Loading...

Loading...
کتب
۱۳۹ احادیث
معاویہ بن حیدہ قشیری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اللہ کے رسول! میں کس کے ساتھ نیک سلوک اور صلہ رحمی کروں؟ آپ نے فرمایا: ”اپنی ماں کے ساتھ“، میں نے عرض کیا: پھر کس کے ساتھ؟ فرمایا: ”اپنی ماں کے ساتھ“، میں نے عرض کیا: پھر کس کے ساتھ؟ فرمایا: ”اپنی ماں کے ساتھ“، میں نے عرض کیا: پھر کس کے ساتھ؟ فرمایا: ”پھر اپنے باپ کے ساتھ، پھر رشتہ داروں کے ساتھ پھر سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار پھر اس کے بعد کا، درجہ بدرجہ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، شعبہ نے بہز بن حکیم کے بارے میں کلام کیا ہے، محدثین کے نزدیک وہ ثقہ ہیں، ان سے معمر، ثوری، حماد بن سلمہ اور کئی ائمہ حدیث نے روایت کی ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو، عائشہ اور ابو الدرداء رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، اخبرنا يحيى بن سعيد، اخبرنا بهز بن حكيم، حدثني ابي، عن جدي، قال قلت يا رسول الله من ابر قال " امك " . قال قلت ثم من قال " امك " . قال قلت ثم من قال " امك " . قال قلت ثم من قال " ثم اباك ثم الاقرب فالاقرب " . قال وفي الباب عن ابي هريرة وعبد الله بن عمر وعايشة وابي الدرداء . قال ابو عيسى وبهز بن حكيم هو ابن معاوية بن حيدة القشيري . وهذا حديث حسن . وقد تكلم شعبة في بهز بن حكيم وهو ثقة عند اهل الحديث وروى عنه معمر والثوري وحماد بن سلمة وغير واحد من الايمة
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وقت پر نماز ادا کرنا“، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! پھر کون سا عمل زیادہ بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا“، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! پھر کون سا عمل؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، حالانکہ اگر میں زیادہ پوچھتا تو آپ زیادہ بتاتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے ابوعمرو شیبانی، شعبہ اور کئی لوگوں نے ولید بن عیزار سے روایت کی ہے، ۳- یہ حدیث ابوعمرو شیبانی کے واسطہ سے ابن مسعود سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے۔
حدثنا احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن المسعودي، عن الوليد بن العيزار، عن ابي عمرو الشيباني، عن ابن مسعود، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله اى الاعمال افضل قال " الصلاة لميقاتها " . قلت ثم ماذا يا رسول الله قال " بر الوالدين " . قلت ثم ماذا يا رسول الله قال " الجهاد في سبيل الله " . ثم سكت عني رسول الله صلى الله عليه وسلم ولو استزدته لزادني . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن صحيح . رواه الشيباني وشعبة وغير واحد عن الوليد بن العيزار وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن ابي عمرو الشيباني عن ابن مسعود . وابو عمرو الشيباني اسمه سعد بن اياس
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رب کی رضا والد کی رضا میں ہے اور رب کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے“۔
حدثنا ابو حفص، عمرو بن علي حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا شعبة، عن يعلى بن عطاء، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " رضا الرب في رضا الوالد وسخط الرب في سخط الوالد " . حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، عن شعبة، عن يعلى بن عطاء، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو، نحوه ولم يرفعه وهذا اصح . قال ابو عيسى وهكذا روى اصحاب شعبة عن شعبة عن يعلى بن عطاء عن ابيه عن عبد الله بن عمرو موقوفا ولا نعلم احدا رفعه غير خالد بن الحارث عن شعبة . وخالد بن الحارث ثقة مامون . قال سمعت محمد بن المثنى يقول ما رايت بالبصرة مثل خالد بن الحارث ولا بالكوفة مثل عبد الله بن ادريس . قال وفي الباب عن عبد الله بن مسعود
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ان کے پاس آ کر کہا: میری ایک بیوی ہے، اور میری ماں اس کو طلاق دینے کا حکم دیتی ہے، ( میں کیا کروں؟ ) ابوالدرداء رضی الله عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے، اگر تم چاہو تو اس دروازہ کو ضائع کر دو اور چاہو تو اس کی حفاظت کرو“ ۱؎۔ سفیان بن عیینہ نے کبھی «إن امی» ( میری ماں ) کہا اور کبھی «إن أبی» ( میرا باپ ) کہا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عطاء بن السايب الهجيمي، عن ابي عبد الرحمن السلمي، عن ابي الدرداء، ان رجلا، اتاه فقال ان لي امراة وان امي تامرني بطلاقها . قال ابو الدرداء سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الوالد اوسط ابواب الجنة فان شيت فاضع ذلك الباب او احفظه " . قال وقال ابن ابي عمر وربما قال سفيان ان امي وربما قال ابي . وهذا حديث صحيح . وابو عبد الرحمن السلمي اسمه عبد الله بن حبيب
