہے، یا قوم کا بھائی برا ہے“، پھر آپ نے اس کو اندر آنے کی اجازت دے دی اور اس سے نرم گفتگو کی، جب وہ نکل گیا تو میں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے تو اس کو برا کہا تھا، پھر آپ نے اس سے نرم گفتگو کی ۱؎، آپ نے فرمایا: ”عائشہ! لوگوں میں سب سے برا وہ ہے جس کی بد زبانی سے بچنے کے لیے لوگ اسے چھوڑ دیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن محمد بن المنكدر، عن عروة بن الزبير، عن عايشة، قالت استاذن رجل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا عنده فقال " بيس ابن العشيرة او اخو العشيرة " . ثم اذن له فالان له القول فلما خرج قلت له يا رسول الله قلت له ما قلت ثم النت له القول . فقال " يا عايشة ان من شر الناس من تركه الناس او ودعه الناس اتقاء فحشه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے دوست سے اعتدال اور توسط کے ساتھ دوستی رکھو شاید وہ کسی دن تمہارا دشمن ہو جائے اور اپنے دشمن سے اعتدال اور توسط کے ساتھ دشمنی کرو شاید وہ کسی دن تمہارا دوست بن جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- یہ حدیث ایوب کے واسطہ سے دوسری سند سے بھی آئی ہے، حسن بن ابی جعفر نے اپنی سند سے اس کی روایت کی ہے، جو علی کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتی ہے، یہ روایت بھی ضعیف ہے، اس روایت کے سلسلے میں صحیح بات یہ ہے کہ یہ علی سے موقوفا مروی ہے اور یہ ان کا اپنا قول ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا سويد بن عمرو الكلبي، عن حماد بن سلمة، عن ايوب، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، اراه رفعه قال " احبب حبيبك هونا ما عسى ان يكون بغيضك يوما ما وابغض بغيضك هونا ما عسى ان يكون حبيبك يوما ما " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه بهذا الاسناد الا من هذا الوجه . وقد روي هذا الحديث عن ايوب باسناد غير هذا رواه الحسن بن ابي جعفر وهو حديث ضعيف ايضا باسناد له عن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم والصحيح عن علي موقوف قوله
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں وہ شخص داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ( گھمنڈ ) ہو گا ۱؎ اور جہنم میں وہ شخص داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر ایمان ہو گا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابن عباس، سلمہ بن الاکوع اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو هشام الرفاعي، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يدخل الجنة من كان في قلبه مثقال حبة من خردل من كبر ولا يدخل النار من كان في قلبه مثقال حبة من ايمان " . وفي الباب عن ابي هريرة وابن عباس وسلمة بن الاكوع وابي سعيد . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں وہ شخص داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں رائی کے برابر بھی تکبر ( گھمنڈ ) ہو، اور جہنم میں داخل نہیں ہو گا یعنی وہ شخص جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہو“ ۱؎۔ ایک آدمی نے آپ سے عرض کیا: میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرے کپڑے اور جوتے اچھے ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ جمال ( خوبصورتی ) کو پسند کرتا ہے، لیکن تکبر اس شخص کے اندر ہے جو حق کونہ مانے اور لوگوں کو حقیر اور کم تر سمجھے“۔ بعض اہل علم اس حدیث: «ولا يدخل النار يعني من كان في قلبه مثقال ذرة من إيمان» کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو گا وہ جہنم سے بالآخر ضرور نکلے گا“، کئی تابعین نے اس آیت «ربنا إنك من تدخل النار فقد أخزيته» ( سورۃ آل عمران: ۱۹۲ ) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا ہے: اے میرے رب! تو نے جس کو جہنم میں ہمیشہ کے لیے ڈال دیا اس کو ذلیل و رسوا کر دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، وعبد الله بن عبد الرحمن، قالا حدثنا يحيى بن حماد، حدثنا شعبة، عن ابان بن تغلب، عن فضيل بن عمرو، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يدخل الجنة من كان في قلبه مثقال ذرة من كبر ولا يدخل النار يعني من كان في قلبه مثقال ذرة من ايمان " . قال فقال له رجل انه يعجبني ان يكون ثوبي حسنا ونعلي حسنة . قال " ان الله يحب الجمال ولكن الكبر من بطر الحق وغمص الناس " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب . وقال بعض اهل العلم في تفسير هذا الحديث " لا يدخل النار من كان في قلبه مثقال ذرة من ايمان " . انما معناه لا يخلد في النار . وهكذا روي عن ابي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يخرج من النار من كان في قلبه مثقال ذرة من ايمان " . وقد فسر غير واحد من التابعين هذه الاية : (ربنا انك من تدخل النار فقد اخزيته ) . فقال من تخلد في النار فقد اخزيته . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان ہمیشہ اپنے آپ کو تکبر ( گھمنڈ ) کی طرف لے جاتا ہے، یہاں تک کہ ظالموں کی فہرست میں اس کا نام لکھ دیا جاتا ہے، اور اس لیے اسے وہی عذاب لاحق ہوتا ہے جو ظالموں کو لاحق ہوا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو معاوية، عن عمر بن راشد، عن اياس بن سلمة بن الاكوع، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يزال الرجل يذهب بنفسه حتى يكتب في الجبارين فيصيبه ما اصابهم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
جبیر بن مطعم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ میرے اندر تکبر ہے، حالانکہ میں نے گدھے کی سواری کی ہے، موٹی چادر پہنی ہے اور بکری کا دودھ دوہا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے یہ کام کیے اس کے اندر بالکل تکبر نہیں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا علي بن عيسى البغدادي، حدثنا شبابة بن سوار، حدثنا ابن ابي ذيب، عن القاسم بن عباس، عن نافع بن جبير بن مطعم، عن ابيه، قال تقولون لي في التيه وقد ركبت الحمار ولبست الشملة وقد حلبت الشاة وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من فعل هذا فليس فيه من الكبر شيء " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
ابو الدرداء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن مومن کے میزان میں اخلاق حسنہ سے بھاری کوئی چیز نہیں ہو گی اور اللہ تعالیٰ بےحیاء، بدزبان سے نفرت کرتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، ابوہریرہ، انس اور اسامہ بن شریک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، حدثنا عمرو بن دينار، عن ابن ابي مليكة، عن يعلى بن مملك، عن ام الدرداء، عن ابي الدرداء، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما شيء اثقل في ميزان المومن يوم القيامة من خلق حسن وان الله ليبغض الفاحش البذيء " . قال ابو عيسى وفي الباب عن عايشة وابي هريرة وانس واسامة بن شريك . وهذا حديث حسن صحيح
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میزان میں رکھی جانے والی چیزوں میں سے اخلاق حسنہ ( اچھے اخلاق ) سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں ہے، اور اخلاق حسنہ کا حامل اس کی بدولت روزہ دار اور نمازی کے درجہ تک پہنچ جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا قبيصة بن الليث الكوفي، عن مطرف، عن عطاء، عن ام الدرداء، عن ابي الدرداء، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " ما من شيء يوضع في الميزان اثقل من حسن الخلق وان صاحب حسن الخلق ليبلغ به درجة صاحب الصوم والصلاة " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من هذا الوجه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو لوگوں کو بکثرت جنت میں داخل کرے گی تو آپ نے فرمایا: ”اللہ کا ڈر اور اچھے اخلاق پھر آپ سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو لوگوں کو بکثرت جہنم میں داخل کرے گی تو آپ نے فرمایا: ”منہ اور شرمگاہ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح غریب ہے۔
حدثنا ابو كريب، محمد بن العلاء حدثنا عبد الله بن ادريس، حدثني ابي، عن جدي، عن ابي هريرة، قال سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اكثر ما يدخل الناس الجنة فقال " تقوى الله وحسن الخلق " . وسيل عن اكثر ما يدخل الناس النار فقال " الفم والفرج " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح غريب وعبد الله بن ادريس هو ابن يزيد بن عبد الرحمن الاودي
عبداللہ بن مبارک سے روایت ہے کہ انہوں نے اخلاق حسنہ کا وصف بیان کرتے ہوئے کہا: اخلاق حسنہ لوگوں سے مسکرا کر ملنا ہے، بھلائی کرنا ہے اور دوسروں کو تکلیف نہ دینا ہے۔
حدثنا احمد بن عبدة الضبي، حدثنا ابو وهب، عن عبد الله بن المبارك، انه وصف حسن الخلق فقال هو بسط الوجه وبذل المعروف وكف الاذى
مالک بن نضلہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک ایسا آدمی ہے جس کے پاس سے میں گزرتا ہوں تو میری ضیافت نہیں کرتا اور وہ بھی کبھی کبھی میرے پاس سے گزرتا ہے، کیا میں اس سے بدلہ لوں؟ ۱؎ آپ نے فرمایا: ”نہیں، ( بلکہ ) اس کی ضیافت کرو“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بدن پر پرانے کپڑے دیکھے تو پوچھا، تمہارے پاس مال و دولت ہے؟ میں نے کہا: اللہ نے مجھے ہر قسم کا مال اونٹ اور بکری عطاء کی ہے، آپ نے فرمایا: ”تمہارے اوپر اس مال کا اثر نظر آنا چاہیئے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- «اقْرِهِ» کا معنی ہے تم اس کی ضیافت کرو «قری» ضیافت کو کہتے ہیں، ۳- اس باب میں عائشہ، جابر اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- ابوالاحوص کا نام عوف بن مالک نضلہ جشمی ہے۔
حدثنا بندار، واحمد بن منيع، ومحمود بن غيلان، قالوا حدثنا ابو احمد الزبيري، عن سفيان، عن ابي اسحاق، عن ابي الاحوص، عن ابيه، قال قلت يا رسول الله الرجل امر به فلا يقريني ولا يضيفني فيمر بي افاجزيه قال " لا اقره " . قال وراني رث الثياب فقال " هل لك من مال " . قلت من كل المال قد اعطاني الله من الابل والغنم . قال " فلير عليك " . قال ابو عيسى وفي الباب عن عايشة وجابر وابي هريرة . وهذا حديث حسن صحيح وابو الاحوص اسمه عوف بن مالك بن نضلة الجشمي . ومعنى قوله " اقره " اضفه والقرى هو الضيافة
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ ہر ایک کے پیچھے دوڑنے والے نہ بنو یعنی اگر لوگ ہمارے ساتھ بھلائی کریں گے تو ہم بھی بھلائی کریں گے اور اگر ہمارے اوپر ظلم کریں گے تو ہم بھی ظلم کریں گے، بلکہ اپنے آپ کو اس بات پر آمادہ کرو کہ اگر لوگ تمہارے ساتھ احسان کریں تو تم بھی احسان کرو، اور اگر بدسلوکی کریں تو تم ظلم نہ کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا ابو هشام الرفاعي، محمد بن يزيد حدثنا محمد بن فضيل، عن الوليد بن عبد الله بن جميع، عن ابي الطفيل، عن حذيفة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تكونوا امعة تقولون ان احسن الناس احسنا وان ظلموا ظلمنا ولكن وطنوا انفسكم ان احسن الناس ان تحسنوا وان اساءوا فلا تظلموا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مریض کی عیادت کی یا کسی دینی بھائی سے ملاقات کی تو اس کو ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہے: تمہاری دنیاوی و اخروی زندگی مبارک ہو، تمہارا چلنا مبارک ہو، تم نے جنت میں ایک گھر حاصل کر لیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- حماد بن سلمہ نے «عن ثابت عن أبي رافع عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اس حدیث کا کچھ حصہ روایت کیا ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، والحسين بن ابي كبشة البصري، قالا حدثنا يوسف بن يعقوب السدوسي، حدثنا ابو سنان القسملي، هو الشامي عن عثمان بن ابي سودة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من عاد مريضا او زار اخا له في الله ناداه مناد ان طبت وطاب ممشاك وتبوات من الجنة منزلا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وابو سنان اسمه عيسى بن سنان . وقد روى حماد بن سلمة عن ثابت عن ابي رافع عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم شييا من هذا
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیاء ایمان کا ایک جزء ہے اور ایمان والے جنت میں جائیں گے اور بےحیائی کا تعلق ظلم سے ہے اور ظالم جہنم میں جائیں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، ابوبکرہ، ابوامامہ اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبدة بن سليمان، وعبد الرحيم، ومحمد بن بشر، عن محمد بن عمرو، حدثنا ابو سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الحياء من الايمان والايمان في الجنة والبذاء من الجفاء والجفاء في النار " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابن عمر وابي بكرة وابي امامة وعمران بن حصين . هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن سرجس مزنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھی خصلت، غور و خوص کرنا اور میانہ روی نبوت کے چوبیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا نوح بن قيس، عن عبد الله بن عمران، عن عاصم الاحول، عن عبد الله بن سرجس المزني، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " السمت الحسن والتودة والاقتصاد جزء من اربعة وعشرين جزءا من النبوة " . وفي الباب عن ابن عباس . وهذا حديث حسن غريب . حدثنا قتيبة، حدثنا نوح بن قيس، عن عبد الله بن عمران، عن عبد الله بن سرجس، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه ولم يذكر فيه عن عاصم والصحيح حديث نصر بن علي
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منذر بن عائذ اشج عبدالقیس سے فرمایا: ”تمہارے اندر دو خصلتیں ( خوبیاں ) ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں: بردباری اور غور و فکر کی عادت ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں اشج عصری سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن بزيع، حدثنا بشر بن المفضل، عن قرة بن خالد، عن ابي جمرة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لاشج عبد القيس " ان فيك خصلتين يحبهما الله الحلم والاناة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب . وفي الباب عن الاشج العصري
سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوچ سمجھ کر کام کرنا اور جلد بازی نہ کرنا اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- بعض محدثین نے عبدالمہیمن بن عباس بن سہل کے بارے میں کلام کیا ہے، اور حافظے کے تعلق سے انہیں ضعیف کہا ہے، ۳- اشج بن عبدالقیس کا نام منذر بن عائذ ہے۔
حدثنا ابو مصعب المدني، حدثنا عبد المهيمن بن عباس بن سهل بن سعد الساعدي، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الاناة من الله والعجلة من الشيطان " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وقد تكلم بعض اهل الحديث في عبد المهيمن بن عباس بن سهل وضعفه من قبل حفظه والاشج بن عبد القيس اسمه المنذر بن عايذ
ابو الدرداء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو نرم برتاؤ کا حصہ مل گیا، اسے اس کی بھلائی کا حصہ بھی مل گیا اور جو شخص نرم برتاؤ کے حصہ سے محروم رہا وہ بھلائی سے بھی محروم رہا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، جریر بن عبداللہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن ابن ابي مليكة، عن يعلى بن مملك، عن ام الدرداء، عن ابي الدرداء، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اعطي حظه من الرفق فقد اعطي حظه من الخير ومن حرم حظه من الرفق فقد حرم حظه من الخير " . قال ابو عيسى وفي الباب عن عايشة وجرير بن عبد الله وابي هريرة . وهذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل کو ( حاکم بنا کر ) یمن روانہ کرتے وقت فرمایا: ”مظلوم کی دعا سے ڈرو، اس لیے کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ آڑے نہیں آتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس، ابوہریرہ، عبداللہ بن عمر اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا وكيع، عن زكريا بن اسحاق، عن يحيى بن عبد الله بن صيفي، عن ابي معبد، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث معاذ بن جبل الى اليمن فقال " اتق دعوة المظلوم فانها ليس بينها وبين الله حجاب " . قال ابو عيسى وفي الباب عن انس وابي هريرة وعبد الله بن عمر وابي سعيد . وهذا حديث حسن صحيح وابو معبد اسمه نافذ