Loading...

Loading...
کتب
۱۳۹ احادیث
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو اخلاق میں بہتر ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بےحیاء اور بدزبان نہیں تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، قال انبانا شعبة، عن الاعمش، قال سمعت ابا وايل، يحدث عن مسروق، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خياركم احاسنكم اخلاقا " . ولم يكن النبي صلى الله عليه وسلم فاحشا ولا متفحشا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ ( کسی پر ) اللہ کی لعنت نہ بھیجو، نہ اس کے غضب کی لعنت بھیجو اور نہ جہنم کی لعنت بھیجو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس، ابوہریرہ، ابن عمر اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا هشام، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تلاعنوا بلعنة الله ولا بغضبه ولا بالنار " . قال وفي الباب عن ابن عباس وابي هريرة وابن عمر وعمران بن حصين . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن طعنہ دینے والا، لعنت کرنے والا، بےحیاء اور بدزبان نہیں ہوتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث عبداللہ سے دوسری سند سے بھی آئی ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى الازدي البصري، حدثنا محمد بن سابق، عن اسراييل، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس المومن بالطعان ولا اللعان ولا الفاحش ولا البذيء " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب وقد روي عن عبد الله من غير هذا الوجه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک آدمی نے ہوا پر لعنت بھیجی تو آپ نے فرمایا: ”ہوا پر لعنت نہ بھیجو اس لیے کہ وہ تو ( اللہ کے ) حکم کی پابند ہے، اور جس شخص نے کسی ایسی چیز پر لعنت بھیجی جو لعنت کی مستحق نہیں ہے تو لعنت اسی پر لوٹ آتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بشر بن عمر کے علاوہ ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے۔
حدثنا زيد بن اخزم الطايي البصري، حدثنا بشر بن عمر، حدثنا ابان بن يزيد، عن قتادة، عن ابي العالية، عن ابن عباس، ان رجلا، لعن الريح عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال " لا تلعن الريح فانها مامورة وانه من لعن شييا ليس له باهل رجعت اللعنة عليه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعلم احدا اسنده غير بشر بن عمر
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس قدر اپنا نسب جانو جس سے تم اپنے رشتے جوڑ سکو، اس لیے کہ رشتہ جوڑنے سے رشتہ داروں کی محبت بڑھتی ہے، مال و دولت میں اضافہ ہوتا ہے، اور آدمی کی عمر بڑھا دی جاتی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- «منسأة في الأثر» کا مطلب ہے «الزيادة في العمر» یعنی عمر کے لمبی ہونے کا سبب ہے۔
حدثنا احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن عبد الملك بن عيسى الثقفي، عن يزيد، مولى المنبعث عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " تعلموا من انسابكم ما تصلون به ارحامكم فان صلة الرحم محبة في الاهل مثراة في المال منساة في الاثر " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من هذا الوجه . ومعنى قوله " منساة في الاثر " . يعني زيادة في العمر
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی دعا اتنی جلد قبول نہیں ہوتی ہے جتنی جلد غائب آدمی کے حق میں غائب آدمی کی دعا قبول ہوتی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- راوی افریقی حدیث کے سلسلے میں ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، ان کا نام عبدالرحمٰن بن زیاد بن انعم ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا قبيصة، عن سفيان، عن عبد الرحمن بن زياد بن انعم، عن عبد الله بن يزيد، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما دعوة اسرع اجابة من دعوة غايب لغايب " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه . والافريقي يضعف في الحديث وهو عبد الرحمن بن زياد بن انعم وعبد الله بن يزيد هو ابو عبد الرحمن الحبلي
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گالی گلوچ کرنے والے دو آدمیوں میں سے گالی کا گناہ ان میں سے شروع کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم حد سے آگے نہ بڑھ جائے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سعد، ابن مسعود اور عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہم سے بھی حدیثیں مروی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " المستبان ما قالا فعلى البادي منهما ما لم يعتد المظلوم " . وفي الباب عن سعد وابن مسعود وعبد الله بن مغفل . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں کو گالی دے کر زندوں کو تکلیف نہ پہنچاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کی روایت کرنے میں سفیان کے شاگرد مختلف ہیں، بعض نے حفری کی حدیث کے مثل روایت کی ہے ( یعنی: «عن زياد بن علاقة، عن المغيرة» کے طریق سے ) اور بعض نے اسے «عن سفيان عن زياد بن علاقة قال سمعت رجلا يحدث عند المغيرة بن شعبة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود الحفري، عن سفيان، عن زياد بن علاقة، قال سمعت المغيرة بن شعبة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تسبوا الاموات فتوذوا الاحياء " . قال ابو عيسى وقد اختلف اصحاب سفيان في هذا الحديث فروى بعضهم مثل رواية الحفري وروى بعضهم عن سفيان عن زياد بن علاقة قال سمعت رجلا يحدث عند المغيرة بن شعبة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے جھگڑا کرنا کفر ہے“ ۱؎۔ راوی زبید بن حارث کہتے ہیں: میں نے ابووائل شقیق بن سلمہ سے پوچھا: کیا آپ نے یہ حدیث عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے سنی ہے؟ کہا: ہاں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن زبيد بن الحارث، عن ابي وايل، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " سباب المسلم فسوق وقتاله كفر " . قال زبيد قلت لابي وايل اانت سمعته من عبد الله قال نعم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آئے گا“، ( یہ سن کر ) ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کس کے لیے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”جو اچھی طرح بات کرے، کھانا کھلائے، خوب روزہ رکھے اور اللہ کی رضا کے لیے رات میں نماز پڑھے جب کہ لوگ سوئے ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں، اسحاق بن عبدالرحمٰن کے حافظے کے تعلق سے بعض محدثین نے کلام کیا ہے، یہ کوفہ کے رہنے والے ہیں، ۳- عبدالرحمٰن بن اسحاق نام کے ایک دوسرے راوی ہیں، وہ قرشی اور مدینہ کے رہنے والے ہیں، یہ ان سے اثبت ہیں، اور دونوں کے دونوں ہم عصر ہیں۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا علي بن مسهر، عن عبد الرحمن بن اسحاق، عن النعمان بن سعد، عن علي، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان في الجنة غرفا ترى ظهورها من بطونها وبطونها من ظهورها " . فقام اعرابي فقال لمن هي يا رسول الله قال " لمن اطاب الكلام واطعم الطعام وادام الصيام وصلى لله بالليل والناس نيام " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث عبد الرحمن بن اسحاق . وقد تكلم بعض اهل الحديث في عبد الرحمن بن اسحاق هذا من قبل حفظه وهو كوفي وعبد الرحمن بن اسحاق القرشي مدني وهو اثبت من هذا وكلاهما كانا في عصر واحد
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے لیے کیا ہی اچھا ہے کہ اپنے رب کی اطاعت کریں اور اپنے مالک کا حق ادا کریں“، آپ کے اس فرمان کا مطلب لونڈی و غلام سے تھا ۱؎۔ کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوموسیٰ اشعری اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " نعما لاحدهم ان يطيع ربه ويودي حق سيده " يعني المملوك . وقال كعب صدق الله ورسوله . وفي الباب عن ابي موسى وابن عمر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمی مشک کے ٹیلے پر ہوں گے، قیامت کے دن، پہلا وہ غلام جو اللہ کا اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرے، دوسرا وہ آدمی جو کسی قوم کی امامت کرے اور وہ اس سے راضی ہوں، اور تیسرا وہ آدمی جو رات اور دن میں نماز کے لیے پانچ بار بلاتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے سفیان ثوری کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ ابوالیقظان سے روایت کرتے ہیں، ۲- ابوالیقظان کا نام عثمان بن قیس ہے، انہیں عثمان بن عمیر بھی کہا جاتا ہے اور یہی مشہور ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن ابي اليقظان، عن زاذان، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاثة على كثبان المسك اراه قال يوم القيامة عبد ادى حق الله وحق مواليه ورجل ام قوما وهم به راضون ورجل ينادي بالصلوات الخمس في كل يوم وليلة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه من حديث سفيان الثوري عن ابي اليقظان الا من حديث وكيع وابو اليقظان اسمه عثمان بن قيس ويقال ابن عمير وهو اشهر
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاں بھی رہو اللہ سے ڈرو، برائی کے بعد ( جو تم سے ہو جائے ) بھلائی کرو جو برائی کو مٹا دے ۱؎ اور لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن حبيب بن ابي ثابت، عن ميمون بن ابي شبيب، عن ابي ذر، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " اتق الله حيثما كنت واتبع السيية الحسنة تمحها وخالق الناس بخلق حسن " . قال وفي الباب عن ابي هريرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو احمد، وابو نعيم عن سفيان، عن حبيب، بهذا الاسناد نحوه . قال محمود حدثنا وكيع، عن سفيان، عن حبيب بن ابي ثابت، عن ميمون بن ابي شبيب، عن معاذ بن جبل، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . قال محمود والصحيح حديث ابي ذر