ابوبکرہ نفیع بن حارث رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تم لوگوں کو سب سے بڑے کبیرہ گناہ کے بارے میں نہ بتا دوں؟ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! کیوں نہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا“، راوی کہتے ہیں: آپ اٹھ بیٹھے حالانکہ آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر فرمایا: ”اور جھوٹی گواہی دینا“، یا جھوٹی بات کہنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باربار اسے دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا: ”کاش آپ خاموش ہو جاتے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا بشر بن المفضل، حدثنا الجريري، عن عبد الرحمن بن ابي بكرة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا احدثكم باكبر الكباير " . قالوا بلى يا رسول الله . قال " الاشراك بالله وعقوق الوالدين " . قال وجلس وكان متكيا فقال " وشهادة الزور او قول الزور " . فما زال رسول الله صلى الله عليه وسلم يقولها حتى قلنا ليته سكت . قال وفي الباب عن ابي سعيد . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو بكرة اسمه نفيع بن الحارث
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے ماں باپ کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے“، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بھلا کوئی آدمی اپنے ماں باپ کو بھی گالی دے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، وہ کسی کے باپ کو گالی دے گا، تو وہ بھی اس کے باپ کو گالی دے گا، اور وہ کسی کی ماں کو گالی دے گا، تو وہ بھی اس کی ماں کو گالی دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث بن سعد، عن ابن الهاد، عن سعد بن ابراهيم، عن حميد بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من الكباير ان يشتم الرجل والديه " . قالوا يا رسول الله وهل يشتم الرجل والديه قال " نعم يسب ابا الرجل فيشتم اباه ويشتم امه فيسب امه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”سب سے بہتر سلوک اور سب سے اچھا برتاؤ یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے دوستوں کے ساتھ صلہ رحمی کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ سند صحیح ہے، یہ حدیث ابن عمر رضی الله عنہما سے کئی سندوں سے آئی ہے، ۲- اس باب میں ابواسید رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا حيوة بن شريح، اخبرني الوليد بن ابي الوليد، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان ابر البر ان يصل الرجل اهل ود ابيه " . قال وفي الباب عن ابي اسيد . قال ابو عيسى هذا اسناد صحيح وقد روي هذا الحديث عن ابن عمر من غير وجه
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خالہ ماں کے درجہ میں ہے“، اس حدیث میں ایک طویل قصہ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا ابي، عن اسراييل، ح قال وحدثنا محمد بن احمد، وهو ابن مدويه حدثنا عبيد الله بن موسى، عن اسراييل، واللفظ، لحديث عبيد الله عن ابي اسحاق الهمداني، عن البراء بن عازب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الخالة بمنزلة الام " . وفي الحديث قصة طويلة . وهذا حديث صحيح
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو معاوية، عن محمد بن سوقة، عن ابي بكر بن حفص، عن ابن عمر، ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اني اصبت ذنبا عظيما فهل لي من توبة قال " هل لك من ام " . قال لا . قال " هل لك من خالة " . قال نعم . قال " فبرها " . وفي الباب عن علي والبراء بن عازب
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن محمد بن سوقة، عن ابي بكر بن حفص بن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه ولم يذكر فيه عن ابن عمر . وهذا اصح من حديث ابي معاوية . وابو بكر بن حفص هو ابن عمر بن سعد بن ابي وقاص
اس سند سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، لیکن اس میں ابن عمر کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے، یہ ابومعاویہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا اسماعيل بن ابراهيم، عن هشام الدستوايي، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي جعفر، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاث دعوات مستجابات لا شك فيهن دعوة المظلوم ودعوة المسافر ودعوة الوالد على ولده " . قال ابو عيسى وقد روى الحجاج الصواف هذا الحديث عن يحيى بن ابي كثير نحو حديث هشام . وابو جعفر الذي روى عن ابي هريرة يقال له ابو جعفر الموذن ولا نعرف اسمه وقد روى عنه يحيى بن ابي كثير غير حديث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین دعائیں مقبول ہوتی ہیں ان میں کوئی شک نہیں ہے: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا اور بیٹے کے اوپر باپ کی بد دعا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حجاج صواف نے بھی یحییٰ بن ابی کثیر سے ہشام کی حدیث جیسی حدیث روایت کی ہے، ابو جعفر جنہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے انہیں ابو جعفر مؤذن کہا جاتا ہے، ہم ان کا نام نہیں جانتے ہیں، ۲- ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔
حدثنا احمد بن محمد بن موسى، اخبرنا جرير، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يجزي ولد والدا الا ان يجده مملوكا فيشتريه فيعتقه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح لا نعرفه الا من حديث سهيل بن ابي صالح . وقد روى سفيان الثوري وغير واحد عن سهيل بن ابي صالح هذا الحديث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی لڑکا اپنے باپ کا احسان نہیں چکا سکتا ہے سوائے اس کے کہ اسے ( یعنی باپ کو ) غلام پائے اور خرید کر آزاد کر دے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ہم اسے صرف سہیل بن ابی صالح کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- سفیان ثوری اور کئی لوگوں نے بھی یہ حدیث سہیل بن ابی صالح سے روایت کی ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، وسعيد بن عبد الرحمن المخزومي، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن ابي سلمة، قال اشتكى ابو الرداد الليثي فعاده عبد الرحمن بن عوف فقال خيرهم واوصلهم ما علمت ابا محمد . فقال عبد الرحمن سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " قال الله انا الله وانا الرحمن خلقت الرحم وشققت لها من اسمي فمن وصلها وصلته ومن قطعها بتته " . وفي الباب عن ابي سعيد وابن ابي اوفى وعامر بن ربيعة وابي هريرة وجبير بن مطعم . قال ابو عيسى حديث سفيان عن الزهري حديث صحيح . وروى معمر هذا الحديث عن الزهري عن ابي سلمة عن رداد الليثي عن عبد الرحمن بن عوف ومعمر كذا يقول قال محمد وحديث معمر خطا
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ابوالرداد لیثی بیمار ہو گئے، عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ ان کی عیادت کو گئے، ابوالرداء نے کہا: میرے علم کے مطابق ابو محمد ( عبدالرحمٰن بن عوف ) لوگوں میں سب سے اچھے اور صلہ رحمی کرنے والے ہیں، عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: میں اللہ ہوں، میں رحمن ہوں، میں نے «رحم» ( یعنی رشتے ناتے ) کو پیدا کیا ہے، اور اس کا نام اپنے نام سے ( مشتق کر کے ) رکھا ہے، اس لیے جو اسے جوڑے گا میں اسے ( اپنی رحمت سے ) جوڑے رکھوں گا اور جو اسے کاٹے گا میں بھی اسے ( اپنی رحمت سے ) کاٹ دوں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابو سعید خدری، ابن ابی اوفی، عامر بن ربیعہ، ابوہریرہ اور جبیر بن مطعم رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ۲- زہری سے مروی سفیان کی حدیث صحیح ہے، معمر نے زہری سے یہ حدیث «عن أبي سلمة عن رداد الليثي عن عبدالرحمٰن بن عوف و معمر» کی سند سے روایت کی ہے، معمر نے ( سند بیان کرتے ہوئے ) ایسا ہی کہا ہے، محمد ( بخاری ) کہتے ہیں: معمر کی حدیث میں خطا ہے، ( دونوں سندوں میں فرق واضح ہے ) ۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، حدثنا بشير ابو اسماعيل، وفطر بن خليفة، عن مجاهد، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليس الواصل بالمكافي ولكن الواصل الذي اذا انقطعت رحمه وصلها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن سلمان وعايشة وعبد الله بن عمر
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں ہے جو بدلہ چکائے ۱؎، بلکہ حقیقی صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے جو رشتہ ناتا توڑنے پر بھی صلہ رحمی کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سلمان، عائشہ اور عبداللہ بن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابن ابي عمر، ونصر بن علي، وسعيد بن عبد الرحمن المخزومي، قالوا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن محمد بن جبير بن مطعم، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يدخل الجنة قاطع " . قال ابن ابي عمر قال سفيان يعني قاطع رحم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
جبیر بن مطعم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رشتہ ناتا توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا“۔ ابن ابی عمر کہتے ہیں: سفیان نے کہا: «قاطع» سے مراد «قاطع رحم» ( یعنی رشتہ ناتا توڑنے والا ) ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن ابراهيم بن ميسرة، قال سمعت ابن ابي سويد، يقول سمعت عمر بن عبد العزيز، يقول زعمت المراة الصالحة خولة بنت حكيم قالت خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم وهو محتضن احد ابنى ابنته وهو يقول " انكم لتبخلون وتجبنون وتجهلون وانكم لمن ريحان الله " . قال وفي الباب عن ابن عمر والاشعث بن قيس . قال ابو عيسى حديث ابن عيينة عن ابراهيم بن ميسرة لا نعرفه الا من حديثه . ولا نعرف لعمر بن عبد العزيز سماعا من خولة
خولہ بنت حکیم رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گود میں اپنی بیٹی ( فاطمہ ) کے دو لڑکوں ( حسن، حسین ) میں سے کسی کو لیے ہوئے باہر نکلے اور آپ ( اس لڑکے کی طرف متوجہ ہو کر ) فرما رہے تھے: ”تم لوگ بخیل بنا دیتے ہو، تم لوگ بزدل بنا دیتے ہو، اور تم لوگ جاہل بنا دیتے ہو، یقیناً تم لوگ اللہ کے عطا کئے ہوئے پھولوں میں سے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابراہیم بن میسرہ سے مروی ابن عیینہ کی حدیث کو ہم صرف انہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- ہم نہیں جانتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز کا سماع خولہ سے ثابت ہے، ۳- اس باب میں ابن عمر اور اشعث بن قیس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابن ابي عمر، وسعيد بن عبد الرحمن، قالا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال ابصر الاقرع بن حابس النبي صلى الله عليه وسلم وهو يقبل الحسن قال ابن ابي عمر الحسين او الحسن فقال ان لي من الولد عشرة ما قبلت احدا منهم . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انه من لا يرحم لا يرحم " . قال وفي الباب عن انس وعايشة . قال ابو عيسى وابو سلمة بن عبد الرحمن اسمه عبد الله بن عبد الرحمن بن عوف . وهذا حديث حسن صحيح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کے پاس تین لڑکیاں یا تین بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو جنت میں ضرور داخل ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابو سعید خدری کا نام سعد بن مالک بن سنان ہے، اور سعد بن ابی وقاص کا نام سعد بن مالک بن وہیب ہے، ۲- اس حدیث کی دوسری سند میں راویوں نے ( سعید بن عبدالرحمٰن اور ابوسعید کے درمیان ) ایک اور راوی ( ایوب بن بشیر ) کا اضافہ کیا ہے، ۳- اس باب میں عائشہ، عقبہ بن عامر، انس، جابر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن سهيل بن ابي صالح، عن سعيد بن عبد الرحمن، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يكون لاحدكم ثلاث بنات او ثلاث اخوات فيحسن اليهن الا دخل الجنة " . قال وفي الباب عن عايشة وعقبة بن عامر وانس وجابر وابن عباس . قال ابو عيسى وابو سعيد الخدري اسمه سعد بن مالك بن سنان وسعد بن ابي وقاص هو سعد بن مالك بن وهيب . وقد زادوا في هذا الاسناد رجلا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص لڑکیوں کی پرورش سے دوچار ہو، پھر ان کی پرورش سے آنے والی مصیبتوں پر صبر کرے تو یہ سب لڑکیاں اس کے لیے جہنم سے آڑ بنیں گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا العلاء بن مسلمة البغدادي، حدثنا عبد المجيد بن عبد العزيز، عن معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ابتلي بشيء من البنات فصبر عليهن كن له حجابا من النار " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دو لڑکیوں کی کفالت کی تو میں اور وہ جنت میں اس طرح داخل ہوں گے“، اور آپ نے کیفیت بتانے کے لیے اپنی دونوں انگلیوں ( شہادت اور درمیانی ) سے اشارہ کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- محمد بن عبید نے محمد بن عبدالعزیز کے واسطہ سے اسی سند سے کئی حدیثیں روایت کی ہے اور سند بیان کرتے ہوئے کہا ہے: «عن أبي بكر بن عبيد الله بن أنس» حالانکہ صحیح یوں ہے «عن عبيد الله بن أبي بكر بن أنس» ۔
حدثنا محمد بن وزير الواسطي، حدثنا محمد بن عبيد، هو الطنافسي حدثنا محمد بن عبد العزيز الراسبي، عن ابي بكر بن عبيد الله بن انس بن مالك، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من عال جاريتين دخلت انا وهو الجنة كهاتين " . واشار باصبعيه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه . وقد روى محمد بن عبيد عن محمد بن عبد العزيز غير حديث بهذا الاسناد وقال عن ابي بكر بن عبيد الله بن انس والصحيح هو عبيد الله بن ابي بكر بن انس