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدگمانی سے بچو، اس لیے کہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- سفیان کہتے ہیں کہ ظن دو طرح کا ہوتا ہے، ایک طرح کا ظن گناہ کا سبب ہے اور ایک طرح کا ظن گناہ کا سبب نہیں ہے، جو ظن گناہ کا سبب ہے وہ یہ ہے کہ آدمی کسی کے بارے میں گمان کرے اور اسے زبان پر لائے، اور جو ظن گناہ کا سبب نہیں ہے وہ یہ ہے کہ آدمی کسی کے بارے میں گمان کرے اور اسے زبان پر نہ لائے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اياكم والظن فان الظن اكذب الحديث " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال وسمعت عبد بن حميد يذكر عن بعض اصحاب سفيان قال قال سفيان الظن ظنان فظن اثم وظن ليس باثم فاما الظن الذي هو اثم فالذي يظن ظنا ويتكلم به واما الظن الذي ليس باثم فالذي يظن ولا يتكلم به
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر والوں کے ساتھ اس قدر مل جل کر رہتے تھے کہ ہمارے چھوٹے بھائی سے فرماتے: ابوعمیر! نغیر کا کیا ہوا؟ ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن الوضاح الكوفي، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن شعبة، عن ابي التياح، عن انس، قال ان كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليخالطنا حتى ان كان ليقول لاخ لي صغير " يا ابا عمير ما فعل النغير " . حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن شعبة، عن ابي التياح، عن انس، نحوه . وابو التياح اسمه يزيد بن حميد الضبعي . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہم سے ہنسی مذاق کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”میں ( خوش طبعی اور مزاح میں بھی ) حق کے سوا کچھ نہیں کہتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عباس بن محمد الدوري البغدادي، حدثنا علي بن الحسن، اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن اسامة بن زيد، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال قالوا يا رسول الله انك تداعبنا . قال " اني لا اقول الا حقا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کی درخواست کی، آپ نے فرمایا: ”میں تمہیں سواری کے لیے اونٹنی کا بچہ دوں گا“، اس آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اونٹنی کا بچہ کیا کروں گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا اونٹ کو اونٹنی کے سوا کوئی اور بھی جنتی ہے؟“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا خالد بن عبد الله الواسطي، عن حميد، عن انس بن مالك، ان رجلا، استحمل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " اني حاملك على ولد الناقة " . فقال يا رسول الله ما اصنع بولد الناقة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وهل تلد الابل الا النوق " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ”اے دو کان والے!“ محمود بن غیلان کہتے ہیں: ابواسامہ نے کہا، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مزاح کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح غریب ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو اسامة، عن شريك، عن عاصم الاحول، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال له " يا ذا الاذنين " . قال محمود قال ابو اسامة يعني مازحه . وهذا الحديث حديث صحيح غريب
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ( جھگڑے کے وقت ) جھوٹ بولنا چھوڑ دے حالانکہ وہ ناحق پر ہے، اس کے لیے اطراف جنت میں ایک مکان بنایا جائے گا، جو شخص حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا چھوڑ دے اس کے لیے جنت کے بیچ میں ایک مکان بنایا جائے گا اور جو شخص اپنے اخلاق اچھے بنائے اس کے لیے اعلیٰ جنت میں ایک مکان بنایا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے، ہم اسے صرف سلمہ بن وردان کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں۔
حدثنا عقبة بن مكرم العمي البصري، حدثنا ابن ابي فديك، قال حدثني سلمة بن وردان الليثي، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ترك الكذب وهو باطل بني له في ربض الجنة ومن ترك المراء وهو محق بني له في وسطها ومن حسن خلقه بني له في اعلاها " . وهذا الحديث حديث حسن لا نعرفه الا من حديث سلمة بن وردان عن انس بن مالك
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے یہی گناہ کافی ہے کہ تم ہمیشہ جھگڑتے رہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا فضالة بن الفضل الكوفي، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن ابن وهب بن منبه، عن ابيه، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كفى بك اثما ان لا تزال مخاصما " . وهذا الحديث حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه